• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • مدارس کے علماء کی تنخواہ کا معیار کیا ہونا چاہیے؟۔۔۔حافظ محمد زبیر

مدارس کے علماء کی تنخواہ کا معیار کیا ہونا چاہیے؟۔۔۔حافظ محمد زبیر

ایک دو ہفتے پہلے ایک یونیورسٹی کولیگ نے یہ سوال کیا کہ وہ اس موضوع پر لکھنا چاہ رہے تھے کہ مدرسہ کے ایک استاذ کی تنخواہ کیا ہونی چاہیے۔ ان کا خیال یہ تھا کہ مدرسہ کے استاذ کے پاس عالمیہ کی سند ہوتی ہے جو ایچ۔ای۔سی کے مطابق ایم۔اے اسلامک اسٹڈیز یا ایم۔اے عربی کے برابر ہے لہذا کسی مدرسہ میں ایک استاذ کو کم از کم اتنی تنخواہ ضرور ملنی چاہیے جو کالج کے ایک لیکچرر کے برابر ہو۔ میں نے کہا کہ مجھے آپ کی بات سے اتفاق ہے، آپ اس پر ضرور لکھیں۔

ابھی حال ہی میں یعنی ستمبر 2019ء میں حکومت پنجاب نے آٹھ نو ماہ کے لیے سرکاری کالجز میں جن لیکچررز کو بھرتی کرنا تھا تو ان کی تنخواہ 45 ہزار بتلائی گئی تھی۔ لیکن مدارس کے اساتذہ کی تنخواہ اتنی نہیں ہوتی ہے۔ البتہ ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ بعض مدارس اپنے اساتذہ کو رہائش، کھانا اور بلز مثلا پانی، گیس اور بجلی وغیرہ فری کر دیتے ہیں جو بہر حال ایک بڑا خرچ ہے تو اسے تنخواہ میں شامل کرنے میں حرج نہیں ہے۔

tripako tours pakistan
مصنف: حافظ محمد زبیر

دوسرا بڑا مسئلہ جو مدارس کے منتظمین کی طرف سے سامنے آتا ہے، وہ یہ کہ فنڈز کی کمی ہے۔ بہر حال یہ ایک جینوئن مسئلہ ہے اگر واقعی میں فنڈز کم ہیں تو۔ لیکن دوسری طرف کی رائے یہ ہے کہ مدارس کے منتظمین عمارت کے اسٹرکچر کو کھڑا کرنے کے لیے، اس کی مرمت کے لیے اور اس کی آرائش وزیبائش کے لیے لاکھوں نہیں کروڑوں لگا دیتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ فنڈز کی کمی ایک بہانہ ہے۔ بہر حال ضروری نہیں ہے کہ ہر مدرسہ کو فنڈز کی کمی کا سامنا ہو اور جن کو ہو بھی وہ اپنا کام بھی تو کم کر سکتے ہیں ناں۔

Advertisements
merkit.pk

اصل ایشو یہ ہے کہ مدارس سے برین ڈرین (brain drain) ہو رہا ہے۔ اچھے متخرجین یعنی گریجویٹس ایم۔فل یا پی۔ایچ۔ڈی کر کے اسکول، کالج اور یونیورسٹی کی ملازمت کو ترجیح دیتے ہیں کہ وہاں مناسب تںخواہ ملتی ہے۔ تو جب تک مدارس کمپیٹیٹو سیلیری پیکیچز نہیں رکھیں گے تو اچھا ذہن وہاں کیوں رکے گا؟ تو اچھے ذہن کو وہاں روکنے کے لیے ضروری ہے کہ مدارس میں تنخواہوں کے نظام کو سرکاری نظام مثلا بی۔پی۔ایس اسکیل سسٹم کی روشنی میں ریوائز کیا جائے ورنہ تو وہی لوگ وہاں باقی رہ جائیں گے کہ جن کے پاس کوئی دوسری آپشن نہ ہو گی۔ اور سوسائٹی یہ کہے گی کہ ہم اتنا مدارس کو دیتے ہیں تو وہ ہمیں واپس کیا کر رہے ہیں۔ تو مدارس میں پینشن کا نظام بھی ہونا چاہیے، بالکل صحیح ہے۔ اور تنخواہوں میں یہی سرکاری ماڈل اسلامی تحریکوں کو بھی اپنے اداروں کے ملازمین کے لیے اپنانا چاہیے۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

حافظ محمد زبیر
ڈاکٹر حافظ محمد زبیر صاحب علوم اسلامیہ میں پی ایچ ڈی ہیں اور کامساٹس یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، لاہور میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ آپ تقریبا دس کتب اور ڈیڑھ سو آرٹیکلز کے مصنف ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply