عمر قید کتنے سال کے لیے ہوتی ہے؟۔۔۔آصف محمود

کیا آپ کو معلوم ہے عمر قید کتنے سال کی ہوتی ہے؟

آپ کو شاید حیرت ہو لیکن حقیقت یہ ہے کہ وطن عزیز میں ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ عمر قید کا دورانیہ کیا ہو گا۔ پارلیمان میں جہاں ایک دن کے اجلاس مبارک پر اس قوم کے قریبا چار سو لاکھ خرچ ہوتے ہیں ، سب کچھ ہوتا ہے لیکن قانون سازی نہیں ہوتی۔ قانون سازی کی کبھی اشد ضرورت پڑ بھی جائے تو صدارتی آرڈی ننس سے کام چلا لیا جاتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ پارلیمان نے قانون سازی نہیں کرنی تو پھر کیا کرنا ہے؟ عمر قید آ خر کتنے سال کی ہوتی ہے؟ آٹھ سال؟ دس سال؟ پندرہ سال؟ پچیس سال؟ یا ساری عمر جب تک مجرم زندہ رہے؟

یہ وہ سادہ سا سوال ہے جس کا ہمارے پاس آج بھی کوئی جواب نہیں۔ ’پارلیمان کی بالادستی کے فضائل آپ جتنے چاہے سن لیں لیکن فاضل اراکین پارلیمان کو ایسے سوالات کا جواب دینے اور قانون سازی کرنے کا آج تک شاید وقت نہیں ملا۔ خدا جانے یہ اہلیت کی کمی ہے ، سنجیدگی کا فقدان ہے ترجیحات کچھ اور ہیں لیکن یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ پارلیمان نے اپنے بنیادی فریضے کی ادائیگی میں انصاف سے کام نہیں لیا۔ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 57 میں عمر قید کے گننے کا جو فارمولا وضع کیا گیا ہے اس کے مطابق یہ 25 سال کی مدت ہے۔

اس وقت بالعموم یہی سمجھا جاتا ہے کہ عمر قید کا مطلب 25 سال کی قید ہے۔تاہم ایک رائے یہ بھی ہے کہ اس کا تعلق عمر قید کے دورانیے کے تعین سے نہیں ہے۔ یہ موقف صرف اہل علم کا نہیں بلکہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بھی سپریم کورٹ کے سامنے یہی موقف پیش کر چکے ہیں ۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ کم از کم ملک کے سب سے بڑے صوبے کی جورسپروڈنس میں عمر قید کا مطلب محض 25 سال کی قید نہیں ۔اب یہ ایک الگ سوال ہے کہ جسے عمر قید کی سزا ہوتی ہے اسے عملی طور پر پچیس سالوں کا قیدی کیوں سمجھا جاتا ہے اور اس کے ساتھ معاملہ 25 سال ہی کے اصول کے تحت کیوں ہوتا ہے؟بلکہ بعض صورتوں میں تو عمر قید کا قیدی دس پندرہ سال کے بعد رہا ہو چکا ہوتا ہے۔ ایسا کیوں ہے ؟ یہ ایک سنجیدہ سوال ہے۔

دوسری طرف حدود آرڈی ننس کی سیکشن 2 ہے۔ اس میں عمر قید کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ مجرم کو باقی کی ساری عمر، یعنی اپنی موت تک جیل میں رہنا ہو گا۔پشاور ہائی کورٹ نے 2017 میں ریاض بنام سرکار کیس میں قرار دیا کہ یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ عمر قید کا مطلب 25 سال قید ہی ہو گا سوائے حدود آرڈی ننس کے جہاں مجرم کو عمر قید دی جائے گی تو وہ اپنی موت تک جیل میں رہے گا، لیکن اگر کسی کو حدود آرڈی ننس کی بجائے تعزیرات پاکستان کے تحت عمر قید ہوئی ہو تو اس کا دورانیہ مجرم کی موت تک نہیں بلکہ صرف 25 سال تک ہو گا۔

یاد رہے کہ 2019 میں پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل نے سپریم کورٹ میں جو موقف پیش کیا وہ اس کے بر عکس تھا۔ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 401 میں معاملہ بالکل مختلف ہے۔ اس سیکشن میں صوبائی حکومتوں کے پاس سزاے قید میں تخفیف اور اس کی منسوخی کا اختیار موجود ہے اور اس ضمن میں جس اصول پر عمل کیا جاتا رہا ہے وہ یہ ہے کہ عمر قید کا قیدی اگر پندرہ سال ، بعض صورتوں میں چودہ سال قید گزار چکا ہے تو اسے رہا کیا جا سکتا ہے۔ اگر چہ اس حوالے سے عدالتوں نے کچھ سخت اصول طے کر رکھے ہیں لیکن عمومی تفہیم یہی ہے کہ قیدی جب چودہ پندرہ سال قید کاٹ لے تو اسے دفعہ 401 کے تحت رہا کیا جا سکتا ہے۔ یہ چودہ پندرہ سال بھی حقیقی قید کے نہیں ہیں بلکہ عیدوں ، رمضان ، قومی ایام یا دیگر مواقع پرجو معافی ملتی ہے اسے شامل کر کے مدت شمار کی جا سکتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ہمارے ارد گرد کچھ ایسے کردار نظر آ جاتے ہیں جنہیں کبھی سزائے موت ہوئی تھی اور وہ آٹھ دس بارہ سال بعدمونچھوں کو تائو دیتے ’’ رُول آف لاء ‘‘ کے ’’ برینڈ ایمبیسڈر‘‘ بنے پھرتے پائے گئے۔ یہ معاملہ بنیادی طور پر پارلیمان کے دیکھنے کا تھا کیونکہ اس کا بنیادی کام ہی قانون سازی ہے۔لیکن پارلیمان میں ایسا عمومی فکری بحران رہا ہے کہ وہاں سنجیدہ قومی امور پر غورو فکر کم ہی ہوتا ہے۔اب تو وقت ہی نہیں ملتا لیکن ایک دور میں اکثر کارروائی دیکھنے جایا کرتا تھا۔ مجال ہے کبھی وہاں کوئی ایسی بحث سنی ہو کہ واپسی پر یہ احساس ہوا ہو کہ ہاں آج علم و فکر کے حوالے سے کچھ رہنمائی ہوئی ہے۔کبھی کسی رکن پارلیمان کو لائبریری میں آرکائیوز یا کسی کتاب کا مطالعہ کرتے نہیں دیکھا۔ کسی کو شوق نہیں کم از کم اتنا ہی پڑھ کر دیکھ لے کہ اس پارلیمان میں ماضی میں کیا کچھ ہوتا رہا۔ لوگ بحری بیڑے جیسے گاڑی میں آتے ہیں ، اجلاس میں گپ شپ کرتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔سوچنے اور غور کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟

فیصلہ تو ہر جماعت کے قائد محترم نے کر دینا ہے اور اس کے بعد حکم آ جانا ہے فلاں بل آ رہا ہے اس پر ہاں کر دو یا ناں کر دو۔ جنبش ابرو پر رائے قائم کرنے والے یہ اراکین پارلیمان ہماری اجتماعی دانش کی نمائندگی کر رہے ہیں۔کوئی المیہ سا المیہ ہے۔ عمر قید کی سزا کی مدت کا تعین تو محض ایک پہلو ہے، حقیقت یہ ہے کہ اپنے قانون میں ایسی کئی چیزیں ہیں جو پارلیمان کی توجہ چاہتی ہیں۔ایسے ایسے قانون آج بھی نافذ العمل ہیں آپ پڑھ لیں تو سمجھ نہ آئے ہنسنا ہے یا رونا ہے۔لیکن پارلیمان کے پاس وقت ہی نہیں۔وہ دیگر اہم مور میں مصروف رہی ہے اور مصروف ہے۔روز ایک نئی پھلجھڑی ، روز ایک نیا معرکہ، روز نئے جنگجو ، روز نیا محاذ۔۔۔۔۔انٹر ٹینمنٹ سے محروم عوام کے لیے بھی اب یہ تفنن طبع کے سوا کچھ نہیں۔سب کر رہے ہیں آہ و فغاں ، سب مزے میں ہیں۔

آصف محمود
آصف محمود
حق کی تلاش میں سرگرداں صحافی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *