• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • پتی پتنی اور پتایہ ( تھائی لینڈ کے ایک سفر کی مختصر روداد ) ۔۔۔ تیسری،آخری قسط

پتی پتنی اور پتایہ ( تھائی لینڈ کے ایک سفر کی مختصر روداد ) ۔۔۔ تیسری،آخری قسط

گذشتہ سے پیوستہ 

شمالی علاقہ جات کے ٹور کے دوران بیس بیس روپے میں ٹین کی دیواروں سے بنے لیٹرین میں ’مُتا لے‘ کا شوق پورا کرنے کی اکیڈمک مشق کو یاد کر کے ہم وطنوں کی استقامت اور مجاہدے پر فخر سے سینہ تانے حوائج ضروریہ سے فارغ ہو کر بیس روپے بچنے کی خوشی میں پھولے نہ سماتے ۔۔۔۔۔‘ ہم ہوائی اڈے کی طرف رواں دواں تھے،جدھر چکن بے جھٹکا ہمارا منتظر تھا ۔۔۔ آگے کیا ہوا، پڑھیے۔

ہماری نظر کے سامنے بنکاک ائیر پورٹ کی شاندار عمارت نظر آرہی تھی، اس کی جدید تعمیر میں تاریخی و ثقافتی رنگ نمایاں تھا۔ ہزارہا سالوں پر پھیلی تاریخ و ثقافت جنوبی ایشیا کے ممالک کی تعمیر میں جا بجا ملتا ہے ۔ قدم قدم پر قدیم عمارات یا پھریادگاریں ملتی ہیں ۔

بنکاک ائیر پورٹ پر رکھا گیا تخت بشاپکہ

ویسے تو نصاب کی کتابوں میں پڑھا ہے کہ ملک عزیز بھی پانچ ہزار سالہ تہذیب و ثقافت رکھتا ہے ، بس ان کا جغرافیہ اور حدود اربع اتنا ہی ہے کہ ملک بھر میں پھیلے آٹھ ڈِھیچے ان سے زیادہ رقبہ گھیرے ہوئے ہیں، تھوڑا سا مُردوں کا ٹِیلہ اور باقی جگہ جگہ ٹِیلے کے مُردے کہ بس عہدِ کم ظرف کی ہر بات گوارہ کیے جینے کے عادی ۔

بنکاک ائیر پورٹ کافی وسیع و عریض ہے، بے نظیر، قائد آعظم اور اقبال نامی ہوائی اڈوں کو ملا لیں تو جسامت میں ایک ایسا بن سکتا ہے ، خدمات کے حوالے سے ہمارے والوں کا جواب نہیں۔ سیاحوں کو یکسانیت دکھانے کے لیے ’لاری اڈہ، ریلوے ٹے شن اور یَر پورٹ کی ’ سہیلییات‘ ، ایک جیسی ہی ہیں ، شاہی بازاری آؤٹ ڈیٹیڈ۔ تھائک لینڈ میں چکلہ لہ نہیں ہے حالانکہ اغیار نے پورے ملک کو چکلہ مشہور کر رکھا ہے ۔ بد اچھا بدنام برا والی بات ہے ، ہمارے مقابلے میں اگلے بدنام ہیں ، اور ہم تو کہیں سے بھی ماپ لیں، ہر طرح کی دو نمبری کے باوجود ہم ہی ہیں نمبر ون۔

جلد ہی ہم امیگریشن وغیرہ سے فارغ ہو کر ڈپارچر لاؤنج کی طرف روانہ ہوئے۔ ائیر پورٹ واقعی کافی پھیلا ہوا تھا، عام طور پر کثیر العیال افریقن خواتین ہی اتنا لحم و حجم و پھیلاؤ رکھ سکتی ہیں ۔ ہماری خوش قسمتی تھی کہ فلائٹ میں ابھی کچھ وقت تھا تو موقع تھا کہ ’ میریکل لاؤنج‘ کے بھی مزے لے لیں ۔ ڈھونڈتے ڈھانڈتے ادھر پہنچے، انٹری کرا کر انٹری ماری تو خوشگوار حیرت کا سامنا ہوا۔ نہایت سادگی سے تزئین کیا گیا لاؤنج جس کی سب سے خاص بات اس کی انٹریر ڈیکوریشن کی تھیم تھی جو کہ بک شیلف سے متاثر تھی۔ دیواروں پر صرف کتابوں کے کیس سجے ہوئے تھے۔ یہ بھی اچھا خاصا طویل لاؤنج تھا اور ایک سرے سے دوسرے سرے تک دیواریں کتابوں کے سر ورق سے آراستہ تھیں، بہت اچھا لگا یہ دیکھ کر۔

کتاب کی تھیم والا لاؤنج

سامنے طرح طرح کے پکوان سجے ہوئے تھے ، بے اختیار منہ میں پانی اور دل میں احساس تشکّر نے جگہ بنائی۔ تھوڑا ساجوس پی کر ابھی ہم چکن والی ٹیبل کی طرچلے ہی تھے کہ خیال آیا کہ چیک کیا جائے کہ منزلِ مقصود یعنی چکن ’بے جھٹکا ہے یا با جھٹکا ‘ ؟ ویسے پتایہ میں اپنے ذائقہ دار کھانوں کے لیے مشہور پاکستانی ہوٹل ’ ابونواس رسٹورنٹ ‘ کے روح ِ رواں ڈاکٹر ابڑو نے ہمیں بتایا تھا کہ اس وقت پورے تھائی لینڈ میں جتنی بھی چکن بِکتی ہے وہ سب حلال ہے ، اور اس کی وجہ یہ بتائی کہ یہاں پر حلال زبیحہ کو طبّی طور پر صحت کے لیے محفوظ مان لیا گیا ہے۔

یہ جو مال ہے حلال ہے

پھر بھی دل ہمارا بالکل ہم پر گیا ہے کہ مانتا ہی نہیں ، بقول شاعر ’وہ نہیں نہیں کی ہر آن صدا ۔۔۔ ‘ کے مصداق ، ناہنجار نہیں مانا۔ اِتمام حجّت  کو ہم نے شیف سے پوچھا تو اس نے کہا، سب حلال ہے، دلِ نامعقول پھر بھی نہ مانا۔ اچھے دیسی کی طرح ، ہم نے تیسری بار سیکنڈ اوپنین لی ، اس دفعہ وہ تاڑ گئے کہ ، یہ جھکّی ایسے نہیں مانے گا، ہمیں بتایا کہ ، لاؤنج کے دوسرے کونے میں حلال ایریا ہے، ادھر چلے جاؤ، ادھر تمہار ا اور ہمارا دونوں کا کتّا ٹومی ۔ الغرض ہم نے رختِ سفر باندھا اور لاؤنج کے دوسرے سرے پر گئے تو دیکھا کہ کاؤنٹر پر ’ حلال‘ لکھا ہوا ہے۔ بس پھر کیا تھا، اپنی مرضی کے چکن پیٹیز ، سینڈوچ اور سوپ لیا اور گاوہ کے جوس کے ساتھ مزے لے لے کر کھایا۔ ویسے بھوک زیادہ ہو تو عقل چرنے ( چَرنے، وہ نہ پڑھ لیجئے گا جو زیادہ ایکسپریسیو ہے ) چلی جاتی ہے۔ جب پیٹ آباد ہوا تو عقل ٹھکانے آئی، غور کیا تو معلوم ہوا کہ یہ تما م چیزیں تو وہی اور ویسے ہی پیکنگ میں تھیں جنہیں ہم پیچھے چکن با جھٹکا سمجھ کر تیاگ آئے تھے۔ اب تشویش شروع ہوئی، پھر حلال کے بورڈ کی طرف دیکھا، آس پاس دیکھا تو ایک گورا بھی مصروف طعام تھا، دل کو یک گونہ (گورا) اطمینان ہوا کہ گورا صاحب ہر چیز دیکھ بھال کر کرتا ہے، اگر یہ کھا رہا ہے تو یقیناً یہ سب حلال ہی ہوگا، اس کا اطمینان دیکھ کر ہمیں بھی سکون ہوا۔ کہیں دورسے آواز آئی ’بھیّا جی عَیش کوش کہ بنکاک دوبارہ نیست ‘ بس ساری الجھن دور ، سارا مسئلہ ہی حل ہوگیا ۔ ابودھابی میں ہمارا سابقہ باس مصری فوج کا ریٹائرڈ کرنل تھا، اکثر کہا کر تا تھا کہ
When white man speaks everybody listens
باس جہاں دیدہ آدمی تھا، آج یقین ہوگیا کہ ٹھیک ہی کہتا ہوگا، کیوں کہ’ ساس بھی کبھی ‘ اووپس باس اِز نیور ؟ جی جی وہی، ٹھیک سمجھے آپ۔ کچھ بچا کچھا شک اگر تھا بھی تو اس کے دفع کی رہی سہی کسر ٹرمپ بابو نے پوری کردی، جوسخت گیر ساس کی طرح چوکی پر بیٹھ کر مملکتوں کے وزرائے آعظم کو بہو ؤں کی طرح ہلکان کیے ہوئے ہے؛
ع: کبھی اس سے بات کرنا کبھی اس سے بات کرنا

یاد آیا کہ کشور اگروال صاحب، ہمارے سینئر کولیگ ، کافی زور دار قسم کے ویجیٹرین تھے، اتنے شدید قسم کے کہ گوشت کی خوشبو تک برداشت نہ کرتے ،حالانکہ شادی شدہ تھے، مگر سبزی اور دال سے اپنی غذائی عیاشی کابھرپور ثبوت چودہ طبق روشن کرنے والے دھماکے والے آڈیو سگنلز کی صورت پورے ہال میں ہر بہرے اور ناک بند مانُش تک بھی پہنچا نے پر قادر تھے ۔ چند برسوں بعد اگروال صاحب ریٹائر ہونے لگے تو ان کے اعزاز میں الوداعی پارٹی دی گئی جس میں غلطی سے مینیو میں چکن بھی رکھ دیا گیا۔ اگر وال صاحب تو گھاس پھوس پر ہی اکتفا کیے رہے ، مگر سمیر یہ کہہ کر بوٹیوں پر ہاتھ صاف کرتا رہا کہ چونکہ چکن ویجیٹرین ہوتی ہے ، اسی لیے اگروال کو بھی کھا لینی چاہیے ۔ سمیر ہمارا باس تھا، ٹھیک ہی کہتا ہوگا، اگر وال صاحب کا کیا تھا، وہ تو ریٹائر ہو گئے تھے، ہم تو آن سروس تھے نا، جس میں نوکری مینوئل کے رول نمبر ون کے مطابق ’ باس از آل ویز رائٹ‘۔ اس سطر کو پڑھنے کےبعد ہم نے کبھی سوچا ہی نہیں کہ باس رونگ بھی ہو سکتا ہے ،سانوں کی! دیٹس بیونڈ مائی پے اینڈ گریڈ۔

خیر صاحب ،پیٹ پوجا کرنے کے بعد وقت دیکھا تو فلائٹ کی بورڈنگ شروع ہونے ہی والی تھی، لاؤنج میں ہی ایک پِرے روم تھا جدھر نماز کا انتظام تھا، اس کا فائدہ اٹھایااور پھر چل پڑے۔ رستے میں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر موبائل چارجنگ اسٹیشن نظر آئے اتنے پوائنٹس ہمیں کسی اور ائیر پورٹ پر کبھی نظر نہیں آئے تھے ۔ دبئی میں البتہ بندے چارج کرنے کے لیے سہولت مہیّا کی گئی ہے۔ مطلب یہ کہ اس کے مرحبا لاؤنج میں ’ سلیپنگ پوڈز‘ ہیں اور اس کے علاوہ ڈیوٹی فری شاپنگ ایریا میں بھی سونے کے لیے کرائے پر جگہ مل جاتی ہے ، سُلانے والی البتہ ساتھ لانی پڑتی ہے۔ اگرکسی نے چمپی مالش کروانی ہو تو اس کا بھی انتظام ہے، جیب بھاری ہو توبندہ ہلکا ہو سکتا ہے ۔

تھوڑی دیر کے بعد ہی مطلوبہ ڈیپارچر گیٹ نظر آیا اور ہم بورڈنگ کارڈ و پاسپورٹ دکھا کر جہاز کی طرف چلے۔ جہاز کی اینٹرنس پرہی یونیفارم میں ملبوس چاق و چوبند عملے نے ہمارا سواگت گیا اور ہماری نشست کی جانب راہ نمائی کی ۔

جیسے ہی ہم اپنی نشست پر پہنچے ، ادھر پہلے سے منتظر ایک فلائٹ اٹینڈنٹ نے خوش اخلاقی و مترنم لہجے میں کہا ۔۔
ہیلو ! ویلکم آن بورڈ
ہم نے بھی ہائے ، تھینک یویری مچ کہا اور سامان اوپر ہیٹ ریک میں رکھنے لگے۔ ایک تو جب بندے میں کشش اور وجاہت کُوٹ کُوٹ کر بھری ہو تو کالی پیلی گوری سب ہی بات کرنے کا بہانہ ڈھونڈتی ہیں ، اس وقت بھی ایسا ہی ہوا ۔
اس نے ہم سے پوچھا کہ اپ کا دن کیسا گذرا ، ہم نے اسے ایک جملے میں بتایاکہ بہت تھکن آمیز اور طویل ۔
اس نے شاید ہمارا دل رکھنے کو یا پھر بات سے بات نکالنے کو پوچھا کہ آج کوئی  خاص بات ہے ، کوئی اسپیشل ایونٹ؟
اب ہم نے اس کی طرف توجہ کی اور محسوس کیا وہ بہت دلکش و پُرکشش شخصیت کی مالک تھی اور لہجے اور لُکس سے بھی انگریز نہیں لگ رہی تھی، شاید اٹالین یا پھر گِریک۔
اس کے دوسرے سوال پر ہمیں یاد آہی گیا کہ آج کیا خاص بات تھی، ہم نے اسے بتایا کہ آج ہماری ویڈنگ اینی ورسری ہے۔
واؤ، بہت خوب، مبارک ہو
ہم نے کہا تھینکس ۔
پھر ہم نےاس سے بیگم کا تعارف کروایا اور پھر اسے اشارے سے بتایا کہ کِن کِن نشستوں پر ہماری برسوں کی کمائی اور مستقبل کی امیدیں براجمان ہیں۔ اس نے خوشی کا اظہار کیا اور پھر اسی دوران اس کی دوسری ساتھی بھی آگئی  اور ہماری گفتگو میں شامل ہو ئی، یک شُد نہ دو شُد۔ اس نے اس کا بھی تعارف کروایا، ہمارا خیال درست نکلا وہ خود گِریس اور اس کی دوست سائپرس سے تھی۔ ہم نے کہا کہ واؤ،یہ دونو ں ملک تو ساتھ ساتھ ہیں، تو اس کی ساتھی نے کہا کہ یس، اسی لیے ہم دونوں ایک دوسرے کی بیسٹ فرینڈ بھی ہیں۔
خیر اس نے ہمیں ایک بار پھر وِش کیا اور کسی بھی مدد کی ضرورت ہو تو بلا جھجک بلا نے کا کہہ کرآنے والے دوسرے مسافروں کی طرف متوجہ ہو گئی۔ کچھ لمحوں کے بعد فلائٹ مینجر بھی آن پہنچا ، اور اپنا تعارف کرا کر سفر آرام دہ اور باسہولت گزرنے کی نیک تمناؤں کا اظہار کر کے دوسرے مسافرکی طرف متوجہ ہو گیا۔ ہم نے ’ ہم تماشا‘ کی تصویر بنائی۔

ہم تماشا – جہاں جہاں جاتا ہوں ،پیچھے چلی آتی ہو ،یہ تو بتاؤ کہ تم میری کون ہو؟

ہم بھی اپنی نشست پر ڈھے گئے اور سیٹ بیلٹ باندھ کر مساجر آن کیا اور ہلکے ہلکے مساج کا لطف لینے لگے۔ پتایہ میں تو بیگم کی سخت گیر مانیٹرنگ نے مساج تک تو لینے نہ دیا تو بھلا ہم دوسرے اقسام کے تھائی مزے کیا خاک لیتے، چلو اچھا ہے، جیسے گئے تھے ویسے ہی لَوٹ آئے، ہمارے اندر سے آواز آئی ’یہ بدّھو کس کو بولا‘؟ اسی آواز نے پھر کہا ’آئینہ لاؤں؟‘۔ ہمیں جواب مل گیا ، سکون سا آگیا۔

آہستہ آہستہ مسافر آتے گئے ،جہاز بھرتا گیا اور پھر ایک مختصر سیفٹی ویڈیو کے بعد اُڑان بھرنے کا اعلان ہوا اوراگلے چند لمحوں چار انجنوں والا یہ دیوہیکل سپر جمبو ہوائی جہاز فضا میں محوِ پرواز تھا۔ جب ہمیں اطمینان ہو گیا کہ پائلٹ جہاز صحیح سے اڑا رہا ہے تو ہم نے بھی اطمینان کا سانس لیا اور جہاز کو اس کے کنٹرول میں دے کر دعاؤں کا سلسلہ موقوف کر کے آنکھیں موند لیں۔

پرواز میں انٹرنیٹ وائی  فائی کی سہولت تھی۔ ہم اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ میں لاگ اِن ہوئے تو میسنجر پر ایک کرم فرما کا پیغام آیا ہواتھا ۔ وہ وطن عزیز میں بیٹھے پتایہ کے وائی فائی مزے لینے کے لیے کورل بِیچ پر مٹر گشتی کے بارے میں دریافت کر رہے تھے ۔ ہم نے انہیں سچ سچ بتا دیا کہ آج کل مٹر کا موسم نہیں ہے اس لیے ہم اس بابت کچھ بتانے سے معذور ہیں ۔اور اس کے بعد جو بچی وہ ہمیں کبھی نہ پچی ، لہٰذا،اس کی بات رہنے دیں ، ہم نے اسے بخشش دی اور آپ بھی ہمیں بخش دیں ۔ نہ جانے  مٹر گشتی کے ساتھ ہمیں گشتی پولیس اور گشتی عدالت کیوں یاد آجاتی ہے؟

کورل آئی لینڈ مع انڈین لنچ مبلغ 810 بھات (تصویر بہ شکریہ ٹور آپریٹر)

دنیا کی اس بہترین ائیرلائن کے ہوائی سفر میں حالانکہ سینکڑوں فلموں اور دوسرے تفریحی پروگرام اِنفلائٹ انٹرٹینمنٹ کا حصہ ہوتے ہیں اور پھر اکیس انچ کا وسیع مانیٹر اور بہترین کوالٹی کا ہیڈ فون، لیکن ہم پھر بھی ہوائی سفر میں فلمیں دیکھنا پسند نہیں کرتے۔ بلکہ ہمیں تو ساتھ والے کی مانیٹر پر کن انکھیوں سے گاہے بہ گاہے نظر مار تے ہوئے سب ٹائٹل پڑھنے میں مزہ آتا ہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ ہمیں تاڑو سمجھ بیٹھیں ۔ اور ہمارے ساتھ اس فلائٹ میں زوجہ ماجدہ پڑوس میں ہی موجودتھیں تو پھر ’سیاں بھئے کوتوال تو ڈر کاہے کا ‘ والا معاملہ تھا ۔ وہ رشی کپور اور موسمی چٹر جی کی فلم ’دو پریمی ‘ ملاحظہ فرما رہی تھیں اور ہم چوری چوری چپکے چپکے فلمی چے ٹِنگ فرما رہے تھے ۔

رشی کپور کنوئیں میں کودنے والے ہی تھے کہ وہی دلکش مترنم لہجہ پھر سنائی دیا، اورپھر جو ہوا اس نے ہمیں حیرا ن کر دیا۔وہ دبے پاؤں آئی اور اس نے مسکراتے ہوئے ہماری نشست کی ٹیبل پر کچھ رکھا اور ویسے ہی مسکراتی ہوئی چلی گئی۔ کچھ نہ سمجھتے ہوئے ہم نے گردن گھما کر دیکھا کہ اس نے کیا رکھا ہے تو کیا دیکھتے ہیں کہ دو گلاب کے حسین و تازہ پھولوں کے ساتھ دو تہنیتی کارڈ زرکھے ہوئے تھے۔

ہم نے خوشگوار حیرت سے ایک کارڈ کھولا تو اس میں تمام کریو کی جانب سے ان کی مادری زبانوں میں ہماری اینی ورسری کی مبارکباد تحریر تھی۔ ایک دوسرے کارڈ میں ہم دونوں سلَمَہا اور سَلمَہُ کی پولورائڈ کیمرے سے کھنچی تصویر چسپاں تھی جس پر ان دونوں کے ساتھ کیبن مینجر کی طرف سے بھی نیک تمناؤں کا اظہار تھا۔

ہم حیرانی اور خوشگواری کی کیفیت میں ڈوبے ہوئے تھے، فی زمانہ آج کل اتنا سر درد کون مول لیتا ہے، کسی اجنبی کے لیے اتنی دلداری اور دلنوازی وہی کر سکتا ہے جس کےدلِ شفاف میں رشتوں کی اہمیت زندہ ہو جو آج کی مشینی دنیا میں بھی ماضی کی روایات و سماجی رِیت پر یقین رکھتا ہو۔

کُرو کی جانب سے اپنی اپنی زبان میں مبارکباد کا پیغام

جب وہ دوبارہ ہمارے پاس سے گزری تو ہم نے اس کا شکریہ ادا کیا جس کا جواب اس نے شرارتی مسکراہٹ سے دیا اور ہمیں لاؤنج بار آنے کی دعوت دی جو ہم نے قبول کر لی۔ ویسے بھی فلائٹ تھوڑا متوازن ہو جاتی تو ہمیں اس لاؤنج بار کی یاترا کرنی ہی تھی، اس جہاز کا کا سب سے دلچسپ حصہ جہاز کے پچھلے حصے میں بنا یہ لاؤنج با ر تھا جدھر پیاسے حلق تر اور بھوکے پیٹ بھرنے جاتے اور ہمارے جیسے بد زوق صرف تصویر لینے یا تو کُکیز، کیک، پیسٹریز،سینڈویچز، ایم ایمز بٹورنے یا پھر ٹانگیں سیدھی کرنے پہنچتے۔ اگلے انگور کی بیٹی کو بلّوریں جام میں مقیّد رکھتے اور پُھر حلق میں انڈیل لیتے اور ہم انہیں چسکیاں لیتے دیکھ کر دل ہی دل میں یٹّے گٹّے یٹّے گٹّے کرتے رہتے۔ ویسے ہمارے خود اختیاری شریفانہ شوق کی تسکین کے لیے موہیتو، ایپل اپرٹائزر، اورنج و پائن ایپل جوس وغیرہ بھی دستیاب ہوتا ہے، تو ہم انہی کو نوش کر کے شوق کی شمع جلا کر دلِ خوش فہم میں دکھاوے کا خمار آمیز اُجالا کر لیتے کہ ’ تُو‘ مجھ کو منع ہے تو دکھاوے کے لیے آ۔ اس وقت لاؤنج کے بار میں اور کوئی نہ تھا اور وہ بار ٹینڈر کے فرائض سنبھالے ہوئے تھی۔

ائیر بس 380 کا لاؤنج ،تھوڑے کو بہت جانو

ہم نے ’ ہم تماشا ‘ اسے پکڑا کر چند تصاویر بنائیں ، کچھ ادھر اورکچھ ادھر کی باتیں ہوئیں۔ رِیت رواج ، آج کی تیز زندگی اور گزرے دور کی فراغت، ان سب پر گفتگو ہوئی ۔ وہ باتوں اور خیالات سے کافی دیسی دیسی لگی، ویسے بھی یونانی اپنے نقوش میں شمالی علاقوں کے لوگوں سے بہت ملتے ہیں اور ان کے کلچر میں بھی بہت زیادہ مغربیت نہیں ہے ۔ اور پھر سکندر آعظم بھی اپنے یہاں ہو کر گیا تھا جس سے متاثرہ فلم ’ مقدر کا سکندر‘ یونانی تاریخ سمجھنے میں بہت مددگا ر سمجھی جاتی ہے۔ خاص طور سے سلامِ عشق والے گانے سے اس دور کی ثقافت اور تہذیب کو سمجھنے میں کافی مدد ملتی ہے اور روتے ہوئے آتے ہیں والا گانا تو گویا فلسفہء حیات کے دریا کو کوزے میں بند کرنے کے برابر ہے ۔ پھر پیارے لال جی آوارہ کا لازوال کردار جس نے سکندر کو کوٹھے کا راستہ دکھا کر وی سی آر کرائے پر دینے والوں کی چاندنی کرادی ۔پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ وطن عزیز میں نوجوانوں نے پہلوانی اور زور آزمائی والی مشقّتی فلمیں چھوڑ کر سکندر کی بایوگرافک ڈاکیو منٹری کی ویڈیو کیسٹس کی مانگ شروع کی۔ سماج کی یہ تبدیلی آج تاریخ کے پنّو ں پر درج ہے ۔

جہاز بادلوں کو چیرتا ہوا آگے بڑھے جارہا تھا، لاؤنج میں مے کشوں کی آمد شروع ہو چکی تھی۔ ہم نے بھی شراب ِآدم کی ایک بوتل اٹھائی اور حلق ترکرتے ہوئے اپنی نشست کی جانب چل پڑے۔ دو پریمی ختم ہونے والی تھی جس کے بعد ہماری ڈھنڈائی شروع ہو جاتی۔
کیبن کی لائٹس بجھ چکی تھیں اور چھت پر مون لائٹ مُوڈ لائٹنگ نے سماں طاری کر دیا تھا، ہمارے قدم بہکنے لگے تھے ، شاید ہمیں خمر دیکھنے ہی سے خمار چڑھنا شروع ہو گیا تھا، پھر یاد آیا کہ ہم پچھلے سولہ گھنٹے سے جاگ رہے ہیں اور یہ مستانی چال اسی بے آرامی کا شاخسانہ ہے کسی خمر خانہ خراب کا نہیں ، ہماراموڈ آف ہو گیا ۔ خیر سے بار پلٹ بدّھو اپنی نشست پر پہنچے تو بلگری کا نفیس ایمنِٹی سیٹ ہمارا منتطر تھا اور ہماری سیٹ پر قرینے سے میٹریس بھی بچھایا جاچکاتھا۔ ہم اس پر براجمان ہو کر ڈھے گئے اور سیٹ رِکلائن کر کے اسے فلیٹ بیڈ بنایا اور کمبل میں گھس کر آنکھیں موند لیں۔ ششی کپور اور موسمی چٹر جی تو ہنی مون پر نکل جائیں گے لیکن اگر ہم نہیں سوئے تو بیگمانہ تفتیش میں پھنس جائیں گے ۔
؏ افسوس صد ہزار سخن ہائے گفتنی
خوف فسادِ خلق سے نا گفتہ رہ گئے
لہٰذا  فی الوقت ’ چیاؤ‘۔۔

پتی پتنی اور پتایہ ‘ (تھائی لینڈ کے ایک سفر کی مختصر روداد) ۔۔ قسط نمبر 1بٹا 3 ۔ ۔شفیق زادہ

پتی پتنی اور پتایہ (تھائی لینڈ کے ایک سفر کی مختصر روداد) ۔۔ قسط نمبر 2 بٹا 3 ۔ ۔شفیق زادہ

ShafiqZada
ShafiqZada
شفیق زاد ہ ایس احمد پیشے کے لحاظ سےکوالٹی پروفیشنل ہیں ۔ لڑکپن ہی سے ایوَی ایشن سے وابستہ ہیں لہٰذہ ہوابازی کی طرف ان کا میلان اچھنبے کی بات نہیں. . درس و تدریس سے بھی وابستگی ہے، جن سے سیکھتے ہیں انہیں سکھاتے بھی ہیں ۔ کوانٹیٹی سے زیادہ کوالٹی پر یقین رکھتے ہیں سوائے ڈالر کے معاملے میں، جس کے متعلق ان کا کہنا ہے کہ ڈالر کی طمع صرف ایک ہی چیز ختم کر سکتی ہے ، اور وہ ہے " مزید ڈالر"۔جناب کو کتب بینی کا شوق ہے اور چیک بک کے ہر صفحے پر اپنا نام سب سے اوپر دیکھنے کے متمنّی رہتے ہیں. عرب امارات میں مقیم شفیق زادہ اپنی تحاریر سے بوجھل لمحوں کو لطیف کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ " ہم تماشا" ان کی پہلوٹھی کی کتاب ہے جس کے بارے میں یہ کہتے ہیں جس نے ہم تماشا نہیں پڑھی اسے مسکرانے کی خواہش نہیں.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”پتی پتنی اور پتایہ ( تھائی لینڈ کے ایک سفر کی مختصر روداد ) ۔۔۔ تیسری،آخری قسط

  1. انتہا سے زیادہ ریفریش کردینے والا مضمون ۔۔۔۔ ہم بہت بڑے فین ہیں آپ کی تحریروں کے اور آپ کی شخصیت کے ۔۔۔۔ ایسے ہی لکھتے رہیئے ۔۔۔ آپ کی تحریر میں طنز ہے مزح ہے سبق ہے مگر بوجھل پن نہیں ہے بلکہ ایک الگ ہی طرح کی شگفتگی اور تروتازگی ہے

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *