خدا حافظ چیف۔۔۔عارف انیس

ہم سب نے چلے جانا ہے. جیسے ہمارے ماں باپ اپنے والدین سے جا ملے ہیں، اسی طرح ہم بھی ان سے جا ملیں گے. بس درمیان کا کچھ گورکھ دھندہ ہے. تو کچھ خوراک کا مزہ لو، کوئی خوشبو سونگھو، دھوپ میں کچھ گنگناؤ، پانی میں کود جاؤ،کچھ گناہ، کچھ ثواب، بس جو جو بھی کہنا ہے کہ ڈالو اور جو بھی کرنا ہے کر گزرو.’ شاہد حیات خان نے دریائے ٹیمز کے کنارے بیٹھے کافی کی چسکی لیتے ہوئے خودکلامی کے انداز میں کہا.

‘آپ تو پولیس فورس کے اشفاق احمد ہوگئے سر’ میں نے قدرے شرارتی انداز میں کہا تو ان کے سجیلے چہرے پر مسکراہٹ دوڑ گئی.

‘ بندہ اپنی جوانی میں، اے ایس پی پولیس ہوتے ہوئے تین سال جیل میں گزار لے تو اس پر معرفت کے بہت سے دروازے کھل جاتے ہیں’. انہوں نے پاس سے گزرتی اٹالین ویٹرس کو نظر انداز کرتے ہوئے بائیں آنکھ میچتے ہوئے کہا.

آج میں پل بھر کے لیے رکتا اور سوچتا ہوں کہ واقعی شاہد حیات خان کی زندگی میں وہ تین سال جو انہوں نے مرتضٰی بھٹو قتل کیس میں جیل میں گزارے، شاید سب سے اہم ہیں. ان تین سالوں نے ایک ایسے شاہد خان کو جنم دیا جو موت سے ڈرنے سے انکاری تھا، چاہے وہ ایم کیو ایم کا ڈیتھ بریگیڈ ہو، یا لیاری کا بابا لاڈلا گینگ ہو یا القاعدہ کے مزہبی دیوانے، شاہد حیات کے چہرے سے مسکراہٹ کوئی نہیں چھین سکا. یہ مسکراہٹ کینسر بھی نہیں چھین سکا.

یہ 2002 کی بات تھی جب 29 ویں کامن سے تعلق رکھنے والے ہم سول سروس اکیڈمی میں زیرتربیت افسران کو کنٹری سٹڈی ٹور المعروف سی ایس ٹی پر سندھ بھیجا گیا اور وہاں ٹھٹھہ کے ڈی پی او شاہد حیات خان سے ملاقات ہوئی. بہت کم پولیس افسران کو وردی میں اتنا سمارٹ دیکھا. کچھ سلویسٹر سٹالون کے راکی والا کھردرا ٹچ. بولتی ہوئی آنکھیں اور لاابالی پن. صاف نظر آرہا تھا کہ ان کی اپنے ضلع ناظم سے نہیں بن رہی.کیپٹن فضیل اصغر، (موجودہ چیف سیکرٹری بلوچستان) ہمارے جوائنٹ ڈائریکٹر تھے اور شاید حیات کے بیچ میٹ بھی، سو اس وجہ سے خصوصی ٹہل سیوا ہوئی. دورے کا سب سے مزیدار کھانا شاہد حیات خان نے اپنے ہاتھوں سے تیار کیا تھا جو زیادہ تر سی فوڈ پر مشتمل تھا. انہیں بڑھ چڑھ کر نوجوان افسران کو سرو کرتے دیکھا تو ان کے لیے احترام کے جذبات نے جنم لیا، جن میں آنے والے سالوں میں اضافہ ہی ہوتا رہا.

پاکستان سے آنے کے بعد تین چار مرتبہ ملاقاتیں ہوئیں تو کئی گھنٹے بیٹھا انہیں سنتا رہا. وہ کئی اعتبار سے فلمی کردار تھے. کیرئیر شروع کیا تو مرتضیٰ بھٹو قتل کیس میں دھر لیے گئے. باہر نکلے تو دس بارہ سال میں اپنا ایسا سکہ جمایا کہ 2012 میں 22 سال کی سروس کے بعد کراچی کے پولیس چیف بن گئے. اب تو ایم کیو ایم کی دہشت دھول بن چکی، مگر تب، شاید سب سے پہلے شاہد حیات خان نے ایم کیو ایم کی ہیبت کو چیلنج کیا تھا اور کہا تھا ابھی ان کے سر میں مارے جانے والی گولی ٹیکسال میں نہیں ڈھلی. ان دو سالوں میں انہوں نے کراچی میں پولیس سروس کے پارہ پارہ وقار کو پھر سے سنبھالا. تبھی تو الطاف زرداری جپھی کے پہلے نشانہ وہی بنے. لیاری گینگ کا راج توڑنے میں بھی بھرپور کردار ادا کیا. شاہ زیب قتل کیس اور عباس ٹاؤن بم دھماکے کے کیس کو بھی انجام تک پہنچایا.

شاہد حیات سے جب کبھی کراچی کے اوپر قبضے کی جنگ کی روداد سنتا تو کتنی ہی بلاک بسٹر فلمیں دماغ میں پھر جاتیں. اور وہ اس بلاک بسٹر فلم کے ہیرو تھے. اسی طرح بھڑ جانے والے، لاابالی، لاپرواہ، سگریٹ اور سگار کا کمال کا کش لگانے والے، کھلنڈرے مگر اپنی فورس کی آن پر نہ سمجھوتہ کرنے والے. اپنے کانسٹیبلوں اور حولداروں کے ساتھ چائے اور سگریٹ پینے اور گپ مارنے والے. انہوں نے پوری زندگی دو کمروں کے فلیٹ میں گزار دی جو اے ایس پی کے طور پر ملا تھا، تب بھی وہاں سے نہ ہلے جب کراچی پولیس کے چیف تھے. پولیس افسر تو بہت ہیں، مگر چیف کوئی کوئی ہوتا ہے.

ہم سہل طلب کون سے فرہاد تھے لیکن
اب شہر میں تیرے کوئی ہم سا بھی کہاں ہے؟

عارف انیس

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *