سفید پوش کی مدد سے کیا مراد ہے؟۔۔۔حافظ محمد زبیر

قرآن مجید میں سورۃ البقرۃ کی آیت 273 میں ایسے لوگوں پر زکوۃ اور صدقہ کی رقم خرچ کرنے کی ترغیب دی گئی ہے جو ضرورت مند ہوں لیکن اپنی غیرت کی وجہ سے لوگوں سے لگ لپٹ کر سوال نہ کرتے ہوں۔ ایسے لوگوں کو عرف عام میں سفید پوش کہا جاتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کون سفید پوش ہے؟ آیت مبارکہ میں تو ان کی چار صفات بیان ہوئی ہیں؛ ایک یہ کہ وہ فقراء یعنی ضرورت مند ہیں۔ دوسرا یہ کہ انہوں نے اپنے آپ کو کسی دینی خدمت کے لیے وقف کیا ہوا ہے جیسا کہ جہاد، دینی تعلیم، خدمت خلق وغیرہ۔ تیسرا یہ کہ وہ اس دینی مصروفیت کی وجہ سے ملازمت یا کاروبار کرنے سے قاصر ہیں۔ چوتھا یہ کہ وہ لوگوں سے لگ لپٹ کر سوال نہیں کرتے یعنی یہ نہیں کہتے کہ ہم نے چونکہ اپنے آپ کو دین کی فلاں خدمت کے لیے وقف کر رکھا ہے تو تم ہماری ضروریات پوری کرو۔

ایک خاتون کا سوال ہے کہ ایک ایسی لڑکی کہ جس کے گھر کی ماہانہ آمدنی 20 ہزار ہو، وہ کسی یونیورسٹی کے ایوننگ پروگرام میں ایڈمشن لیتی ہے جبکہ مارننگ میں بھی داخلہ مل رہا تھا۔ اس نے یہ سوچ کر پہلے سیمسٹر کی فیس جو کہ 18 ہزارتھی، کسی سے لے کر جمع کروا دی کہ اگلے سیمسٹر کی فیس خود جاب کر کے جمع کروا دوں گی لیکن وہ جمع نہ کروا سکی کہ ایک انٹر پاس لڑکی کو 8 ہزار سے زیادہ کی جاب نہیں ملتی۔ اب دوسرے سیمسٹر کی فیس جو کہ 28 ہزار ہے، وہ بھی کسی سے مانگ کر جمع کروائی۔ وہ ایک ایوریج اسٹوڈنٹ ہے تو ایسے لوگوں کی مدد کرنا صحیح ہے؟

خاتون نے دوسرا کیس یہ ذکر کیا کہ گھر کی ماہانہ آمدنی 15 ہزار ہے لیکن 12 ہزار کرائے کے مکان میں رہتے ہیں اور بچوں کو 2500 ماہانہ والے پرائیویٹ اسکول میں ڈالا ہوا ہے جبکہ ماہانہ اخراجات مانگ کر پورے کیے جاتے ہیں۔ اب اس فیملی کو یہ سمجھاتے ہیں کہ کم کرائے والے مکان میں چلے جائیں، بس علاقہ تھوڑا بدلے گا۔ اور بچوں کو سرکاری اسکول میں ڈال دیں جو کہ محلے میں کھلے پرائیویٹ اسکول سے تو بہتر ہے جہاں میٹرک انٹر پاس لڑکیاں ٹیچر ہوتی ہیں جبکہ سرکاری اسکول میں کم سے کم گریجویٹ ٹیچر تو ہو گی لیکن یہ بات وہ مانتے نہیں تو کیا ان کی مدد کرتے رہیں؟

خاتون کا کہنا ہے کہ ایسے لوگوں کی مدد کرنا صحیح نہیں کیونکہ یہ ناعاقبت اندیشی ہے کہ آپ پیسوں کا انتظام کیے بغیر کوئی کام شروع کر لیں اور بعد میں آپ کو مانگنا پڑے۔ میری رائے میں بھی یہ بات بہت حد تک درست ہے کہ قرآن مجید نے حج کے بیان میں کہا ہے کہ اگرچہ بہترین زاد راہ تقوی ہی ہے لیکن جب تم حج کے سفر پر نکلو تو زاد راہ لے لیا کرو یعنی رستے کا خرچ۔ یہ نہ ہو کہ محض توکل کر کے حج کے لیے نکل کھڑے ہو اور وہاں جا کر لوگوں سے مانگتے پھرو جیسا کہ بعض لوگ ایسا کرتے بھی ہیں تو اسے قرآن مجید نے ناپسند کیا ہے۔ تو مہیا اسباب کے مطابق یا زیادہ سے زیادہ کہہ لیں کہ جن اسباب کے پیدا ہونے کا غالب امکان ہو، کے تحت ہی مستقبل کی پلاننگ کرنی چاہیے۔

تو ایسے شخص کو اس کی ناعاقبت اندیشی کی سزا بھگتنے دینا چاہیے کہ اس کی لرننگ ہو یا اس پر ترس کھا کر اس کی مدد کر دینی چاہیے؟ دیکھیں، اگر تو وہ اس رویے کا عادی ہو چکا ہے تو پھر تو اس کی مدد نہ کریں کہ آپ کی مدد اسے مزید بگاڑ دے گی۔ اور اگر وہ ناسمجھی کی وجہ سے پھنس گیا اور اس کے رویے سے لگ رہا ہے کہ ایک بار اس مشکل سے نکل گیا تو اپنے آپ کو سنبھال لے گا، تو اس کی مدد کرنے میں حرج نہیں کہ ہم سب یہاں سیکھتے ہیں۔ تو جس کے رویے سے لگے کہ وہ سیکھ رہا ہے تو اس کی مدد کر دیں اور جو سیکھ نہیں رہا تو اسے اس کے حال پر چھوڑ دیں۔

حافظ محمد زبیر
حافظ محمد زبیر
ڈاکٹر حافظ محمد زبیر صاحب علوم اسلامیہ میں پی ایچ ڈی ہیں اور کامساٹس یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، لاہور میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ آپ تقریبا دس کتب اور ڈیڑھ سو آرٹیکلز کے مصنف ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *