• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • نون لیگ اور پیپلز پارٹی کے ایک دوسرے سے بدگمان کچھ کارکنان اور قائدین ۔۔غیور شاہ ترمذی

نون لیگ اور پیپلز پارٹی کے ایک دوسرے سے بدگمان کچھ کارکنان اور قائدین ۔۔غیور شاہ ترمذی

یہ انسانی ذہن کا خاصا ہے کہ وہ سوچتا ہے۔اس کی سوچ کے دائروں میں سب سے پسندیدہ عمل  مختلف چیزوں کو  کسی  واقعے  اور اس کے عوامل، چھوٹے  بڑے نتائج، اصل و نقل صورتحال اور اس طرح کے کئی رشتوں میں جوڑنا ہے- دنیا کا ہر انسان چیزوں کے درمیان یہ رشتے بناتا اور توڑتا رہتاہے-  اگر آدمی کی سوچیں بلند نہ ہوں تو  پھر اس کا ذہن لوگوں کے محرکات و اعمال کی سوچوں میں گم رہے گا- ان کے جملوں ، تبصروں اور حرکات و سکنات اس کی سوچوں کا محور  ہوں گے- وہ ہر عمل کا سبب ڈھونڈے گا، وہ اس کے محرکات تک پہنچے گا اور پھر ان گمانوں پر اپنے ذہنی نتائج کی بنیاد پر اور خود ساختہ بلا ثبوت دوسروں کو مجرم بناتا رہے گا۔

گمان کے نفسیاتی محرکات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آدمی دوسروں کے بارے میں اس وقت بدگمانی کرتا ہے، جب اسے ان سے نقصان پہنچے اور وہ غم و غصے  کا شکار ہو۔ غم اور غصہ ایک عام سی چیز ہے۔ مگر نفس کا شیطان اس غم و غصہ کی تسکین کے لئے ہمیں اس شخص کے بارے میں سوچنے پر ابھارتا ہے-  ہم دل ہی دل میں اس کے فعل کے محرکات کو متعین کرنے لگ جاتے ہیں-  چونکہ ہم غصے  میں اور اپنے نقصان پر غم زدہ ہوتے ہیں. اس لئے عموماً اسی غم و غصے  کے تحت رائے بنا لیتے ہیں حالانکہ اس بات کا پورا امکان ہوتا ہے کہ اس شخص نے وہ کام اس محرک کے تحت نہ کیا ہو- بدقسمتی سے پیپلز پارٹی کے کارکنان اور قائدین کی ایک واضح اکثریت مسلم لیگ نون کے قائد میاں نواز شریف کو اپنے خلاف ہونے والی  اسٹیبلشمنٹ کی بعض کاروائیوں میں میاں نواز شریف کے استعمال ہونے  کا مارجن دینے کے لئے تیار نہیں ہیں- بالکل اسی طرح نون لیگ کے کچھ کارکنان اور قائدین بھی پیپلز پارٹی کے کارکنان اور قائدین کو موقع پرستی کے طعنے دیتے ہیں-
نون لیگ اوراس کی قیادت سے بدگمان پیپلز پارٹی کے کارکنان اور راہنماؤں  کا کہنا ہے کہ  لندن میں 2006ء   میں  میثاق جمہوریت اور سنہ 2007ء دسمبر میں بے نظیر بھٹو کی المناک شہادت کے بعد  بننے والی پیپلز پارٹی کے ابتدائی عرصہ میں  تو  دونوں بڑی پارٹیوں میں یہ محبت چلی لیکن پھر کئی ایسے واقعات ہوئے جس سے مسلم لیگ نواز کی جانب سے اس معاہدے کی پاسداری نہیں کی گئی-  پہلے تو  جب صدر آصف زارداری نے طے شدہ معاہدے  کے تحت سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو بحال کرنے سے انکار کر دیا تو نواز شریف ججوں کی بحالی کے لئے لانگ مارچ لے کر اسلام آباد کو چل نکلے- اس لانگ مارچ کو یوسف رضا گیلانی نے بمشکل ختم کروایا اور آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی گارنٹی پر ہی نواز شریف مانے جب انہوں نے خود یقین دہانی کروائی کہ وزیر اعظم نےایگزیکٹو آرڈر کے ذریعہ  افتخار محمد چوہدری کو بحال کر دیا ہے- پیپلز پارٹی کے یہ کارکنان شاکی ہیں کہ اسی افتخار چوہدری نے پیپلز پارٹی کے پورے دور میں حکومت کے لئے شدید مشکلات پیش کیے  رکھیں اور نواز شریف اس کی معاونت کرتے رہے-  ان کا کہنا ہے کہ یوسف رضا گیلانی  سوئیس عدالتوں کو چوہدری افتخار کے اصرار کے باوجود بھی خط نہ لکھنے کے “جرم” میں سپریم کورٹ میں پیش ہوئے تو میاں نواز شریف بھی پیپلز پارٹی کی مخالفت کرنے پہنچ گئے-  اس کے بعد میمو گیٹ سکینڈل ہوا تو نواز لیگ پیش پیش رہی یعنی نواز لیگ نے  پیپلز پارٹی دور حکومت میں میثاق جمہوریت کے برخلاف کوئی موقع نہیں چھوڑا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت کو کمزور کیا جائے۔-
تجزیہ نگار کہتے ہیں  کہ سنہ 2013ء کے عام  انتخابات میں میاں نوازشریف حکمران بنے اور توقع تھی کہ وہ بہترین حکمرانی کے ذریعے تدریجی عمل کے ذریعے جمہور کی بالادستی کو یقینی بنانے کی کوشش کریں گے لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شدہ است-  معروف صحافی سلیم صافی نے لکھا تھا کہ تیسری  دفعہ وزیر اعظم بننے کے بعد میاں صاحب کے سامنے تین ماڈل تھے ۔- جنوبی افریقہ کے نیلسن مینڈیلا کا (ماضی کو بھلا کر عام معافی اور نئے رولز آف گیمز کے تحت نئے سفر کے آغاز کا)‘ترکی کے طیب اردگان کا(بہترین طرز حکمرانی اور ڈیلیوری کے ذریعے تدریجی عمل کے ذریعے عوام کی محبتوں کو سمیٹنے اور فوج کو بتدریجی  سیاست سے بے دخل کرنے کا ماڈل ) یا پھر مصر کے محمد مرسی کا(راتوں رات فوج پر بالادستی اور مقتدر قوتوں سے پنجہ آزمائی کا ماڈل)- مگر افسوس کہ میاں نوازشریف محمد مرسی کے راستے پر گامزن نظر آئے جس کا نتیجہ وہ اس طرح بھگت رہے ہیں کہ  سنہ 1999ء کی طرح  2019ء میں  بھی جیل میں ہیں-
پیپلز پارٹی نے اپنے دور حکومت میں نواز شریف کی طرف سے اپنے خلاف ہونے والی کاروائیوں کے باوجود بھی نون لیگ حکومت پر جب عمران خاں کے سنہ 2014ء کے دھرنے میں برا وقت آیا تو ایمپائر کی انگلی کے سامنے ڈٹ جانے کا فیصلہ کیا اور نون لیگ حکومت کو اس بحران سے باہر نکالا- جیسے ہی نون لیگ کی حکومت اس بحران سے باہر آئی تو اس کے وزیر داخلہ چوہدری نثار نے پیپلز پارٹی کے راہنماؤں اور قیادت کے خلاف منی لانڈرنگ اور اربوں روپے کے بنک اکاؤنٹس کے جھوٹے کیسز بنانے شروع کر دئیے- پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر عاصم حسین سے برآمد ہونے والے 500 ارب روپے, شرجیل میمن سے برآمد ہونے والے 200 ارب روپے اور گمنام بنک اکاؤنٹس میں پڑے ہزاروں ارب روپے اب کہاں ہیں جن کے بارے میں چوہدری نثار لمبی لمبی تقریریں کیا کرتے تھے-  ان راہنماؤں کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی قیادت اس وقت جتنے بھی جھوٹے کیسوں میں نیب اور عدالتی کاروائیوں کا سامنا کر رہی ہے یہ سب نواز شریف حکومت کے تینوں ادوار میں ہی بنائے گئے ہیں-
دوسری طرف نون لیگ کے کارکنان اور قائدین کا کہنا ہے کہ میاں نواز شریف کی طرف سے یوسف رضا گیلانی اور میمو گیٹ سکینڈل میں افتخار محمد چوہدری کی معاونت کرنے کو غلطی تسلیم کرلینے کے بعد یہ معاملہ اور رنجشیں ختم ہو جانی چاہئیں- نون لیگی راہنماؤں کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی قیادت کے خلاف بننے والے موجود ہ منی لانڈرنگ کے کیسز نواز شریف کے ایماء پر نہیں بلکہ مقتدرہ کے کہنے پر بنائے گئے تھے- اسی لئے میاں نواز شریف نے ان کیسوں کو بنانے والے چوہدری نثار سے خود کو دور کر لیا تھا- نون لیگی ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کو 2018ء  میں سینٹ کے انتخابات جتوانے، عمران خان کو وزیر اعظم بنانے اور پھر عارف علوی کو صدر بناتے وقت بھی پیپلز پارٹی نے ڈنکے کی چوٹ پہ اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے کا اعلان نہیں کیا بلکہ مولانا فضل الرحمان اور مسلم لیگ تو پارلیمنٹ میں نہ جانے پہ کسی حد تک متفق تھے لیکن بلاول بھٹو نے دعوی کیا تھا کہ وہ پارلیمنٹ میں بھی جائیں گے اور دنیا کو اپوزیشن کر کے دکھائیں گے۔ پیپلز پارٹی کے اس مؤقف کی وجہ سے نون لیگ کو پارلیمنٹ میں جا کر حلف اٹھانا پڑا- اب میاں نواز شریف  گزشتہ سال سے جیل میں اندر باہر ہو رہے ہیں-   مریم نواز بھی اسٹینلشمنٹ کے خلاف تحریک چلاتے ہی گرفتار کر لی گئیں- حمزہ شہباز، شہباز شریف بھی پھنسے ہوئے ہیں-  خواجہ سعد رفیق، رانا ثناء اللہ, شاہد خاقان عباسی اور آدھی لیگی قیادت جیل میں ہے لیکن مجال ہے کہ پی پی پی کے کسی سینئر یا جونیئر کارکن نے ان کی مزاحمت کی تعریف کی ہو جبکہ بلاول بھٹو نے جب بھی مزاحمت پر مبنی تقاریر کیں تو نون لیگی اراکین اور قائدین نے دل کھول کر خراج تحسین پیش کیا-
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کوئی بھی پارٹی اصلی معنوں میں سیکولر  جمہوری پارٹی نہیں ہے بلکہ تمام کی تمام اس خطہ کے رائج سیاسی روایت کا حصہ ہیں جسے عرف عام میں   مسلم سوشل ڈیموکریسی کہتے ہیں- مسلم لیگ اس نوعیت کی پہلی جماعت تھی جبکہ  پاکستان پیپلز پارٹی کا تعلق بھی اسی پہلے گروہ سے ہے۔ ہر مسلم ڈیموکریٹ نظریات پہ مبنی جماعت دو متضاد  سیاسی بیانیوں اور سیاسی  ساختی مجبوریوں کا شکار ہوتی ہے۔ پہلا یہ کہ اس کو جمہوریت اور اسلام دو روایتوں اور نظریات کو ساتھ لے کر چلنا ہوتا ہے اور دوسرا یہ کہ اس کی قیادت اشرافیہ  اور ٹیکنو کریٹ گروہوں سے آتی ہے جس کی جڑیں عوام میں نہیں ہوتیں اس لئے اس کو  الیکٹ ایبلز  اور سرپرست اسٹیبلشمنٹ نیٹ ورک  کی ضرورت پڑتی ہے جو  اس کو ووٹ اور سکون سے حکومت کر لینے دینے  کی طاقت فراہم کر سکیں۔  پیپلز پارٹی کی قیادت بھی ان دونوں تضادوں کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی سیاسی سٹریٹجی بناتی ہے۔ حتی کہ بھٹو شہید نے بھی اسلام اور جمہوریت کو آپس میں جوڑنے کے لئے مختلف مذہبی علامات اور نعروں کا استعمال کیا تھا۔ سنہ 1973ء کے آئین میں بھی اسلام کو ریاست سازی کے مرکزی اصول کے طور پہ مانا گیا-  اسی طرح  صوفی ازم اور صوفی اسلام کو جب عالمی طور پہ رجعتی اسلام کے مقابل پذیرائی دی جانے لگی تو غیر اعلانیہ طور پہ صوفی ازم پیپلز پارٹی کی حکومت اور سیاست کا بھی حصہ بنتا چلا گیا- اگرچہ بھٹو صاحب کی پیپلز پارٹی سے پہلے اور بعد کے دونوں عہد اور پھر محترمہ بے نظیر بھٹو شہید  اور زارداری صاحب کی پیپلز پارٹی کی سیاست بھی  طاقت کے اداروں سے ’لین دین’ اور ، اسلام ، اور جمہوریت کے سیاسی ڈسکورس میں گندھی ہے  لیکن پیپلز پارٹی کی اعلی اور نچلی قیادت کی جناب سے دوسری جماعتوں پر  فوج کے ساتھ معاملات طے کرنے اور سیاست میں اسلام کا نام استعمال کرنے کے الزمات ہر دوسرے روز عائد کرتی رہتی ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ پیپلز پارٹی ہو یا نون لیگ, دونوں جماعتیں تقریبا” ایک ہی طرح کے سکہ کے وہ دو رخ ہیں جن کا ایک ہی نتیجہ نکلا کرتا ہے-

معاملہ یہ ہے کہ پیپلزپارٹی کی پیدائش کافی حد تک فطری تھی اور مسلم لیگ(ن) کا آغاز غیر فطری طریقہ سے اسٹیبلشمنٹ کی چھتری کے تلے ہوا, اس لئے جب تاریخ میں جائیں گے تو پیپلزپارٹی کی نسبت نون  لیگ کا دفاع کرنا زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ دوسری طرف معاشی پالیسیوں میں نون لیگ کی کارکردگی پیپلز پارٹی کی کارکردگی سے  زیادہ اچھی رہی ہے۔ اکثر جمہوریت پسندوں کو نواز شریف میں اچھی تبدیلیاں بھی نظر آرہی ہیں اس لئے تجزیہ نگاروں  کا کہنا یہ ہے کہ دونوں پارٹیوں کے کارکنان اور قائدین کو چاہیے کہ وہ سیاسی وابستگی کی بنیاد پر آپس میں مت الجھیں۔ اس وقت کی ضرورت یہ ہے کہ  جمہوریت, سیاست اور حکومت میں مداخلت کرتی ہوئی اسٹیبلشمنٹ کے مقابلہ میں جمہوری طاقتوں کو تمام اختلافات بھلا کر  اکٹھا کرنا چاہیے-   یہ وہ وقت ہے کہ اگر پیپلز پارٹی اور نون لیگ کی قیادت صدق دل سے متحد ہو کر کوشش کریں تو اصلی جمہوری سسٹم ملک میں قائم کیا جا سکتا ہے-

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *