کہروڑ پکا کی نیلماں۔۔۔۔محمد اقبال دیوان/قسط22

سویرا کے مدیر اعلی سلیم الرحمان صاحب نے شمارہ نمبر سو کی اشاعت میں غیر معمولی تاخیر کے پیش نظر مصنف کو کمال شفقت سے اجازت دی کہ یہ کہانی مکالمہ میں پہلے شائع کرلیں۔۔سو پیش خدمت ہے۔۔افسر و سیاست دانوں کے معاشقوں پر مبنی ایک واردات قلبی کا احوال۔اس کے جملہ کردار، شعبہ جات،سرکاری محکمے اور واقعات خالصتاًافسانوی ہیں۔ ان کا اپنے زمان و مکان سے جڑے اصل کرداروں سے کسی قسم کا کوئی واسطہ نہیں۔ جیمز بانڈ کے خالق مصنف آئن فلیمنگ برطانیہ کی خفیہ ایجنسی ایم آئی سکس اور ہالی ووڈ پوری سی آئی اے کو اگر اپنی فلموں میں شامل کرسکتے ہیں تو جان لیں کہ مزکورہ افراد کے عہد ے،طور اطوار اور مقامات اس کہانی کے حوالے سے محض زیب داستاں کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ان کا اصل افراد اور واقعات سے کوئی تعلق نہیں

قسط نمبر 21 کا آخری حصہ
میں زیادہ تر اب گڈو کے گھر رہتی ہوں۔میرا اندازہ غلط نکلا ہے۔ رات کو میں سوئی رہتی ہوں تو وہی تماثیل کو سنبھالتا ہے۔ ویسے تماثیل ہے بھی اپنے ابو جیسا۔آنکھوں میں ذہانت کی چمک اور میری جیسی اجلی کشمیری رنگت۔دودھ پیتے پیتے اکثر منہ  ہٹا کر کبھی مجھے تو کبھی گڈو کو دیکھتا ہے۔سینے پر طبلہ بھی بجاتا ہے۔گڈو کی بھی یہ ہی عادت ہے میں چھیڑتی ہوں کہ میرے سینے کا جو تم دونوں باپ بیٹا حال کرتے ہو تو لگتا ہے کہ استاد ذاکر حسین کی اور تمہاری جینز ایک ہیں۔عجب سرخوشی کا عالم ہوتا ہے اس کے سینے پر میں اور میرے سینے پر تماثیل،ہمارا بیٹا۔ارسلان کی فرمائش پر میں  نے وزیر اعظم کو کہہ کر اسے پیرس۔ فرانس میں Commercial Counselor لگوادیا  ہے۔

فرانس

نئی قسط 22

پرنسس ڈیانا کے بلونڈ بال
بیلی ڈانسر کا پیٹ
بادامی قورمہ
بادام زعفرانی کھیر
بریانی
لیمن سوفلے
مولگھتانی سوپ

صدر صاحب کو دور سے دیکھا۔ سنا ہے بہ یک وقت کئی خواتین میں دل چسپی لیتے ہیں ایک کوئی وکیل صاحبہ ہیں دو تین بستہ بے قسم کی اداکارائیں بھی حلقہء ارادت سے وابستہ ہیں اور فیض سرکار کی تجلیات سے فیض یاب ہوتی ہیں۔ ہمارے وزیر اعظم سے میری اچھی علیک سلیک ہوگئی ہے۔خوش مزاج اور خوش خوراک ہیں۔مجھے کہہ رہے تھے وزیر زراعت سے کراچی والے محکمے سنبھل نہیں رہے۔ کراچی کی پارٹی والے بہت سیاست کرتے ہیں۔ ہمارے سادہ لوح دیہاتی وزیر کی موقع بہ موقع بے عزتی بھی کرتے ہیں۔ صدر سے بات کرکے تمہیں وزیر مملکت بنادوں۔کراچی تم سنبھالنا۔
وزیر اعظم برطانیہ کے دورے پر جارہے ہیں۔ وفد میں مجھے بھی شامل کرلیاہے۔میں تماثیل کو لے کر پہلے شوقی کے پاس گئی اور پھر پیرس اس کے ابو ارسلان کے پاس۔میرا ارادہ ایک ہفتے کے لیے فرانس کی سی سائیڈ دیکھنے کا ہے۔ یوں بھی اسّی فیصد سے زائد فرانس اس کے دیہاتوں میں بستا ہے۔دیگر ممالک کی نسبت فرانس میں بڑے شہر کم ہیں۔ پیرس کے علاوہ شاید ہی کوئی ایسا بڑا شہر ہو جس کا نام دنیا میں لوگوں کو یاد ہو۔
جنوب مشرق میں فرینچ رویریا کا علاقہ ساحل سے لگ کر بہتا بہتا اٹالین رویریا تک آجاتا ہے۔دونوں نےMediterranean یعنی بحیرہ روم کو گلے لگا رکھا ہے۔ہم نے ایک جزیرے Porquerolles(پورک رول) میں اپنے تین دن اور دو راتیں گزارنی ہیں۔مجھے لگتا ہے لیساں کے بعد یہ ہمارا سیکنڈ ہنی مون ہے۔

عریانی سکہ رائج الوقت ہے۔برہنگی معیوب نہیں۔۔عمر کی بھی قید نہیں۔میں نے تھوڑے کو بہت سمجھا۔ بکنی پہن کر مجھے بہت مزا آیا۔گورے بیچ پر تھے۔ گڈو بیٹے تماثیل کو لیے بیچ پر بیٹھا تھا۔ لہروں میں مجھے اکیلی مچلتی دیکھ کر دو ایک مشتاقان دید و بندگان ہوس سلیقے سے لپکے بھی میں نے کچھ دیر کھلوڑا بھی کی۔ایک دن تو بغیر braادھوری بکنی پر گزارا کیا۔گڈو شریر کہیں کا میری THONG. ( زیریں حصہ)کی ڈوری کھینچ کر کہنے لگا” ایک مرتبہ جون ایلیا نے مشتاق یوسفی کو کہا کہ میرے پاس بیس کرتے اور ایک پاجامہ ہے۔ یوسفی صاحب کہنے لگے بہتر ہوگا اس ایک تکلف سے بھی جان چھڑالیں۔میری عریانی کی ترغیب پر ایک دو منچلے مچل کر قریب آن کر جب کچھ بے تکلف ہونے لگے تو میں نے کہا میرا میاں وہ دیکھو میرے بیٹا سنبھالے بیٹھا ہے۔ انہوں نے اپنی قسمت پر چار حرف بھیجے کہ کیا گولڈن گرل ہاتھ سے نکل گئی۔

پورک رول میں مجھے ڈر بھی لگا کہ کہیں میڈیا کا کوئی پاکستانی نمائندہ نہ ہو۔اس طرح کے شیطانی چیلوں سے بچنے کے لیے میں نے لندن میں اپنے بالوں کو بلونڈ ڈائی کراکے پرنسس ڈیانا جیساہیر کٹ بنالیا ہے ۔میرے لباس، جسم کی تراش سے مجھے کوئی بے باک ایرانی لبنانی یا ترکی حسینہ سمجھے تو سمجھے وہاں مجھے پاکستانی قرار دئیے جانے کا امکان بہت ہی معدوم ہے۔بیٹا پیدا ہونے کے بعد میرا پیٹ اب پہلے جیسے بندھا ہوا اور اندر کی طرف گندھا ہوا تو نہیں مگر اس کا ہلکا سا قوس عرب بیلے ڈانسروں جیسا ہوگیا ہے۔ گڈو کو اچھا لگتا ہے۔ اس کی وحشتوں میں دوریوں نے ایک آگ بھڑکا رکھی ہے۔ میں نے پوچھا بھی کہ پیرس میں عورت نہیں ملتی جو مجھے افطاری سمجھ کر یوں ٹوٹ پڑتے ہو۔ شریر کہنے لگا ’تیرے جیسی مست الست کہاں، تو پاس ہو تی ہے تو ایسا لگتا ہے آئین کی تمام دفعات
کی پھول پتیاں ادھر ادھر بکھیر کر پوری قومی اسمبلی بستر میں ننگی پڑی ہو۔جو مزہ بریانی، دیسی مرغی کے قورمے اور بادام زعفرانی کھیر میں ہے وہ اسٹیک،مل گھٹانی سوپ  اور لیمن سوفلے میں کہاں۔
وہاں باتھ یونی ورسٹی میں Claverton Down, ایک ہوٹل میں شوقی کے ساتھ جو دو تین دن گذرے اس میں بے چارے نے اپنی جانب سے بہت احتیاط کی۔ آخری رات میں نے باتھ روم میں جاکر چالاکی کرکے شور مچادیا۔ اس کے تحفظات کو اس کی نگاہوں کے سامنے لہرا کر ڈرایا اس میں سوراخ ہے۔ تماثیل چھوٹا ہے، اگر کچھ ہوا تو میں تمہاری جان لے لوں گی۔

اس کا خیال ہے میں بہت لونگ ماں ہوں اگر میں سعید کا بیٹا پال سکتی ہوں تو ڈرنے کی کوئی بات نہیں وہ تو میرا شوہر ہے۔ اس لیے یہ میری دھمکی بے کار ہے۔بہت دیر تک اپنی بداحتیاطی پر ہنستا بھی رہا اور اسے مینوفیکچرنگ ڈیفیکٹ کا نام دے کر کہتا رہا کہ تم کہو توسنبھال کے رکھتے ہیں بڑی کمپنی ہے۔ برطانیہ میں Sue (ہرجانے کا دعوی)کریں گے۔میں نے کہا چلو کیا یاد کروگے تمہاری اماں کو دادی بنادیتے ہیں۔بہت لوک ورثے کا شوق ہے نا۔ میرے شوقی کی نشانی۔آپ تو جانتے ہیں نا کہ اگلی باری میرے گڈو کی اور عنادل کی ہے۔

شادی کا فیصلہ کرتے وقت میں نے پہلے سوچا تھا اس کی امی کو اور اسے ستاؤں گی۔ وہ پریشان ہوگا۔ آپ تو جانتے ہی ہیں کہ ذہنی طور پر بلند ٹیکنیکل لوگوں کو یعنی نرڈز کو انتشار ذات کا شکار ہونے میں دیر نہیں لگتی۔ وہ ڈپریشن اور نروس بریک ڈاؤن کی وجہ سے جلد ڈپریشن اور گھبراہٹ کے مریض بن جاتے ہیں۔ ایسا ہوگا تو اسے چھوٹم سے علاج کے بہانے Selective serotonin reuptake inhibitors (SSRIs): رینج کی دبا کر ادویات کھلاؤں گی۔ اس سے بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت مرد میں بہت کمزور پڑ جاتی ہے۔ میں اس کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتی۔میں یہاں مردوں سے نمٹنے کا مینول نہیں ترتیب دے رہی۔

ٹھڈا ٹھیم کی زمینیں

میں ان عورتوں میں سے بھی نہیں جو خود کو میاں کی Devotee یعنی پجارن ہونے کا رول یہ سمجھ کر ادا کرتی ہیں کہ شوہر عورت ہونے کی عمر قید ہے۔ نہ ہی میں کوئی مادہ چمگادڑ Vamp یا ویلین ہوں جس کے لیے اس کا ماضی بھلا کر شوہر اس کے لیے اانعام بن کر آسمان سے اترا ہو۔ پاکستان آن کر میں تو ایک دیوی بن گئی ہوں جس کی زندگی کا واحد مقصد اپنی پوجا کرانا ہے۔میاں پروہت پنڈت بن کر چونکہ پوجا کے ساتھ مندر کے مزے بھی لوٹنا چاہتا ہے لہذا اس سے زیادہ خدمت لو۔ رگڑا بھی اسی کو لگاؤ۔مال بھی اسی کا ہتھیاؤ۔میں اسے اکثر پنڈت شوقی کہہ کر چھیڑ تی ہوں۔

واپسی پر مجھے علم ہوا کہ میں دوبارہ ماں بننے والی ہوں۔میں نے شوقی سے کہا اپنی والدہ سے کہیں مجھے مبارک باد دیں۔مری ہوئی آواز میں مبارکباد کا پیغام دیا اور اس سے بھی مری ہوئی آواز میں ابو والی ٹھڈا ٹھم والی زمینیں جو دادی نے ہتھیالیں تھیں وہ پوتے عنادل کے نام کرنے کی نوید دی۔مشکل یہ ہے کہ ان میں سے کچھ پر طارق کا قبضہ ہے۔ ان کے لیے طارق کو ڈی ایس پی صاحب کے ذریعے پیغام پہنچ گیا کہ واپس کردے ورنہ مشکل ہوگی یوں بھی یہ زمین بہت اچھی نہیں۔ میرا ارادہ اس پر سرکاری لون لینے کا ہے۔میرا ارادہ ہے کہ ایک دفعہ میرے نام ہوجائے تو اس پر ڈی فالٹ کرکے کراچی میں کریک وسٹا میں گھر پکڑلوں۔اتنے ہی پیسوں میں وہاں ڈیفنس میں پلاٹ بھی دستیاب ہے۔ایسا ہی داؤ میں نے گڈو پر بھی آزمایا ہے۔اسے کہا ہے کہ یہاں آن کرعنادل کی پیدائش پر یہ سترہ میل والا گھر اپنے دونوں بیٹوں کے نام کردے۔

اس کی ضد ہے کہ میں اس کا گریڈ بیس کرادوں۔ میں نے معلومات کیں تو پتہ چلا کہ اتنی پوسٹیں نہیں کل دس پوسٹس ہیں ۔ اس کا نمبر تیرہواں ہے ۔ کہنے لگا سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ خود بھی بہت ہی فضول آدمی ہے۔بہت چالو چیز ہے۔ ان سے کہو کہ تین چار ادھر اُدھر سے نکال لے۔ وزیر اعظم کے سیکرٹری اچھے آدمی ہیں۔ مجھے شائننگ اسٹار آف نیو پاکستان بھی کہتے ہیں۔ان کے کہنے پر اسٹیبلشمنٹ کے مریل بابوؤں نے چار ایکسٹرا پوسٹیں تلاش کرنے کی ایکسرسائز شروع کردی ہے۔ ڈرایا ہے کہ آخری چار پروموٹ نہیں ہوں گے تو پہن دی سری پہلے دس بھی نہیں ہوں گے۔ پرنسپل سیکرٹری صاحب من موجی ہیں۔چین میں مجھے ایک تجارتی وفد کی سربراہ بنا کر بھیج دیا ۔ تین دن بعد خود بھی آگئے۔ خوب ساتھ رہا۔ارسلان کے لیے انہوں نے یہ جملہ نوٹی فکیشن میں ڈالا ہے کہPromotion to Grade 20 is to be actualized against non-cadre post(گریڈ بیس میں ترقی کو عملی شکل دینے کے لیے افسران کو non-cadre
پوسٹون پر تعینات کیا جائے)۔ گڈو کی ضد ہے کہ اسے مغرب میں یورپ یا افریقہ کے کسی ملک میں بطور سفیر بھیج دیا جائے۔ میں نے ارسلان کو بتایا کہ ماریشس  میں اسے سفیر بنانے کی وزیر اعظم سے بمشکل منظوری ملی۔ایسی تقرری سے وزارت خارجہ کے افسران خوش نہیں ہوتے۔ اس کی تعیناتی میں وزیر اعظم کے دفتر میں تعینات میرے دوستوں کا بہت ہاتھ ہے۔کہنے لگا ماریشس ویت نام اور افریقہ کے سفیر تو وزیر اعظم رنڈی رکھیل معشوق کے چھینک آنے پر شکر الحمد و للہ کہہ کر صدقے میں لگادیتے ہیں۔کچھ زیادہ ہی چِتھا( چھت تا۔۔سندھی میں ہتھے سے اکھڑنا) ہوگیا ہے مگر میرا تو پہلا مرد ہے۔

پورٹ لوئی ماریشس
فرانس اور پور کرول کا جزیرہ(
فرانس اور پور کرول کا جزیرہ
فرانس اور پور کرول کا جزیرہ
فرانس اور پور کرول کا جزیرہ
فرانس اور پور کرول کا جزیرہ
فرانس اور پور کرول کا جزیرہ
باپ اور بیٹا

گڈو سے فراغت پاکر میں نے اپنے قانونی سرتاج کا کام بھی کردیا۔وزیر داخلہ سے سفارش کی تو انہوں نے شوقی کی اسٹڈی لیو کوPaid Leaveمیں بدل دیا ہے۔بقایا جات بھی یہاں مجھے ادا کردیے۔اس کا ایک لون بھی منظور کراکے میں نے ہاتھ کرلیا ہے۔۔ٹپکن کو میں نے زراعت کے سیکرٹری صاحب کو کہہ کر اپنے ہی پاس رکھا ہے۔ بلکہ اس کا کیڈر بدلواکر اسے اس کی پرانی سینارٹی دلواکر ڈپٹی ڈائریکٹر ٹیکنیکل بنوادیا ہے۔وہ کراچی میں کے۔ ایم۔سی سے ملازمت کا کوئی جعلی سرٹیفیکٹ لے آئے ہیں جس پر درج ہے کہ ملازمت کا پرانا ریکارڈ جل جانے کی وجہ سے اصل کاغذات دستیاب نہیں۔ایک سرٹیفیکٹ بھی لے آئے ہیں جس پر درج ہے کہ ایم سی میں بھرتی کے وقت ان کا عہدہ اسسٹنٹ  ڈائریکٹر کمپیوٹر پروگرامر کا تھا مجھے یقین نہیں کہ ٹپکن بھیا کبھی کمپیوٹر یا لیبارٹری کے قریب بھی گئے ہوں۔یو ایس بی یا ڈی وی ڈی یا ڈبلیو۔ڈبلیو۔ڈبلیو کے پورے نام سے بھی واقف ہوں۔اپنا ہاٹ میل کا جو ایڈریس کسی کو بتا رہے تھے اس میں Male Hot-ایسے لکھا تھا۔۔

میں نے پوچھا کہ یہ سرکاری اداروں میں ایسے جعلی کام بھی ہوتے ہیں تو کہنے لگے ایم کیو ایم حقیقی کے ایک وزیر نے تو بلدیہ عظمی میں اپنی بھانجی کو موذن لگوادیا تھا۔ میں نے پوچھا کہ ایسا کیسے تو کہنے لگے ارسلان سر اور آپ کی ساس کا نکاح نامہ بنوانا ہو،ہسپتال سے برتھ سرٹیفکیٹ جاری ہونا ہو اور بلدیہ کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ قبرستان میں تدفین۔ کفن میں لاش کی تصویر۔ ایک ہفتے میں سب۔ یہاں اوریجنل حالت میں مل جائیں گے ۔ ویلکم ٹو سندھ، ویلکم ٹو پاکستان۔جس ملک میں وزیر اعظم باہر سے امپورٹ ہو اس ملک میں ہر کام دو نمبری ہے۔

میں نے پوچھااور اصلی کام؟سمجھ گئے میں کسی کو ٹپکانے کی بات کررہی ہوں۔ دیکھ کر کہنے لگے پیسے زیادہ لگ جائیں گے۔کیوں کہ وہاں مختلف گروپوں سے کام لیتے ہیں۔ مذہبی قتل سیاسی ونگ والے کرتے ہیں سیاسی قتل پگڑی ٹوپی والے۔ لیاری گینگ والے سستا کام کرنے لگے ہیں۔ہمارا کام سب سے باریک ہوتا ہے۔میں نے پوچھ لیا مجھ سے بھی پیسے لوگے۔کہنے لگا ”آپ محسن ہیں۔ مہاجر راستے کا احسان اور راستے کا بدلہ گھر تک نبھاتے ہیں۔حکم کی دیر ہے الہ دین،جن،چراغ سب اگلی فلائیٹ سے حاضرہوجائیں گے۔میں نے کہا سلی میں تو مذاق کررہی تھی۔کہنے لگے پہلا کام تو مذاق میں ہی ہوتا ہے۔

گڈو کے پاس جب میں Port Louis ماریشس گئی تو سفیر کی ٹور ہی کچھ اور تھی۔باپ بننے پر دو مرد بہ یک وقت بہت خوش ہیں۔یعنی گڈو اور شوقی۔۔۔۔۔ گڈو کا رویہ البتہ ویسا بھرپور اور لگاوٹ بھرا نہیں جیسا،لیساں اور فرانس کے ساحلی علاقے پورکرول میں تھا۔ وہ والہانہ پن، وحشت، وہ پلٹ کر جھپٹنا اور جھپٹ کر پلٹنے والی بات نہیں۔ علامہ اقبال کا بستر والا شاہین سستی شراب پی کر کہیں بے لطف،سچائی کی الٹیاں کررہا ہے۔ عنادل کے بارے میں بھی بہت تذبذب کا شکار ہے ۔ بضد ہے کہ شاید یہ شوقی ہی کا بیٹا ہے۔ عجب سا سوال پوچھا کہ عورت کو کیسے پتہ چلتا ہے کہ کون سی اولاد کس باپ کی ہے۔میں نے شوقی کی وہ کنڈوم والوں کو Sue کرنے کی بات بتائی۔ سن کرکہنے لگا یہ اسے سیاسی بیانیہ لگتا ہے۔میں نے کہا تماثیل سب کہتے ہیں میرے جیسا ہے مگر عنادل تو بالکل تمہارے جیسا ہے برتھ مارک بھی ہے کاندھے اور پشت پر۔کہنے لگا برتھ مارک تو پیدائش کے دوران خون کی رگوں کی رکاوٹ یا جلد  میں سیل کی غیر ضروری بڑھوتری سے پیدا ہوتے ہیں۔ایک انداز بے اعتنائی رویوں پر غالب آگیا ہے۔فون ای میل یاہو میسنجر سب پر کم کم دستیاب ہوتا ہے۔ چھوٹم کا کہنا ہے کہ مردمیں اولاد بہت وقتی حوالہ ہے۔میرے لیے اس بات کو تسلیم کرنا مشکل ہے طلاق کے بعد بھی سائیں سے اس کا تعلق کم نہیں ہوا۔وہ کہتی ہے”سائیں عاشق بے وفا ہے ،مگر انسان اچھا ہے ۔میں اب اسے اچھا مرد سمجھ کر ملتی ہوں۔باپ بھی بہت اچھا ہے۔مجھے اس سے حسد ہونے لگا ہے اس گڈو نامراد سے تو شوقی اچھا ہے عنادل کو دیکھ کر نہال ہوجاتا ہے۔

اسمبلی میں ہم چار خواتین دوستوں کا ایک ٹولہ ہے۔وزیر اعظم سے ہماری پختون ممبر دوست کو کام تھا۔ ہم ساتھ چلی گئیں۔اسے اپنے بہنوئی کو یورپ میں کہیں سفیر لگوانا ہے۔وزیر خارجہ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کے ساتھ ہمارے فرانس میں پاکستان کے سفیر بھی آئے ہوئے تھے۔ مجھے بے حد نستعلیق انسان لگے۔ہم علیحدہ بیٹھ کر باتیں کرنے لگے۔ باقی تین دوستیں ادھر ادھر ہوئیں تو میں نے ان سے بہت آہستگی سے پوچھ لیا کہ آپ کے ہاں سفارت خانے میں کوئی ارسلان آغا ہوتے تھے۔وہ کیسے ہیں؟ کہنے لگے آپ انہیں جانتی ہیں۔ یہ بیوروکریٹ کا گفتگو میں اپنے بیان کو قابو میں رکھنے کا ایک اہم حربہ ہوتا ہے۔ آپ کہیں جی جانتی ہوں تو محتاط گفتگو کریں گے۔میں نے کہا ایک دفعہ یہاں ان سے کسی دعوت میں ملی تھی مجھے اس طرح کے دل پھینک اور عاشق مزاج لوگ نہیں اچھے لگتے۔ مجھے ہی لائن مار رہے تھے۔اس وقت میں ممبر نہیں بنی تھی ورنہ طبعیت صاف کردیتی۔ اس سے وہ مطمئن ہوگئے کہ ان کے بتائے گڈو  کے بارے میں کیے گئے انکشافات میرے پاس محفوظ رہیں گے۔

شکر ہے چھوٹم اور دیگر دونوں دوستیں سیکرٹری صاحب اور وہاں موجود دیگر مردوں سے گفتگو میں منہمک تھیں۔میں چالاکی سے انہیں وزیر اعظم ہاؤس کے گلاب دیکھنے کے لیے ساتھ ٹہلتے ٹہلاتے ہال کے دوسرے کنارے سے لان کی طرف لے گئی۔

گڈو کا بتانے لگے کہ پینے بھی بہت لگا ہے۔ بہت غیر ذمہ دار افسر ہے۔کسی لبنانی خاتون کے چکر میں پاگل ہے ۔ بمشکل ہماری جان چھوڑی۔وہ بھی پیچھے پیچھے پورٹ لوئیس پہنچ گئی ہے۔سنا ہے اسلام آباد میں بہت تگڑی سفارش تھی کسی جرنیل کی۔انہی نےاسے ماریشس میں سفیر لگوایا ہے۔اس کے پاس ایک دو دفعہ آئے بھی ہیں۔وزارت خارجہ میں اس طرح کی تعیناتیاں بہت بددلی پیدا کرتی ہیں۔چندممالک یعنی کینیا، سربیا، ماریشس، اور یورپ کے چند ممالک کے سفارت خانے ایسے ہی سفارشی ٹٹوؤں کے لیے بنے ہیں۔میں نے کہا امریکہ، برطانیہ، سعودی عرب میں کون سے کیرئیر ڈپلومیٹ لگتے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے تو ایک کھلی کچہری میں نوکری مانگنے والے کو کھڑے کھڑے ویت نام میں سفیر لگادیا تھا۔ماریشس کینیا، بوسنیا میں تو اکثر سفارشی ٹٹو ہی سفیر لگتے ہیں۔

میری بات کی کاٹ کو نظر انداز کرکے دعوت دینے لگے کہ آپ آئیں تو ہمارے پاس ٹھہریں۔ لندن میں ابھی ایک دولت مشترکہ کی کانفرنس ہونے والی ہے میں اسی کی  منظوری کے لیے وزیر اعظم کے پاس آیا تھا آپ کا نام اس میں ڈال دیتے ہیں۔میں نے کہا آئی۔ ول۔ لو۔ اٹ۔۔۔۔

اکثر مردوں کو ہمارے جیسی حسین عورتوں کو اپنے پاس ٹھہرانے کا اتنا شوق کیوں ہوتا ہے۔ یہ سمجھ نہیں آیا ۔ لازم نہیں کہ ہم جیسے مہمانو ں کے ارادے بھی ان بے تاب میزبانان گرامی سے ملتے جلتے ہوں۔میں گھنٹوں کسی کے ساتھ بے تکلفی سے باتیں کرسکتی ہوں۔ اس سے زیادہ کی میزبان کو اجازت نہیں۔

ہمارے سیکرٹری صاحب جو من موجی ہیں۔ ان کا تو آپ کو علم ہے کہ مجھے انہوں نے چین میں   ایک تجارتی وفد کی سربراہ بنا کر بھیج دیاتھا ۔ تین دن بعد خود بھی آگئے تھے۔ ہمارا خوب ساتھ رہا مگر ویسا نہیں جو مرد حضرات ہم دنیا دار عورتوں کو دعوت دیتے وقت اپنے دماغ اور جسم کے دیگر حصوں میں ترتیب دے لیتے ہیں۔

میں نے سفیر  سے پوچھا کہ اس خاتون کا نام کیا تھا جواب ملا نگارش، اور دیکھنے میں کیسی تھی۔ آپ کبھی ملے؟۔ ارشاد ہوا ملاقات تو کئی دفعہ ہوئی۔اکثر سفارت خانے گڈو کے ساتھ جانے کے لیے آجاتی تھی۔اس کا دفتر قریب تھا۔وہاں کسی فیشن میگزین میں فوٹو گرافر تھی۔ خود بھی ماڈلز جیسی تھی۔ایسی عورتوں پر ہمیں شک ہی رہتا ہے کہ کسی ملک نے پلانٹ نہ کیا ہو۔لبنان تو یوں بھی موساد کا پلے گراؤنڈ ہے۔
میں نے فرانس کے بارے میں تین چار سوال پوچھے۔ انہیں کھانے کی دعوت دی تو کہنے لگے کھانے پر تو نہیں مگر آپ کا اصرار ہے تو چائے پر آؤں گا۔ویسے تو میرا قیام زیادہ تر گڈو کے ہاں ہوتا ہے مگر دعوت میں نے چھوٹم کے گھر کی دی۔چائے کی دعوت پر ہی علم ہوا کہ سینگال اور ماریطانیہ میں کوئی کانفرنس تھی۔ یہ نگارش کو بھی ساتھ لے گئے تھے۔وہاں یہ سفارت خانے کی کار میں گھومتی پھری۔کور پوسٹنگ پر گئے کسی فرشتہ افسر سے ناراضگی بھی ہوئی تھی۔میں نے مناسب جگہوں پر بات کی توایک ماہ بعد ارسلان میاں واپس پاکستان بلالیے گئے۔نئے وزیر اعظم کے کوئی اپنے چہیتے ان کی جگہ وہاں بھیج دیے گئے۔

میرا دل نہیں چاہتا کہ میں گڈو سے الجھوں حالانکہ مجھے اس سے بہت شکایات ہوچلی ہیں۔ اب تک اس نے سترہ میل والا گھر بھی بیٹوں کے نام نہیں کیا۔کمینہ ہے۔جانتا ہے کہ بیٹوں کے حوالے سے میں کوئی قانونی اختیار نہیں رکھتی۔میری پوزیشن ایسی نہیں کہ اسے کسی طور باپ ثابت کرسکوں۔شوقی کو میں نے وزیر خزانہ کو کہہ کر بڑے سرکاری بنک میں  پراجیکٹ ڈائریکٹر لگوادیا تھا۔

وزیر اعظم کو کراچی سے پارٹی کے سیاسی حلیفوں نے کہا   ہے کہ محکمہ زراعت کے وہ دفاتر جو کراچی میں واقع ہیں وہاں معاشی طریقے پر بہت بہتری لائی جاسکتی ہے۔وزیر زراعت جن کا تعلق پنجاب سے ہے وہ اس معاملے میں عدم دل چسپی کا شکار ہیں۔یہ لائن میں نے ہی ٹپکن بھیا کے ذریعے چلوائی ہے۔پارٹی سے بات ہوگئی ہے۔ان کو نوکریاں دینی ہوں گی۔گیہوں اور فرٹیلائزر کی برآمد کے لیے اسٹیوڈورنگ ان کے ٹھیکیدار کریں گے۔میرا شیئر پانچ فیصد ہوگا۔

ہمارے ریٹائرڈ بریگیڈیئر ہدایت ارے وہی خلائی مخلوق والے۔ ایک تو آپ بھول بہت جلد جاتے ہیں۔نئے وزیر اعظم کے بہت قریب ہیں۔انہوں نے مجھے کھانے پر دعوت دی ہے۔وزیر اعظم کے ایک قریبی دوست امجد اعوان اور ایک اور مہرباں بھی آئے ہیں۔مجھے وزیر مملکت بنانے کی تجویز ہے۔ میں نے احتیاطاً گڈو کو بھی ساتھ رکھا ہے۔ طے یہ ہوا کہ سیاسی افراد کی دلچسپی کے معاملات ان دوست کے زیر نگرانی چلیں گے۔مرکزی وزیر صاحب کی رائے کا بھی احترام رکھا جائے گا۔مفاہمت میں برکت ہے۔سب کو ساتھ لے کر چلنا ہوتا ہے۔ہم نے اور گڈو نے ایک علیحدہ کمرے میں جاکر مشورے اور فیصلہ کیا کہ ڈیل بری نہیں مگر میں جمپ نہ کروں۔کول پلے کروں۔ اس کے مشورے پر میں نے کہ تجویز دی کہ مجھ سے زیادہ آپ وزیر صاحب کو ہاتھ میں رکھیں۔

وزیر اعظم ہاؤس چلتے ہیں وہاں ان کو بلالیں۔بڑے صاحب جو فیصلہ کریں مجھے منظورہے۔وزیرمحترم اس دن لاہور میں تھے۔ ان سے فون پر رائے لے لی گئی اور وزیر اعظم کے احکامات پر وزیر مملکت برائے زراعت جاری ہوگئے۔اس میں اسپیشل فوکس آن کراچی نوٹیفکیشن میں اس کا اضافہ گڈو کی تجویز پر کیا گیا ہے۔

گڈو نے ایک اور ضد پکڑی ہے کہ اسے میں سندھ یا پنجاب میں کہیں کمشنر ورنہ کراچی میں محکمہ زراعت کے تین محکموں کا ڈی جی انچارج لگاوں۔ ون ونڈو آپریشن۔میرا اس سے اتفاق نہیں۔
سائیں سے پوچھا کہ آغا صاحب کو اپنی وزارت میں لگوانا کیسا رہے گا۔ ان کا مشورہ یہ تھا کہ یارانے اور سیاست کو علیحدہ رکھنے میں سلامتی ہے۔ اس کے میرے محکمے میں آنے سے میری ریپوٹیشن پر برا اثر پڑے گا۔مرد وزیر ہوتا تو بات کچھ اور ہوتی، میں چونکہ ایک محترم خاتون سیاست دان ہوں۔اس لیے نہ صرف میرے مخالفین کو جنسی اسکینڈلز اچھالنے میں مزہ آئے گا لیکن اگر میں اپنی ڈومین میں کوئی مالی واردات کروں گی تو گڈو کے پاس مجھے بلیک میل کرنے یا نیب میں جانے کے لیے بہت مواد ہوگا۔ٹپکن بھیا کی اب کراچی میں سابقہ پرانی دھاک دوبارہ بن گئی ہے۔ان سے مشورہ ہوا تو وہ میرے وزیر اعظم ہاؤس کے دوستوں کی مداخلت پر پی این ایس سی   میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر فنانس لگادیا گیا ہے۔

بندرگاہ کے پیکنگ یونٹ

چھوٹم والے سائیں سرکار، چیف منسٹر صاحب کے کہنے پر ایک ہندو سیٹھ کو میرے پاس لے آئے۔اس سیٹھ کا فرٹیلائزر کا بڑا کام ہے۔ پلان یہ ہے کہ روس سے ان کا تین جہازوں میں بیک ٹو بیک ایک لاکھ ٹن جو یوریا آئے گا۔ وہ شپنگ کے کاغذات پر لکھے وزن یعنی تیس ہزار ٹن سے فی جہاز ایک ہزار ٹن شارٹ ہوگا۔ روس میں یہ گیم مشکل نہیں ہوتی  ہے وہاں بھی روسی مافیا کی ہر طرف دھمال ہے۔ادھر اپنی بیوروکریسی بھی مافیا سے کم نہیں۔آپ کے تو زیادہ قریب ہیں۔(یہ سیاست دان مردوں کو Double- Speak (ذومعنی گفتگو )کی بہت عادت ہے۔

گھر واپس جب آؤ گے۔۔۔اطالوی ریوریا

میں نے چھیڑا کہ”آپ بھی تو چھوٹم کے بہت قریب تھے۔کہنے لگے ”اللہ سائیں آپ سے دیر سے ملاقات ہوئی۔ورنہ چھوٹم تو سیمی فائنل میں ناک آؤٹ تھی“۔ہندو سیٹھ کا خیال ہے کہ ہم سائیں کی کسی تازہ واردات قلبی کا ذکر لے بیٹھے ہیں۔ دھیمے مزاج کے بظاہر عاجز سے ہندو بنئے ہیں۔ ایک دانت بھی سونے کا ہے۔ہماری اس کھلی بازی(ہنسی مذاق سے تنگ آکر سندھی میں کہنے لگے کہ ”وڈیرا یا گالھ آئے تو پو رات جو ٹاؤ وجا یوں“۔ مجھے ٹاؤ کا مطلب نہیں آتا باقی جملہ سرائیکی سے کان آشنا ہونے کے باعث میں سمجھ چکی ہوں۔ تین ہزار ٹن یوریا کی چوری کا پلان فول پروف ہے۔ کچھ پرانا فرٹالائزر پورٹ کے گوڈاؤن میں بھی موجود ہے۔اس کو ملا کر کام چلا لیں گے۔یوریا ڈھائی سو ڈالر فی ٹن ہے تین ہزار ٹن یوریا کا مطلب ہے ساڑھے سات لاکھ ڈالر ہوتا ہے۔ ان کے نو جہاز آنے ہیں۔آپ حساب لگاتے رہیں نوہزار یوریا کا مطلب ہے لگ بھگ تئیس لاکھ ڈالر۔ ڈالر آجکل ساٹھ روپے کا ہے۔

تین جہاز۔ یوریا کھلا آن کر پورٹ پر آٹو میٹک بیگنگ مشینوں سے بوری میں پیک ہوگا۔ ایک بوری میں پچاس کے جی یوریا ہوتا ہے۔فی بوری آدھاپاؤ یوریا رات کی شفٹ میں کم ڈالا جائے گا،ماموں کانجن اور ڈیرہ اسماعیل خان میں کون سے برقی ترازو لگے ہیں کہ پورا وزن جانچیں۔پورٹ کسٹم، کے پی ٹی سب۔ٹرانسپورٹر سب لائن میں ہیں۔ ان کی فرم کی سب سے سیٹنگ ہے۔گوڈاؤن کا انتظام اوپر تلے جہازوں کی وجہ سے اپنا ہوگا۔لانڈھی کے قریب گوڈاؤن لیں گے۔پورٹ سے سائیٹ کا علاقہ قریب ہے مگر وہاں گوڈاؤن مہنگے ہیں۔ٹرانسپورٹ میں بھی کھانچے ہیں۔کام
ان کا،ذمہ داری ان کی۔ مجھے ایک لاکھ ڈالر دیں گے۔حساب لگایا تو ڈھائی سو ڈالر کے فی ٹن حساب تین ہزار ٹن کی قیمت ساڑھے سات لاکھ ڈالر ہوتی ہے۔کھینچ تان کر سائیں کی مداخلت پر تین لاکھ ڈالر پر بات ڈن ہوئی ہے۔گوڈاؤن اور ٹرانسپورٹ میں میرا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ شپ کو سامان اتارنے کے جب کارگو ڈس چارج سرٹفیکٹ محکمہ جاری کرے گا میری ادائیگی کیش میں ڈالر میں ہوگی۔

ارسلان کا فلیٹ

میں نے وہاں محکمے کے پروٹوکول افسر مرلی چند سے پوچھ لیا کہ سندھی میں ”ٹاؤ“ کسے کہتے ہیں اور سیٹھ کملیش اڈوانی کیسا آدمی ہے۔کہنے لگا کہ ٹاؤ سندھی میں نقارے کو کہتے ہیں۔ وڈیرا یا گالھ آہئے تو پو رات جو ٹاؤ وجایوں کا مطلب ہوا کہ وڈیرے یہ بات ہے تو رات کو اس کا نقارہ بجائیں۔سی۔(See)اب آپ کو پتہ چلا سیاست دان اور تاجر مرد کتنی گھٹیا باتیں کرتے ہیں۔ سمجھتے ہیں ہم عورتیں  جھلی ہیں۔ ان کے یہ غلیظ مذاق نہیں سمجھتیں۔ مرلی چند کا کہنا ہے کہ سیٹھ اچھا آدمی ہے۔ اصول والا۔ سندھ اور کراچی کے فرٹالائزر اور گہیوں کی درآمد والے سیٹ اپ میں اس کی مرضی کے بغیر پتہ بھی نہیں ہلتا۔بڑے وزیر صاحب کی کراچی میں اس کے ساتھ گیہوں کی برآمد اور کاٹن کی پارٹنر شپ ہے۔کوئی مسئلہ ہے تو بتاؤں۔ سیٹھ کملیش ہمارے مہاراج جو میرے کزن ہیں ان کی بہت سنتا
ہے۔ان کو یاترا پر بھی لے کر ہردوار گیا تھا۔

کابینہ کے کچھ وزیر کراچی آئے ہوئے ہیں۔ خود وزیر اعظم کل تہران سے یہاں کراچی پہنچیں گے۔کچھ سلیکٹ محکموں کی میٹنگ ہے۔کراچی کے وزیر وں کے بھی گلے شکوے دور کرنے ہیں۔صدر صاحب کی خصوصی ہدایات ہیں۔

میں نے صبا کو سر شام ہی بچوں کے ساتھ ان کے ابو کے ویسٹ ونڈ اپارٹمنٹ میں بھیج دیا ہے۔مرلی چند کو کہا ہے ان کو ذرا سیر ویر کرادے۔صبا کا میں نے آپ کو زیادہ نہیں بتایا۔ تیس برس کی ہے۔شادی ہوئی تھی۔ شوہر مرحوم پارٹی کے کوئی بھائی جان تھے۔مارے گئے۔بچہ نہیں۔خوش مزاج اور ذہین ہے۔میرے ساتھ بیٹھ کر پی بھی لیتی ہے۔مردوں سے الجھن نہیں محسوس کرتی۔ سولہ سال کی عمر سے بھائی کے ساتھ پارٹی کے کام میں تھی۔ سوچیں کس کس ایلے میلے سے پالا پڑا ہوگا۔کسی خفیہ ادارے کے جونیئر افسر سے یارانہ بھی رہا ہے۔کہتی ہے بہت مستی کرتے تھے۔میں مالکن کے ناطے    مستی کی تفصیلات کریدنے سے گریز کرتی ہوں۔بدن مرد کو لبھانے،رجھانے والا ہے مگر اوشا والا بادلوں کا سا بھگونے اور بانسری کے لہرے جیسا انداز نہیں۔

بڑے وزیر صاحب نے درخواست کی تھی کہ میں ایک لائیو اسٹاک فارم جو کراچی کے نزدیک ہی ٹھٹھہ میں ہے ،وہ ذرا دیکھ لوں۔گورنر اسٹیٹ بنک نے بتایا ہے کہ لائیو اسٹاک میں قرضے کی رقم موجود ہے۔ وہ اسے وزارت کو دو فیصد سود پر دے سکتے ہیں ۔ان کا ارادہ ہے کہ ایک پروجیکٹ بنواکر اس کو مزید وسعت دی جائے۔

واپسی ہوئی تو صبا اوربچے محکمے کی دوسری کار لے کر مرلی چند کے ساتھ کہیں باہر گئے ہوئے تھے ۔صبا کو مرلی چند اچھا لگتا ہے۔ صاف ستھرا، منکسر مزاج، عمدہ انگریزی، معاملہ فہم، تندرست، چالاک۔توجہ لٹانے والے، سیٹھ کملیش سے بہت قریبی تعلقات ہیں۔ مجھے پکا یقین ہے اس کاا ور صبا کا آپس میں کوئی چکر ہے۔بہانے بہانے سے اسلام آباد آجاتا ہے۔ بڑے وزیر صاحب اور سیٹھ کے درمیان وہی سوئز کینال بنا رہتا ہے ۔ صبا اور وہ اکثر دونوں مری چلے جاتے ہیں۔ واپس آن کر جب میرے اور چھوٹم کے ساتھ بیٹھ کر جام گھٹکارہی ہوتی ہے تو چھوٹم مرلی چند کے حوالے سے چھیڑتی ہے ع

کہتے ہیں جس کو شیام وہ آنند ،قند(شریں) ہے
جگ میں اسی کے دھرم کی پھیلی سگند(خوشبو) ہے
مرلی رچانے والا وہی کشن چند ہے
چھتیس لاکھ راگنی، مرلی میں بند ہے
صبا چل وہ سنا نا اے ری میں تو پریم دیوانی۔۔ وہ نوبہار کا یہ بھجن لتا کے نہیں بلکہ مشہور قوال غلام فرید مقبول صابری کے ورژن میں ظہیر بھیا کو ہارمونیم پر ساتھ بٹھا کر گاتی ہے۔آپ نے یہ قوالی نہیں سنی تو آپ صابری برادارن کے سچے عاشق نہیں۔ صبا کی آواز ریچا شرما جیسی بھرپور اور (Raspy)تربوز جیسی رسیلی ہے۔ مگر سُر کا بہت گیان نہیں  ہے۔ مستی کا عالم ہوتا ہے تو بے خود ہوکر ان بولوں پر گڈو کی رعایت سے میری اور اپنی جانب اشارہ کرکے کہتی ہے ع

آشا (امید)کے پھولوں کی مالا
سانسوں کے سنگیت
ان پر پھوُلی، چلی رجھانے
اپنے من کا میت
گھائل کی سکھی، گھائل جانے
یا جن لاگی ہووئے

گڈو کا یہ اپارٹمنٹ ساحل سمندر پر جھانکتے بہت ہی بھونڈے بنے ہوئے کمپلکس میں سمندر کے رخ پر دسویں منزل پر ہے ۔میں ٹھٹھہ سے واپس آئی تو کچھ بدمزہ تھی۔کچھ دیر کو سیٹھ کملیش اڈوانی بھی آئے تھے۔ دو کریٹ چھوڑ گئے ہیں۔ایک میں ٹکیلا ،وہسکی اور جنوبی افریقہ والی سرخ اور سفید شراب بھی ہے۔ کراچی میں بھی اچھی شراب مل جاتی ہے مجھے یہ سن کر حیرت ہوئی۔دوسرے میں سو ڈالر کے تیس پیکٹ ہیں ۔یہ کل تین لاکھ ڈالر ہوئے۔میری مرضی تھی کہ یہ وہ دونوں تحفے اسلام آباد میں دیتے یا میرے اکاؤنٹ میں دوبئی میں ڈال دیتے۔ وہ اس بارے میں یوں متفکر ہیں کہ اسلام آباد میں خفیہ ادارے بہت متحرک ہیں۔ ہم غیر مسلم لوگ ویسے ہی بڑے لوگوں کی بہت نظر میں رہتے ہیں۔ ابھی نہیں تو بعد میں لے لیں۔ہم تو موہنجو داڑو کے وقت سے سندھ میں آباد ہیں۔یہ کاروبار ہے۔ کاروبار میں سچا بنیا کبھی دھوکا نہیں کرے گا۔دھندہ تو ہمارا دھرم ہے۔

ٍ مجھے یہ فکر دامن گیر ہے کہ ان کارٹنز کو اپنے ساتھ لے کر کیسے جاؤں گی۔ دوسرے اگر میرا محکمہ تبدیل ہوگیا تو کس نے مجھے پیسے دینے ہیں سو جو ملتا ہے وہی پکڑ لو۔۔

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *