داستانِ زیست۔۔۔محمد خان چوہدری/قسط30

پیش لفظ۔ پچھلی قسط میں اِنکم ٹیکس کی وکالت کا اپنا مشہور کیس لکھتے ہوئے  شاید نظر لگ گئی، داستان زیست لکھنے کو بریک لگی۔ وقفہ طویل ہو گیا۔ ہم 1990 میں تھے، اسلام آباد کے سیکٹر جی۔ سکس ٹو میں کرائے کے گھر میں گراؤنڈ فلور پہ  رہائش اور گیراج کو فرنش کر کے اس میں آفس چلا رہے تھے، فرسٹ فلور مالک مکان کے پاس تھا، جو پشاور رہتے  تھے،یہاں ان کی ہمشیرہ مقیم تھی، یہ مکان کتنا مبارک ثابت ہوا، اس کا احوال اس قسط میں پڑھیے۔ نیاز مند قلندر!

نئی قسط
آپ میں بہت کم دوستوں نے کسی بزرگ لیڈی کو چرخہ کاتتے دیکھا ہو گا، سُوتر کاتتے اگر پونڑی پہ  لپٹتا دھاگہ ٹوٹ جاتا تو اسے جوڑنا دشوار ہوتا۔ یہی حال ہمارا ہے، مسقط ایمبیسی سے نکلنے اور مشیر اِنکم ٹیکس بننے میں اس کیفیت سے گزرے، پھر داستان لکھتے یہ لڑی ٹوٹ گئی، سوت میں مشکل سے گانٹھ لگائی۔
کسی بھی پروفیشنل کے لئے اس کا فون نمبر اور ٹھیا اس کی پریکٹس کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں ،اُس زمانے میں تو فون نمبر لینا بھی آسان نہیں تھا۔ وہ تو وکالت کام آئی  اور 814858 ہماری پہچان بن گیا،دفتر تو گھر میں تھا گھر شاہراہ عام پر تھا، بورڈ کی مشہوری تین سال میں بہت ہو گئی۔

اب دروازے پر ایک کرولا لندن ماڈل اور بغیر آن دیئے سوزوکی ڈیلر کلائنٹ سے خریدی زیرو میٹر سوفٹ کاریں پارک ہوتیں۔ مطلب دوبارہپر  چکوالی چوہدراہٹ اور وکالت ساتھ ساتھ براجمان ۔
ایک روز صبح صبح مالک مکان قاضی صاحب ٹرک پہ  سامان سمیت پشاور سے نقل مکانی کر کے آ گئے،چند روز گزرے تو میاں بیوی نے بڑی لجاجت سے گھر خالی کرنے کی عرض پیش کر دی۔۔
ان کا مسئلہ اپنی جگہ بالکل جینوئن تھا، اور ہم تو ویسے بھی ان کے حسن سلوک کے ممنون  تھے ۔
ہم نے کچھ وقت مانگا اور دعا کرنے کی فرمائش کی، ہلکا سا اشارہ کیا کہ میلوڈی کے سامنے ان چھ گلیوں میں ہی گھر ڈھونڈنا دفتر اور فون نمبر کی وجہ سے لازمی ہو گا۔


ایمبیسی کے آخری سال میں ہم نے ہمزاد کے اصرار  پر  ماڈل ٹاؤن ہمک جو پنڈی کہوٹہ روڈ ٹرائینگل ، میں ایک پلاٹ خریدا تھا اور ہاؤس بلڈنگ کارپوریشن سے لئے قرض سے سنگل سٹوری گھر زیر تعمیر تھا، وہاں شفٹ ہونا تو  نا ممکن تھا۔
ہم جب تک نوکری پیشہ تھے تو کبھی بھی پنڈی اسلام آباد مستقل رہنے کی سوچ ہی نہیں  آئی  تھی،وہی روایت کے ریٹائر ہو کے چکوال واپس جانا ہے، یہاں گھر کس لئے بنائیں،اب قاضی صاحب کی مجبوری نے مہمیز لگائی  کہ روز کرائے کا گھر بدلنا بھی ممکن نہیں رہا ،دعا مانگنی شروع کی کہ سی ڈی اے کے کرسچین کے لئے بنائے 20 X40 فٹ کا پلاٹ ہی جی ایٹ میں مل جائے۔
“ بندہ کرے کوولیاں تے رب کرے سوولیاں “۔۔بے شک انسان جلد باز ، نا شُکرا اور گھاٹے کا سودا کرنے والا ہے۔

ایمبیسی کی ملازمت کے دوران جب دو لاکھ میں مرسیڈیز 280 S خریدی تو ایک مخلص دوست نے تادیب کی، ایف ایٹ سیکٹر میں ایک کنال کا پلاٹ جو متنازعہ تھا تین لاکھ میں مل سکتا تھا، نقد ادائیگی دو لاکھ پر ایک پارٹی سے قبضہ اور دوسری پارٹی کو چھ ماہ میں لاکھ دینے پر ٹرانسفر کرانا ممکن تھا لیکن اس وقت عقل نہ تھی ۔
ہاں گزشتہ ایک ڈیڑھ سال سے لاشعور میں دفتر کسی مستقل جگہ بنانے کی ضرورت موجود تھی،اِنکم ٹیکس کے دفاتر مرکز جی ایٹ میں ایک پلازہ میں منتقل ہو چکے تھے، عین اس کے مقابل پلازہ کے مالکان دوست اور کلائنٹ تھے، دکانوں اور فلیٹس پر مشتمل اس پلازے کے حصہ داران میں تقسیم کا جھگڑا ہم نے نپٹایا، دو فلیٹس کسی کے حصے میں نہیں  آ رہے تھے، ہم نے وہاں دفتر بنانے کے لئےوہ اپنے ذمہ لیے ، قیمت طے کی، اور بیعانہ دے کے چھ ماہ کا ٹائم بقیہ ادائیگی کے لئے لے لیا تھا۔

اِنکم ٹیکس کی وکالت میں مشیر کی پوزیشن ڈاکٹر اور دائی  سے بھی زیادہ راز دار کی ہوتی ہے، امانت داری شرط ہے۔کلائنٹس آپ سے وہ سیکریٹ بھی شیئر کرتے ہیں جو زوجہ سے بھی نہیں  کرتے۔
دوستوں کو ہماری پریشانی کی خبر ہو گئی، ایک مہربان نے ایف ٹین میں بارہ سو گز کے پلاٹ پر زیرِ  تعمیر چار یونٹس میں سے ایک یونٹ۔ آفر کیا، مارکیٹ پرائس بائیس لاکھ تھی، مشترکہ پراجیکٹ تھا اس نے اپنے حصہ کا پرافٹ چھوڑ کے سترہ لاکھ میں دینے کی حامی بھر لی،ہم اپنے محلہ دار، دوست اور پراپرٹی ڈیلر کے دفتر گئے، اس نے جی سکس کی ہی مین سٹریٹ میں اپنے ساتھ کے گھر کا بتایا، جو بک تو چکا تھا لیکن مالکان میں وراثت کا جھگڑا تھا، اس نے مشورہ دیا کہ سولہ لاکھ قیمت ہے تیرہ لاکھ ادا ہو چکے ہیں وہ دے کے قبضہ لے سکتے ہو، باقی مقدمہ ہوا تو وکیل ہو بھگت لینا۔
یہ گھر تو قاضی صاحب کے گھر سے چوتھی گلی میں ہے، ہمزاد کے ساتھ گھر دیکھا، سنگل سٹوری خستہ حالت،ہم ایف ٹین چلے گئے، دوست کا یونٹ دیکھا، اُمرا ء کا سیکٹر، بڑے اور نئے بنے گھر، ہم تو پسیج گئے ، نیا خوبصورت گھر،نہ جھگڑا نہ رولا، بہت پسند آیا، گھر دیکھ کے باہر نکلے، ہمزاد نے کہا،، what next ?
ہمارا میٹر گھوم گیا، مغلظات بکتے گاڑی بھگاتے واپس گھر آ گئے، شام تک دماغ کچھ ٹھنڈا ہوا، واک کرتے دوبارہ اسی متنازعہ گھر کو دیکھا، ہمزاد نے سرگوشی کی، تم آرکیٹیکٹ بھی ہو۔ آنکھیں بند کر کے سوچو، اسے رینوویٹ کر لو گے۔۔لوکیشن دیکھو، مین سوک سینٹر کے سامنے، رات دن ویگن سٹاپ ساتھ، ہسپتال اسی سٹریٹ میں، سکول قریب۔
سوچو۔۔ سوچو، مقدمہ تو تم سنبھال لو گے، سودا کرو، قبضہ لو، دفتر ، فون سب یہیں ، نو چینج ۔۔۔

ہم ساتھ والی گلی میں سابقہ خریدار حاجی سے ملے، پراپرٹی ڈیلر دوست کی بتائی  قیمت کی آفر لگائی  ، ٹوکن دیا، سیل ایگریمنٹ ہو گیا، ہمزاد نے توکل کرو ، توکل کرو کی تسبیح جاری رکھی۔۔
صبح ایف ٹین والے دوست کو بُلایا ، اسکی آفر کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا، اس نے تفنن میں کہا ،
دس ہزار روپے  نکالو، تمہیں چار بوتل وہسکی جرمانہ پڑ گیا ہے ۔۔
اُٹھ کے اپنی کار کھولی، ڈرائیونگ سیٹ کے میٹ کے نیچے سے لاکھ روپے کی دستی نکال لایا، دس ہزار گن کے علیحدہ کیے، نوے ہزار مجھے تھما دیئے، گھر خریدنے کی مبارک دی، مجھے حیران دیکھ کے ہنس کے کہنے لگا۔
یہ ہمارے آئی  ٹین والے پلازے کے نئے پراجیکٹ کی تمہاری ایڈوانس فیس ہے، چلو ایک لاکھ کی رسید بنا کے دو ۔
یہ دس ہزار میرا کمیشن ہے، مخلص دوست احسان ایسے کرتے ہیں کہ بندے کی انا مجروح نہ ہو ۔
کرولا کار چکوال کے بچپن کے دوست ملک اور اسکے بزنس پارٹنر شاہ سے دو لاکھ بیس ہزار میں خریدی تھی، ایک لاکھ بقایا تھے۔ان کو فون کیا، مجبوری بیان کی، آفر دی کہ بیس ہزار وہ کاٹ لیں ، لاکھ مجھے دیں اور کار واپس لے جائیں ۔
لنچ کے وقت وہ دونوں آ گئے، ملک نے آتے ہی وہ سنائیں کہ توبہ، پورے ایک لاکھ بیس ہزار واپس کیے،کھانے کی فرمائش کی، کھانا کھا کے جانے لگے تو میں نے کار کی چابی اور کاغذات دیئے، ملک نے وہ میز پر پٹخ دیئے۔۔۔
کہنے لگا، آج چاچا زندہ ہوتا تو میں تمہیں وہ ساری گالیاں واپس لوٹاتا، جو اُن سے میں نے تمہاری دوستی میں کھائیں ،تم یہ کار ابھی رکھو، اور اپنے ابا ، میرے چاچا کو یاد کرو، وہ ہوتے تو کیا کہتے۔۔
شاہ جی نے ادب سے کہا۔۔ بھائی  جان شکر ہے آپ نے بھی یہاں گھر خریدنے کا سوچا، ویسے آپ کے تو اب تک یہاں تین چار ہونے چاہئیں تھے ۔۔۔

شام کو حاجی سے ملاقات کی ، ایگریمنٹ پہ  دستخط ہوئے، دو لاکھ بیعانہ ادا کر دیا ۔
ہمک والا گھر جو ٹھیکیدار دوست بنا رہا تھا، وہ رات کو ملنے آیا، گھر مکمل ہو گیا تھا، اسے ساتھ لے کے حاجی والا گھر چیک کرایا، تفصیل بتائی ، اس نے شاباش کے ساتھ مبارک دی، میں نے ہمک والے گھر کی متوقع  قیمت فروخت پوچھی۔ اس نے بتایا کہ دو پارٹیاں لگی ہیں شاید چھ لاکھ میں بِک جائے۔
مجھے اس کے سارے گھر اور کاروباری معاملات معلوم تھے، گہرے گھریلو مراسم جو تھے،سو اسے آفر یا تجویز نہیں  حکم دے دیا، کہ وہ گھر اس کی بیٹی کا ہوا، پانچ لاکھ وہ مجھے دے گا، قرضہ میں ادا کروں گا۔
اگلے دن وہ پنڈی سیونگ سنٹر سے پیسے لے آیا ، اسی کے ساتھ حاجی کو دیئے اور گھر کی چابیاں لے لیں۔
گھر ٹھیکیدار کے حوالے کیا، اس نے مستری لگا دیئے، کچن اور باتھ رومز بدلنے اور مرمت و پینٹ سب کام شروع ہو گئے۔
سوفٹ کار کا اشتہار دیا وہ ابھی تک پنڈی ایکسائز آفس میں ریزرو نمبر 14 RIU پہ بغیر رجسٹریشن چل رہی تھی۔اسی شام او جی ڈی سی کے افسر کرنل صاحب اصل قیمت ڈیڑھ لاکھ میں لے گئے،گھر سے ناری ٹیکی کا ڈنر سیٹ، ڈیپ فریزر، اور چند قیمتی آئٹم بھی بیچ کے حاجی کو گیارہ لاکھ پورے کر دیئے۔پریشانی اب جی ایٹ والے آفس کے لئے خریدے فلیٹس کی تھی۔
ایک سوچ کہ ایک فلیٹ کسی طرح بچ جائے، اڑھائی  لاکھ ایڈوانس تو دیا ہوا تھا، ایک فلیٹ چھوڑ کے کچھ مزید مہلت لی جائے اور مزید اڑھائی  لاکھ دے کے یہاں دفتر بن سکتا ہے۔ہمزاد نے اس بار تو کلاس لے لی، لالچ کی حد ہے ، کل چُوڑوں والا پلاٹ لینے کو تیار تھے، آج مین اسلام آباد میں دس مرلہ پر بنا گھر مل گیا ہے، جس میں دفتر رہائش کیا مہمان داری بھی ہو سکتی ہے، کچھ عقل کرو۔۔۔۔
جی ایٹ والے پلازہ کے مالکان کے بزرگ کو ایک مشترکہ دوست کے ذریعے ساری صورت حال سے آگاہ کیا۔۔یہ آفر بھی کی کہ وہ زر بیعانہ سے مناسب کٹوتی کر کے ڈیل کینسل کرا دیں، مناسب سمجھیں تو شام کے جشن طعام و جام پہ میرے آفس تشریف لائیں۔
یہ بزرگ گالیاں بڑے ترنگ سے دیتے تھے، اسی دوست کے ساتھ آئے، دو پیکٹ ساتھ لائے۔۔ایک میں شام کا توشہ اور دوسرے میں رقم۔ ہم نے بڑے احترام سے ٹرالی سجا کے ان کا مغلظ خطاب سُنا۔
پیسوں والا پیکٹ دراز میں رکھ دیا، دوست نے ضد کی کہ اسے کھول کے گن لیں تو رقم تین لاکھ نکلی۔
پچاس ہزار علیحدہ کر کے لوٹانے لگے، تو بزرگ تپ گئے، فرمایا یہ ہم دونوں کی طرف سے تمہارے گھر خریدنے کی مبارک باد ہے، میں واقعی رو دیا۔۔
وہ دونوں آتے ہوئے گھر بھی دیکھ کے آئے تھے،
محفل جمی ، صورت حال پر بات ہوئی ، اسی دوست نے مرس کی بجائے پلاٹ کا مشورہ بھی دیا تھا۔
قاضی صاحب مالک مکان کی دعا قبول ہوئی، ہماری گزارش مقبول ہوئی ، ہمزاد کے مشورے کاریگر نکلے۔۔۔
جو بھی ہوا ہمارے بچپن میں بزرگوں سے سنُے قول کی سچائی  ثابت ہوئی  کہ چکوال کے راجپوت کو چالیس سال کی عمر میں عقل آتی ہے ، ہم بیس سال سے پنڈی اسلام آباد تھے، وسائل بھی تھے لیکن یہاں رہنے کو گھر بنانے کی کبھی سوچ بھی نہیں  آئی  تھی، 1990 میں جب گھر خریدا تو ہم پورے چالیس سال کے ہو چکے تھے۔

گھر تیار ہو گیا، فرنش کیسے ہوا۔ اور جب ہم شفٹ ہوئے تو ہمارے پاس 14 RIU اورنج کلر مرسیڈیز کار کیسے آئی؟
وہ بزرگ اپنی کرولا ہمارے پاس چھوڑ کے چھ ماہ کے لئے کس ملک گئے؟۔۔۔
سب کچھ اور بہت کچھ اگلی قسط میں ۔۔

داستانِ زیست۔۔۔محمد خان چوہدری/قسط29

لکھاری کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے

محمد خان چوہدری

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *