پھانسی گھاٹ۔۔۔منور حیات سرگانہ

جبرو، چاچے فضل دین کا سب سے بڑا بیٹا تھا۔ جابر خان نام رکھا تھا،لیکن لاڈ سے جبرو پکارتے تھے ،پہلوٹھی کی اولاد یوں بھی اکثر ماں باپ کی زیادہ لاڈلی ہوتی ہے۔یوں تو چاچے فضل دین کے تین اور بیٹے بھی تھے،لیکن ان سب کو وہ توجہ حاصل نہ ہو پائی جو جبرو کے حصے میں آئی۔جبرو سارا دن کالے تیتر کا پنجرہ ہاتھ میں اٹھائے ،بالوں پر سرسوں کا تیل لگا کر الٹی مانگ سجائے،اپنی مونچھوں کو تاؤ دیتا ہوا، اپنے یاروں کے ساتھ ایک گلی سے دوسری گلی اور سڑک پر ٹہلتا رہتا۔میلوں ٹھیلوں پر باقاعدگی سے جاتا رہتا،اور اسکی جیب میں ہمیشہ ایمبیسی سیگریٹ کی ڈبی اور کچھ نوٹ موجود رہتے۔چاچا فضل دین اپنے جبرو کو کھلے دل سے جیب خرچ دیتا ،اور اسکی کڑیل جوانی اسے ہمیشہ ایک طرح کے احساس تفاخر میں مبتلا رکھتی ۔بھلے ہی دنیا کی نظر میں نکھٹو ہو پر چاچے فضل دین کی جان تھا وہ۔

جبرو سے چھوٹا قیصر،جو گٹھے ہوئے جسم کا خاصا مضبوط نوجوان تھا ،اکثر پرانے گٹوؤں سے بنا ہوا تنگا بغل میں دبائے ،درانتی ہاتھ میں پکڑے ،گاؤں کے آس پاس کے کھیتوں کے کناروں پر منڈلاتا رہتا،جہاں کہیں کھیتوں کے ساتھ سبزہ اُگا ہوا دیکھتا،جھٹ سے درانتی چلا کر کاٹ لیتا۔شام کو سر پر چارے کی پنڈ اٹھائے گھر آ پہنچتا تھا۔چاچے فضل دین کی دو بھینسیں،ان کے کٹے  اور ایک گائے،اسی چارے پر نہ صرف پل رہی تھیں،بلکہ بھینسیں تو صبح شام اچھا خاصا دودھ بھی دیتی تھیں۔

اس سے چھوٹا رمضان ،اللہ لوک تھا سارا دن گلیوں میں پھرتا رہتا تھا،اس کے منہ  سے رال بہتی رہتی ،جسے وہ گاہے اپنے قمیض کی لٹکتی ہوئی آستینوں سے صاف کرنے کی کوشش کرتا رہتا ،اس کی آستینیں اور منہ مکھیوں سے کالے رہتے تھے۔

رمضانے سے چھوٹی شبو تھی،جو جوانی کی سیڑھیاں چڑھ رہی تھی،اور خاصی خوش شکل تھی۔شبو سے چھوٹا زیبو کمزور سا تھا،کسی جسمانی مشقت کے قابل نہیں تھااس لئے صبح ہی صبح اس کے گلے میں کپڑے سے بنا بستہ ڈال کر ماں اسے قریبی پرائمری  سکول بھیج دیتی،وہ من موجی کبھی کبھی تو  سکول چلا جاتا،مگر کبھی راستے میں ہی گاؤں کی آخری گلی کی نکڑ پر لگی ٹاہلی کے نیچے بیٹھ کر سارا دن نرم مٹی پر اپنی انگلیوں سے لکیریں کھینچتا رہتا،اور چھٹی کے وقت دوسرے بچوں کے ساتھ مل کر گھر واپس چلا آتا تھا۔چاچا فضل دین پندرہ سال فوج کی نوکری کر آیا تھا،اب مہینے کے مہینے بینک سے جا کرپینشن لے آتا تھا،اور اس کے بعد سارا دن اپنے گھر کے ساتھ بنی ہوئی چھپری کے نیچے بیٹھا حقہ پیتا رہتا تھا۔فاتحہ خوانیوں پر جاتا،اور بقیہ وقت اپنی بیوی کے ساتھ لڑنے میں گزار دیتا،جو صبح سے شام تک سر جھکا کر کھانا پکانے،اُپلے بنانے،کپڑے دھونے اور جھاڑو دینے میں منہمک رہتی تھی۔

اس دن جبرو عصر کے وقت اپنے گھر کے دروازے پر پہنچا ہی تھا کہ پڑوسیوں کا نوجوان لڑکا عباسا ان کے گھر کے دروازے میں سے ٹکراتا ہوا اچانک ان کے گھر سے باہر نکلا ،اور جبرو کو اچانک سامنے دیکھ کر اس کے اوسان خطا ہو گئے،شبو دروازے کے اندر کھڑی تھی،جبرو کو دیکھتے ہی دوپٹہ سنبھال کر اندر کی طرف بھاگی۔جبرو ایک ہی لمحے میں ساری صورتحال بھانپ چکا تھا،اس سے پہلے کہ عباسے کو سنبھلنے کا موقع ملتا ،جبرو نے کچی دیوار کے اوپر دھری اینٹوں میں سے ایک اینٹ اٹھا کر عباسےکے سر کا نشانہ لے کر دے ماری،عباسا جھکائی دے گیا ،لیکن اینٹ اس کی گردن اور پیٹھ کے درمیان میں پڑی،وہ بدحواس ہو کر بھاگا،اسی لمحے قیصر گھاس کی پنڈوری سر پر رکھے اپنی گلی میں داخل ہوا،جبرو اس وقت تک دوسری اینٹ اٹھا کر عباسے کے پیچھے بھاگ رہا تھا۔قیصر نے پنڈوری سر سے اتار پھینکی اور اس میں اڑسی ہوئی درانتی نکال کر اچانک عباسے کے سامنے آ گیا،عباسے نے ایک طرف سے بچ کر نکلنے کی کوشش کی مگر اتنے میں قیصر درانتی گھما چکا تھا ،جو عباسے کے پیٹ کو ایک طرف سے چیرتی ہوئی ،دوسری طرف سے نکل گئی۔اس کی انتڑیاں کٹ کر باہر آ گئی تھیں ،اور وہ زمین پر گر کر لوٹ پوٹ ہونے لگا۔

کس بہن چو ۔۔۔۔ کی ایسی مجال ہے ،جو میری بہن کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھے،آنکھیں نہ نکال دوں اس کی ،جبرو نے موٹی سی گالی دیتے ہوئے بڑھک لگائی۔اس کی آنکھوں میں خون اُترا ہوا تھا۔اس اثنا ء میں گاؤں والے گلی میں اکٹھے ہو چکے تھے۔لوگوں نے زبردستی دونوں بھائیوں کو جکڑ رکھا تھا،جو گالیاں دینے کے ساتھ ساتھ اچھل بھی رہے تھے۔عباسے کی ماں اور بہنیں، روتی پیٹتی، سینہ کوبی کرتی اور دہائیاں دیتی ہوئی باہر نکل آئی تھیں،جبکہ اس کے باپ اور لنگڑے بھائی نے لوگوں کے ساتھ مل کر اسے اٹھا کر چارپائی پر ڈالا،لیکن وہ وہیں پر ہی دم توڑ چکا تھا۔۔میت وہیں  پر رکھ دی گئی تھی ،اور پولیس کو اطلاع دے دی گئی۔جبرو اور قیصر موقع واردات سے صاف بچ کر نکل گئے تھے،لیکن سارا گاؤں یہ کارروائی دیکھ چکا تھا۔ پولیس میت کو لے گئی ،لیکن رات کو ہی میت کو پوسٹ مارٹم کے بعد ورثاء کے حوالے کر دیا گیا ،اور صبح سویرے جنازے کے بعد عباسے کی تدفین کر دی گئی۔ گاؤں دیہات کی پر سکون زندگی میں ایسا کوئی بھی واقعہ ہلچل مچا دیتا ہے،سو ہر جگہ پر یہی واقعہ زبان زد عام تھا۔گاؤں کے لوگوں کی ہمدردیاں دو جگہوں پر بٹ گئی تھیں ۔جہاں کچھ لوگ عباسے کو بے گناہ قرار دے رہے تھے،اور اس کے قتل کو ظالمانہ فعل قرار دے رہے تھے،وہیں پر کچھ لوگ جبرو اور قیصر کو داد بھی دے رہے تھے،کہ دونوں نے غیرت کا مظاہرہ کیا تھا،اور انہوں نے وہ ہاتھ ہی توڑ دیا تھا جو ان کی بہن کی عزت پر پڑنے والا تھا۔عباسے کے باپ نے اپنے وکیل کے مشورے سے بڑا پکا کیس بنوایا تھا۔پرچے میں تیز دھار آلہ جبرو کے ہاتھ میں پکڑوایا گیا ،تاکہ اس پر دفعہ 302 لگے،اور قیصر اور چاچے فضل دین کو معاونت کرنے والا لکھوایا گیا تھا۔ان پر 109 کی دفعہ لگوائی گئی۔عباسے کے باپ کو خوب معلوم تھا کہ چاچے فضل دین کی جان جبرو میں اٹکی ہوئی ہے،اگر یہ پھانسی چڑھ گیا،تو فضل دین خود ہی خون تھوک تھوک کر مر جائے گا۔اس کا چونوا بیٹا مارا گیا تھا اور اس کے سینے میں لگی آگ فضل دین کے چونوے بیٹے کی موت سے ہی بجھ سکتی تھی۔

اپنی مرضی کا پرچہ دلوانے کے لئے،عباسے کے باپ کو پیسہ پانی کی طرح بہانا پڑا تھا۔ ادھر وہ تینوں باپ بیٹا روپوش ہو گئے تھے۔پولیس والے دو تین دن تک انہیں تلاش کرتے رہے،بالآخر چوتھے دن ان کے مویشی کھول کر لے گئے ،اور اس سے اگلے دن،فضل دین کی بیوی،اس کی بیٹی شبو اور چھوٹے زیبو کو پکڑ کر تھانے لے آئے۔اگلے دن ہی تینوں باپ بیٹے تھانے میں پیش ہو گئے۔جہاں ان کی گرفتاری ڈال کر انہیں حوالات میں بند کر دیا گیا،اور ان کی عورتوں اور مویشیوں کو گھر واپس بھیج دیا گیا۔تفتیش مکمل کر کے انہیں عدالت میں پیش کیا گیا،جہاں سے چالان ہو کر وہ جیل پہنچ گئے۔

کیس چلنا شروع ہو گیا،فضل دین کے خاندان والوں نے چوتھی پیشی پر فضل دین کی ضمانت کروا لی،مگر اس کے بیٹوں کو ضمانت نہ مل سکی۔دونوں طرف سے اپنے پورے زور لگائے جانے لگے۔کہتے ہیں کہ قتل کی دفعہ 302اگر کسی کیکر پر بھی لکھ دی جائے تو وہ بھی سوکھ جاتا ہے،جبرو کے ساتھ بھی کچھ یہی معاملہ بن گیا تھا۔ ایک سال بعد قیصر کو بھی ضمانت مل گئی ،مگر جبرو اندر ہی رہا۔چاچے فضل دین کے جانور ایک ایک کر کے بکتے گئے۔لیکن جبرو کی رہائی کی کوئی صورت نہ نکل سکی۔ادھر عباسے کے باپ کی حالت بھی پتلی ہو چلی تھی،اور وہ اچھا خاصا مقروض ہو چکا تھا۔ٹھیک ڈیڑھ سال بعد عدالت کی طرف سے جبرو کو سزائے موت سنا دی گئی،جبکہ قیصر اور چاچا فضل دین بری ہو گئے تھے۔فضل دین نے آگے اپیل دائر کردی،اگلے چھ مہینے میں میں ان کی اپیل بھی خارج ہو گئی۔ ،

چاچے فضل دین کے اندر کھایا پیا نہیں اترتا تھا۔جبرو کی موت کا تصور ہی اسے جیتے جی مارے جا رہا تھا۔اسے جبرو کی رہائی کی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی تھی۔ فضل دین نے اپنی برادری کو اکٹھا کیا،اور عباسے کے باپ کے دروازے پر معافی کے لئے ساتھ جانے پر آمادہ کیا۔کچھ لوگ بیچ بچاؤ کے لئے اندر پڑ گئے۔ عباسے کا باپ بڑی مشکلوں سے ان کی بات سننے پر راضی ہوا۔ سب لوگ مل کر عباسے کے باپ کے گھر چلے آئے۔فضل دین نے اپنا پٹکا سر سے اتار کر گلے میں ڈال لیا،اورگھٹنوں کے بل بیٹھ کر عباسے کے والد کے آگے جبرو کی جان بخشی کے لئے معافی کا طلبگار ہوا۔عباسے کے باپ نے ایک ہی شرط پر معافی دینے کی حامی بھری،کہ فضل دین یا تو سات لاکھ روپیہ بھرے یا ‘بانہہ’ (بیٹی کا ہاتھ) بھرے۔فضل دین نے سوچنے ،اور برادری سے مشورہ کرنے کے لئے تین دن کا وقت لے لیا۔
تیسرے دن شام کو فضل دین نے عباسے کے باپ کو پیغام بھیج دیا کہ اسے صلح کی شرط منظور ہے۔

اگلے جمعے کو عباسے کا باپ اپنے لنگڑے بیٹے،برادری کے کچھ لوگوں اور مولوی کو لے کر جمعے کی نماز کے بعد فضل دین کی چھپری کے نیچے پہنچ گیا،دو بول پڑھے گئے،دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے گئے،اور فضل دین اور قیصر گھر کے اندر چلے گئے،تھوڑی دیر کے بعد لکڑی کے دروازے سے کسی کے ٹکرانے کی آواز سنائی دی ،سب نے چونک کر اُدھر دیکھا،جہاں سے فضل دین اور قیصر ،گٹھڑی بنی سمٹی سمٹائی اناری رنگ کی چادر کا گھونگھٹ نکالے شبو کو دونوں بازووں سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے ایسے باہر لا رہے تھے ،جیسے سزائے موت کے قیدی کو پھانسی گھاٹ پر لے جایا جاتا ہے۔

منور حیات
منور حیات
ملتان میں رہائش ہے،مختلف سماجی اور دیگر موضوعات پر بلاگ لکھتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *