بھابھی کو سلام،بچوں کو پیار۔۔۔گل نوخیز اختر

رات کے اڑھائی بجے میں گہری نیند سے اچانک بیدار ہوگیا اور پھر بے اختیار میرے قہقہے بلند ہوگئے۔
مٹھو آٹھویں تک میرا کلاس فیلو رہا۔ پھر اپنے والد صاحب کے میڈیکل سٹور پر بیٹھنا شروع کر دیا۔ شروع شروع میں اُسے دوائیوں کے نام پڑھنے میں مشکل پیش آتی تھی لیکن دھیرے دھیرے ایسا ایکسپرٹ ہوا کہ نہ صرف دوائیوں کے نام یاد ہوگئے بلکہ چھوٹے موٹے مریضوں کو بھی بھگتانا شروع کردیا۔والد صاحب کی وفات کے بعد سارا میڈیکل سٹور اُس کے ہاتھ آگیا۔ موصوف نے پہلا کام تو یہ کیا کہ منرل واٹر کی بوتلوں کا پلانٹ گھر میں لگا لیا، یعنی صحن میں ایک ٹونٹی لگوائی اور دو بچے اِس کام پر لگا دیے کہ وہ خالی بوتلوں میں پانی بھی بھرتے تھے اور کاویے سے ڈھکن پر ٹانکے بھی لگا دیتے تھے۔یوں سادہ پانی مشہور برانڈ کے منرل واٹر کی بوتل میں فروخت ہونے لگا۔ دوسرا کام اُس نے یہ کیا کہ میڈیکل ریپ سے رابطے کیے اور دوائیوں کے ناقابل فروخت سیمپل ڈبی سے نکال کر اصل قیمت پر فروخت کرنے لگا۔ ظاہری بات ہے کاروبار میں اتنی محنت اور جانفشانی دکھائی جائے تو وارے نیارے کچھ ہی دنوں میں نظر آجاتے ہیں۔مٹھو نے گاڑی بھی خرید لی، گھر بھی بنا لیا اورپراپرٹی کے کام میں بھی قدم رکھ دیا۔ قبلہ چار پلاٹ خریدتے تھے اور آٹھ بندوں کو فروخت کرتے تھے۔ قانونی معاملات سے بچنے کے لیے انہوں نے ایک بہترین وکیل بھی رکھ لیا۔دولت کی فراوانی ہوئی تو ہاؤسنگ سوسائٹی بنانے کا جنون اٹھا۔ سب کچھ موجود تھا لہذا شہر سے باہر سو ایکڑ زمین خریدی اور وہاں ایک بہت بڑی سوسائٹی کھڑی کردی۔کوئی نہیں جانتا تھا کہ اس سوسائٹی کا مالک مٹھو نامی ایک مڈل فیل شخص ہے، سب یہی جانتے تھے کہ یہ حاجی صاحب کی سوسائٹی ہے۔ مٹھو ہواؤں میں اڑ رہا تھا کہ ایک دن سب کچھ بدل گیا۔اُس کے وکیل کا ضمیر ایک دن جاگ گیا اور اُس نے سارا کچا چٹھا کھول کے رکھ دیا۔ نتیجتاً میڈیکل سٹور بھی بند ہوگیا، پلاٹ بھی گئے اور ہاؤسنگ سوسائٹی بھی غیر قانونی قرار پاگئی۔گرفتاری سے بچنے کے لیے مٹھو نے راتوں رات باہر کا ٹکٹ کٹوایا اور انگلینڈ نکل گیا۔کچھ سال پہلے اُس نے فیس بک پر مجھے میسج بھیجا۔مجھے حیرت ہوئی کہ وہ مجھے بھولا نہیں تھا۔ ہماری گپ شپ شروع ہوگئی۔ اُس کے بعد اُس کا معمول بن گیا کہ وہ ہر دوسرے تیسرے دن مجھے واٹس ایپ پر کال کرتا اور مختلف موضوعات پر اپنی عالمانہ رائے دیتا۔ حیرت انگیز طور پر دُنیا جہان کی دونمبری میں ملوث مٹھو انگلینڈ جاتے ہی وطن کی محبت میں گرفتار ہوگیا ہے۔ اُس کے بقول اُس نے پاکستانی چینل سبسکرائب کیے ہوئے ہیں اور انگریزوں سے میل جول نہ ہونے کے برابر رکھا ہوا ہے۔مٹھو نے بتایا کہ وطن کی محبت اُس کے انگ انگ سے پھوٹتی ہے اور جب وہ پاکستان میں کوئی بھی بدنظمی یا حالات کی خرابی دیکھتا ہے تو اُس کا دِل بہت کڑھتا ہے۔ایک دفعہ میں نے پوچھ ہی لیا کہ تم تو اپنے تئیں وطن کا بیڑا غرق کرکے نکلے ہو پھر وطن سے محبت کے یہ دعوے کیسے؟ وہ ہمیشہ کی طرح غصے میں آگیا”وطن سے محبت کو تم کیا سمجھو گے……میں آج بھی پاکستان کے لیے زرمبادلہ بھیجتا ہوں۔“ میں چونک اٹھا”کون سا زرمبادلہ؟“۔ مٹھو نے دانت پیسے”وہ جوہم لوگ پاکستان میں پیسے بھیجتے ہیں پاکستان اُسی سے چلتا ہے“۔ میں نے کنپٹی کھجائی”مٹھو یہ پیسے تم اپنے بیوی بچوں کو بھیجتے ہو یا پاکستان کو؟“۔ مٹھو گرجا”ظاہری بات ہے بیوی بچوں کو بھیجتا ہوں لیکن اُس کا جو ٹیکس کٹتا ہے وہ پاکستان کے حصے میں ہی آتاہے“۔میں نے ہنکارا بھرا”گویا اگر تمہارے بیوی بچے دوبئی میں رہتے تو تم نے یہ پیسے دوبئی بھیجنے تھے؟“۔ مٹھو بھڑک اٹھااور فون بند کردیا۔مٹھو کو چونکہ انگلینڈ کی نیشنلیٹی مل چکی تھی لہذا اس نے کچھ عرصہ بعد اپنے بیوی بچوں کو بھی انگلینڈ بلا لیا۔مٹھو کے والدین پہلے ہی وفات پاچکے تھے لہذا اب مٹھو، اس کے تین بچے اور بیوی انگلینڈ میں ہی رہتے ہیں۔ مٹھو انگلینڈ میں ایک گراسری سٹور کا مالک ہے۔ انتہائی آرام دہ زندگی گذارتا ہے۔شام کو دوستوں کے ساتھ بار میں سیاسی گفتگو سے لطف اندوز ہوتاہے اور رات کو پاکستانی ٹی وی چینل دیکھتا ہے۔ کوئی ٹاک شو دیکھنے سے رہ جائے تو فوراً اگلے دن یوٹیوب پر دیکھ لیتا ہے۔ اگرچہ اب مٹھو کی طرف سے پاکستان کو ’زرمبادلہ‘ نہیں آتا لیکن بہرحال وہ اب بھی پاکستان کے لیے بہت بے چین رہتا ہے۔ پرسوں رات اڑھائی بجے فون کی بیل ہوئی۔ گہری نیند میں تھا اس لیے پتا نہیں چلا لیکن مسلسل بیل ہوتی رہی تو مجبوراً اٹھنا ہی پڑا۔ دوسری طرف مٹھو تھا۔میں نے ہیلو کہا تو اس کی لگ بھگ رونے والی آواز آئی”یہ کیا ہورہا ہے……خدا کے لیے میرے ملک کو بچا لو“۔ میں ہڑبڑا گیا۔ جلدی سے بیڈر وم سے نکل کر لاؤنج میں آیا۔پتا نہیں کیا ہوگیا تھا۔جلدی سے پوچھا کہ کیا ہوا ہے؟۔مٹھو بھرائے ہوئے لہجے میں بولا”نقلی دودھ، نقلی دوائیاں، نقلی ڈاکٹر……یار یہ سب کیا ہے، یقین کرو میں کل سے بہت بے چین ہوں‘ تم لوگ کیسے وہاں جی رہے ہو‘۔میرے بے اختیار قہقہے بلند ہوگئے”مٹھو جانی! بائی دے وے تمہارا اِس ملک میں کیا سٹیک پر لگا ہوا ہے؟ تم اور تمہارے بیوی بچے باہر رہتے ہو۔ تمہارا اس ملک سے سوائے اِس کے کیا تعلق ہے تم یہاں پیدا ہوئے، یہاں پلے بڑھے۔تمہار اناسٹیلجیا ہی تمہارا تعلق ہے۔محترم! باہر شفٹ ہونے کے تمام تر وسائل ہونے کے باوجود میں یہیں رہتاہوں، بیوی بچے بھی یہیں ہیں۔ براہ کرم ہر وقت یہ ثابت کرنے میں نہ لگے رہا کرو کہ وطن کا پیار صرف تمہارے دل میں ہے۔ہم تمام تر مجبوریوں کے باوجود پاکستان میں رہتے ہیں، تمہارے دل میں بھی ایسا پیار ہے تو واپس آجاؤ۔“ مٹھو میری بات سن کر غصے میں آگیا”طعنے نہ دو، ہم شوق سے باہر نہیں آئے، ہماری بھی مجبوریاں ہیں“۔میں نے جماہی لی”بالکل ہوں گی، لیکن جب مجھے فون کرتے ہو تو وہاں کے حالات بتایا کرو، وہاں کے رونے رویا کرو۔نیشنیلٹی وہاں کی لے لی ہے اور جان یہاں والوں کی عذاب میں ڈال رکھی ہے۔جیسے تم مجھ سے بہتر انگلینڈ کے حالات جانتے ہو اسی طرح یہاں کیا ہورہا ہے یہ میں تم سے بہتر جانتا ہوں۔تمام تر خرابیوں کے باوجودمیں یہاں بہت خوش ہوں، تم بھی خوش رہا کرو۔ بھابی کو سلام، بچوں کو پیار۔خداحافظ!

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *