• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • لنڈی کوتل میں طالبان کاروائیاں اور فوج کا کردار۔۔۔۔ نوازش حمید

لنڈی کوتل میں طالبان کاروائیاں اور فوج کا کردار۔۔۔۔ نوازش حمید

یہ  لَنڈی کوتل بازار کا  تاریخی  مین چوک باچاخان چوک ہے۔میں اس کی  مین مارکیٹ میں  بطور کاریگر کام کرتا ہو ں،یہ عصر کا وقت ہے اس چوک سے صرف پانچ سو میٹر دور آرمی کا بہت بڑا کیمپ  ہے۔لنڈی کوتل ہسپتال کی سڑک  سے طالبان منگل باغ گروپ کا ایک قافلہ بمعہ کلاشنکوفوں راکٹ لانچروں اور اینٹی ائیرکرافٹ گنوں کے ساتھ داخل ہو رہا ہے جو غالباً  20گاڑیوں پر مشتمل ہے۔

رات کو لنڈی کوتل اور وادی تیراہ کے مابین پہاڑی سلسلے سے انہی لوگوں نے لنڈ ی کوتل بازار،لنڈی کوتل ہسپتال،لنڈی کوتل آرمی کیمپ اور لنڈی کوتل آبادی پر ہزاروں گولیاں برسائی تھیں ، جس کے جواب میں آرمی کیمپ سے توپ خانہ بے دریغ استعمال کیا گیا، جس سے کوہ سلیمان کے جنگلات میں آگ بھڑک اُٹھی۔جس کی وجہ سے تقریبا دو شینواری قوم اور ایک لاکھ سے زیادہ آفریدی قوم(ذخہ خیل)نے ساری رات جاگ کر گزار دی۔میں اس وقت حیران رہ گیا جب طالبان کا قافلہ آگے گزر  کر جیسے ہی واپس ہوا، آرمی بھی کانوائی کیمپ سے نکلی اور عین باچاخان چوک پر دونوں قافلوں کا آمناسامنا ہوا ،میں  نے تو کلمہ شہادت پڑھنا  شروع کردیا تھا، کیونکہ ایسا لگ رہا تھا کہ نہ کوئی طالب بچ پائے گا نہ  کوئی آرمی جوان اور نہ  چوک میں کوئی دوکان دار مگر میری حیرانگی اس وقت غصے میں تبدیل ہوگئی جب ان دونوں قافلوں نے ایک دوسرے کو دیکھنا بھی گورا نہیں کیا، ایک اپنے راستے چلا گیا، دوسرا اپنے راستے۔یہ سینکڑوں لوگوں کے سامنے ہوا ،او ر یہ معمول تھا کہ رات کو جنگ کا ماحول ہوتا اور دن کو دونوں پارٹیاں ایک ہی بازار میں، ایک ہی وقت پر گشت کرتی  رہتیں ۔

لنڈی کوتل بازار کی دوسری مشہور جگہ کچروں کوسہ(خچروں کی گلی) یہاں پر ایک کار بم دھماکہ ہوا،  جس میں 30مقامی لوگ شہید اور 80سے زیادہ زخمی ہوئے ۔یہ دھماکہ 16 جون 2012کو ہوا تھا۔ مقامی لوگ امدادی کاروائی میں لگ جاتے  ہیں ،جس کا بھرپور ساتھ پولیٹکل انتظامیہ کی  خاصہ دار فورس بھی  دے رہی  تھای،چونکہ آرمی کیمپ بازار ہی میں ہے۔۔ اس لیے آرمی بھی دس پندرہ  منٹ میں وہاں پہنچ گئی مگر لوگوں کی آنکھیں تب حیرت سے کھلی کی کھلی رہ گئیں ، جب آرمی والوں نے زخمی اور شہیدوں کی  مدد کرنے کے بجائے تباہ شدہ دکانوں سے روپے چوری کرنا شروع کردیے۔۔یہ  منظر وہاں پر موجود سینکڑوں مقامی لوگوں نے پھٹی آنکھوں سے دیکھا۔اور طاقت کی  آڑ میں مقامی لوگوں کے گھروں کی تلاشیاں شروع کی۔ایسا ہی ایک چھاپہ ہمارے دور کے ماموں کے گھر پر بھی پڑا ،تلاشی لی گئی، کچھ برآمد نہیں ہوا ،آرمی والے گاڑیوں میں جیسے ہی جانے لگے تو ایک ادھیڑ عمر عورت باہر آئی  اور میجر صاحب کو گریبان سے پکڑ کر کہنے لگی  کہ میجر صاحب آپ کے سپاہی نے سونے کی بالیاں چوری کی ہیں ، یہ منظر گاؤں کے تمام مرد دیکھ رہے تھے ،میجر صاحب نے کہا کہ یہ ناممکن ہے، عورت نےکہا کہ باتیں چھوڑو بالیاں نکالو، یہ دیکھتے ہی گاؤں کے مردوں نے آرمی کو گھیرا ڈال لیا، حالات کی نزاکت کو دیکھ کر میجر نے سپاہیوں کو حکم دیا کہ جس نے بھی بالیاں چرائی ہیں  واپس کردے۔ایک سپاہی نے بالیاں واپس کردیں ۔پھر اس سپاہی کا کیا ہوا کسی کو کچھ پتہ نہیں چلا ،مطلب محافظ چور ثابت ہوگیا۔

لنڈی کوتل کی  مشہور شخصیت اور موجودہ وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نورالحق قادری کے چار رشتہ داروں کو شہید کیا گیا۔قادری صاحب نے علاقے کے امن کو خراب کرنے سے اجتناب کیا اور وہاں سے ہجرت کرکے اسلام آباد چلے گئے۔اس کے بعد لشکر اسلام کے سربراہ منگل باغ نے اعلان کردیا کہ کل میں قادری صاحب کے آبائی علاقے پیروخیل میں جاؤں گا اور وہاں پر مدفون قادری صاحب کے آباؤ اجداد کی  قبروں کو مسمار کروں گا ،جس کے ردِعمل میں تمام شینواری قبائل اپنی بندوقوں سمیت چروازگئی کے مقام منگل باغ کے مقابلے کےلیے  ہزاروں کی تعداد میں نکل آئے۔سکیورٹی کی ذمہ  دار چونکہ پولیٹکل انتظامیہ کے ہاتھ سے نکل کر براہ راست آرمی کے ہاتھ میں تھی مگر انہوں نے اس سارے کھیل کو نظر انداز کردیا اور اموات کا انتظار کرنے لگی، اُدھر منگل باغ کی قیادت میں ہزاروں طالبان جنگجو درہ خیبر میں داخل ہوگئے۔وہ تو بھلا ہو ملک دریا خان آفریدی کا(چیف آف ذخہ خیل قبائل)جو بروقت سڑک پر لیٹ گیا اور منگل باغ سے کہا کہ آپ کو میرے اوپر گاڑی گزر کر آگے  جانا ہوگا، جب تک میں زندہ ہو ں،تم آگے نہیں جاسکتے۔ملک دریاخان آفریدی اور چروازگئی کا فاصلہ ایک کلومیٹر سے بھی کم ہے۔منگل باغ وہاں سے واپس ہوگیا ورنہ دو تین ہزار اموات دن پکی تھیں ، اس سارے  واقعے  کے دوران  ،میں خود چروازگئی میں موجود تھا۔

یہ  سارے واقعات بیان کرنے کا مقصد یہ تھا کہ پشاور سے لنڈی کوتل تک تقریباً 5/6چیک پوسٹیں جن  پر آرمی دن رات موجود رہتی تھی، ان چیک پوسٹوں سے طالبان کیسے گزرتے  تھے   وہ بھی قافلہ کی شکل میں، ہر طرح کے جدید اسلحے سے لیس؟۔۔مزے کی بات یہ ہے کہ مقامی قبائل آفریدی اور شینواری قبائل پشاور سے اپنے ساتھ ایک بوری آٹا، ایک بوری چینی سے زیادہ نہیں لے کر جاسکتے ، مگر منگل باغ اپنے اسلحوں سمیت گزر جاتا تھا۔

اسی خیبرایجنسی کے علاقوں وادی تیراہ اور باڑہ میں لشکر اسلام اور انصاراسلام کے مابین آٹھ ماہ تک خونریز جنگ ہوئی تھی جس  میں 1800سے زیادہ لوگ دونوں جانب مر گئے تھے۔لشکراسلام کو آرمی مکمل   سپورٹ دے  رہی تھی ،تو انصار اسلام کی سپورٹ پولیٹکل انتظامیہ کے  ذمہ تھی ،یہ بات مجھے انصار اسلام کے ترجمان نے خود بتائی تھی۔ اس جنگ میں اس وقت دلچسپ موڑ آیا جب دو سگے بھائیوں میں سے  ایک لشکر اسلام کی طرف سے ماراگیا، تو دوسرا انصار اسلام کی طرف سے ،وہ بھی ایک ہی دن ایک وقت اور ہی مورچے کی لڑائی میں۔۔جب دونوں کی میتیں اپنے حجرے  میں لائی گئیں  تو خلافِ  روایت اس کی بوڑھی ماں حجرے میں  آگئی، دونوں بیٹوں کو دیکھا اور اعلان کردیا کہ لوگوں سن لو، منگل باغ کو بھی لے آؤاور انصار السلام کے سربراہ مفتی محبوب کو بھی لے آؤ،دونوں یہاں پر آکر فیصلہ کریں  کہ میرے بیٹوں میں کون شہید اور کون  مردار ہے ؟۔جو شہید بن گیا اس کو کپڑوں سمیت دفن کر دینگے اور جو مردار ہوا اس کو دریا میں پھینک دیں  گے۔یہ معاملہ صبح سے شام تک جاری رہا اور پھر دونوں بیٹوں کو دفن کردیا۔

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *