تاریخ کے تلخ دریچے سے۔۔۔محمد اظہارالحق

اطالوی کھانوں کا ماہر جب چینی کھانے پکائے گا تو جو ڈش سامنے آئے گی‘ اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ عربی کا محاورہ ہے اور سینکڑوں برس کے تجربوں پر مشتمل محاورہ ہے۔ لکل عمل رجال و لکل مقام مقال۔ ہر کام کے لئے اس کے ماہرین ہوتے ہیں اور ہر مقام‘ ہر موقع کے لئے اسی کے حساب سے گفتگو ہوتی ہے! صحافی جب مورخ کا کردار ادا کرنے بیٹھے گا تو اس کی وابستگیاں ضرور در آئیں گے۔ ایک قابل احترام ‘کہنہ مشق ‘ہمارے بزرگ صحافی نے ’’تاریخ کے تلخ دریچوں سے‘‘ کے عنوان سے ملک کی سیاسی تاریخ بیان کی ہے جسے پڑھ کر حافظ شیرازی بے ساختہ یاد آ گئے ع سخن شناس نہ ای جان من خطا این جاست ہم سب انسان ہیں۔ ہم میں سے اکثر کے لئے غیر جانب داری ایک پُر صعوبت راستہ ہے! مگر اس کا کیا کیجیے کہ تاریخ نویسی کے اپنے تقاضے ہیں! ع اس میں دو چار بہت سخت مقام آتے ہیں جنرل ضیاء الحق کے عہد حکومت کا ذکر کرتے ہوئے یہ کیسے ممکن ہے کہ میاں محمد شریف مرحوم اور ان کے فرزند کا ذکر نہ آئے۔ یہ ذکر حذف کر دیا جائے تو ضیاء الحق کے دور ہمایونی کا تذکرہ ادھورا رہے گا۔ درست کہا کہ ’’یہ عرصہ پاکستان کے لئے کئی مشکلات لے کر آیا‘‘ اسی عرصہ میں جنرل غلام جیلانی نے سیاست سے نابلد ایک نوجوان کو اقتدار کی مسند پر بٹھایا۔ پھر اس نوجوان کے بارے میں جنرل ضیاء الحق نے کہا کہ میری عمر اسے لگ جائے۔ یہ بھی تو تاریخ کا حصہ ہے کہ جنرل ضیا سے لے کر غلام اسحاق تک اور جنرل ضیاء الحق سے لے کر جنرل پرویز مشرف تک اباجی نے ہر کسی کو یقین دلایا کہ یہ آپ کا بھائی ہے۔ آپ کے سامنے نہیں بولے گا اور یہ کہ آپ میرے تیسرے بیٹے ہیں۔ یہ بھی تو تاریخ کا حصہ ہے کہ شریف فیملی جنرل ضیاء کے دور کا ثمر ہے جو یہ قوم ابھی تک تناول فرما رہی ہے۔ جنرل ضیا کس ذہنی سطح کے حکمران دے کر گئے؟ کبھی آرمی چیف کو نئی گاڑی کی چابی پیش کی گئی۔ کبھی نوجوان پولیس افسروں کو دوستیوں کی پیشکش کر کے پورے پورے کیریئر جانب دار کر دیے گئے۔ ذہنی سطح یہ تھی کہ عابدہ حسین کی زرعی زمین دیکھی تو ذہن میں اس کے سوا اور کوئی آئیڈیا ہی نہ آیا کہ یہاں فیکٹری لگائیے۔ کبھی کہا کہ اگر سعودی عرب میں ٹیکس نہیں ہے تو پاکستان میں کیوں؟ جب آپ یہ رقم فرماتے ہیں کہ ’’جونیجو ایک کامیاب وزیر اعظم ثابت ہوئے تو ضیاء الحق نے اپنے ہی منتخب کردہ وزیر اعظم کو برطرف کر دیا‘‘تو آپ سو فیصد درست رقم فرماتے ہیں مگر یہاں آپ وہ حقیقت گول کر گئے جس کی زد نواز شریف پر پڑتی ہے۔ یہ بھی تو تاریخ کا حصہ ہے کہ اس موقع پر نواز شریف نے اپنے پارٹی چیف کا نہیں بلکہ فوجی آمر کا ساتھ دیا۔ جونیجو کے نیچے سے کرسی کھینچ لی اور ایسی مثال قائم کی جو نرم سے نرم الفاظ میں بھی شرم ناک ہی کہی جا سکتی ہے۔ ’’ایک دو برس جنرل ضیاء الحق کی برسی اہتمام سے منائی گئی‘‘ اس برسی میں میاں صاحب اہتمام سے شامل ہوتے تھے اور ضیاء الحق کے مشن کو جاری رکھنے کا عزم ظاہر کرتے تھے۔ یہ مشن کیا تھا؟ قوم آج بھی جاننا چاہتی ہے!! کارگل کی مہم جوئی کا باب انتہائی متنازعہ ہے! آپ اتنے یقین کے ساتھ کیسے فرما سکتے ہیں کہ ’’انہوں نے اس وقت کے وزیر اعظم میاں نواز شریف کو اندھیرے میں رکھ کرکارگل کی مہم جوئی کی‘‘ اگر آپ یہ لکھتے کہ دو روایتیں ہیں۔ دوسری روایت کے مطابق وزیر اعظم کو باقاعدہ بریف کیا گیا تھا تو یہ ایک متوازن بات ہوتی ۔مگر یہ تو آپ نے ایک طرف کی بات کر کے ‘دوسری طرف کی روایت کو مکمل بلیک آئوٹ کر دیا۔ نعیم بخاری کتنے ہی چینلوں پر بتا چکے ہیں کہ جب کارگل پر تفصیلی بریفنگ دی جا رہی تھی تو میاں صاحب کا استفسار یہ تھا کہ یہ سینڈ وچ خوب ہیں! کہاں سے منگوائے گئے؟ ’’جنرل پرویز مشرف دورہ سری لنکا سے واپس آ رہے تھے تو انہیں فضا ہی میں برطرف کر دیا گیا۔ لیکن جنرل صاحب نے پوری پیش بندی کی ہوئی تھی اس طرح وزیر اعظم نواز شریف کی یہی ’’حرکت‘‘ اقتدار کے خاتمے پر منتج ہوئی‘‘ یہ جو حرکت کا لفظ واوین میں لکھا گیا ہے تو یہ واوین بلند آواز سے کہہ رہی ہیں کہ پورا نکتہ نظر موضوعی (Subjective)ہے! وزیر اعظم کو پورا آئینی حق حاصل تھا کہ آرمی چیف کو برطرف کر تے مگر کیا کبھی ایسا بھی ہوا ہے کہ فضا میں معلق سپہ سالارکو اترنے ہی نہ دیا جائے؟ یہ بھی روایت ہے کہ بھارت لے جانے کا کہا گیا! اور کیا یہ حد درجہ نامناسب’’حرکت‘‘ نہ تھی کہ اپنی برادری سے تعلق رکھنے والے ایسے افسر کو آرمی چیف لگا دیا جو فائٹنگ فورس ہی سے نہ تھا؟ توپ خانے سے نہ انفنٹری سے نہ آرمرڈ کور سے ! کیا سپہ سالار اس طرح منتخب اور اس طرح تعینات کئے جاتے ہیں؟؟ ’’جنرل مشرف نے شریف فیملی کے ساتھ ڈیل بھی کی اور ڈیل در ڈیل کرنے کی کوشش بھی کی‘‘!بہت خوب! جناب! بہت خوب! ڈیل جنرل پرویز مشرف نے کی! کیا شریف خاندان نے نہیں کی؟ یہاں غوث علی شاہ کا فقرہ یاد آتا ہے کہ میاں صاحب! جہاز میں ہماری جگہ نہ تھی! پھر مسلسل جھوٹ بولا جاتا رہا کہ کوئی معاہدہ نہیں ہوا۔ یہاں تک کہ سعودی شخصیت نے پاکستان آ کر معاہدے کا کاغذ پوری دنیا کے سامنے لہرایا! مگر اس بے عزتی پر ندامت کی کوئی بوند پیشانی پر نہ دیکھی گئی! ’’باقیاتِ مشرف‘‘ کا سلسلہ بھی خوب ہے! اپوزیشن کی ترجمانی یہ کہہ کر کی گئی ہے کہ ’’یہ ملفوف انداز میں مشرف دورہے‘‘بالکل درست ! مگر یہ بھی تو حقیقت ہے کہ عمران خان سے پہلے میاں نواز شریف نے جنرل پرویز مشرف کے ساتھیوں کو اپنا حواری بنایا۔ جنرل پرویز مشرف کے دور کے خاتمے کی روشنائی ابھی خشک بھی نہ ہوئی تھی کہ زاہد حامد کو سایہ عاطفت میں لے لیا گیا جو جنرل پرویز مشرف کی کابینہ کے نمایاں رکن تھے۔ آج بھی وہ ویڈیو موجود ہے جس میں نواز شریف جنرل مشرف کے ساتھیوں کے بارے میں کہہ رہے ہیں کہ ’’خوشامدی ٹولہ ہے۔ ان کے ضمیر مردہ ہیں۔ انہیں واپس نہیں لیا جا سکتا‘‘ مگر پھر ایک ایک کر کے سب لے لئے گئے۔ماروی میمن۔ طارق عظیم ‘سکندر بوسن‘ امیر مقام اور بہت سے دوسرے! یہ سب کچھ بھی تو تاریخ کے تلخ دریچے سے صاف دکھائی دے رہا ہے!! ہم پناہ مانگتے ہیں اس بات سے کہ عسکری آمریت کی طرف داری کی جائے مگر خدارا سیاست دانوں کا کردار عسکری آمریت کی مضبوطی میں کم کر کے نہ دکھائیے! اسے Play downنہ کیجیے۔ سیاست دان ساتھ نہ ہوتے تو ایوب خان سے لے کر پرویز مشرف تک کوئی آمر ایک دن بھی اقتدار میں نہ رہ سکتا۔ ایوب خان کو امیر المومنین بننے کا مشورہ ایک سیاست دان ہی نے تو دیا تھا۔ یہ راجہ ظفر الحق ‘ یہ یوسف رضا گیلانی‘ یہ جاوید ہاشمی کیا انہوں نے آمریت کے استحکام میں حصہ نہیں لیا؟ کیا ذوالفقار علی بھٹو نے ایوب خان کو ڈیگال کا خطاب نہیں دیا تھا؟ ارباب نیازمحمد‘ علی احمد تالپور‘ محمد علی خان ہوتی‘ الٰہی بخش سومرو‘ محمود ہارون‘ غلام دستگیر خان‘ فخر امام‘ راجہ سکندر زمان‘ عبدالغفور ہوتی‘ ظفر اللہ جمالی‘ بیگم عفیفہ ممدوٹ‘ چودھری ظہور الٰہی‘ چودھری رحمت الٰہی‘ پروفیسر غفور احمد‘ فدا محمد خان‘ خواجہ صفدر‘ اعظم فاروقی‘ میاں زاہد سرفراز‘ زمان خان اچکزئی‘ پروفیسر خورشید احمد‘ خورشید محمود قصوری‘ فیصل صالح حیات‘ شیخ رشید‘ آفتاب شیر پائو‘ بابر غوری ‘ شیر افگن نیازی‘ جہانگیر ترین ‘ غلام سرور خان‘ چودھری شہباز حسین‘ وصی ظفر‘ یہ سب وہ سیاست دان ہیں جنہوں نے فوجی آمروں کے دور میں اقتدار کے مزے لُوٹے ۔ کیا مجبور تھی؟؟ بائیکاٹ کیوں نہ کیا؟؟ سچ پورا بولنا چاہیے۔ آدھا سچ باعث عزت نہیں ہوتا۔ عمران خان نے پرویز مشرف کی باقیات لے کر اچھا نہیں کیا۔ نواز شریف نے بھی ایسا کر کے اچھا نہیں کیا۔ جرنیلوں نے اقتدار پر شب خون مارے سیاست دان اُن کے سامنے رکوع میں جھکے رہے!!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *