• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • صبر، مایوسی، پچھتاوے، توکل اور فراری رویے میں فرق۔۔۔حافظ صفوان محمد

صبر، مایوسی، پچھتاوے، توکل اور فراری رویے میں فرق۔۔۔حافظ صفوان محمد

صبر کا مفہوم یہ ہے کہ شدید جذبات کی کیفیت میں خود پہ قابو رکھا جائے اور خدا و رسول کی بتائی حدود کو نہ توڑا جائے۔ یہ کیفیات خوشی، غم، غصہ، پریشانی، وغیرہ، کچھ بھی ہوسکتی ہیں۔

قرآن میں بعضے نبیوں کے صبر کے واقعات کے ساتھ ان کو جنت کی بشارت دی گئی ہے۔ یہ بشارت ان سبھی انسانوں کے لیے ہے جن کا صبر خدا کے ہاں درجہ قبول کو پا جائے۔ ان سب نبیوں کی زندگی کے واقعات کا قرار واقعی تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے مقدور بھر انسانی کوشش کرچکنے اور ہر حربہ و حیلہ آزما لینے کے بعد معاملہ خدا پہ چھوڑا، اور پھر خدا نے ان کی کوششوں کو ضائع نہیں کیا بلکہ ان کوششوں کا اچھا نتیجہ انھیں عطا کیا۔

خوب سمجھنے کی بات ہے کہ صرف کوشش نہیں بلکہ مسلسل سخت ترین کوشش کیے چلے جانے کے بعد نتیجہ خدا پہ چھوڑنے کا نام صبر ہے۔ مثال کے لیے یوں سمجھ لیجیے کہ بیسیوں دن تک زمین تیار کرنے کی جان توڑ محنت اور اپنے پاس موجود آخری بہترین دانہ تک زمین میں پھینک دینے کے بعد اس مشقت کا اچھا نتیجہ ملنے کے انتظار میں نہیں بیٹھنا بلکہ رات دن اس زمین کی سنچائی اور فصل کی دیگر ضرورتوں کو پورا کرنے میں لگے رہنے کے ساتھ ساتھ اچھی فصل کی امید میں رہنے کا نام صبر ہے۔ یہی وہ صبر کا جس کا پھل میٹھا ہوتا ہے۔ بالکل یہی صورتِ حال پڑھائی میں اچھے نمبر لینے کی ہے، ملازمت میں اگلا گریڈ لینے کی ہے، ایک دکان سے دوسری دکان اور ایک کاروبار سے دوسرا کاروبار جمانے کی ہے، معیارِ زندگی بہتر کرنے کی ہے، گاڑی گھر لینے کی ہے، اولاد کو اچھا انسان بنانے کی ہے، قرآن یاد کرنے کی ہے، نماز و عبادات میں خشوع خضوع لانے کی ہے، وغیرہ وغیرہ۔ المختصر یہ سب نعمتیں صبر مانگتی ہیں۔ اس عادت یا کیفیت کا نام patience ہے جسے ثابت قدمی کہتے ہیں، اور اس کے حصول کے لیے جنس و مذہب کی کوئی قید نہیں۔ کسی بھی مذہب والا حتیٰ کہ لاخدا ولامذہب انسان تک ثابت قدمی والی عادت اختیار کرلے تو اس کے فوائد پورے طور پہ حاصل کرسکتا ہے۔

صبر سے یہ مراد لینا کہ کوئی بے وجہ تھپڑ مار دے تو آگے سے ہنس دیا جائے یا چپ کر رہا جائے، کوئی مال یا زمین یا عہدہ چھین لے تو ایک طرف ہوکر بیٹھ کے اللہ اللہ شروع کر دی جائے، وغیرہ، تو یہ بالکل غلط ہے۔ قرآن میں اس رویے کی اور اس رویے پر جنت وغیرہ کی کوئی بشارت مذکور نہیں ہے۔ اپنا حق لینے کے لیے ہمہ وقت آخری حد تک کوشش میں لگے رہنے اور ہر حیلے طریقے سے اپنا حق لینے کو یقینی بناتے بناتے مرجانے والا خدا کو پسند ہے۔ خوب واضح سمجھ لیجیے کہ غاصب سے ڈر کر اپنا حق چھوڑ دینا بزدلی ہے صبر نہیں۔ حق چھوڑنے کا نام صبر نہیں ہے اور بغیر کوشش میں لگے رہنے کے کوئی امید لگائے رکھنا توکل نہیں ہے۔ یہی رویہ پچھتاووں کا مقدمہ ہے۔ مایوس وہ ہو جس نے کوشش چھوڑ دی ہو۔ مایوسی کوشش چھوڑ دینے کا نام ہے، اور یاد رکھیے کہ یہ چیز کفر سے ملا دیتی ہے۔

اپنا حق چھوڑنے پہ مطمئن ہوجانا فراری رویہ ہے۔ کوئی چرب زبان آپ کو اپنا حق نہ ملنے پر چپکا بیٹھا رہنے کی تلقین کر رہا ہے اور حق چھوڑنے کے رویے کو صبر باور کرا رہا ہے تو اس سے ہوشیار رہیے۔ یہ یقینًا کسی کا ایجنٹ ہے، جو کسی بھی حلیے میں ہوسکتا ہے۔

جس چیز کو آپ حق سمجھتے ہیں اس کے حصول کی کوشش میں سیکڑوں ہزاروں لوگوں کا جان تک دے دینا سنتِ صحابہ ہے۔ ان حضرات کی دو نسلوں نے بے گھری اور جانیں دینے والی قربانی دی تبھی ان کی کئی نسلوں نے ٹھاٹھ سے حکومت کی۔ اس صبر کا کیا فائدہ جو دنیا میں مادی فائدہ نہ دلا سکے۔ نبی کریم نے اپنا ساتھ دینے والوں سے وعدہ کیا تھا کہ ان کی معاشی اور سیاسی حالت میں تبدیلی آئے گی، اور دنیا جانتی ہے کہ یہ وعدہ پورا ہوکر رہا۔ آپ کے ساتھیوں نے انتہائی ثابت قدمی کے ساتھ ہر مشقت اور ناگواری کو جھیلا اور اس طویل راستے میں جان و مال اور آبرو کی کوئی پروا نہ کی تبھی یہ مادی فوائد ان کو اور ان کی اولادوں کو حاصل ہوئے۔ یہی پیہم ثابت قدمی صبر کہلاتی ہے۔

خدا ہمیں سمجھ دے کہ ہم Forgive and forget والے مقولے کو بے عملی اور فراری رویے سے الگ کرنا سیکھیں۔

حافظ صفوان محمد
حافظ صفوان محمد
مصنف، ادیب، لغت نویس

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *