• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • پاکستان میں ہمیشہ دھرنوں میں مذہب کارڈ کیوں کھیلا جاتا ہے؟۔۔۔سفیر رشید

پاکستان میں ہمیشہ دھرنوں میں مذہب کارڈ کیوں کھیلا جاتا ہے؟۔۔۔سفیر رشید

SHOPPING
SHOPPING

یا تو ہم مذہب کے نام پر بےوقوف جلدی بن جاتے ہیں یا ہمارا جذبہ ایمان جاگ جاتا ہے اور اگر نہیں جاگتی تو صرف اور صرف ہمارے سوچنے کی صلاحیت کیونکہ ہم لوگ صرف پیدا ہی ا س لیے ہوئے  ہیں کہ دوسروں کی باتیں سُن کر جذباتی ہوں  اور  کسی کو بھی  کافر  کہہ کراُسے موت کے گھاٹ اتار دیں ۔

جمہوری نظام میں احتجاج کرنا سب کا حق ہے اس حق کا استعمال 2013 اور 2014 میں طاہرالقادری صاحب نے کیا اس میں بھی ان کے مرید  سڑکوں  پر نکلے اور مذہب کارڈ کا  خوب  استعمال کیا گیا، کسی کو کافر ،کسی کو مرتد اور کسی کو  گستاخ رسول بنایا گیا۔

2018 میں خادم رضوی صاحب اپنے مریدوں کو لے کر سڑکوں  پر نکلے اور حکومتِ وقت کو للکارا ،اور فتوے  پیش کیے ،جس کے بعد پیش آنے والے حالات نے انہیں دوباہ کوئی دھرنہ اور احتجاج کرنے قابل نہیں چھوڑا۔

گو اب مولانا فضل الرحمان کا  آزادی مارچ بھی بہترین مذہب کارڈ ہے۔۔۔ ان کو فائدہ یہ ہے کہ ان کے ساتھ مدارس کے  طلبہ ہوں گے، جن معصوم بچوں کو یہ بھی نہیں معلوم ہوگا  کہ ا ن کو دھرنوں میں کیوں لایا گیا ہے، پچھلے دھرنوں میں بریلوی مسلک کا پاور شو تھا ،اب مولانا دیوبند مسلک کا پاور شو کروائیں گے، لیکن بہت سے دیوبند مسلک کے علماء ان دھرنوں کے مخالف بھی ہیں۔

بات صرف سمجھنے کی یہ ہے کہ ہم کب ان دھرنوں سے نکلیں گے اور ملک کے لیے  کام کریں گے ۔ایک دوسرے پر الزام لگا کر غریب عوام کو اکسایا جارہا ہے۔مذہب کارڈ سے کب ہماری جان چھوٹے گی؟۔۔ کب تک ہم دوسرے کو کافر کہہ  کر خود سچے مسلمان ہونے کا دعوی کرتے رہیں گے؟؟

SHOPPING

کراچی کا نوجوان صحافی جو حق و سچ کی تلاش میں سرگرداں ہیں

SHOPPING

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”پاکستان میں ہمیشہ دھرنوں میں مذہب کارڈ کیوں کھیلا جاتا ہے؟۔۔۔سفیر رشید

  1. ماشاءاللہ تحریر اچھی ہے ، الفاظ کا چناو بھی بہترین رہا ، لیکن جس چیز کی کمی رہی وہ یہ ہے کہ شروع ہوتے ہی ختم ہوگئی ، تحریر میں تھوڑی تہمید باندھ کر اسکو دلچسپ بنائیں ۔
    شکریہ

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *