• صفحہ اول
  • /
  • مشق سخن
  • /
  • جب کریم آباد پُل پر ہمارا سامنا ڈاکوؤں سے ہُوا۔۔۔سلمان نسیم شاد

جب کریم آباد پُل پر ہمارا سامنا ڈاکوؤں سے ہُوا۔۔۔سلمان نسیم شاد

چند ماہ پہلے   ہمارے ایک عزیز دوست  فرحان بھائی ہم سے ملنے آئے تو واپسی پر ہم نے انھیں  گھر  ڈراپ کرنے کی پیشکش کی۔ کہاں آپ بسوں میں دھکے کھاتے پھیریں گے۔ تو ہم نے گاڑی کی چابی لی اور ان کو لیکر روانہ ہونے لگے تو خیال آیا ،کیوں نہ بادشاہ کو ساتھ لے لوں ،واپسی پر اکیلے آنا پڑے گا ،وہ ساتھ ہوگا تو راستہ اچھا کٹے گا۔ بادشاہ ہمارا بہت پیارا دوست ہے مگر بیچارہ تھوڑا ہکلا ہے اور بہت مشکل سے ہی کوئی اس کی بات سمجھ سکتا ہے۔ خیر ہم نے اس کو آواز لگائی اور کہا۔۔ گاڑی میں بیٹھ جاؤ، فرحان بھائی کو گھر چھوڑ کر آتے ہیں۔

وہ فوراً حکم کی تعمیل کرتے ہوئے پچھلی نشست پر بیٹھ گیا۔دس منٹ کی مسافت کے بعد ہمارے دوست فرحان بھائی کی رہائش گاہ آگئی تو ہم نے گاڑی ان کے دروازے پر لگائی اور ان کو بخیر و عافیت گھر پہنچا دیا۔ انھوں نے چند رسمی جملے بولتے ہوئے ہمارا شکریہ ادا  کیا۔ اور ہم نے بھی جواب میں وہ ہی روائتی اور گھسا پیٹا جملہ دہرایا ،کوئی بات نہیں یہ تو ہمارا اخلاقی فرض تھا۔

ہم نے فرحان بھائی سے اجازت لی اور گاڑی اسٹارٹ کرتے ہی پچھلی نشست پر بیٹھے ہوئے اپنے دوست بادشاہ کو کہا آگے آجاؤ۔ اس نے خوش ہوتے ہوئے کہا او۔۔او۔۔۔کککے مانڑ بھائی اور وہ تیزی  سے دروازہ کھول کر اگلی نشست پر براجمان ہوگیا۔ یہاں ہم آپ کو یہ بھی بتادیں ،بادشاہ بھرپور جدوجہد کے باوجود ہمارا نام سلمان بھائی نہیں لے پاتا تو وہ ہمیں مانڑ بھائی ہی کہتا ہے وہ بھی کئی اقساط میں۔

خیر ہم نے وہاں سے گھر واپسی کا سفر شروع کیا تو لیاقت آباد فلائی اوور سے ہوتے ہوئے ہم نے ٹریفک جام ہونے کی وجہ سے   گاڑی کریم آباد کے اولڈ فلائی اوور پر گھما دی، جو ایف سی ایریا کی طرف جاتا ہے۔ اور آج کل رات کے وقت بہت سنسان ہوتا ہے۔ وہاں اس وقت بھی بہت سناٹا تھا۔ خیر ہم آ تو گئے مگر سناٹے کی وجہ سے وہاں کی فضاء بڑی خطرناک لگ رہی تھی۔ اور ہم بھی کچھ خوفزدہ تھے کیونکہ جیب میں اس وقت اچھی خاصی رقم موجود تھی۔

ہم دل ہی دل میں درود شریف پڑھتے آگے بڑھتے جارہے تھے کہ اچانک بادشاہ کی زوردار آواز کئی اقساط میں ہمیں سنائی دی۔ مانڑ بھائی۔ ڈاااااکو  ،ڈااااکو ،ڈاکو  ۔۔۔۔اس کی اچانک ڈاکو ڈاکو کی آواز پر سٹیرنگ ہمارے ہاتھوں سے چھوٹنے ہی والا تھا اور گاڑی بے قابو ہوکر ٹکرانے ہی والی تھی کہ ہم نے بڑی مشکل سے خود کو سنبھالتے ہوئے ادھر اُدھر نظریں دوڑائیں تو کوئی نظر نہیں آیا، اور چیختے ہوئے بادشاہ سے دریافت کیا ،کہاں ہیں ڈاکو ؟ ہمارے اس طرح چیخنے پر گھبرا کر اس نے اپسرا اپارٹمنٹ سے آگے جانے والے روڈ کی طرف اشارہ کیا تو ہم نے دیکھا وہاں پولیس والے ناکہ لگائے کھڑے تھے اور بادشاہ صاحب ان کو ڈاکو کہہ رہے تھے۔

Advertisements
julia rana solicitors

اس کے بعد ہم نے بادشاہ کو وہ سنائیں  کہ  اس کے چاروں طبق روشن ہوگئے۔ بادشاہ ہمارا بہت پیارا اور معصوم دوست ہے۔ یہ بتانے کا مقصد اس کا مذاق اڑانا نہیں تھا۔ بلکہ ہمارا مقصد یہ تھا کہ پولیس جس کو دیکھ کر اپنے تحفظ کا احساس ہونا چاہیے۔ مگر اس کو دیکھ کر بادشاہ جیسے معصوم لوگ بھی خوفزدہ ہوکر ان کو ڈاکو کہتے ہیں۔ ذرا سوچییے۔

Facebook Comments

سلمان نسیم شاد
فری لانس جرنلٹس، رائٹر , بلاگر ، کالمسٹ۔ بائیں بازو کی سوچ اور ترقی پسند خیالات رکھنے والی انقلابی شخصیت ہیں اور ایک علمی و ادبی و صحافتی گھرانے سے وابستگی رکھتے ہیں. پاکستان میں میڈیا اور آزادی صحافت کے لئے ان کے اجداد کی لازوال قربانیاں اور کاوشیں ہیں۔ چی گویرا، لینن، اور کارل مارکس سے متاثر ہیں، دائیں بازو کے سیاسی جماعتوں اور ان کی پالیسی کے شدید ناقد ہیں۔ جبکہ ملک میں سول سپریمیسی اور شخصی آزادی کا حصول ان کا خواب ہے۔ Twitter Account SalmanNasimShad@

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply