کہروڑ پکا کی نیلماں۔۔۔۔محمد اقبال دیوان/قسط23

  نوٹ:سویرا کے مدیر اعلیٰ سلیم الرحمان صاحب نے شمارہ نمبر سو کی اشاعت میں غیر معمولی تاخیر کے پیش نظر مصنف کو کمال شفقت سے اجازت دی کہ یہ کہانی مکالمہ میں پہلے شائع کرلیں۔۔سو پیش خدمت ہے۔۔۔افسر و سیاست دانوں کے معاشقوں پر مبنی ایک واردات قلبی کا احوال۔اس کے جملہ کردار، شعبہ جات،سرکاری محکمے اور واقعات خالصتاً افسانوی ہیں۔ ان کا اپنے زمان و مکان سے جڑے اصل کرداروں سے کسی قسم کا کوئی واسطہ نہیں۔ جیمز بانڈ کے خالق مصنف آئن فلیمنگ برطانیہ کی خفیہ ایجنسی ایم آئی سکس اور ہالی ووڈ پوری سی آئی اے کو اگر اپنی فلموں میں شامل کرسکتے ہیں تو جان لیں کہ مزکورہ افراد کے عہد ے،طور اطوار اور مقامات اس کہانی کے حوالے سے محض زیب داستاں کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ان کا اصل افراد اور واقعات سے کوئی تعلق نہیں۔

ٹکیلا
سلور ماسکنگ ٹیپ

قسط نمبر 22 کا آخری حصہ
گڈو کا یہ اپارٹمنٹ ساحل سمندر پر جھانکتے بہت ہی بھونڈے بنے ہوئے کمپلکس میں سمندر کے رخ پر دسویں منزل پر ہے ۔میں ٹھٹھہ سے واپس آئی تو کچھ بدمزہ تھی۔کچھ دیر کو سیٹھ کملیش اڈوانی بھی آئے تھے۔ دو کریٹ چھوڑ گئے ہیں۔ایک میں ٹکیلا وہسکی اور جنوبی افریقہ والی سرخ اور سفید شراب بھی ہے۔ کراچی میں بھی اچھی شراب مل جاتی ہے مجھے یہ سن کر حیرت ہوئی۔دوسرے میں سو ڈالر کے تیس پیکٹ ہیں ۔یہ کل تین لاکھ ڈالر ہوئے۔میری مرضی تھی کہ یہ وہ دونوں تحفے اسلام آباد میں دیتے یا میرے اکاؤنٹ میں دوبئی میں ڈال دیتے۔ وہ اس بارے میں یوں متفکر ہیں کہ اسلام آباد میں خفیہ ادارے بہت متحرک ہیں۔ ہم غیر مسلم لوگ ویسے ہی بڑے لوگوں کی بہت نظر میں رہتے ہیں۔ ابھی نہیں تو بعد میں لے لیں۔ہم تو موہن جو داڑو کے وقت سے سندھ میں آباد ہیں۔یہ کاروبار ہے۔ کاروبار میں سچا بنیا کبھی دھوکا نہیں کرے گا۔دھندہ تو ہمارا دھرم ہے۔
ٍ مجھے یہ فکر دامن گیر ہے کہ ان کارٹنز کو اپنے ساتھ لے کر کیسے جاؤں گی۔ دوسرے اگر میرا محکمہ تبدیل ہوگیا تو کس نے مجھے پیسے دینے ہیں سو جو ملتا ہے وہی پکڑ لو۔

نئی قسط نمبر 23کا آغاز
مجھے لگتا ہے گڈو کو ان ڈبوں میں بند مال پر شک ہے۔ میں جس وقت شاور لے رہی تھی۔ اس نے دونوں ہی پیکٹ کھول کر دیکھے ہیں۔ یہ میری غلطی کی وجہ سے ہوا ہے ۔ میں نے اس سے کہا کہ ایک کارٹن میں سے ٹکیلا نکال لے اور واپس ان کو ٹیپ لگا کر بند کردے۔ ساتھ بیٹھ کر گھٹکائیں گے۔میرے شک کی وجہ یہ ہے کہ ایک بوتل ٹکیلا باہر نکل جانے پر دونوں ہی کارٹنز پر ایک جیسی پرنٹڈسلور ماسکنگ ٹیپ لگی ہے۔ بالکل ویسی ہی جیسی کچن کے ایک پیالے میں پڑی تھی۔اصولاً اسے صرف ایک کارٹن پر ہونا چاہیے۔سوچوں تو اس کا کوئی قصور نہیں میں نے ہی اُتاؤلی(بے صبری) رانڈ بن کر اسے بوتل نکالنے کو کہا تھا۔دونوں ہی ڈبے پاکستان کے ایک مشہور شربت کے کارٹنز تھے۔اس بے چارے کو کیا پتہ کہ کس میں شراب اور کس میں ڈالر ہیں۔
بہت دنوں کے بعد مجھے گڈو پر پیار آیا ہے۔ہم نے باہر ٹیریس میں رکھے جھولے میں محبت کی منازل طے کیں۔ گڈو اب بھی مجھے بہت اچھا لگتا ہے۔بے وفا سہی مگر دوست ہے پرانا وہ۔ شوقی کی عزت میں بہت اضافہ ہوا ہے۔ مجھے اس پر لمحہ بھر کو پیار نہیں آتا۔مجھ سے بھی دو تین کوتاہیاں ہوئیں ہیں۔ آپ کی سیاسی جڑیں کمزور ہوں تو وزیر لگنا اتنا آسان تھوڑی ہوتا ہے۔مرد اپنی محنت اور توجہ کی اجرت عورت سے خوب صورت جسم کی صورت میں مانگتے ہیں۔میرا شمار حسین سیاست دانوں میں ہوتا ہے۔سب ہی اہم فیصلہ ساز لوگ میرے نام سے واقف ہیں۔برا نہ مانیں میں اس معاملے میں مزید تفصیلات شیئر کرنے سے قاصر ہوں۔

اوشا کی آرائشی میز
گڈو کا باتھ روم
چھوٹم کا سندھی جھولا

میں نے اس جنسی سپردگی میں اتنی احتیاط ضرور کی ہے کہ جو بھی واردات کرنی ہو وہ بیرونی دوروں پر ہو اور اس کا سیاسی اور مالی فائدہ مقامی طور پر۔میرے پاس دو تین ایسے کنٹریکٹ اور تجارتی لائسنس ہیں جن سے ماہانہ مجھے ہاتھ پیر ہلائے بغیر لاکھوں روپے کی آمدنی ہوتی ہے۔ جمہوریت مہنگا شوق ہے۔آپ ایم این اے یا ایم پی اے کا انتخاب لڑیں تو کم از کم بیس سے تیس انتخابی کیمپ درکار ہوتے ہیں۔ایک کیمپ کا ایک دن کا خرچہ پچاس ہزار روپے لگالیں توتیس کیمپ کا خرچہ پندرہ لاکھ روزانہ۔ایک ماہ میں یہ رقم ساڑھے چار کروڑ بنتی ہے۔پارٹی ٹکٹ سے فنڈ تک یہ دو کروڑ کے   اضافے سے ساڑھے چھ کروڑ اورجیتنے تک یہ دس کروڑ روپے کا کھیل ہے۔حال ہی میں میں نے دوبئی میں بھی ایک اپارٹمنٹ خریدا ہے۔ وہاں بوم آیا ہوا۔ ایک چینل کا لائسنس بھی ہے۔ابھی کوئی انویسٹر پارٹی نہیں مل رہی۔ایک دو گھی تیل بیکری والے اور اسمگلرز ہیں جو چینل کھول کر مال بنانا چاہتے ہیں۔ میں جلدی کی قائل نہیں۔

گڈو نے اپنا اپارٹمنٹ بہت ذوق و شوق سے سجایا ہے۔صبا کا کہنا ہے کہ اس کی سجاوٹ میں لازماً کسی عورت کا ہاتھ ہے۔اس کے گلدانوں میں پھول، ایک کمرے میں برقی قمقموں والا ڈریسنگ ٹیبل جیسی اشیا کا ہونا یقیناً  ایک نادیدہ  نسوانی وجود  کا پتہ دیتا ہے ۔ایک ایسا وجود جسے بہت پروفیشنل انداز میں کم وقت میں سجنے سنورنے کی سہولت درکار ہو۔ گڈو کے اس اپارٹمنٹ پر اوشا کا بھائی رہتا ہے۔ بعید نہیں کہ اوشا بھی جب کراچی میں ہوتی ہو یہیں قیام کرتی ہو۔ماسٹر بیڈ روم میں جو باتھ روم ہے اس میں ایک بیک لٹ باکس پر ایک بھارتی اداکارہ کی نیوڈ بھی ہے جو پینٹ ہاؤس رسالے میں شائع ہوئی تھی۔

گڈو نے مجھ سے جھوٹ بولا ہے کہ یہ فلیٹ اس کے دوست اور اس کی مشترکہ ملکیت ہے انوسٹمنٹ کے لیے خریدا ہے۔ دوست کی ایک دوست بھی رہتی ہے۔وہ یہاں کسی ہوٹل کی ملازم ہے۔آج کل ٹریننگ پر گئی ہوئی ہے۔ وہ خود کل یہاں تھا۔ اس کمرے کی چابی ان کے پاس ہوتی ہے۔قیمتی اور پرسنل سامان کی وجہ سے پرناب کو حکم ہے کہ اس تک کسی کو رسائی نہ دی جائے۔ اپارٹمنٹ کی چابی اوشا کے بھائی پرناب کے پاس ہوتی ہے۔میرے دوست کبھی کبھار کمر سیدھی کرنے آجاتے ہیں۔جس کا مطلب ہے اپنی گرل فرینڈز کو لے کر۔

صبا کی فراہم کردہ اطلاع سامنے رکھ کر میں نے گڈو سے پوچھا کہ پہلے تو دروازہ کھلا تھا؟۔۔ کہنے لگا ’ممکن ہے جلدی میں کھلا رہ گیا ہو۔پرناب نے نوٹس میں آنے پر بند کردیا ہوگا۔ میری تسلی نہیں ہوئی۔مجھے لگا یہ ساری رام لیلا، اوشا نے رچائی ہے۔ صبا بتا رہی تھی کہ وارڈ روب میں ایئر ہوسٹس کی استری شدہ یونی فارم بھی لٹک رہی تھیں۔میں ادھر ادھر ہوئی تو پرناب نے دروازہ کھینچ کر کمرہ لاک کردیا۔سندھی اور گجراتی ہندو بہت چالاک ہوتے ہیں۔پکے بنیے، ہم پنجابی تو ان کی ہوا کو بھی نہیں پہنچ سکتے۔

جوہی چاولہ
شلپا شیٹھی

کابینہ کے اجلاس میں وقفہ ہوا تو وزیر اعظم نے حکم دیا کہ میں ان کے ساتھ ان کے جہاز میں چلوں۔ راستے میں کابینہ کے حوالے سے ایک بات کرنی ہے۔ صدر صاحب کا موڈ کچھ وزیروں کے محکمے تبدیل کرنے کا ہے ۔ رات سی۔ایم۔ہاؤس میں ڈنرہے۔ میرا وہاں جانا بھی ضروری ہے۔مجھے پریشانی سی ہوگئی کہ اب وہ دونوں کارٹنز اور ملازمہ ساتھ کیسے جائیں گے۔ شراب تو خیر سے اسلام آباد میں بھی جتنی چاہو مل جاتی ہے مگر میرے یہ تین لاکھ ڈالر ان کا کیا بندو بست کروں ۔میں پریشان ہوگئی ہوں۔ ایک لمحے خیال آیا کہ کملیش کو فون کرکے کہوں اپنے پاس واپس لے جائے میں دوبارہ آن کر لے لوں گی۔ دوسرے ہی لمحے یہ بھی اندیشہ لاحق ہوگیا کہ میرا گر قلمدان وزارت تبدیل ہو تا ہے تو سیٹھ کملیش داس سے ان کی وصولیابی ناممکن ہوگی۔

وزیر اعظم کے جہاز میں سامان میں ان کارٹنز کا جانا ناممکن ہے۔پہلی دفعہ امریکہ پر غصہ آیا کہ کم بخت پچاس ہزار ڈالر کا ایک نوٹ جاری کیا ہوتا تو میں چھ نوٹ رکھ کر مزے سے تین لاکھ ڈالر ساتھ لے جاتی۔چھوٹم کہتی ہے جن ملکوں میں آدمی چھوٹے ہوں گے وہاں نوٹ بڑے ہوتے ہیں۔امریکہ میں سب سے بڑا نوٹ سو ڈالر کا ہے۔ہمارے وزیر اعظم کہہ رہے تھے کہ ان کی سیکرٹری آف اسٹیٹ کونڈالیزا رائس پاکستان میں ہوتی تو پی پی والے اس کو کونسلر کی سیٹ پر الیکشن کے لیے ٹکٹ نہ دیتے۔جب سے اس کی آئس اسکیٹنگ کی پالی ہوئی ٹانگوں کی تعریف کرنے پر ڈانٹ پڑی وزیر اعظم دل کے پھپولے ایسی سڑیل باتوں کے نشتر لگا کر پھوڑتے ہیں۔ٹھکرائے ہوئے سب ہی مرد تیزاب پھینکتے ہیں کچھ باتوں کے  تو کچھ سازشوں کے۔میرا مسئلہ اس وقت مرد نہیں تین لاکھ ڈالر کی کھیپ ہے۔

وزیر اعظم کے ساتھ جانے والے سامان پر سیکورٹی ایجنسیوں کی  بہت توجہ ہوتی ہے۔سب ہی جنرل ضیا کے جہاز میں آموں کی پیٹیاں پھٹنے سے ڈرگئے ہیں۔ لوڈ کیے جانے والے سامان پر، خفیہ ادارے،پروٹوکول والے، چور قسم کے لوڈرز، عملے کے دوسرے لوگ ، اوپر سے سراغ رساں کتے۔سب ہی پل پڑتے ہیں۔کھدیڑ کے رکھ دیتے ہیں۔وزیر اعظم کے جہاز میں جوہی چاولہ اور شلپا سیٹھی کا جانا آسان اور پھل، شراب اور دیگر کارٹنز کا جانا ناممکن ہے۔

عجب مشکل ہے سو میں نے گھر جاکر دونوں کارٹنز کو کھولا۔ ڈالرز کے باقی اٹھائیس پیکٹ رول آن بیگ میں رکھ ہی رہی تھی کہ گڈو آگیا۔میں نے کہا بھی باہر جاؤ میں کپڑے بدل رہی ہوں۔بات تو مان لی مگر مجھے شک ہے اس نے یہ سب کارنامہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا تھا ۔تین لاکھ ڈالر میں سے میں نے بیس ہزار کے دو پیکٹ پرس میں رکھ لیے ہیں۔
سو میں نے فیصلہ کیا کہ تماثیل اورعنادل کو ساتھ لے لیتی ہوں۔ صبا کو ارسلان کے ساتھ ریل سے بھیج دیتی ہوں۔ رول آن بیگ کو لاک کردیتی ہوں۔مرلی چند نے نیچے اسٹور سے تالا لادیا ہے۔ تین بوتل شراب اور باقی ڈالرز ایک ساڑھی میں لپیٹ کر رکھ دیے ہیں۔ دونوں چابیاں اپنے پاس رکھی ہے۔ آئی تھنک آل از سیف ناؤ۔

صبا اور گڈو دونوں کو لے کر ریل تیز گام کل ساڑھے پانچ بجے شام کو نکلے گی۔ارسلان کاپروگرام ہے وہ راستے میں ملتان اتر کر اپنے دوستوں کے ساتھ لنچ کرلے۔ انہیں خدا حافظ کہہ کر صبا کو براستہ روڈ لے کر اسلام آباد آجائے جو بہر طور براہ راست ریل سے آنے کی بجائے جلدی کا سفر ہے۔مجھے کوئی اعتراض نہیں بس ڈالر خیر سے پہنچ جائیں۔

میں نے صبا کو تاکید کردی ہے ،کہا  ہے اس رول آن کو ہر قیمت پر اپنے پاس رکھنا ہے۔ اس میں میرے قیمتی کاغذات، شادی کا غرارہ سوٹ ۔سفری خرچے کے لیے اسے دس ہزار روپے دیے ہیں کہ اس کا دل بہلا رہے۔اسے حیرت ہے کہ آتے وقت تو یہ سب کچھ ساتھ نہ تھا اب کہاں سے آگیا۔میں نے تو گڈو کے اس اپارٹمنٹ میں پہلے کبھی قیام نہیں کیا تھا پھر شادی کا سوٹ ایک بڑا سوالیہ نشان، اس کی بڑی بڑی کاجل والی بے اعتبار مہاجر آنکھوں میں منڈلاتا ہے۔ اس نے دیکھا تھاکہ میں نے کریٹ کھول کر ایک بوتل نکالی تھی دو بوتلیں اس بیگ میں رکھی ہیں ۔ سی ایم ہاؤس سے واپسی پر وزیر اعظم کے جہاز میں مجھے بھی سوار کرلیا گیا۔

خاص جہاز کا خصوصی وی آئی پی حصہ

جہاز میں مجھے اپنی نشست پر وزیر اعظم نے بلوالیا ہے۔ وہ سب سے پچھلی نشستوں پر بیٹھے ہیں۔ ان کے لیے مختص حصے میں دونوں نشستوں  کے باہر ایک فائبر گلاس کا سلائیڈنگ ڈور ہے۔ایک دفعہ اندر سے بند ہوجائے تو صرف ٹرپل ون برگیڈ ہی اسے کھول سکتی ہے۔ ذرا ہٹ کرعملہ اور سکیورٹی ہوتی ہے۔ امیر مقام کے بے قرار ہاتھوں کو پیار بھی بہت آرہا ہے۔ سمجھا رہے ہیں کہ میں احتیاط کروں۔صدر تک بہت سی ایجنسیاں رپورٹس پہنچاتی ہیں۔صدر فوجی ہو تو سسر کے قبرستان میں چلنے والے افئیر زکی بھی اطلاع خلائی مخلوق انہیں پہنچاتی ہے۔ صدر کے ایسی رپورٹس پربس اتنے کمنٹس ہوتے ہیں کہDon’t Disturb. Let the old man enjoy۔مجھے ہنسی آئی تو حکومت کا آہنی ہاتھ شرٹ کے اندر دور تک چلا گیا۔میں نے ناٹ ہئیر (یہاں نہیں)کہہ کر بمشکل روکا کہنے لگے اوکے نیکسٹ ویک ودھ می ٹو تاجکستان۔ میں نے بھی آلویز اینڈ آل یورز ( ہمیشہ اور صرف تمہاری)۔ میرے پاس خواتین ممبرز ماڈلز این جی او ز والیوں  کی بھی بہت سی رپورٹس آتی ہیں۔ وزیر اعظم کہنے لگے بھئی ہم مرد کون سے اچھے ہیں۔اس لیے میں اپنی فیمل ساتھیوں کی رپورٹس اگنور کرتا ہوں۔ جواباً میں نے بھی مطالبہ کیا۔ مجھے مکمل وزیر بنادیں۔ وزیر مملکت پسند نہیں۔ کہنے لگے۔۔۔آئی نو۔ ۔وزیر کے نیچے وزیر۔ نو فن۔ یو آرمنسٹرز میٹرئیل۔ چلو صدر کو سمجھانا ہوگا۔ کوئی نیا محکمہ بنادیتے ہیں۔میں نے کہا سر نہیں مجھے ماحولیات دے دیں۔ وہ آپ کے پاس ہے۔ اس میں پہلے بھی بے نظیر صاحبہ نے اپنے کسی قریبی ساتھی کو اس میں وزیر لگایا تھا۔ کہنے لگے جی ہاں سیکرٹری صاحب کے مشورے پر دونوں نے مل کر اوزون لیئر(زمین سے دس کلومیٹر فضا میں اوزون گیس کی ایک تہہ جس کا کام سوج کی مضر ultraviolet radiation کی لہروں کو جذب کرنا ہوتا ہے۔) میں اتنے سوراخ کیے کہ اللہ کی پناہ۔ میں حیرت زدہ ہوں کہ یہ مرد اتنی غلیظ ذو معنی گفتگو کیوں کرتے ہیں۔سیکس ہر وقت ان کے دماغ پر کیوں چھائی رہتی ہے۔

جب انہوں نے کراچی کے کسی اور وزیر کو بلایا تو میں اپنی نشست پر لوٹ گئی۔وزیر اعظم والے جہاز میں میرے ساتھ وزیر اطلاعات خاص طور پر آن کر بیٹھے ہیں۔جب جب موقع ملتا ہے ہاتھ بھی تھام لیتے ہیں ذرا کوتاہ قد ہونے کے باعث میری گردن تک ہونٹ بھی لے آتے ہیں۔چلتے وقت مجھے مرلی چند نے ایک فائل دی ہے۔بہت ڈیسنٹ اور تابعدار ہے۔ اسلام آباد آنا نہیں چاہتا ورنہ میں اس کو اپنا اسٹاف آفیسر رکھ لیتی۔گڈو کا کہناہے یہاں وہ زیادہ موثر کاروائیاں ڈالتا رہتا ہے۔وہاں میرے پاس آن کر محدود ہوجائے گا۔عورت کو باس تسلیم کرنا ہر مرد کے بس کی بات نہیں۔

وزیر اطلاعات نے کہا آپ کے حوالے سے کرپشن کی خبریں کراچی کے چیتھڑے اخبارات میں چھپ رہی ہیں۔شنید ہے آپ فرٹلائزر کی چور مافیا سے ملی ہوئی ہیں۔ہمیں تو آپ دوروں پر بھی کاغذی شیر سمجھ کر حسن کی گھاس تک نہیں ڈالتیں۔کسی کی ڈیوٹی لگائیں ذرا سلامی کے لفافے بنا کر رکھے۔کچھ کو اپنے ہاتھ سے بانٹا کریں۔یہ قلم گھسیٹ میڈیا نمائندے سرکار کی گلی کے چوہے،بلے، کتے ہوتے ہیں۔باہر ہڈیاں گوشت نہ ملے تو پھر پاگل ہوکرمحلے ہی کے بچوں کو کاٹنے کو دوڑتے ہیں۔ہماری زندگی ان حشرات الاطلاعات میں گزری ہے۔آپ اس کوچہء بے ہودگاں میں نووارد ہیں۔ یہ اخلاقیات، مذہب،سیکس، رزق حلال،شہر کی مڈل کلاس عورتوں کے دکھ ہیں۔سیاست کے زچہ خانے میں کنواریوں کا کیاکام۔ہمارے تو صرف مفادات ہیں۔دو روپے کی کوشش سے دو ہزار کا فائدہ نہ ہو تو سیاست کی بجائے ہم نائی کی اور آپ حلوائی کی دکان کھول لیں۔میں نے چھیڑنے کے لیے پوچھا کہ ’میں حلوائی کی کیوں تو؟گلے میں ہاتھ ڈال کر کہنے لگے ’چھوری توُ تو خود شوگر مل ہے۔آپ کو اصل میں یہ بھاری بھرکم عہدے،شخصیت کی فتنہ گری اور خلائی مخلوق سے تعلقات کی و جہ سے مل گئے ہیں مگر آپ کے مہادیو گرو آپ کو یہ نہیں سمجھا سکے کہ دلہن بھلے پارلر والے بنائیں گھر مر پڑ کر بیو ی نے ہی چلانا ہوتا ہے۔ اب آپ دلہن سے بیوی بن جائیں‘۔مجھے ان کی بکواس بہت بری لگی۔

مجھے اس غلیظ مہم کا پہلے سے علم تھا۔ بڑے وزیر صاحب نے فرٹالائزر کے ڈس چارج کے وقت کسٹم والوں سے جھگڑے پر پورٹ سے ایک اسٹنٹ ڈائریکٹر کو ہٹا دیا۔ اس نے یہ مہم شام کے دو اخبارات   کے ذریعے چلا رکھی ہے۔ اس افسر سے ڈی جی بھی  ناخوش تھا ،اس کو اپنا بھانجا وہاں لگانا تھا۔ وہ اسے کسی ادارے کے بند ہونے پر سر پلس اسٹاف پول میں سے کراچی والے محکمے میں لائے تھے۔مجھ سے کہا بڑے وزیر صاحب کی شکایت پر اس جھگڑالو افسر کو ہٹانا ہے۔ میں نے اوکے کیا تو اس نے میرے حوالے سے نوٹ ڈال کر آفس آرڈر نکال دیا۔ کراچی میں یہ بات پھیلائی گئی کہ اس کا تبادلہ فرٹلایزر مافیا کے کہنے پر میں نے اپنی صوابدید پر کیا ہے۔

وزیر اعظم ہاؤس سے واپسی کے سفر میں میں نے مرلی چند والی فائل پڑھ لی۔وہی پریس کلپنگز، جن میں مجھے فرٹیلائزر کی چوری میں ملوث امپورٹر کے ساتھ ملا ہوا ظاہر کیا ہے۔تین دن بعد مجھے پھر کراچی جانا ہے۔آج نسبتاً خاموشی ہے۔ پرسوں رات کسی وقت براستہ سڑک صبا اور گڈو پہنچ جائیں گے۔صبح نوبجے صبا کا کراچی سے فون آیا کہ آغا صاحب بدستورسو رہے ہیں۔رات دیر سے آئے تھے۔ اجازت ہو تو وہ مرلی چند کے ساتھ ذرا اپنے ابو کی طرٖف ہو آئے۔ آج ٹپکن بھیا نے لنچ رکھا ہے۔بیگ کا پوچھا تو جواب ملا کہ آپ جہاں چھوڑ کر گئی تھیں اسی کونے میں ویسے ہی دھرا ہے۔ میری تاکید ہے کہ لنچ تک آجانا ہے۔خود اپنی نگرانی میں گاڑی میں رکھنا ہے۔زیادہ تر سامان لوڈنگ اور اَن لوڈنگ کے وقت غائب ہوتا ہے۔وہ مجھے تسلی دیتی ہے کہ آج تک آپ کا کوئی فیک جیولری کا ٓئٹم یا کانچ کا ایک گلاس بھی کہیں غائب ہوا۔ میں اسے پیار کے چند بول کہہ کر پوچھتی ہوں کہ اوشا تو نہیں آئی تھی۔ وہ اس بات پر انکاری ہے۔ان کا سفر تیز گام سے ساڑھے پانچ بجے آج شام شروع ہوگا۔۔۔

میں نے ارسلان کو کہا ہے وہ سیدھے چھوٹم کے گھر آئیں۔ چھوٹم اور ظہیر بھائی سے اس بدنامی مہم کا تذکرہ میں کراچی سے کرچکی تھی ۔ظہیر بھائی کے ذریعے پتہ چلا کہ دو صحافی ہیں ساجد ڈوگر اور باقر افغانی۔ان کا بندوبست کرنا ہوگا۔میں نے ان سے کہا ہے کہ ذرا لڑکوں سے ان پر نگاہ رکھنے کا کہیں۔ یہ سیزن کے آخری جہاز تھے اپنا کارگو ڈسچارج کرکے جاچکے ہیں ابھی پورٹ پر ہمارا کوئی جہاز لگنے والانہیں۔ ٹپکن بھیا نے ظہیر بھیا کو بتایا کہ باقر افغانی کو پیغام دینے کے لیے لڑکے اس کے چھوٹے بھائی کو اردو کالج میں جھگڑے کی بنیا د پر لے گئے تھے۔ دونوں ٹخنوں میں بجلی کی ڈرل سے سوراخ کرکے چھوڑدیا ہے۔باقر بھی ڈر کے مارے گھر پر نہیں سو رہا ۔ دو دن سے دفتر والوں سے بھی صرف فون پر رابطے میں ہے۔ میں نے کہا جلدی کردی مگر ساجد ڈوگر کو ابھی نہ چھیڑیں۔

تیسرے دن رات بارہ بجے کے قریب صبا اور گڈو چھوٹم کے گھر پہنچ گئے۔میں نے کاغذات کا بہانا بنا کر جلدی سے بیگ ساتھ کیا۔ گڈو جس وقت باتھ روم میں شاور لے رہا تھا۔ جلدی سے بیگ کو کھولا۔ہر شے اپنی جگہ موجود ہے سوائے بقایا دو لاکھ اسی ہزار ڈالر کے۔میں عجیب مخمصے میں ہوں۔ بہت گھمبیر مسئلہ ہے۔ اگر اس سے پوچھتی ہوں کہ اس میں ڈالر تھے وہ کہاں غائب ہیں تو وہ کہے گا۔نہ مجھے ان کی ذمہ داری سونپی گئی۔ نہ مجھے بتایا گیا۔ یہ کرنا تھا تو میں کسی سے کراچی سے رقم کا حوالہ کرادیتا۔آپ نے بیگ صبا کے حوالے کیا تھا۔ اس سے وصول کیا۔ میں درمیان میں کہاں سے آیا۔ایک ملازمہ کو اپنے بیٹوں کے باپ  پر  ترجیح ،کوئی آپ جیسا سیاست دان ہی دے سکتا ہے۔

کاٹن کا کفتان

ان ڈالرز کے غائب ہونے کا مدعا اگر صبا سے اٹھاتی ہوں تو کہے گی اس میں جو بھی آپ نے پیک کیا وہ موجود ہے۔ بیگ آپ نے بند کیا۔ آپ نے کھولا تو ڈالر کہاں سے نکل کر غائب ہوئے۔ چھوٹم سے بھی اس موضوع پر بات کرنا قبل از وقت ہے۔شوقی کراچی میں ہے۔ وہ اس معاملے میں بالکل ہی غیر متعلق ہے ۔کاش ابو زندہ ہوتے تو میں ان سے بات کرسکتی تھی۔ باہر سے کسی تفتیش، کسی تحقیقات کی گنجائش نہیں۔پچاس روپے سے لگائیں تو ان غائب ہونے والے ڈالرز کی رقم کل ایک کروڑ چالیس لاکھ روپے بنتی ہے۔ یہ چھوٹی رقم نہیں۔ میں اندر سے ہل گئی ہوں۔

میں نے کسی  سے کچھ نہیں کہا ،خاموشی سے دیر تک شاور لیا اور اپنا نائٹ کیپ کا وہسکی والا جام لے کر چپ چاپ باہر آن کر بیٹھ گئی ہوں۔گڈو کا ارادہ مجھے بانہوں میں لے کر سو جانے کا ہے۔پر امید نظروں سے  دیکھ رہے ہیں مگر میری نائٹی ترغیب آور نہیں بلکہ کاٹن کا ایک بڑا سا پوری آستین کا نرم آرام دے کفتان ہے اور نیچے کاٹن کی کھلی بریفس۔بن واردات کی راتوں میں میرا اور چھوٹم کا یہ پسندیدہ لباس ہے۔ صبا بھی تھوڑی دیر پہلے میرا ہی دیا ہوا ایک پرانا کفتان چڑھائے گھوم رہی تھی۔یہاں آج رات ظہیر بھائی کا ساتھ نصیب ہے۔صبا کے بارے میں مجھے شک ہے کہ اس کا پی۔ٹی۔ وی۔ٹو والا چکر ظہیر بھائی سے بھی ہے۔
شاور لے کر تولیہ لپیٹے جب میں کفتان اور بریفس پہننے باہر آئی تو حضرت باتھ روم کے دروازے پر آس کی نگاہ جمائے بیٹھے تھے۔میں نے بھی کہا کہ سوجائیں۔ تھک گئے ہوں گے۔ رات کے کسی پچھلے پہر۔ مرغے پکڑنے کے وقت۔ویسے بھی کون سی نئی ہوں کہ نیند نہیں آئے گی۔ کئی دفعہ کا چکھا ہوا آلو پراٹھا ہوں، رات کلچے کے ساتھ شب دیگ نہ سہی صبح آملیٹ سمجھ کر ہڑپ کرلیجئے گا۔ کراٹے کے براؤن بیلٹ والے کاتھاز بستر میں کرلیجیے  گا۔

ویلکروز کی جکڑ
ویلکروز کی جکڑ

اب آپ کو سمجھ آئی ہم عورتوں میں کتنی ملٹی ٹاسکنگ (بہ یک وقت کئی باتین سوچنے یا کرنے کی صلاحیت) ہوتی ہے۔ ان کے دماغ اور رویوں میں کتنی ونڈوز بہ یک وقت ایک ہی پروگرام میں کھل سکتی ہیں۔ آپ مجھے سے پوچھیں تو میری  بنیاد ی کیفیات (Core Feelings) صرف اتنی ہیں کہ میر ا بس چلے تو میں اس وقت صبا اور گڈو کے ٹکڑے کردوں مگر وہ عورت کیا جس کے جذبات آپ پڑھ لیں۔وہ سیاست دان کیا جو فوری ردعمل دے۔ میں تو سیاست دان عورت ہوں سو خود ہی حساب لگالیں۔حضرت میری خوش دلی سے اُلجھ گئے ہیں۔ بستر میں مجھے بے لباس کرکے مجھے کھلی کتاب کی طرح پڑھنا چاہتے تھے۔ غائب کا سودا ڈن کر کے سو گئے ہیں۔

صبا بھی ارد گرد منڈلارہی ہے۔ اب اس کی وہاں موجودگی میں ظاہری معاونت کا جذبہ موجزن ہے۔میں چونکہ اس کی ہم عمر ہوں اس لیے میرے لیے یہ بھانپ لینا مشکل نہیں کہ اس گھمن پھیری میں اس کی اپنی ہوس بھی شامل ہے۔ تیس برس کی عورت سلگ رہی ہو تو بہت تپش ہوتی ہے کہ اس میں  بدن کے علاوہ شعور کا الاؤ بھی بھڑک رہا ہوتا ہے۔ ذہن کا تفاخر اور حالات کا کنٹرول بھی بدن کو طبلے کی طرح کس دیتا ہے۔ اس پر مستزادیہ کہ میری مفت کی شراب اور چھوٹم کے گھر کا محفوظ ٹھنڈا کمرہ۔میں نے ظہیر بھائی سے درخواست کی کہ جائیں میرے بیڈ روم سے دونوں بیگ لے آئیں۔میرا بھی اس کا بھی۔کہا جاگیں تو کہہ دیجیے  گا وہاں لاؤنج میں۔چھوٹم کے بیڈرومز میں نئے فرنیچر کی وجہ سے بیگم صاحب کو تنگی محسوس ہورہی تھی۔ گڈو کا بیگ اس کے ضمیر کی طرح خالی ہے۔ کپڑے موزے ۔ایک کتاب ۔پرس میں ایک کارڈ ہے اور کوئی دس ہزار روپے نقد۔ ایک کروڑ چالیس لاکھ روپے کی کوئی خوشبو یا حوالہ نہیں۔میں لاؤنج کی بتیاں بجھا کر چادر سگریٹ لے کر باہر ٹیریس میں جھولے پر بیٹھ گئی۔

ایک لمحہ ہے جب رقم کی یہ چوری میرے پورے وجود سے جڑ گئی ہے۔ وہ درد کہ اٹھا نہ کبھی کھا گیا دل کو،وہ والا معاملہ ہے میراکوئی نہیں ہے۔مجھے لگتا ہے کہ جو بھی مجھے اچھا لگتا ہے۔ وہ مجھ سے چھن جاتا ہے۔بات امی سے شروع ہوکے وجدان، سعید، برطانیہ، گڈی، ارسلان اور آج رات یہ دو لاکھ اسی ہزار ڈالر۔ سمجھ نہیں آتا ایساکیوں ہے۔ماں ہوکر سوچوں تو یہ خوشی بہرحال ہے کہ تماثیل اور عنادل میرے پاس ہیں۔ ان کو باپ بھی نہیں ہتھیانا چاہتا۔ سوچا کہ شوقی اب تک ملنے والے مردوں میں میرے حق میں سب سے اچھا ہے۔ گڈو نے تو وہ سترہ میل والا گھر مجھے دینا نہیں ۔یہاں وزیر ہوتے ہوئے بھی اسلام آباد میں میراگھر نہیں ۔ سوچا تھا اس رقم سے یہاں چھوٹم کی گلی کے کونے والا بنگلہ لے لوں گی۔بیعانہ بھی دے دیا تھا۔سائیں کے کسی جاننے والا کاہے۔اب مجھے یا تو وزیر اعظم سے کوئی اور فیور لینا پڑے گا یا زمین کا کچھ حصہ بیچنا پڑے گا۔طوقی والی زمین بیچ دیتی ہوں ٹھڈا ٹھیم میں یہ زمین ویسے بھی کوئی خاص نہیں۔ سومرا اور بلوچاں والاں کے لوگوں میں اس کی مانگ ہے۔اس وقت لودھراں کے ایس پی بھی جاننے والے ہیں اوڑ ڈی سی او بھی۔

اشک ہیں کہ تھمنے کا نام نہیں لیتے ایک کروڑ چالیس لاکھ روپے چھوٹی رقم نہیں۔ مجھے احساس ہی نہ ہوا کہ چھوٹم کب پاس آن کر کھڑی ہوگئی ہے۔چھوٹم نے مجھے تین چار دفعہ ایسے کرائسس میں سنبھالا ہے۔اس کا انداز بہت غیر جارحانہ اور مشفقانہ ہوتا ہے۔آہستہ سے مجھے سینے پر لٹالے گی۔میری کان کی لو کبھی ہلکے سے چبائے گی یا چوسے گی۔درد مجھے آہستہ سے دنیا حقیقت میں لائے گا اور اسکے بوسے مجھے عجیب سا نشہ دیں گے جیسے کوئی اینستھیسیا ( Anesthesia ) کا سلسلہ ہو۔ ہلکے ہلکے انگریزی میں کہے گی بے بی ڈونٹ کرائی۔آل ول بی ویل۔ میں ہوں نا۔میری کمر کی قوس پر اس کے ہاتھ کی مضبوط گرفت مجھے ایک ایسے سہارے کا احساس دے گی جو مجھے کبھی گرنے بکھرنے نہیں دے گا۔

میں نے بہت آہستہ سے کہا Its a perfect crime(ایک کامل جرم کی واردات ہوئی ہے)۔وہ کوئی تفصیلات جانے بغیر مجھے تسلی دے رہی ہے کہ It will be perfect a revenge. No bigger joy than killing the killer(پھر اس کا انتقام بھی کامل ہوگا۔ قاتل کو  ہلاک کرنے سے بڑی کوئی اور خوشی نہیں)۔کہنے لگی ظہیر نے مجھے فون کرکے بتایا تھا کہ نیلم بی بی بہت اجڑی اجڑی لگتی ہیں۔میں نے کہا تم سوجاؤ میں نمٹ لوں گی۔دو گھنٹے مجھے رونے دیا ہے۔اسے پتہ ہے کہ میں دوبارہ اپنا سُر کیسے پکڑتی ہوں۔اکیلے رو کر، چپ چاپ ایک دو جام پی کر۔اس دوران بے حد خاموشی سے مجھے دس دفعہ چیک کیا ہوگا۔ جب لگا کہ اب مداخلت کے بغیر چارہ نہیں۔تب میرے پاس آئی ہے۔

مجھے ساتھ بیٹھ کر اپنی جانب ڈھلکا یا تو لگا ٹھنڈے کمرے کی وجہ  سے ہاتھ بھی ٹھنڈے ہیں،میری گرم کمر کو اس کی ہتھیلی کی ویلکروز گرپ اور سلگتے گالوں کو اس کے سینے کی چکنی ٹھنڈک بہت تسکین بخش لگی ہے۔انتقام کی نوید ملی تو میں نے بتایا کہ یہ سب کچھ ہوا ہے۔اس کا شک ارسلان پر ہے۔کہتی ہے کہ صبا سے تو کل میں اور تم قسماً پوچھ لیں گے۔دو دشمن ایک ساتھ نہیں۔ دونوں ہی خطرناک ہیں۔پیسے ایک نے چرائے ہیں دونوں نے نہیں۔صبا اور ارسلان میں کوئی باہمی تفہیم، کوئی لگاؤ بھرا تعلق نہیں دکھائی دیتا۔ظہیر سے پوچھ لوں گی۔وہ بہت قریب ہے۔ اسے لازما ًبتایا ہوگا۔ صبا کا ارسلان کے ساتھ آپس میں وہ چاؤ چلن نہیں جیسا اوشا میں دکھائی دیتا تھا۔ اس کی نگاہیں گڈو کے قدموں سے لپٹی رہتی تھیں۔مجھے Buck up baby.No more tears کہہ کر کافی بنا کر لے آئی ہے۔ کافی ختم ہوئی تو کہا گو سلیپ۔ میں نے جاکر شاور لیا، اور آن کر گڈو کے برابر  لیٹ گئی۔جانے کس وقت نیند آئی ،دن چڑھے بیدار ہوئی تو گڈو جاچکے تھے۔

زمزمہ بلے وارڈ ڈیفنس کراچی

چھوٹم نے بتایا کہ ظہیر بھائی نے تفتیش و تصدیق کرکے بتایا ہے کہ صبا بھلے سے گڈو کے ہاں ویسے ہی رہتی تھی جیسے اوشا رہا کرتی تھی۔قریب قریب وہی سیٹ اپ مگر آپس میں دونوں کا کوئی خاص تال میل نہیں۔اسے بلکہ گلہ ہے کہ صاحب بہت کم بات کرتے ہیں۔۔

وزیر اعظم ہاؤس میں شام کو کچھ مہمان آرہے ہیں۔خواتین کی تعداد زیادہ ہے۔ کچھ این جی اوز ہیں۔ مجھے بھی دعوت ہے۔ تین صوبوں کی این جی اووز کے نمائندہ وفود آئے ہوئے ہیں ۔ خواتین کی بھر مار ہے۔ ۔وزیر مملکت برائے زراعت والے میرے دفتر میں کوئی خاص مصروفیت نہیں۔

ظہیر بھائی کو سودا سلف لانے بھیج کر ہم نے صبا سے دھیمی دھیمی مہذب انداز میں تفتیش شروع کی۔چھوٹم نے سوال کیا کہ بیگم صاحبہ کے بیگ سے کچھ پیسے،زیور اور ایک قیمتی گھڑی بھی چوری ہوئی ہے جو کسی نے کراچی میں دی تھی۔وہ کہنے لگی میں جب تک امی کی طرف نہیں گئی تھی، بیگ وہیں تھا جہاں نیلم باجی نے رکھا تھا۔ واپس آئی کہ ریل میں جانا ہے تو  باجی کا یہ سامان والا بیگ صاحب کے بیڈروم میں تھا ۔ میرا اپنا سوٹ کیس لاونج میں صاحب کے سامان کے ساتھ ساتھ رکھا تھا۔ میں جب امی کی طرف گئی تھی تو آپ کا یہ بیگ میرے سوٹ کیس کے ساتھ رکھا تھا۔پرناب بھی گھر پر تھا۔واپس آئی تو صاحب بھی میرے واپس آنے کے ٹائم گھر پر تھے۔میرے سامنے ہی تیار ہوئے۔ ہم ساتھ نکلے ۔ملتان میں اسٹیشن پر البتہ ریل سے یہ سب بیگ جیپ میں سیٹ کے پیچھے رکھے گئے ۔ بڑی سفید جیپ تھی۔ دو دفعہ کار اور ڈرائیور بدلے۔ملتان اسٹیشن پر لینے سرکاری جیپ آئی تھی ۔یہاں اسلام آباد ہم بڑی جیپ میں آئے۔ سرکاری لوگ تھے۔
میری کیا مجال کہ  میں کچھ کہہ سکتی کہ بیگ کو یہاں رکھو وہاں نہ رکھو۔کھانے پر بھی بہت لوگ تھے اس لیے صاحب کو کہنا اچھا نہیں لگا کہ میں سامان اترواتی۔ مجھے چھوڑ کر صاحب کسی بڑے آدمی سے ملنے بھی جیپ ہی میں گئے تھے۔چھوٹم نے ضد کی تو اس نے کہا وہ پاک نہیں اس لیے چھوٹم پنج سورہ پکڑے تو وہ نیچے سے گزرجائے گی۔چھوٹم نے کہا نہیں جاؤ غسل کرکے آؤ اور ہاتھ رکھو۔ ڈرایا کہ کتنی بڑی قسم ہے مگر وہاں کوئی تعامل نہ تھا۔ میں اب صبا کی جانب سے مطمئن ہوگئی ہوں۔ دو دشمن ایک ساتھ نہیں۔ یہ چھوٹم کا کہنا تھا۔ صبا بری ہوکر میری طرف سے فارغ ہے ایک سوال البتہ بہت معنی خیز تھا جو چھوٹم نے کیا وہ بہت اہم تھا کہ چوری کہاں ہوئی ہوگی۔اس نے بلا توقف کہا کراچی میں۔ میں تو مرلی صاحب کے ساتھ ہی گئی تھی وہ امی کے گھر بھی گئے تھے۔کھانے پر ٹپکن بھیا نے مرلی صاحب کو بھی روک لیا تھا۔ چھوٹم نے پوچھا کہ مرلی کے ساتھ کھانے سے پہلے کہاں گئی تھیں۔ شرما گئی۔ کہنے لگی ’باجی! آپ اسلام آباد والے بہت بولڈ باتیں کرتے ہو‘۔ شاپنگ کب کی۔ ارے کیا شاپنگ باجی، بھاگم بھاگ زمزمہ سے موچیانی سے سینڈل لیے۔ دکھانے کو ڈبہ اٹھالائی۔ چھوٹم کو سینڈل پسند آئے تو کہنے لگی تو دوسرے لے لینا۔ مرلی سے منگوالے۔ ناپ اور نمبر رسید پر لکھاہے۔ظہیر آئے تو میں تمہیں سینڈل کے پیسے بھی دیتی ہوں۔ ڈبہ چھوڑ دو، میرے کپڑے استری کردو۔
چھوٹم نے جھٹ پٹ ڈبہ کھول کر دیکھا الیکٹرانک رسید پر خریداری کا ٹائم تاریخ سب لکھا تھا پیسے مرلی کے کارڈ سے ادا ہوئے تھے۔
میں نے چھوٹم سے پوچھا کہ قاتل کی ہلاکت سے بہتر کوئی بدلہ نہیں۔ تو کیا ذہن میں کیا۔چھوٹم نے کہا۔گڈو ایک بوجھ ہے۔ اس کے پاس تمہارے بہت سے راز ہیں۔ باقی باتیں بعد میں۔ آج میرا کلینک ڈے ہے۔

میں بھی کچھ دیر دفتر اور بڑے وزیر صاحب سے ملنے چلی گئی۔ وہی اپنے گھر کھانے پر لے گئے۔مجھے کہنے لگے کہ ان کی وزارت بدل رہی ہے لیکن جو  لسٹ    صدر صاحب کو منظوری کے لیے بھیجی گئی ہے اس میں میرا نام نہیں۔ممکن ہے وزیر اعظم کے ذہن میں مجھے کسی بورڈ کا چیئر پرسن بنانے کا ارادہ ہو۔ ویسے بورڈ آف انویسٹمنٹ تو کئی وزارتوں سے بہتر ہے۔میں تو کہوں گا آپ جیسی خاتون کو لٹریسی کمیشن کا چیئرپرسن ہونا چاہیے۔سیریں ہی سیریں، بین الاقوامی فنڈز۔

انہی کے گھر لنچ کرکے ہم سیمینار  میں ساتھ ساتھ چلے گئے۔ سیمینار میں خواتین کے نمائندہ و فود سے ملنے صدر صاحب بھی آگئے۔ کیا خود اعتمادی تکبراور شان ِاجتناب ہے۔ جیسے کوئی فوجی دیوتا زمین  پر چل رہا ہو۔میں نے اپنے وزیر صاحب سے پوچھا تو ان میں ذرا لسانی حسد کی جھلک نظر آئی، کہنے  لگا مہاجر صدر میں ، چاہے وہ فوج ہی سے کیوں نہ ہو ،اعتماد بہت اور طاقت کم ہوتی ہے۔بے چارے کی کانسٹی ٹیونسی کوئی نہیں۔اسی لیے شریفوں نے چوہدری نثار کے مشورے پر چیف بنایا تھا۔ گلے پڑگیا۔ یہ پاکستان سے باہر کے بڑوں کے فیصلے ہیں جب تک اللہ اور امریکہ پشت پناہی نہ کریں پاکستان میں کسی کو بڑا عہدہ نہیں ملتا۔

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *