بلوچستان خاموش ہے، مگر اندھا نہیں۔۔۔۔شوہاز بلوچ

جب اور جہاں بھی ظلم، جبر اور طاقت کا راج ہو وہاں انقلاب کا برپا ہونا اور تبدیلی کا رونما ہونا لازمی امر بن جاتے ہیں۔ آج دنیا کے مختلف ملکوں میں عوامی قومی اور طبقاتی جنگیں کسی نہ کسی صورت جاری ہیں۔ عراق سے لے کر اسپین تک لوگ ریاستی و حکومتی بادشاہی و سامراجی ظلم کے خلاف اپنی جدوجہد جار رکھے ہوئے ہیں۔ زندہ اور عظیم قومیں وقتی طور پر ڈر و خوف سے خاموش رہ سکتی ہیں لیکن ایسے قوموں کو دائمی خاموش رکھنے کی کوشش ایک خام خیالی ہے۔ کسی قوم کی وقتی خاموشی کو دائمی خاموشی کبھی تصور نہیں کرنا چاہیے۔

مارٹر لوتھر کنگ نے کہا تھا کہ اچھے لوگوں کی خاموشی برے لوگوں کے ظلم سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے اور یہی خاموشی جب عوامی تحریک کی صورت اختیار کرتی ہے تو سامراج کی ساری ہستی کو تہس نہس کرکے چھوڑ دیتا ہے پھر دنیا کی کوئی بھی طاقت اس پر قابو پا نہیں سکتی۔ کبھی کبھی چھوٹے چھوٹے حادثات بڑے بڑے انقلابات میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ یہ سامرج اور انسانیت مخالف سوچ ہے جس نے عظیم عظیم انقلابات کو جنم دیا ہے۔ ہر انقلاب کے پیچھے کوئی نہ کوئی واقعہ ضرور ہوتا ہے جو لوگوں کے دلوں میں موجود نفرت اور بھڑاس کو عملی جدوجہد کی صورت میں سمو دیتا ہے۔ی

یوں تو انقلابِ فرانس نے جنم نہیں لیا، یوں تو ہندوستان نے اپنی آزادی کی جدوجہد کا آغاز نہیں کیا، یوں تو کرد اتنی بڑی طاقت سے اپنی شناخت کی خاطر نہیں لڑ رہے، یوں تو بلوچستان کے چپے چپے میں لوگوں کے دل میں نفرت زندہ نہیں۔ یہ سب جبر، طاقت ، ناانصافی اور ظلم کا شاخسانہ ہے۔ جب ظلم اور طاقت کا استعمال ہوگا تو لوگوں کے دلوں میں نفرت جم جائے گی اور یہی نفرت ایک دن انقلاب کی صورت اختیار کرے گی اور پھر وہ ہوگا جس کی تصور انقلابِ ایران سے پہلے شاہ پہلوی نے نہیں کیا تھا، انقلابِ ویتنام سے پہلے امریکہ نے نہیں کیا تھا، انقلابِ روس سے پہلے زار نے نہیں کیا تھا۔

اور جب بات بلوچستان کی آتی ہے تو اس زمین کے باسی ازل سے ہی جدوجہد کرتے آ رہے ہیں۔ بلوچستان دہائیوں سے وقتی انقلابی تحریکوں کا مرکز رہا ہے۔ 1839 میں جب انگریز سامراج نے بلوچستان میں قدم جمائے تو اس کے ردعمل میں سردار محراب خان نے کم وسائل کے ساتھ ہی لڑ کر شہادت کا رتبہ حاصل کیا۔ لیکن سر تسلیم خم نہیں کیا۔ اگر بلوچوں کی تاریخ کو ٹٹولا جائے تو ایسی ہزارہا بغاوتیں تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہیں۔

بیسویں صدی سے پہلے بلوچوں کی ساری تحریکیں مسلح رہی ہیں جنھوں نے ایرانی بادشاہوں سے لے کر مغل اور عرب جیسی بڑی فوجوں کو بھی زیر کرتے ہوئے انھیں سخت شکست سے دوچار کیا۔ بلوچ لڑنے میں ماہر مانے جاتے ہیں لیکن سائنٹیفک اور جدید دور میں شامل ہونے کے بعد بلوچوں نے پرامن جدوجہد بھی سیکھ لی ہے کیونکہ نوجوان طبقہ اب سمجھ چکا ہے کہ لڑائی صرف بندوق سے نہیں لڑی جاتی بلکہ سیاسی اور پرامن طریقے سے بھی اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کی جا سکتی ہے۔

آج بلوچستان مکمل خاموشی کا شکار ہے۔ ماں بچے کی گمشدگی پر خاموش، بیٹا والد کی جدائی پر خاموش، بہن بس سسکتی اور روتی ہے اس کے علاوہ وہ کچھ نہیں کر سکتی۔ دوست ڈر و خوف سے دل میں بس یادیں رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ مزید کچھ کرنے سے اپنے آپ کو قاصر سمجھتے ہیں۔ حتیٰ کہ لوگ اپنے پیاروں کی لاشوں پر رونے سے بھی ڈرتے ہیں کہ کہیں ان کے آنسو مزید کسی پیارے کی جدائی کے اسباب نہ بن جائیں۔ کوہِ چلتن کے پہاڑوں سے لے کر گوادر کے سمندر کی لہریں سب خاموش ہیں۔ دانشور سے لے کر صحافی تک سب خاموش۔ شاعر سے لے کر موسیقار تک سب خاموش۔ اپنے اوپر ہونے والی ہر تکلیف دکھ پر خاموش۔

لیکن ہمیں یہ بھولنا نہیں چاہیے کہ انسان جب خاموش رہتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اندھا بھی ہے۔ آج لوگ سب کچھ دیکھ رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ پھڑپھڑا رہے ہیں، وہ ماؤں کو روتے ہوئے بھی دیکھ رہے ہیں، وہ بہنوں کی سسکیوں کو بھی سن رہے ہیں، وہ گوادر میں پانی کے لیے احتجاج کرتے بچوں کو بھی دیکھ رہے ہیں۔ وہ تربت میں گھٹن سے ماحول کا بھی مشاہدہ کر رہے ہیں۔ وہ لائبریریوں میں نوجوانوں کو زمین پر غلاموں کی طرح بیٹھے ہوئے پڑھتے دیکھ رہے ہیں۔ وہ دیکھ رہے ہیں کہ ان کا کس طرح معاشی و سیاسی قتل ہو رہا ہے۔ وہ دیکھ پا رہے ہیں کہ کس طرح کبھی ہاسٹل تو کبھی ایڈمیشن کے نام پر ان کی تذلیل ہو رہی ہے۔ یہ خاموشی کبھی بھی لاوا بن کر سب کچھ تہس نہس کر سکتی ہے۔

حالیہ دنوں جامعہ بلوچستان میں ہراساں و بلیک میل کے واقعہ پر پورے بلوچستان کا سراپا احتجاج ہونا نہ بلکہ یونیورسٹی واقعہ پر ردعمل ہے بلکہ یہ اُس نفرت کا شاخسانہ ہے جو عرصوں سے ان کے دل میں آگ کی طرح جل رہی ہے۔ نظام کو چلانے والوں کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ یہ ابھی تک چھوٹا ردعمل ہے۔ اگر ناانصافی پر مبنی یہ نظام یوں ہی جاری رہا تو شاید ردعمل مزید بھیانک ہو۔ شاید ایسا ردعمل ہو جو انقلابِ ایران سے پہلے ایرانی شاہ کے گمان میں نہیں تھا۔ لیکن جب نفرت عمل میں تبدیل ہو گئی تو پہلے سے رائج نظام کا وجود ہی ختم ہو گیا۔

اب بھی وقت ہے حاکمِ وقت نشے سے باہر آئیں۔ ناانصافیوں کی روک تھام کی جائے۔ یونیورسٹیوں میں نہیں بلکہ بلوچستان کے کسی کونے میں بھی ہراساں کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔ ورنہ تاریخ کے اوراق کب کہاں پلٹیں، اس کا اندازہ میں اور آپ نہیں کر سکتے ہیں۔ وقت و حالات کو بدلتے سالوں نہیں لگتے بلکہ کبھی کبھی دنوں میں پورا نظام تبدیل ہو جاتا ہے، بلکہ کبھی گھنٹوں میں ہی سوچ بدل جاتی ہے۔

اس سے پہلے کہ دیر ہو، اس سے پہلے کہ نفرت بھیانک صورت اختیار کرے، اس سے پہلے کہ سوچوں میں تبدیلی آئے، اس سے پہلے کہ دلوں میں موجود جذبے عملی صورت اختیار کریں، اس سے پہلے یہ نوجوان پھر جرمنی، چیکوسلواکیہ اور بنگلہ دیش کی یادیں تازہ کریں… ہوش کے ناخن لیں، ورنہ تاریخ عرصے سے اپنے آپ کو دہراتی آ رہی ہے۔

حال حوال
حال حوال
یہ تحریر بشکریہ حال حوال شائع کی جا رہی ہے۔ "مکالمہ" اور "حال حوال" ایک دوسرے پر شائع ہونے والی اچھی تحاریر اپنے قارئین کیلیے مشترکہ شائع کریں گے تاکہ بلوچستان کے دوستوں کے مسائل، خیالات اور فکر سے باقی قوموں کو بھی آگاہی ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *