• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • مسالک کی بنیاد پہ ملکی آبادی کا ایک تحقیقی جائزہ۔۔۔سید عارف مصطفٰی

مسالک کی بنیاد پہ ملکی آبادی کا ایک تحقیقی جائزہ۔۔۔سید عارف مصطفٰی

شماریاتی ماہرین اور دیگر اہل علم کا ان سرکاری اعداد و شمار پہ مجموعی اتفاق ہے کے الحمدللہ وطن عزیز کی تقریباً چھیانوے فیصد آبادی مسلمانوں پہ مشتمل ہے اور اقلیتی مذاہب کے ماننے والوں کی تعداد 4 فیصد سے زیادہ نہیں, لیکن اس وقت ملک میں مسلکی بنیادوں پہ آبادی کی تقسیم کی کیا نوعیت ہے ,اس پہ کوئی دو ٹوک بات کہنا اس لیے ممکن نہیں کیونکہ اس حوالے سے کوئی مردم شماری نہ تو کبھی ہوئی ہے اور نہ ہی کی جانی چاہیے, البتہ تمام مسالک میں دو بڑے مسالک کون سے ہیں اس پہ کسی کو کوئی اختلاف شاید ہی ہو, کیونکہ بریلوی اور دیوبندی مکتبہء فکر کی مساجد و مدارس بطور ایک بین ثبوت ملک کے تقریباً ہر علاقے میں بہت کثرت سے موجود ہیں ۔۔۔ ۔ ان دونوں مسالک کے مدارس چونکہ اپنے اپنے وفاق المدارس کے تحت کام کرتے ہیں چنانچہ ان کے اعداد و شمار کھلے عام دستیاب ہیں اور جن کے مطابق دیوبندی مسلک کے مدارس کی تعداد لگ بھگ 18 ہزار اور بریلوی مسلک کے مدارس کی تعداد کم و بیش 10 ہزار کے آس پاس ہے ۔۔ جبکہ دیگر مسالک کی تعداد کا اندازہ کرنے میں قباحت یہ ہے کہ ان میں وفاق المدارس قسم کا مرکزی نظم موجود نہیں ہے اور ان کے مدارس کی تعداد کا پتا چلانا آسان نہیں ہے۔

جہاں تک اہل حدیث طبقے کا تعلق ہے تو ظاہری شواہد کی بناء پہ کافی وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ اس مسلک کے لوگوں کی تعداد ملک میں بظاہر 10 فیصد سے بہت کم ہے جبکہ اثناء عشری افراد کی تعداد ان سے بھی بہت کم ہے ۔ اس معاملے میں یہ حقیقت اس لیے بڑی واضح ہے کہ چونکہ کئی برس قبل فقہء جعفریہ کے افراد کی جانب سے دینیات کے سرکاری نصاب کو سنی اور شیعہ کی بنیاد پہ تقسیم کرنے کے دیرینہ مطالبے کو منظور کیا جاچکا ہے چنانچہ کسی حد تک اس کی بنیاد پہ بھی اس مسلک سے منسلک افراد کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ( جو کہ کسی حد تک حقیقت کے قریب تر ہوسکتا ہے لیکن اس کو ایک دم مستند بھی نہیں کہا جاسکتا ) اور اس کی رو سے ملک بھر میں جو طلباء میٹرک میں شیعہ دینیات کا انتخاب کرتے ہیں ان کی تعداد میٹرک کے طلبہ کی مجموعی تعداد کے پونے دو فیصد سے زیادہ نہیں ہے جبکہ اس فقہ کے لوگوں میں تعلیم کا تناسب دوسرے مسالک کے افراد سے کہیں زیادہ ہے ۔

tripako tours pakistan

مسالکی بنیاد پہ آبادی کے حقائق کیا ہیں ، اگر اس بارے میں اگر کسی اہل علم کے پاس کوئی قابل بھروسہ معلومات دستیاب ہوں تواس خاکسار سے تاکہ محض علمی طور پہ نا کہ سیاسی یا معاشی لحاظ سے ، اس مد میں ایک تحقیق کی جاسکے اور ممکن حد تک قابل استناد آگہی تک پہنچا جاسکے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *