کہروڑ پکا کی نیلماں۔۔۔محمد اقبال دیوان/24،آخری قسط

نوٹ:سویرا کے مدیر اعلیٰ سلیم الرحمان صاحب نے شمارہ نمبر سو کی اشاعت میں غیر معمولی تاخیر کے پیش نظر مصنف کو کمال شفقت سے اجازت دی کہ یہ کہانی مکالمہ میں پہلے شائع کرلیں۔۔سو پیش خدمت ہے۔۔افسر و سیاست دانوں کے معاشقوں پر مبنی ایک واردات قلبی کا احوال۔اس کے جملہ کردار، شعبہ جات،سرکاری محکمے اور واقعات خالصتاً افسانوی ہیں۔ ان کا اپنے زمان و مکان سے جڑے اصل کرداروں سے کسی قسم کا کوئی واسطہ نہیں۔ جیمز بانڈ کے خالق مصنف آئن فلیمنگ برطانیہ کی خفیہ ایجنسی ایم آئی سکس اور ہالی ووڈ پوری سی آئی اے کو اگر اپنی فلموں میں شامل کرسکتے ہیں تو جان لیں کہ مزکورہ افراد کے عہد ے،طور اطوار اور مقامات اس کہانی کے حوالے سے محض زیب داستاں کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ان کا اصل افراد اور واقعات سے کوئی تعلق نہیں۔

رادھا کرشنا اور گوپیاں

قسط نمبر 23 کا آخری حصہ
میں بھی کچھ دیر دفتر اور بڑے وزیر صاحب سے ملنے چلی گئی۔ وہی اپنے گھر کھانے پر لے گئے۔مجھے کہنے لگے کہ ان کی وزارت بدل رہی ہے لیکن جس لسٹ صدر صاحب کو منظوری کے لیے بھیجی گئی ہے اس میں میرا نام نہیں۔ممکن ہے وزیر اعظم کے ذہن میں مجھے کسی بورڈ کا چئیر پرسن بنانے کا ارادہ ہو۔ ویسے بورڈ آف انوسٹمنٹ تو کئی وزارتوں سے بہتر ہے۔میں تو کہوں گا آپ جیسی خاتون کو لٹریسی کمیشن کا چئیرپرسن ہونا چاہیے۔سیریں ہی سیریں بین الاقوامی فنڈز۔
انہیں کے گھر لنچ کرکے ہم سیمنار ساتھ ساتھ چلے گئے۔ سیمنار میں خواتین کے نمائندہ و فود سے ملنے صدر صاحب بھی آگئے۔ کیا خود اعتمادی تکبراور شان اجتناب ہے۔ جیسے کوئی فوجی دیوتا زمیں پر چل رہا ہو۔میں نے اپنے وزیر صاحب سے پوچھا تو ان میں ذرا لسانی حسد کی جھلک نظر آئی کہنا لگا مہاجر صدر میں چاہے وہ فوج ہی سے کیوں نہ ہو اعتماد بہت اور طاقت کم ہوتی ہے۔بے چارے کی
کانسٹی ٹیونسی کوئی نہیں۔اسی لیے شریفوں نے چوہدری نثار کے مشورے پر چیف بنایا تھا۔ گلے پڑگیا۔ یہ پاکستان سے باہر کے بڑوں کے فیصلے ہیں جب تک اللہ اور امریکہ پشت پناہی نہ کریں پاکستان میں کسی کو بڑا عہدہ نہیں ملتا۔

آخری قسط کا آغاز
شام این جی او کے اجلاس میں جو عورتیں تھیں،وہ بندرا بن کی گوپیوں کی منڈلی کی طرح طاقت کے اس شیام سند ر پرفریفتہ ہوکر ٹوٹ ٹوٹ پڑتی تھی۔ تعارف ہوا تو مجھے بہت پیار سے دیکھا۔کہنے لگے گڈ ورک۔ اب کی دفعہ تمہاری محنت سے یورپین یونین کو فش کی برآمدات کی پابندی بھی ہٹ گئی اور فرٹیلائزر کی شارٹیج بھی نہیں ہوئی۔ وزیر اعظم سے کہا کہ بھئی ان کا نام آپ نے تو وزیروں والی لسٹ میں نہیں بھیجا۔ ملٹری سیکرٹری کو کہا کیبنٹ سیکرٹری کو کہیں ان کا نام بھی نوٹی فکیشن میں ڈال دیں۔مجھے وزیر اعظم کے چھوٹے پن پر بہت غصہ آیا۔ماحولیات کا محکمہ کسی کو دے دیا۔ کان میں کچھ کہا تو انہوں نے سنی اَن سنی کردی۔ صدر صاحب واقعی مرد کمانڈو ہیں۔ کہنے لگے Give this classy lady Privatization.
وزیر اعظم کہنے لگے سر وہ تو میں اپنے لیے رکھا تھا ،وہ وزیر اعظم کو تنگ کرتے ہوئے کہنے لگے  ’کمال ہے سلی بینکر،یو لیڈی کلر، ہم نے تو پورا محکمہ آپ کو وزیر سمیت دے دیاہے۔

میرے کرنل ابو سچ کہتے تھے کہ ہیرے کی قدر یا تو جوہری جانتا ہے یا ہم فوجی۔ ایک منٹ میں رائٹ مین فار رائیٹ جاب چننے کی ہماری تربیت ہوتی ہے۔Bloody civilians can never do it right.۔

دس بجے لوٹی تو چھوٹم نے کہا بے بی مبارک ہو ،مجھے سائیں کا فون آیا تھا کہ تم کو پرائیوٹائزیشن کا وزیر بنارہے ہیں۔ ابھی اس کو بولنا ہمارا خیال رکھے۔کراچی میں آکر ہمارے پاس نہیں ٹھہری تو ہم سندھو دریا کا پانی بند کردیں گے۔ سیٹھ کملیش کہہ رہا تھا کسی آفیسر کے پاس چھوٹے سے فلیٹ پر ٹھہری تھیں۔

کپڑے تبدیل کرکے آئی تو پتہ چلا کہ گڈو نے جوائنٹ سیکرٹری (نارکوٹیکس )کا چارج چھوڑ دیا ہے۔صبا وہاں سترہ میل والے گھر پر ہے۔شوقی بھی آیا ہوا ہے۔کچھ دیر کو بچوں اوروالدہ صاحبہ کو لے کر باہر گیا ہے۔ ٹپکن بھیا بھی آئے ہیں وہ ظہیر کے ساتھ باہر گئے ہیں۔ظہیر کو میں نے چوری کا بتایا۔ان کا خیال ہے یہ چوری ملتان میں بھی ہوسکتی ہے۔ بیگ کا تالہ کھول کر قیمتی سامان نکال لیا ہو۔میرے ذہن میں آیا کہ یہ کام اوشا کا بھائی پرناب بھی کرسکتا ہے۔اس میں مرلی چند اور کمیلش داس کی معاونت ہو۔

چابی بنوالو لوکو
گزری کا بازار
مونیکا لیونسکی،بل کلنٹن
مونیکا لیونسکی،بل کلنٹن
پولٹ بیورو کی میٹنگ
نسیم حجازی
تامل فلموں کے ہیرو،رجنی کانت
رجنی کانت

چھوٹم نے مرلی چند اور کملیش داس کا پرناب گروپ والا یہ خیال یکسر مسترد کردیا مگر اسے بیگ کا تالا کھول کر ڈالر نکالنے والی بات لڑ گئی ہے۔ مجھے اس کی ایک بات نے جکڑ لیا ہے کہ گڈو کے پاس میرے بہت راز ہیں۔صدر، وزیر اعظم اور ہمارے بڑے وزیر جو اب خیر سے صنعتی پیداوار کے وزیر ہوگئے ہیں ان کے ساتھ کی اہم سرکاری مصروفیت کے دوران بھی اس ایک جملے کی  کاٹ میں نے مسلسل محسوس کی ہے۔سیمینار کی بے جا چاپلوسی بھری تقاریر میں  مجھے یہ خیال ستاتا رہا کہ افسر ہونے کے ناطے، ایک طویل عرصے سے پاور گیم سے جڑے ہونے کے ناطے اس نے بھانپ لیا ہے کہ ہمارے تعلقات کی اس پلڑے میں میری نہ تو قانونی حیثیت ہے نہ ہی میں اسے کسی طور اپنے  ڈھب پر لاسکتی ہوں۔وہ میری کوئی بات بھی نہ مانے تو اس پر کوئی فرق نہیں پڑتا، شوقی پر یا کسی اور کو بچوں کی ولدیت کا راز ظاہر کردے تو میری حیثیت صفر ہے۔ وہ ہر وقت ہی مجھے بلیک میل کرنے کی پوزیشن میں ہے۔

چھوٹم نے جب مجھے گلے لگا کر کہا ’بے بی مبارک ہو تم کو پرائیوٹائزیشن کا وزیر بنارہے ہیں۔ یقین کریں، میرا پہلا خوف یہ تھا کہ اب گڈو مجھے پہلے سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میں ہوگا۔اس نے مجھے کمزور جان کر ہی میری اتنی بڑی رقم چوری کی۔وہ جانتا ہے کہ میں اپنے بیٹوں کے لیے جو صرف اس کا نطفہ ہیں۔ان کے حقیقی باپ سے اس کی جائیداد میں کوئی حصہ طلب کرنے کی قانونی پوزیشن نہیں رکھتی۔

صبا نے ظہیر کے مشورے سے ٹپکن بھیا کو اسلام آباد بلایا ہے۔چھوٹم بتارہی ہے کہ اس نے کلینک سے واپسی پر صبا سے اپنی مالش کراتے ہوئے بہت باتیں کی  ہیں۔ظہیر بھیا کی تالہ کھول کر زیوارات چرانے والی بات اس سے شیئر  کی تو کہنے لگی ظہیر بھائی کا اور میرا یہ شبہ ہے کہ اوشا کے بھائی پرناب نے دہلی کالونی میں لے جاکر اس کی دوسری چابی بنوالی ہو۔ یہ ممکن ہے۔کتنی دیر لگتی ہے۔وہاں تو ایک سے ایک تالے چابی والا بیٹھا ہے۔ایک سیدھی سڑک صاحب کے گھر سے دو میل دور دہلی کالونی آتی ہے۔ممکن ہے صاحب سو رہے ہوں اس وقت پرناب بیگ وہاں لے گیا ہو اور چابی
بنوالی ہو۔ذرا آگے جاؤ تو گزری کا بازار آجاتا ہے وہاں تو کار کی کمپیوٹر پر چابی بنانے والے بھی بیٹھتے ہیں۔اس نئی چابی سے بیگ کھول کر زیورات پرناب نے نکال لیے ہوں۔اس کی بہن کے کام آسکتے ہیں۔گڈو کے معاملے میں الزام دیتے ہوئے مجھے وہ قدرے محتاط لگی۔اسے چوری کی اس کاروائی کی پیچیدگی اور محرکات کا علم نہیں۔ وہ اسے دو،تین، پانچ لاکھ روپے کی واردات سمجھی بیٹھی۔یوں صاحب سلامت ارسلان آغا اس کی بدگمانی کی رینج سے باہر ہیں۔

مجھے لگتا ہے میرے آئندہ کیرئیر اور اس کے حوالے سے آغا صاحب میرے لیے ایک سوہان ِ روح ہوں گے۔دو بچوں کے بعد میں بھی رومانس کی گھمن پھیری سے باہر آگئی ہوں۔مرد جسم کے آگے کچھ نہیں سوچتے۔بوسنیا کی جنگ پر پالیسی کے حوالے سے کوئی امریکی سینٹر صدر بل کلنٹن سے فون پر اہم مشورے مانگ رہا تھا اور وہ بائیس برس کی وچھیری مونیکا اوول آفس میں صدر صاحب کی میز کے نیچے جھکی اللہ جانے کیا تلاش کرتی تھی ۔کیا وزیر،کیا وزیر اعظم، کیا جرنیل یحییٰ۔ سب ہی جنس کے دیوانے ہیں۔

میرا خیال ہے میں پیسوں کی بات ایک دفعہ ارسلان سے لازماً کروں۔چھوٹم کا خیال ہے کہ یہ کبوتروں کی کابک (دڑبے)میں بلی چھوڑنے جیسا کام ہوگا۔آئندہ کسی کاروائی کا الزام سیدھا تم پر
لگ سکتا ہے۔وہ کہتی ہے دشمن کو باخبر کرکے حملہ کرنایا تو نسیم حجازی صاحب کا کام ہے یا جنوبی ہندوستان کے ہیرو رجنی کانت کا۔

ظہیر نے ٹپکن بھیا کو بلانے کا سبب یہ بتایا ہے کہ بہت خاموشی سے وہ ایک دفعہ صبا سے خود ہر بات پوچھ لیں۔چھوٹم البتہ ظہیر کی اس دلیل سے متفق ہے کہ رول آن بیگ سے رقم بعد میں بنی ہوئی چابی سے تالا کھول کر نکالی گئی ہے۔ وہ اس موقع ء واردات اور وقتِ  وقوعہ سے بھی متفق ہے کہ یہ حرکت صبا کی غیر موجودگی میں کسی تالے والے کے پاس بیگ لے جاکر نئی چابی بنا کر کی گئی۔ چھوٹم صرف رقم بڑی ہونے کی وجہ سے اس واردات کو پرناب کی جگہ گڈو کا ماسٹر اسٹروک سمجھتی ہے۔

واٹ نیکسٹ۔ آگے کیا؟۔ یہ میرا سوال ہے۔وہ کبھی سیدھی موضوع پر نہیں آتی۔وہ کہہ رہی ہے۔وہ زمانے لد گئے کہ شوہر کے گھر سے جنازہ ہی نکلے۔اب تو کوشش کرو کہ تمہاری زندگی میں ہی شوہر کا مالی کریا کرم (ہندو تدفین کی رسومات) ہو۔ اس کا جنازہ نکلے نہ نکلے تمہارے ارمان نکل جائیں۔میں نے سائیں  کو ایک سال ریڈ (Read)کیا جب سینٹر والی بات اور دیگر شرائط طے ہوگئیں تو سارے معاملے کو ری تھنک کیا۔میرا ایک بچے کا شوق تھا۔اس کا بھی بندوبست سائیں کے پیکج میں ہوگیا تو میں نے اوکے کردی۔جب پتہ چلا کہ سائیں کی زندگی میں کوئی نئی ماڈل آگئی ہے تو میں نے Pre Neputial سامنے رکھا۔ تین مہینے دیے کہ ماڈل چھوڑو یا مجھے فارغ کرو۔ طلاق پر سائین کردیے تو آج بھی بہترین دوست ہیں۔مجھے تمہاری ڈالر ڈیل کا پتہ تھا۔ سائیں نے بتایا تھا۔ مجھے لگا کہ چھوٹم مجھ سے بہتر سیاست دان ہے۔

جب بچوں اور شوقی کو ٹیرس سے گاڑی سے اترتا دیکھا تو کھڑی ہوگئی اور کہنے لگی۔ We plan a hit on Guddoo۔میں لرز گئی۔کیا گڈو کو کسی ٹارگیٹ کلر سے مروادیا جائے گا۔میرا اس پلاننگ میں کیا رول ہوگا۔

بچے سو گئے ہیں۔میں پی رہی ہوں۔شوقی کی نگاہوں میں مستی ہے۔دوسری طرف چھوٹم بیٹھی ہے مگر میری چھوٹی سی نائٹی میں اس کے ہاتھ مسلسل ون۔ویلنگ (نوجوانوں کو ایک پہیے پر موٹر سائیکل پر کرتب دکھانا)کررہے ہیں۔ میں چھوٹم سے یہ کہہ کر معذرت کرتی ہوں کہ میں دو گھنٹے بعد آتی ہوں۔ وہ مسکرا کر کہتی ہے Put him to rest (محاورتاً۔اسے دفن کردو) اسے کل کسی سیمینار کی صدارت کرنی ہے۔وہ تقریر تیار کرے گی۔

شوقی میں آج عجب وحشتِ  تسخیر دکھائی دیتی ہے۔میں نے اسے جب سے بڑے سرکاری بینک میں سینئر وائس پریزیڈنٹ ای بینکنگ لگوایا ہے اس میں خود اعتمادی بھی بہت آگئی ہے۔جم جانے سے اس کے بدن کا وہ پرانا لج لجا پن جاتا رہا ہے۔میں نے بھی برطانیہ سے واپسی کے بعد مجال ہے جو اپنی ورزش ایک دن چھوڑی بجز ہسپتال اور بعد کے چند ایام کے۔

اس جارحانہ پن میں میرے لیے لطف و حیرت کے نئے سلسلے ہیں مجھے اس وقت بستر میں زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوئے ہیں ، جب اس نے مجھ پر طاری ہوتے ہوئے میری آنکھوں میں اپنی کمپیوٹر آشنا آنکھیں ڈال کر دیکھا اور گڈو والے وہی دو سوال کیے جو اس نے لیساں میں میرا پہلا مرد ہونے کے ناطے پوچھے تھے۔ فرق ہے تو اتنا کہ  سرکار پاکستان کی اس نمائندہ وزیر کو شوقی نے اپنے وحشت وصال میں پیار کے دو تین چانٹے رسید کرکے پوچھا ہے ’بتا میں تیرا کون ہوں؟۔۔

میں نے اب کی دفعہ گڈو والے جواب میں معمولی قانونی تبدیلی کی اور کہا۔۔’آپ میرے تاجدار ہیں۔ میرے ملائک، میرے مالک ‘ دوسرا سوال وہ میں کیسے بھول سکتی ہوں۔۔ پوچھ رہا ہے’ اب بتا تو میری کون ہے‘؟۔میں آپ کی باندی، آپ کی غلام، آپ کی بیگم مملکت پاکستان کی وزیر نج کاری مگر آپ کی باندی، آپ کی رکھیل، آپ کے بیٹے عنادل شارق کی ماں۔اتنا سنا تو تکیے کے نیچے سے ایک نئی کار کی چابیاں نکال کر دیں۔کار بھی پہنچ جائے گی۔ یہ میرے وزیر بننے کا تحفہ ہے۔ ایک گڈو ہے چہر اترا ہوا ہے۔ چور کہیں کا۔۔۔۔

میں نے سوچا ہے کہ وزیر اعظم سے اجازت لے کر اسمبلی میں سوال اٹھاؤں گی کہ پاکستان کے بورڈ آف ٹیکسٹ بکس کو حکم دیں کہ   خدا کے واسطے اب یہ فرسودہ سوالات مردوں کے نصاب سے نکال دیں جو ہر مرد وظیفہ زوجیت یا وظیفہ غیر زوجیت ادا کرنے کے بعد ہر عورت سے کیوں چانٹے مار مار کے پوچھتا ہے کہ بتا میں ”تیرا کون ہوں؟“ اور ”اب بتا تو میری کون ہے“۔ شوقی نے اپنے مشاغل مردانہ سے نڈھال ہوکر کچھ دیر کو آنکھیں بند کیں تو میں اسے سوتا چھوڑ کر چھوٹم کے بیڈ روم میں چلی گئی۔

ایک پیڈ پر بی بی صاحبہ نے کچھ نوٹس بنائے ہیں میں ساتھ جاکر بیٹھ گئی۔چھوٹم کو بنیادی نکات دہرانا نہیں پڑتے۔یہ اس تعلق کا حسن ہے۔صبا سے ظہیر بھائی نے بتایا کہ ٹپکن نے خودپوچھ لیا۔وہ پرناب کا نام لیتی ہے یہ بھی شک کرتی ہے کہ ممکن ہے یہ سامان ملتان میں چوری ہوا ہو۔ وہاں مگر دونوں ڈرائیور جو صاحب کے ساتھ تھے وہ پرانے سینئر اور سادہ فطرت کے دیہاتی مزاج لوگ تھے۔کئی دفعہ یہاں اسلام آباد آچکے ہیں۔کوئی منفی بات ان کے لیے نہیں سنی۔

ٹپکن کا مشورہ ہے کہ پرناب کو اٹھا کر باجی کی جیولری واپس لی جاسکتی ہے۔بک گئی ہو گی تو بھی ان تک پہنچا جاسکتا ہے۔میں چپ رہی۔فوری طور پر ایسے تجاویز کو رد کرنے کا مطلب ہے آپ کے پاس ایڈوانس معلومات ہیں جس کو آپ نے ان شئیر نہیں کیا اس سے ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے۔ میں نے ظہیر بھیا کو کہا ہے کہ باجی سو رہی ہیں۔ جاگیں گی تو پوچھوں گی۔

بہت دیر ہم نے باتیں کیں۔ ایک دوسرے کی بانہوں میں سو بھی گئیں۔ سوتے جاگتے میں ایک ہی اندیشہ ،ایک ہی  تکلیف دہ خیال مجھے دامن گیر رہا کہ میں ڈیڑھ کروڑ روپے کی خاطر اس مرد کو کیسے مروادوں جو میرا پہلا مرد ہے۔جس کے بارے میں صرف میں جانتی ہوں کہ وہ میرے دونوں بیٹوں کا حقیقی باپ ہے۔

ہارلے ڈیوڈسن سوفٹیل لو رائڈ

چھوٹم بہت بے رحم ہے۔ کہتی ہے کہ   تم ذرا بیٹوں کی ولدیت کا قصہ چھیڑ کر دیکھو پھر پتہ چلے گا کہ وہ کیسا لنگوٹ پیچھے چھوڑ کر بھاگتا ہے۔ کوئی نہ کوئی پہلا مرد ہمارا بھی ہے۔ہم نے توکبھی اس پر ہٹ پلان نہیں کی۔ اس کو تو ٹپکایا نہیں۔ نیل تونے کشتی کا یہ بوجھ نہیں اتارا تو بیچ سمند ر میں اپنے مسافر اور کشتی سمیت ڈوب جائے گی،جنرل ضیا الحق کا جملہ یاد کر جو اس نے معزول وزیر اعظم بھٹو کے لیے کہا تھا کہ قبر ایک اور انسان دو ہیں۔چھوٹم اگر مجھے نیل کہے تو اس کا مطلب ہے معاملہ گھمبیر ہے۔اس کا حکم اب میری تجویز یا ہچکچاہٹ پر بھاری ہوگا۔

میری ساس یعنی شہلا پھوپھو سے اب میری بہت بننے لگی ہے۔وہ متاثر بھی ہیں۔حکومت پاکستان کے وزیر کی ساس ہونا کوئی معمولی بات نہیں۔ ہارلے ڈیوڈسن سوف ٹیل لو رائڈر جیسی وزیر جس پر ان کا بیٹا سواری کرتا ہو۔میری وجہ سے ان کی چار وں پاسے بہت ٹور ہے۔دو عدد مزارعوں کی لڑکیاں ہیلپ کی لیے منگوالی ہیں۔ ان کے لیے لودھراں سے ایک پرائمری اسکول کی استانی زلیخا بطور ان کی سیکرٹری لگادی ہے۔بے چاری کے دو بچے ہیں۔شوہر بہت خراب تھا۔ زہر پینے لگی تھی۔پھوپھو نے مجھے کہا تو میں نے ایس پی صاحب کو کہہ کر اس حرام کے تخم کی ایسی کٹ لگوا ئی۔پنجابی تحریک طالبان کے ایک مقدمے میں نام ڈالنے کا سنا تو ڈر کے مارے سارا خاندان کراچی منتقل ہوگیا۔ ٹپکن کو کہہ کر وہاں بھی ان پر یونٹ کا سوئچ لگادیا کہ اف سے ارے کریں تو یونٹ والے ٹپکا دیں۔ایک دکان تھی وہ بیچ کر اس زلیخاکے نام رقم کردی۔وہاں سے اب آمدنی ہوتی ہے۔تنخواہ بھی باقاعدہ ملتی ہے۔

ڈی سی او صاحب نے کہا میم آپ اسے اپنے پاس رکھ لیں تنخواہ ہم اسکول سے دیتے رہیں گے۔ہماری اچھائی دیکھیں زلیخا کے بچے اور تماثیل ایک اسکول میں اسلام آباد میں پڑھتے ہیں۔ساس صاحبہ کا اسلام آباد میں اچھا خاصا حلقہ ہے۔ درس والیاں تو انہیں پلکوں پر بٹھاتی ہیں۔ایک میلاد سے نکلتی ہیں تو دوسرے درس میں۔ وہاں سے اس عبایا برگیڈ کی دو تین سفارشیں لے کر آتی ہیں۔یہ کام میں ہی کرتی ہوں۔ آن فارم واٹر مینجمنٹ والوں کی ایک کار بمع ڈرائیور ان کے حوالے ۔کون سی بہو اپنی ساس کا اتنا کرے گی۔ٹھڈا ٹھیم والی زمین بیچ کر ہم نے ایک گھر چھوٹم کی گلی میں میرے اور شوقی کے نام پرلے لیا ہے۔ سائیں کے کسی جاننے والا کا تھا۔ وہ دوبئی میں انویسٹ کررہے ہیں۔

پولٹ بیورو کی میٹنگ

شوقی کی مرضی ہے کہ ہم سب دامن کوہ اور مارگلہ زو جائیں۔میں نے پھوپھو کو کہا اب آپ ہی سب کی امی ہیں۔ مجھے چند ایک کام ہیں،شاید وزیر اعظم کے پاس بھی جانا پڑے۔کل حلف وفاداری ہے۔ممکن ہے سیکرٹری صاحب بھی ملنے آئیں۔وزیر کی سیکورٹی کا بھی بہت مسئلہ ہے۔تحریک طالبان کی وجہ سے خاص ہدایات ہیں کہ غیر ضروری موومنٹ سے گریز کریں۔چھوٹم کی پرائیوٹ جیپ میں جائیں۔ان کو ایک مری کا بھی چکر لگوادیں۔ٹھیکیدار نے بھی آنا ہے۔مجھے اپنی نگرانی میں گھر کی کچھ ری موڈلنگ کرنی ہے۔وہ اور شوقی ایسے بڑے نام سنتے ہیں تو ان کے پاس سرنڈر کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچتا۔

محکمے والوں  نے میری نئی وزیر نج کاری والی گاڑی بھیج دی ہے۔ یہ رخصت ہوئے تو میں ظہیر اور چھوٹم بیٹھ گئے۔ہم نے طے کرلیا ہے کہ ظہیر بھائی کو بتادیں کہ معاملہ اب ارسلان کو مستقل طور پر راستے سے ہٹائے بنا ٹھیک نہیں ہوگا۔ ظہیر کے ایک بہنوئی اور ایک کزن کو شوقی کو کہہ کر میں نے بنک میں لگوادیا ہے۔وہ بھی میرے احسانات کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں ورنہ کسی بڑے سرکاری بنک میں مہاجر کا لگنا محال ہے۔

سمجھ لیں یہ ہماری پولٹ بیورو (روس کا فیصلہ ساز ادارہ) کی میٹنگ ہے۔ظہیر بھائی کا خیال ہے کہ اس کا کام ٹپکن بھیا کے حوالے کردیتے ہیں۔وہ کراچی کے کسی گروپ سے یہ کام کرائیں گے۔اس کے لیے لازم ہے کہ ارسلان کی پوسٹنگ کراچی میں ہو۔ وہاں قیام رہے گا تو منصوبہ بندی آسان ہوگی۔اس دوران ہم سب نے بہت نارمل رہنا ہے۔ غائب ہونے والی اشیا پر کسی سے کوئی بات نہیں ہوگی۔

ابیزیا ۔اسپین
ہیرے کا بریسلیٹ
ابیزیا ۔اسپین
لگژری یاٹ

یقین جانیے میں لرز رہی ہوں۔اسکی پول، کاپوڈوکیا، وہ استنبول میں چھتری۔وہ بڑی بی کے میرے نادیدہ حمل پر سوالات،لیزاں کی وہ رسمساتی، لذت آگیں راتیں، وہ فرانس میں پورک رول میں میرا آدھی بکنی بغیر کچھ دیر ساحل پر ٹہلنا۔ میری زندگی کا ہر کیف آگیں اور خود شناسائی کا حوالہ اس شخص نے جوڑ کر مجھے برتاہے۔ہر بوسہ ہر لمس، ہر مستی، ہر آہ، اس کی ہر تھکن کی جیو فینسنگ(ایک ایسے علاقے کی حد بندی جہاں اوقات وردات میں ڈی جیٹل ڈی وائس استعمال ہوئی ہو) میرے وجود میں موجود ہے۔میں ایک ایسے خفیہ اجلاس میں بیٹھی ہوں جس میں اس کی موت کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ اس اہم ترین اجلاس میں صرف ہم تین افراد شامل ہیں میں چھوٹم اور ظہیر بھیا۔مجھے سمجھایا جارہا ہے کہ یہ کام کیسے ہوگا، کون کرے گا۔ یہ ہمارا مسئلہ نہیں یہ ٹپکن بھیا ہینڈل کریں گے۔کام ہونے پر ہم انہیں ادائیگی کریں گے۔

میری اس اجلاس کے بعد گڈو سے صرف دو مرتبہ ملاقات ہوئی ہے۔ ایک دفعہ اس کے ہاں میں سترہ میل والے گھر پر Incognito (خفیہ طور پر) گئی تھی۔
کرنی یوں ہوئی کہ دفتر میں وزر اعظم ہاؤس ایک اہم ادارے کے خریدار مہاراج گروپ کنسورشئیم ممبران سے ایک اسپیشل میٹنگ کے بعد وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ  ہماری وزیر صاحبہ ملکی مفاد
{Public Interest} سامنے ہو تو ہماری بھی ایک نہیں سنتیں۔ مجھے ابھی کراچی کے لیے نکلناہے۔آپ کے نمائندے عمیر جعفری صاحب شاید ان سے مل کر کچھ معاملات نمٹا سکیں۔ وہ اور میں ایک ہی کار میں  وزیر اعظم ہاؤس سے میرے دفتر آئے۔سیکرٹری صاحب کسی اور میٹنگ میں گئے ہوئے ہیں ۔اطلاع ہے کہ آدھے گھنٹے تک آجائیں گے۔جعفری کی شخصیت میں ایک سحر ہے۔ ان کی انگریزی، اور اردو،گرمیوں میں پرفیوم کی پھوار جیسی لگ رہی ہے۔کیا کلاس اور گفتگو ،لبھاؤ اور لگاوٹ کا انداز ہے۔اس پر دولت کا ایسا انبار ۔جس ادارے کی نج کاری ہونی ہے اس میں میں وہ مہاراج گروپ کے نمائندے تھے۔ جس ادارے کی نج کاری مطلوب ہے اس کی کئی سرکاری عمارات بہت اہم مقامات پر ملک بھر میں موجود تھیں۔

موقع کی ان سرکاری عمارات میں دو پلازے میری نگاہوں کے سامنے کراچی میں لہراکر رہ گئے۔ میں چاہتی ہوں وہ مل جائیں۔وہ اس سے آگے کی بات کررہے تھے۔ لندن میں ایک اہم جگہ پر
اپارٹمنٹ اور ایک ولا جمیرہ بیچ پر میرے نام کریں گے۔جسٹ واک ان ٹائپ کمیشن اس کے علاوہ۔میں بضد ہوں کہ کراچی، لاہور، پنڈی اور پشاور، کی بلڈنگز ڈیل میں شامل نہیں۔پرائیوٹ انویسٹر کا شیئر پندرہ فیصد ہوگا۔ وہ پچیس فیصد اور ادائیگی آسان اقساط میں مانگ رہے ہیں۔ اپنے تجارتی مخالفین کا منہ  بند کرنے کے لیے وہ بہت اونچی بولی لگائیں گے۔میرا کام یہ ہوگا کہ میں کابینہ سے منظوری لے کر دوں گی۔ کابینہ کے  اس رقم کے اجلاس میں اس کی آسان اقساط کی جائیں اور جملہ رقم پچیس برسوں کی پچیس اقساط میں ادا ہوں گی۔سرکاری عمارات میں سرکار کا حق ملکیت یک مشت ختم ہوجائے گا۔ مہاراج گروپ اور ہمارا یہ معاہدہ خفیہ رہے گا۔ملکی سلامتی بھی تو کوئی چیز ہے۔صدر وزیر اعظم اور بیوروکریسی کا منہ بھرنا ان کا مہاراج گروپ کا ذمہ ہوگا۔شرائط منظور ہوگئیں تو مجھے اپنی لگژری یاٹ پر ابیزیا، اسپین میں اپنے ساتھ لے جائیں گے۔پشاور میں ان کا مجھے ایک بلڈنگ دینے پر اعتراض نہیں مجھے مگر پنڈی لاہور میں کوئی جگہ دینا نہیں چاہتے کراچی میں بھی صرف ایک بلڈنگ دینا چاہتے ہیں۔مجھے لگا ابیزیا میں شاید پنڈی یا لاہور کی ایک اور عمارت دی جائے۔

ان کی آفر اور اس کے پھیلاؤ سے میرے جذبات بھڑک اٹھے۔پہلی دفعہ سمجھ آیا کہ یہ سب ہیرے کو لڑکی کا بہترین دوست کیوں کہتے ہیں۔ میرے لیے ٹفنی کا برسلیٹ لائے ہیں۔ کہہ رہے تھے تصویر میں آپ کی کلائی کا سونا پن برداشت نہیں ہورہا تھا تو دوبئی سے لیتا آیا۔اپنے ہاتھ سے پہنایا ہے۔دفتر کے ساتھ چیمبر بھی ہے۔وہیں کچھ ہلکی پھلکی موسیقی  ہوگئی تھی۔عمیر جعفری گڈو جیسے ہی شریر ہیں کہنے لگے سرکار کے پاس آپ ہمیں سنبھال لیں یاٹ اور ابیزیا میں ہر چیز میرا ذمہ ہوگی۔سب کچھ طے ہوگیا تو میں نے دوپہر کو ہی گڈو کے گھر کا رخ کیا۔تب تک اس کی کراچی پوسٹنگ نہیں ہوئی تھی۔ وحشتیں تھیں کہ تھمنے کا نام نہ لیتی تھیں دوپٹہ لاؤنج کے صوفے پر تو،عمیر جعفری نے جانے کیا آگ لگائی تھی۔ باقی کپڑے بھی برگ آوارہ کی مانند یہاں وہاں، قالین و کرسی پر۔ سچ ہے پہلے پیار کا ذائقہ ہی کچھ اور ہوتا ہے۔

ویسٹ انڈیز کے دھواں دھار بیٹسمن کرس گیل

اس وقت صبا بھی وہاں موجود تھی۔ وہ کچن میں تھی۔ ہم دونوں کھانا کھانے سر شام لاؤنج میں آن بیٹھے۔ اس وقت ہمارا جھگڑا ہو ا۔ باتوں باتوں میں اس پر ڈھلک کر جب میں نے کہا مرلی چند کو آپ تھوڑے سے پیسے دے دیتے۔ تو یہ میڈیا کے کتورے مجھ پر نہ بھونک رہے ہوتے۔ میں نے مرلی چند کو کہا تھا کہ صاحب سے پیسے لے کر ان حرامی بلیک میلروں کے منہ  پر مارے اس کا کہنا تھا کہ صاحب تو میرا فون ہی نہیں لیتے۔ایسا ہوجاتا تو میری بچت ہوجاتی میں وزیر اعظم اور جانے کس کس کے سامنے بے عزت ہوئی۔وہ کہنے لگا ’آپ الزامات سے نہیں آپ اپنی کرپشن کی وجہ سے بے عزت ہوئی ہیں۔اب وہ آپ سے سیکس کا مطالبہ کریں گے۔ میں بھی تو تڑاخ پر اتر آئی اور کہا میری عصمت کی اتنی پرواہ تھی تو میرے بیٹوں کو یوں شک کی نگاہ سے نہ دیکھتے۔غصے میں آن کر میں نے بھی نگارش سے لے کر اُوشا کے کمرے تک کا کچا چٹھہ کھول دیا۔ ۔ ہم لاؤنج میں ساتھ بیٹھے تھے۔نگارش کے نام پر اچھل گئے۔مجھے حاسد، لالچی کتیا کہا تو میں نے کس کر چانٹا جڑدیا۔صبا نے یہ سب منظر کچن سے دیکھا۔وہ کہاں باز رہنے والے تھے مجھے بھی ایک کے تین کھانے پڑے۔

رات بھر ہم ایک دوسرے سے دور سوئے۔مجھے یقین ہے صبا یہ سب باتیں ٹپکن بھیا کو بتائے گی۔ملازمت بھلے گڈو نے دی ہو حلف یافتہ حق پرست ہیں ظہیر بھائی کے نیٹ ورک کے لوگ ہیں۔مجھ سے وفاداری کامل ہے۔میں صبح سامان اٹھا کر چھوٹم کی طرف چل دی۔

تین ماہ ہوچلے ہیں اس کی ہلاکت کے خفیہ منصو بے والے اجلاس کو۔وزارت مجھ سے خوش ہے۔ وزیر اعظم نے بدن کا خراج بھی دو شنبے تاجکستان میں وصول کرلیا ہے۔ میرے ہی ذریعے ایک ڈیل میں لمبی رقم پکڑی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ویسٹ انڈیز کے دھواں  دھار بیٹس من کرس گیل کی طرح اوپننگ اوور میں ہی بالر کو پیٹ ڈالو۔

میری مرضی نہ تھی کہ میں اتنی جلدی ہاتھ پیر مارتی۔مجھے کوئی دس فیصد رقم دی ہے چالیس فیصد خود رکھی ہے سچ پوچھیں تو میں یوں بھی خوش ہوں کہ نیب سے بچت ہوگئی ہے۔ سمری پر میرے دستخط بھی نہیں۔ جوائنٹ سیکرٹری نے فون پر مجھ سے منظوری لی۔سیکرٹری صاحب نے لکھ دیا۔ محترم منسٹر صاحبہ جو صدر کے ساتھ پرتگال کے دورے پر ہیں ان سے فون  پر جوائنٹ سیکرٹری نے منظوری لے لی ہے۔وزیر اعظم نے بھی اسی دن سمری منظور کردی ہے۔ کبھی پوچھ گچھ ہوئی تو کہہ دوں گی میں نےAs proposed کہا تھا۔حلف اٹھوالیں۔

دوسری اور ا سلام آباد کی آخری ملاقات میں بھی گڈو نے سترہ میل والا گھر تماثیل اور عنادل کے نام کرنے سے صاف منع کیا۔وہ تو ان کی ولدیت سے ہی انکاری ہے۔میں نے کہا تھا ڈی
این اے کرالیتے ہیں۔ وہ کہنے لگا اگر خودکشی کا شوق ہے اور بچوں پر عمر بھر ناجائز اولاد ہونے کی تہمت چپکانی ہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔میں رونے لگی۔مجال ہے میرے آنسو پونچھے ہوں یا گلے لگایا ہو بس اتنا کہاکہ اس سے میرا اور اس کا دونوں کا کیرئیر خطرے میں پڑسکتا ہے۔یہ ملاقات بھی بہت بے لطف رہی اور تقریباً گالم گلوچ پر ختم ہوئی ہے۔

سائیں کے عزیز اب وزیر زراعت ہیں۔ انہوں نے سندھڑی آم بھیجے ہیں۔ سوغات لانے والا کوئی سلیم کھوکھر ہے۔ پنڈی اسلام آباد کے رسوائے زمانہ کھوکھروں کے کسی غریب قریبی رشتہ دار کا بیٹا۔ مجھے ہمدرد پا کر کہنے لگا ’باجی مجھے ایویں ہی کھڈے لائین لایا ہے۔یہاں پلانٹ پروٹیکشن میں مجھے بلوالیں۔ اس کا ہیڈ آفس کراچی میں ہے مگر ان کے یہاں کیمپ آفس میں ہی کوارٹر بھی مل جائے گا۔ ڈی جی صاحب تو یہاں آئیں بھی تو اپنی بیٹی کے پاس باہر رہتے ہیں۔ میں نے جب کہا ’یہ کام تو میرے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے تو کہنے لگا’بس پھر میں آپ کی ڈیوٹی کروں وہاں ڈارئیور پہلے
سے موجود ہے۔میں ہیڈ کلرک ہوں۔اسسٹنٹ کا پروموشن بھی ہونے والا ہے۔‘وزیر صاحب کا شکریہ ادا کرنے کو فون کیا۔ بہت خوش ہوئے۔ ہم نے کہا سائیں ہمارے کہروڑ پکا کی روایت ہے کہ ہم سوغات کے ساتھ سوغات لانے والے کو بھی اپنے پاس رکھ لیتے ہیں۔یہ پرانے بادشاہوں کی رسم و ریت ہے۔آپ سندھ کے لوگ تو ویسے بھی سندھو دریا جیسے مہربان ہو۔

آپ کہیں تو میں نج کاری کی منسٹری سے کوئی ہیڈ کلرک ،سلیم کے بدلے میں بھیج دوں۔ آپ کے اس سلیم کھوکھر کی سگی خالہ زلیخا بھی میرے پاس ہے۔ وہ لودھراں میں اسکول کی استانی تھی۔ڈی۔ سی۔ او سے کہہ کر اس کو پرسنل اسٹاف میں رکھا ہے۔سائیں موڈ میں تھے کہنے لگے”میڈم ہم کو تو ڈر لگا کہ کہیں آپ سوغات بھیجنے والے کو بلا کر نہ رکھ لیں تو میں نے بھی مذاق کیا کہ”نہیں سائیں ہم وزیر اعظم کے مال پر بری نظر نہیں ڈالیں گے۔ مجھے پتہ ہے ان کی وزیر اعظم سے ایک منٹ نہیں بنتی مگرصدر صاحب کی وجہ سے چپ ہیں۔سمجھوتہ کرکے بیٹھ گئے ہیں۔

میں نے سلیم کھوکھر کو اپنا آفس اسٹنٹ رکھ لیا ہے۔اس کے پیچھے ایک برق رفتار سی سوچ ہے۔ ان کھوکھروں میں تاجی کھوکھر کو تو یوں بھی پنڈی کا ڈان کہا جاتا  ہے۔اس کا ڈیرہ کھوکھراں 333پنڈی کی عوام میں آرمی ہاؤس سے زیادہ مشہور ہے۔زمینوں پر قبضے میں کھوکھروں کا بڑا نام ہے۔ محکمہء مال والوں سے بہت تعلقات ہیں۔میرا ارادہ بہت خاموشی سے ارسلان کے سترہ میل والے گھر پر قبضے کا ہے۔وہ اپنے کھوکھر نیٹ ورک کے ذریعے پٹوار خانے سے پہلے گھر کے کاغذات ہاتھ کرکے مجھے دے گا۔

ٹپکن کو میں نے ظہیر بھیا کے ذریعے بلوایا ہے۔ٹپکن آئے تو بہت معتبر لگ رہے تھے۔ چیک کا کوٹ سستی پولسٹر بنکاک کی دو نمبر ٹائی۔ بہت خوش ہیں۔کچھ دیر بیٹھ کر جانے لگے تو ظہیر بھیا سے چھوٹم نے آہستہ سے کہلوادیا کہ آغا صاحب کو ٹکٹ دے دیں (فارغ کردیں)۔کہنے لگے آغا صاحب کو ہمارا مہمان بنا کر کراچی بھیج دیں۔یہاں مشکل ہوگا۔ہم سیاست میں پائے پکانے سے گریز کرتے ہیں۔ہمارے ہاں آجانے دیں ہم خود ہی نمٹ لیں گے۔دل تو نہیں چاہا۔سوچا گڈو معافی مانگے گا۔ چھوٹم کی سفارش لگائے گا۔سائیں سے کہلوائے گا۔ ایسا نہیں ہوا ۔مجھے نہیں لگتا کہ
اس کے نزدیک میری کوئی اہمیت ہے۔چارج چھوڑ کر کراچی چلا گیا مگر وہاں ایکسپورٹ پروموشن بیورو میں جوائن نہیں کیا۔چھوٹم کی مداخلت پر سودا پچیس لاکھ پر ڈن ہوگیا حالانکہ ان کا مطالبہ پچاس لاکھ کا تھا۔کام ہونے کا عرصہ ایک ماہ مانگا ہے۔بڑے افسر ہیں۔پہلے بھی بہت مصیبت ہوچکی ہے۔  جس گروپ کے حوالے کریں گے وہ نامعلوم افراد کے ذریعے ہاتھ دکھائے گا۔

کراچی میں میرے ساتھ چھوٹم بھی تھی۔ گڈو بھی سائیں کے مہمانوں والے بنگلے پر مجھ سے ملنے آیا۔شکوہ کررہا ہے کہ ہم دونوں، اس کے پاس کیوں نہیں ٹھہریں۔تماثیل اور عنادل کے لیے
کھلونے بھی لایا ہے۔کہہ رہا ہے ا یکسپورٹ پروموشن بیورو میں وائس چیئرمین سے نیچے کوئی پوسٹ اچھی نہیں۔ اس لیے جوائن نہیں کیا ۔خود سے ہی کہنے لگا کہ اگر پاکستان شپنگ یا ٹریڈنگ کارپوریشن میں ایگزیکٹیو ڈائریکٹرفنانس والی پوسٹ مل جائے۔میں نے کہا مجھے ایک ہفتہ دو۔ وزیر اعظم ترکی گئے ہیں۔چھوٹم ادھر اُدھر ہوئی تو  گلے لگا کر کہنے لگا آئی مس یو۔

میں نے کہا اوپر سیدھے ہاتھ پر کونے والا میرا کمرہ ہے وہاں جاکر بیٹھو میں آتی ہوں۔بستر ہی میں   بہت آہستہ سے ایک ترپ کا پتہ چلا کہ میرا اپنا گھر چھوٹم کے پاس رینو ویٹ ہورہا ہے۔ پرانا تھا۔ شوقی نے خریدا ہے۔بینک سے لو مارک اپ کا لون مل گیا۔ کیا میں چھ ماہ کے لیے اس کے گھر میں رہ سکتی ہوں۔

جھٹ سے مان گیا۔ کہنے لگا کوئی ڈیل ہو تو میں لاسکتا ہوں۔میں نے اسے کہا ابھی مجھے کچھ زیادہ علم نہیں مگر جیسے ہی حالات ساز گار ہوئے میں ضرور اسے بتاؤں گی۔بیس فیصد اس کا ہوگا۔کہنے لگا عجیب ڈیل ہے بستر میں ہنڈرڈ پرسنٹ میرا اور مال میں بیس۔ میں نے کہا تم بیورو کریٹ تو ماں کاپیٹ بھی باپ سے رشوت لے کر خالی کرتے ہو۔ ایک دفعہ اکیڈیمی میں گھس گئے تو چالیس چالیس سال تک مال ہی مال، موج ہی موج۔ ہم بے چارے سیاست دان تو میلے کے بھانڈ میراثی ہوتے ہیں۔ عرس میلہ میں ناچ گا لیں تو کچھ گزارا ہوجاتا ہے،سو تھوڑے کو بہت جانو۔

اس کے جانے کے بعد تیار ہوکر میں اور چھوٹم سائیں کے گھر کھانے پر چلے گئے۔وہاں اتفاق سے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ بھی آئے تھے۔ان سے بات ہوئی تو وہ کہنے لگے پی این ایس سی میں ایکزیکٹیو ڈائریکٹر فنانس کی جگہ خالی ہے۔وزیر صاحب کی پرانے والے افسر سے نہیں بنی۔ وہ بس ایک فون کردیں۔میں آج ہی آرڈر جاری کردوں گا۔یہ میرے اختیارات میں ہے مگر وہ کیا ہے کہ صدر صاحب کی ہدایات ہیں کہ وزیروں کو چھوٹی چھوٹی ناراضگیوں کا موقع  نہیں دینا۔ عوام اور ہم بھی سوال جواب وزراء سے ہی کرتے ہیں۔گریڈ اکیس بائیس کی سمری وزیر اعظم تک جاتی ہے۔

میں نے ٹپکن بھیا کو دوسرے کمرے سے فون کیا تو پانچ منٹ بعد سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کو ٹپکن پارٹی والے وزیر صاحب کی فون پر تجویز موصول ہوگئی اور وہیں سے میرے سامنے اگلا فون سیکرٹری صاحب نے کسی وحید علی ایڈیشنل سیکرٹری کو کیا اور گھنٹے بھر کے اندر ارسلان آغا کے پی این ایس سی والے آرڈر جاری ہوگئے۔

مجھے پہلی دفعہ یقین آیا کہ کراچی میں کام بہت اسپیڈ سے ہوتا ہے۔ ہمارے صدر صاحب اکثر کہتے ہیں بیب ۔ اٹ۔ از۔کارپوریٹ۔ورلڈ۔ ٹپکن بھیا سے وزیر کی بات اور ارسلان کی تقرری میں بمشکل ایک گھنٹہ لگا۔ظہیر بھیا کا کہنا ہے کہ ہماری پارٹی کے لوگوں میں جو سامنے ہے وہ تو ہے ہی مگر پیچھے بھی بہت کچھ ہے۔ممکن ہے ہمارے کسی وزیر کے ساتھ آپ کسی ایلے میلے کلرک کو برابری کے انداز میں گھومتا اور کام کرتا دیکھیں مگر مان لیں کہ وزیر اس کی مرضی کے بغیر ایک سائن  نہیں کرسکتا۔اس کی بیوی کی شاپنگ اور سالی کے عاشق کی بہن کے اسقاط کی تٖفصیلات بھی ہمارے ہیڈ کوارٹر کو دی جاتی ہے۔ہمارے ہاں قائد کا جو غدار ہے وہ موت کا حق دار ہے۔

گڈو کا شکریے کا فون آیا تو میں نے اسے دعوت دی ہے کہ آئے بچوں کے ساتھ دو دن گزارے۔ ویک اینڈ۔مال جائداد کا کیا ہے۔ وی آر اے ہیپی فیملی۔شوقی تو ڈرائیونگ لائسنس ہے۔میرا پہلا مرد تو وہ ہی ہے۔لیزاں کا وہ درد کیف آگیں۔سہاگ رات کی وہ وحشت میں کیسے بھول سکتی ہوں۔تم میرے ٹکڑے بھی کردو تو میرا بدن، میری روح میرے بچے تمہارے ہیں۔ تم کیا جانو عورت کی زندگی میں پہلے مرد کی کتنی اہمیت ہے۔بہتر تو ہوگا کہ کل وہ چارج لے کر میرے ساتھ ہی چلے۔اس کے وزیر بھی آج شام ملک سے باہر جارہے ہیں۔

ٹپکن کو ظہیر بھیا نے پہلی ادائیگی دس لاکھ کی کردی ہے۔ظہیر بھیا نے چھوٹم کے پاس سے کیش لے کر منی چینجر کو حوالہ کیا ہے۔یہ رقم سائیں نے دو ماہ کے خرچے کے طور پر بھیجی تھی۔
ارسلان بہت خوش ہے۔ہمارے تین دن اچھے گزرے۔بچے بھی اس سے مل کر بہت خوش ہوئے ہیں۔ان تین دنوں میں، ارسلان کو میں نے کئی دفعہ جی بھر کے دیکھا۔ دن کے اجالے میں، بچوں کی رفاقت،لیزاں کی تصاویر میں۔ فرانس کے سیکنڈ ہنی مون میں۔ کھانے کے مختلف اوقات میں بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے، بستر کی وحشتوں میں۔ عنادل کا رنگ اس کے بال اس کے ہاتھ بالکل گڈو جیسے ہیں مگر تماثیل اب میرے جیسا لگنے لگا۔ مزاج البتہ اپنے باپ جیسا ہے دل لبھانے والا مگر دور افتادہ اور بے نیاز۔

مجھ میں اور چھوٹم میں،سیاست میں آنے کے بعد سیریل کلر والی عادات آگئی ہیں ۔ ہم جرم سوچ سکتے ہیں۔ پلان کر سکتے۔ اس کے ساتھ مسکرا کر بے خوف،ضمیر پر بوجھ ڈالے بغیر جی سکتے ہیں بس فرق ہے تو اتنا کہ سیریل کلر یہ کام خود کرتے ہیں،ہمارے اپنے Hit Men ہوتے ہیں۔

ظہیر بھیا کو ٹپکن نے بتادیا ہے کہ اس ہفتے کام ہوجائے گا۔ پندرہ لاکھ تیار رکھنے ہیں۔ کام کرنے والے فوری پیمنٹ مانگتے ہیں۔رقم میرے پاس ہوتی تو دے دیتا مگر آپ تو ہی جانتی ہیں۔سن
بانوے کے بعد ہم کن مشکلات میں گھرے رہے۔

سلیم کھوکھر کے ذریعے میں نے سترہ میل والی جائداد کے کاغذات کی اصلی فائل اپنے پاس منگواکر دیکھ لی ہے۔ایک سیل ڈیڈ لگنی ہے۔ اس میں لکھا ہوگا کہ گڈو نے یہ جائداد شوقی کو بیچی ہے۔ انتقال جائداد اور فرد پٹوار ملنے پر شوقی نے یہ جائداد اپنے دونوں بیٹوں کو گفٹ کردی ہے۔جس کی تیاری انہی  دنوں میں کی گئی ہے جب میں وہاں عارضی طور پر شفٹ ہوئی۔ میں نے ارسلان کو کرائے کا کہا تو بہت ناراض ہوا حالانکہ میں نے چھ ماہ کا بارہ لاکھ کا چیک لکھ لیا تھا۔یہ الگ بات ہے کہ میرے بنک اکاؤنٹ میں امیر جماعت اسلامی کی طرح اتنی رقم نہ تھی۔

اردو کالج ،عبدالحق کیمپس

ٹپکن بھیا نے کہا ہے کہ آغا جی کو سمجھانا ہے کہ وزیر صاحب بہت نازک مزاج ہیں۔ بمشکل ان کے کہنے پر ارسلان کے معاملے میں مانے تھے۔ان کا مطالبہ ہے کہ افسر اپنی موجودگی آفس میں زیادہ سے زیادہ رکھیں۔ دو ماہ تک اسے بہت سا کام دے دیا جائے گا وزارت کی جانب سے پانچ برسوں کا بجٹ اسٹمینٹ اور تفصیلات مانگی جارہی ہیں۔ ایک ٹیم بھی یہاں اسلام آباد سے پرانے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے لیے آئے گی۔

مجھے بعد کی تفصیلات ظہیر بھیا نے بتائیں تھیں کہ بلڈنگ میں  لگنے والی آگ بہت خوف ناک تھی۔
وزیر صاحب نے بکرے کا صدقہ دیا کہ وہ کچھ دیر پہلے وہیں  موجود تھے، بلڈنگ میں آتشزدگی کی یہ واردات ان کے جانے کے بعد ہوئی۔ آغا صاحب جس دفتر میں تھے وہاں کے تالے آگ سے پگھل کر جام ہوگئے تھے۔انہوں نے بتایا کہ تالوں کو پالش کے بہانے پٹرول کا ہاتھ لگا کر سوتی ڈوری باندھ دی گئی۔ارسلان کو باہر نکلنے کا موقع  ہی نہ ملا۔ ہماری ایک ذمہ دار بھی جل گئی۔ وہ وہاں کلرک تھی۔پورے فلور پر کوئی زندہ نہیں بچا۔ بیس آدمی جل گئے۔

سلیم کھوکھر کے ذریعے گلمیری ۔ میاں والی کے لڑکوں سے کراچی میں اس دوران لیاری گینگ واروں سے ٹپکن بھیا کو ٹپکانے کا بندوبست تین لاکھ میں ہوگیا۔میاں والی کے کراچی میں بدمعاشوں اور لیاری میں بابا لاڈلا کی گینگ کا اچھا تال میل ہے۔ دو لاکھ انعام میں سلیم کھوکھر کودیے گئے۔ اسے دفتر سے نکلتے ہوئے رات کو اردو کالج کے پاس نامعلوم افراد نے گولیاں ماریں اور لیاری کی طرف فرار ہوگئے۔ نشانہ اچھا تھا صرف ٹپکن بھیا کو گولیاں لگیں۔

دس تین اور ایک ،کُل ملاکر پندرہ لاکھ میں گڈو اور ٹپکن جیسے دو اہم کانٹے راستے سے ہٹ جائیں۔ ایک گھر بھی مل جائے۔سیاست اور کس کو کہتے ہیں۔ پندرہ لاکھ میں سترہ میل کا گھر میرا ہوگیا ہے۔آپ آئیے نا کبھی۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *