منا بھائی ایف سی پی ایس (قسط2)۔۔۔۔ڈاکٹر مدیحہ الیاس

منا بھائی ایف سی پی ایس (قسط1)۔۔۔۔ڈاکٹر مدیحہ الیاس

منا بھائی نے فولیز پاس کرنے کے بعد اپنے فرسٹ پروسیجر کی کامیابی سیلیبریٹ کرنے کیلئے کینٹین کا رخ کیا اور اعلان کیا کہ ‘آج سب کو چائے مفت ملے گی, بل اپُن دے گا۔
وہاں وارڈ میں بیڈ 32 کے زیرو یورن آؤٹ پٹ کی انویسٹیگیشن شروع ہو گئی  تھی اور نیفرالوجی کو کال بھی لکھی جا چکی تھی۔
چائے پی کے جب منا بھائی واپس وارڈ پہنچے تو ایک ہایئلی ایمپریسڈ ایچ او ان سے ریکویسٹ کرنے لگا، سر آپ بس پاس کھڑے ہو کر  مجھے آبزرو کیجیے  گا, بیڈ 9 کو فولیز میں ڈالوں گا انڈیپینڈنٹلی۔۔منا بھائی بولے۔۔ پریشان نئیں  ہونے کا۔۔ اپُن ہے نا۔۔ ابے ماسٹر ہے اپُن اس کام کا۔۔ چل چلیں۔۔

ایچ او کا پروسیجر آبزرو کرنے کے بعد منا بھائی تذبذب کا شکار ہو گئے  کہ اچانک سسٹر آئی اور بولی ‘سر, بیڈ 32 ڈایئلسز کیلئے شفٹ ہو رہا ہے۔ جلدی آئیں۔۔منا بھائی جب وہاں پہنچے تو ڈاکٹر بشیر مریض اور اٹینڈنٹ کی گردے واش کرنے کی کونسلنگ کر رہے تھے۔۔ کہ گردے کام نہیں کر رہے, پیشاب آور ٹیکہ لگانے کے باوجود دو گھنٹے سے بیگ خالی ہے , جسم سے گندا مادہ نکالنے کیلئے گردے واش کروانا ضروری ہے اور مریض بضد تھا ‘نہیں ڈاکٹر صاحب۔۔میں مر جاوں گا اس آپریشن سے۔میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔

منا بھائی نے جب یہ منظر دیکھا تو فوراً  بولے۔۔رجسٹر۔۔ تو جا۔۔ اپُن سمجھاتا ہے اسے۔۔ڈاکٹر بشیر کے جانے کے بعد منا بھائی مریض کو حوصلہ دیتے ہوئے بولے۔۔ابے پریشان کاہے کو ہوتا ہے۔۔ اپُن ہے نا۔۔ سب ٹھیک کر دے گا۔۔ ایک دم بنداس۔۔۔ ٹینشن نئیں  لینے کا اور اس ایچ او کو بلا لائے۔۔۔ابے او چھوٹے
“Come۔۔۔ do Foley۔۔۔ Foley out۔۔۔۔”
ایچ او سمجھ گیا اور جا کے فولیز پاس کر آیا۔۔ سکرین ہٹانے کے بعد سب کی نظریں یورن بیگ پہ تھی۔۔۔’ پچاس سی سی۔۔۔ ابے سینچری ہو گئی ۔۔۔ او دیکھ۔۔ ڈبل سنچری۔۔۔ ابے پانچ سو سی سی۔۔۔۔ اور یہ ہزار سی سی۔۔۔۔ منا بھائی کی پُرجوش کمنٹری نے وارڈ میں انڈیا پاکستان ورلڈ کپ کرکٹ میچ کا ماحول پیدا کر دیا تھا ۔۔
مریض سمیت منا بھائی اور سب ایچ اوز کی خوشی دیدنی تھی۔۔۔ سسٹر نوٹ کر آؤٹ پٹ۔۔ رجسٹر کو بلا جلدی۔۔ منا بھائی چلائے۔۔
ڈاکٹر بشیر نے جب مریض کا 1000ml آؤٹ پٹ دیکھا تو منا بھائی کو شاباش دیتے ہوئے بولے ‘نو نیڈ آف ڈایئلسز ناؤ ۔۔
مریض اور اٹینڈنٹس نے ڈاکٹر منا کو خوب دعائیں دیں  ۔ یوں پہلے دن ہی منا بھائی پورے وارڈ میں مقبول ہو گئے۔۔

شام کو سرکٹ کے ساتھ پورے چاند کی روشنی میں دھوبی گھاٹ پہ بیٹھے مرنڈا کی چسکیاں لیتے ہوئے بولے۔۔
یہ ڈاکٹری بھی کیا چیز ہے رے۔۔ ذرا ساکام اِدھر سے اُدھر۔۔۔ اور مریض اوپر۔۔۔اللہ میاں کے پاس۔۔۔ پکا پکا۔۔۔ پھر وہ واپس نئیں  آنے کا رے۔۔۔ ابے اس کا۔۔۔ اس بتیس بیڈ والے بابے کا۔۔۔ وہ رجسٹر اس کا گردہ دھونے لگا تھا رے۔۔ بولے تو سرف ا یکسل سے۔۔۔ ایک دفعہ بھی اس نے کمبل اٹھا کے نئیں  دیکھا۔۔۔ کہ نالی اندر ہے یا باہر۔۔ بند ہے یا کھلی۔۔ بس گردہ دھونے کی پڑی ہوئی تھی اسے۔۔۔ دھوبی نہ ہو تو۔۔۔
سرکٹ۔۔ اگر بابے کو کچھ ہو جاتا نا۔۔۔ تو ماں قسم چھوڑنا نہیں تھا اسے۔۔۔
سرکٹ منا بھائی کو سنبھالتے ہوئے بولا ‘ چھوڑو منا بھائی۔۔۔ اب تو تم آ گئے ہو نا اس وارڈ میں۔۔۔اب کوئی میکالعل بلاوجہ کسی کے گردے دھو کے سوکھنے نہیں ڈال سکتا۔۔۔ اٹھو۔۔ ابھی سو جاؤ۔۔ صبح جلدی وارڈ بھی جانے کا  تم کو۔۔ بولے تو راؤنڈ ہے بڑے ڈاکٹر صاحب کا۔۔ ‘ سرکٹ نے دونوں ہاتھوں میں فاصلہ بڑھا کے بتایا اور منا بھائی کو لے کر کمرے میں چلا گیا۔۔۔

جاری ہے

Avatar
ڈاکٹر مدیحہ الیاس
الفاظ کے قیمتی موتیوں سے بنے گہنوں کی نمائش میں پر ستائش جوہرشناس نگاہوں کو خوش آمدید .... 🙂

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *