آدھی سچی آدھی جھوٹی کہانی۔۔۔اسرار احمد

ہمیشہ کی طرح سارے بچے دادا جی کے گرد کہانی سننے کے لیے اکٹھے ہوئےتھے۔

دادا جی کیا ساری کہانیاں سچی ہوتی ہیں،علی نے پوچھا

بیٹا کچھ سچی ہوتی ہیں اور کچھ جھوٹی۔۔۔

کیا کوئی ایسی کہانی بھی ہوتی ہے جو سچی بھی  ہواور جھوٹی بھی۔۔؟

علی کی بات پر سب کھلکھلا کر ہنس پڑے

ہاں بیٹا ہے ایک ایسی کہانی   ۔۔چلو آج میں آپ کو وہی کہانی سناتا ہوں۔دادا جی کچھ دیر   توقف  کے بعدبولے،

سب بچے تجسّس اور اشتیاق بھری نظروں سے ان کی طرف دیکھنے لگے۔

یہ دو بھائیوں کی کہانی ہے۔۔۔دادا جی گویا ہوئے

ماں باپ کی خواہش تھی کہ بڑا بیٹا ڈاکٹر بنے گا اور چھوٹا انجینئر۔

وقت گزرتا گیا ۔بڑے  بھائی نے نمایاں نمبر حاصل کیے اور اس کا داخلہ ڈاکٹری میں ہوگیا۔

اب چھوٹے بھائی کی باری تھی کہ وہ اچھے نمبر حاصل کرکے انجینئر بنتا۔

بڑے نے ماں باپ کی خواہش کو پورا کیا تھا،اس لیے چھوٹے کے لیے ضروری ہو گیا تھا کہ وہ بھی کچھ کر دکھاتا۔ یوں اس پر گھر والوں کا، اور رشتہ داروں کا دباؤ بڑھتا گیا،اور اسی دباؤ کی وجہ سے اس کے دل میں ایک انجانا خوف سرائیت کر گیا تھا اور وہ خوف ناکامی کا خوف تھا۔وہ سوچتا رہتا تھا کہ اگر وہ ناکام ہو گیا تو والدین اور رشتہ داروں کو کیا منہ دکھائے گا۔اسی کشمکش میں امتحانات آگئے۔۔جب نتیجہ آیا تو وہ بری طرح سے فیل ہوچکا تھا،لیکن اس موقع پر اس کے والدین نے اسکا حوصلہ بڑھایا اور اسی کی بدولت اس نے نئے سرے سے پڑھائی شروع کر دی اور  ساتھ ہی اپنے والد کے کاروبار میں ہاتھ بٹانا شروع کردیا۔وقت کے ساتھ ساتھ اس کی دلچسپی کاروبار میں بڑھتی گئی اور اس نے مناسب تعلیم حاصل کرکے اپنی ساری توانائیاں اپنے کام میں صرف کر دیں اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ ایک بہت بڑا بزنس مین بن گیا۔اس کے والدین بہت خوش ہوئے کہ ان کا ایک بیٹا ڈاکٹر اور دوسرا ایک نامی گرامی بزنس مین  بن گیا تھا۔دادا جی کپکپاتی ہوئی آواز میں بولے ۔۔لیکن دادا جی اس میں سچی کہانی کون سی اور جھوٹی کونسی؟ فاطمہ نے پوچھا

اس میں چھوٹے بھائی کی کہانی جھوٹی ہے۔۔دادا جی بمشکل بولے

کیا وہ ایک بڑا بزنس مین نہیں تھا۔علی نے تجسس کے مارے پوچھا

نہیں۔۔وہ رندھی ہوئی آواز میں بولے

تو پھر اس کے ساتھ کیا ہوا تھا

وہ  مر گیا تھا۔۔اس نے خود ہی اپنی جان لے لی تھی،دادا جی کی آوازکسی گہرے پاتال سے آتی ہوئی سنائی دی

کب ؟؟؟سب کے منہ سے بے اختیارنکلا

جب اسکا نتیجہ آیا تھا۔۔۔آنسوؤں کی لڑیاں ان کے رخسار پر بہنے لگی تھیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *