پیدل نجف سے کربلا۔۔۔منور حیات سرگانہ

عراق میں صدام حکومت کے خاتمے کے بعد جہاں عام لوگوں کے حصے میں خانہ جنگی،دہشت گرد حملے،دہشتگرد تنظیم داعش کا ظلم و ستم اور غربت آئی ،وہیں پر ایک مثبت تبدیلی یہ ہوئی کہ عالم اسلام کے لئے بالعموم اور اہل تشیع کے لئے بالخصوص حرمین شریفین کے بعد مقدس ترین مقامات مقدسہ کا انتظام و انتصرام مقامی اکثریتی شیعہ برادری کے پاس آ گیا۔

ان مقامات مقدسہ میں کربلا معلیٰ میں روضہ امام حسینؑ و غازی عباسؑ علمدار ،نجف اشرف میں روضہ حضرت علیؑ کرم اللہ وجہہ ، مسجد کوفہ ،بغداد میں روضہ کاظمین اور سامرہ میں دو اماموںؑ کے مقدس روضہ ہائے مبارک شامل ہیں۔

اب ان تمام مقامات مقدسہ پر کسی کے جانے پر کوئی روک ٹوک نہیں۔سارا سال تو دنیا بھر سے مسلمان شیعہ وسنی زائرین جوق در جوق ان مقامات مقدسہ کی زیارت کو آتے ہی رہتے ہیں،مگر عاشورہ محرم اور چہلم امام حسین کے موقع پر زائرین کی تعداد بلاشبہ لاکھوں اور کچھ دوستوں کے کہنےکے مطابق تو کروڑوں میں پہنچ جاتی ہے۔

گزشتہ کئی سال سے چہلم امام حسین کے موقع پر زائرین اپنی زیارت کے آخری مرحلے کے طور پر نجف اشرف سے تقریباً ایک سو کلو میٹر کا سفر پیدل چل کر طے کرتے ہیں،اور تین سے چار دنوں میں روضہ امام حسین پر پہنچ جاتے ہیں،آہوں اور سسکیوں کا طوفان اٹھتا ہے۔اور آنسوؤں سے تر چہروں کے ساتھ آل رسولؐ پر سلام پڑھا جاتا ہے ،اور ان کے توسل سے دعائیں مانگی جاتی ہیں۔ان مناجاتات کے بعد زائرین کی اکثریت واپسی کا راستہ اختیار کرتی ہے۔روایات میں ہے کہ ایسا سیدہ زینبؑ سلام اللہ علیہما کی پیروی میں کیا جاتا ہے،کہ وہ اپنے بابا کے در سے اپنے بھائی کا پرسہ لے کر بھائی کے در پر پیدل پہنچی تھیں۔

اس پیدل سفر کو مشی یا اربعین کا سفر بھی کہا جاتا ہے۔دنیا بھر سے زائرین کی آمد ہوتی ہے،لیکن عراقی،ایرانی،پاکستانی،آذربائیجانی اور ہندوستانی زائرین کثیر تعداد میں نظر آتے ہیں۔عموماً اس موقع پر غیر ملکی زائرین دس سے پندرہ دن عراق میں قیام کرتے ہیں، اس دوران زیارات کے تقریباً سبھی مقامات پر بالخصوص اس پیدل سفر کے دوران اس سارے راستے میں،جذبہ خدمت،قربانی،محبت و مودت اور عجز و عقیدت کے انمول مناظر دل موہ لیتے ہیں۔

زائرین امام حسین اس پورے وقت میں عراقی عوام کے مہمان خاص ہیں۔سفر کے پورے راستے میں سڑک کے دونوں جانب عارضی اور مستقل رہائش گاہیں قائم کر دی جاتی ہیں،جن کو مکعب بھی کہتے ہیں،جہاں صاف ستھرے بستر بچھے ہیں،اوپر سلیقے سے کمبل رکھے ہیں،وضو اور قضائے حاجت کا انتظام ہے،نماز پڑھنے کی جگہ ہےموبائل فون چارج کرنے کی سہولت ہے،قہوے اور کھانے کا انتظام بھی ہے۔جس کا جب اور جہاں جی چاہے قیام کرے ۔آرام کرے اور اپنا سفر مکمل کرے۔پورے راستے میں عراقی لوگ زائرین کے لئے سراپا خادم ہیں،کسی کے ماتھے پر شکن مہیں ہے،ناگواری نہیں  ہے،کسی کوجھڑکا نہیں جاتا،کوئی لڑائی جھگڑا نہیں،کہیں پر چوری نہیں ہے۔سارے راستے میں دھواں اڑاتی قہوے کی کیتلیاں دھری ہیں۔پانی کی سبیلیں قائم ہیں۔کھانا تقسیم کیا جارہا ہے،زائرین کے جوتے صاف کیے جا رہے ہیں،کہیں کہیں ان کے پاؤں کی مالش کی جا رہی ہے،زائر کے ہاتھ چوم کر آنکھوں پر لگانا اور زائر کے آگے قدرے جھک کر اپنا پورا ہاتھ سر پر رکھ کر سلام کرنا تو عام سی بات ہے۔

جس کے جو بس میں ہے ،وہ وہی خدمت کر رہا ہے،اگر کوئی غریب عراقی ہے تو اپنی استطاعت کے مطابق سر پر کھجوروں کا تھال رکھ کر گھٹنوں کے بل زائرین کے راستے میں بیٹھا ہے،اگر امیر ہے تو وسیع تر دسترخوان لگا رکھا ہے۔عورتیں اور لڑکیاں تندوروں پر روٹیاں لگا کر دے رہی ہیں۔کچھ لوگوں کو کھلا پلا رہے ہیں ،تو کچھ صفائی پر مامور ہیں۔کچھ اپنی اپنی گاڑیاں لے کر سڑکوں پر نکل آئے ہیں کہ ،جو چلتا چلتا تھک جائے،اسے سواری پر بٹھا کر کچھ آگے تک چھوڑ آئیں،لیکن کم ہی سوار ہونا پسند کرتے ہیں۔عورتیں ،بچے ،شیر خوار،بوڑھے،جوان ،معذور اور بھلے چنگے ،سب ہی درود و سلام پڑھتے اپنی اپنی دھن میں رواں دواں ہیں۔یہ ایسا حسین تجربہ ہوتا ہے،کہ جس کی فرحت روح تک اتر جاتی ہے۔اگرچہ شیعہ زاِئرین کی اکثریت ہے،مگر کچھ سنی زائرین بھی ہیں،یہاں کوئی کسی کو روکتا ٹوکتا نہیں ہے،جیسے مرضی اپنے طریقے سے عبادت کریں درود وسلام پڑھیں اور رحمتیں سمیٹیں،بلکہ سب ایک دوسرے کو دیکھ کر شرسار ہوتے ہیں۔سیدنا امام حسینؑ کی قربانی تو تھی ہی صرف بقائے دین کے لئے،وہ تو سب کے امام ہیں،امید ہے آنے والے دنوں میں سارے مسلمان بلاتفریق مسلک اس روح پرور نظارے کا حصہ بنیں گے،اور شافی محشر سے بخشش کی سفارش کے حقدار بنیں گے۔سلام یا نبیؑ اللہ ،سلام بر محمدؐ و آل محمدؐ۔

منور حیات
منور حیات
ملتان میں رہائش ہے،مختلف سماجی اور دیگر موضوعات پر بلاگ لکھتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *