ہم اور ہماری اخلاقی اقدار۔۔۔ ہم اور ہماری اخلاقی اقدار

کل یونہی ایک محفل میں بات سے بات نکلی تو میں نے کہہ دیا کہ ” مجھے پتہ نہیں ایسا کیوں لگتا ہے کہ گاندھی جی قائداعظم محمد علی جناح   کی سوچ سے ایک درجہ آگے کا سوچتے ہوں گے اس لیے انہوں نے ہندستان کے لیے سکیولر انڈیا کا انتخاب کیا۔
گاندھی جی کی مدبرانہ اور لبرل سوچ تاریخ میں یونہی نہیں اہمیت رکھتی اور آج تک ان کی سوچ ،ان کی جماعت کے ساتھ زندہ بھی ہے۔
گاندھی جی کی عدم تشدد والی فلاسفی کو بحیثیت ایک پاکستانی رد کرنا ہمیں نہیں جچتا، جہاں ہم ہر محاذپر تشدد کو فروغ دے رہے ہوں، جب کہ دینی مدارس سے لیکر سیاست کے ایوانوں تک ہر جگہ ہم نے تشدد کو اپنا مؤثر ہتھیار بنا رکھا ہو۔

بات چیت کے دوران میرا بس یہ ہی کہنا تھا کہ اچانک سے تمام حاضرین مجلس نے مجھے ایسے غم و غصے کی ملی جلی حالت سے گھورنا شروع کر دیا جیسے میں نے کسی دیوبند مجلس میں اہل تشیع عالم کے گن گانے شروع کر دئیے ہوں۔
قریب سب ہی لوگ مجھے یہ محسوس کروانے لگ گئے کہ اگر میں گاندھی جی کی پالیسی یا اس حوالے سے کسی بات کی حامی ہوں تو جناب مجھ پر بغاوت کا مقدمہ بالکل جائز ہوسکتا ہے اور ہونا بھی چاہیے۔
مجھے حیرت اس بات پر ہوئی کہ عام پڑھے لکھے  ذہن بھی اب عالمی پیمانے کے رہنماؤں اور ان کی فلاسفی کی تقسیم کے حامی ہوچکے ہیں، انکے نظریات کو پڑھنے اور سمجھنے سے یہ قاصر ذہن رہنماؤں کو مذہب اور ممالک کی سرحد سے نا صرف جوڑتے ہیں بلکہ انہیں تقسیم کرنا جائز سمجھتے ہیں۔
اور یہ ہی وہ تعفن زدہ سوچ ہے جو آگے چل کر پھر ہمارے سماج میں اوپر سے لیکر نیچے تک ہر جگہ مذہب، مسلک، نظریات، لسانیت سمیت  ذات پات، قومیت کی  تفریق کا سبب بنتی ہے۔

یہ سبب اور اس جیسے کئی اسباب ہمارے معاشرے کی صحت افزاء نگہداشت کو ایک مصنوعی خول میں بند کرکے اسے گھٹن کا شکار بنا دیتے ہیں۔
یہ ہی بیمار سوچ ہمیں کسی غیرمسلم کی اچھی سوچ کی بھی تعریف کے لائق نہیں چھوڑتی ،بلکہ جہاں کسی غیرمسلم کے اچھے سیاسی سماجی نظریے کی تعریف ہو وہاں ہمارے اندر کا مسلمان جاگ جاتا ہے ،اور ہم ایک دم سے غیر مسلم اور مسلم کے درمیان تقابل کرنے لگ جاتے ہیں۔

یہ خواہ مخواہ کی برتری والی وہ نااہلی ہے جو کسی بھی مہلک ہتھیار سے زیادہ خطرناک ہے اور ہماری آنے والی نسلوں کے لیے کسی زہر قاتل سے کم نہیں۔ برتری کی یہ سوچ بیمار ذہنوں میں پنپتی ہے اور یہ بیمار  ذہن سماج میں تقسیم اور تفریق کا ناسور ہی پھیلاسکتے ہیں ،محبت کے پھول نہیں۔
پہلے ہندو، مسلم، سکھ، مسیحی ہوا کرتا تھا اور جب یہ تفریق زیادہ بڑھ گئی تو آج شیعہ، سنی، بریلوی، دیوبندی تک بات جاپہنچی ہے۔ ہماری قوم تنزلی کی جانب اس لیے ہی رواں دواں ہے کہ ہم اپنی اعلی اخلاقی اقدار بہت پہلے ہی کہیں کھو چکے ہیں،۔

میرا سوال یہ ہے کہ گاندھی جی کے عظیم لیڈر ہونے پر کیا جناح صاحب خود ُپریقین نہ تھے ؟

بحیثیت پاکستانی قوم اب ہمیں خود سے اپنی اخلاقی اقدار کو بہتر کرنا ہوگا تا کہ ہماری آئندہ آنے والی نسلیں مثبت سوچ کی مالک بن سکیں اور علم و نظریہ چاہے غیرمسلم کا ہی کیوں نہ ہو انہیں اسے حاصل کرنے میں کوئی تردد پیش نہ آئے ورنہ اس ملک کو کوئی مہلک ہتھیار نہیں بلکہ اس کی تشدد پسندانہ سوچ ہی نقصان پہنچانے کے لیے کافی ہے۔

میرا ماننا ہے کہ آپ اختلاف رائے ضرور رکھیں مگر مثبت اور تعمیری سوچ کیساتھ، نا کہ مذہب، مسلک یا مخالف سیاسی نظریاتی سوچ کیساتھ بلکہ یہ ہمارے مذہب کی ہی تلقین ہے کہ آپ علم حاصل کریں ،چاہے آپ کو چین ہی کیوں نہ جانا  پڑے۔

پاکستان کی بنیاد مذہبی آزادی سمیت شخصی آزادی پر قائم ہے، گائے کے پائے یا گائے کی قربانی کے لیے اس پاکستان کو بنانے کے لیے لاکھوں انسانوں نے قربانی نہیں دی تھی اور نہ ہی لاکھوں افراد صرف گائے کے کباب آزادانہ حیثیت میں کھانے کے لیے ہندستان سے ہجرت کر کے پاکستان آئے تھے۔۔

سمجھنے کی بات یہ ہے کہ رواداری اور اخوت جیسی اقدار کو معاشرے میں نافذ کرنے کے لیے ہی یہ ریاست پاکستان اس دنیا کے نقشے پر وجود میں آئی تھی جہاں برتری کی بنیاد مذہب نہیں بلکہ تعلیم اور شعور تھا۔ ایک ایسی محفوظ جگہ حاصل کرنا تھا جہاں مسلم، ہندو، سکھ، مسیحی، اپنے اپنے مذاہب کے مطابق امن و سکون سے زندگی گزار سکیں۔

نصاب کی کتب کو مذہب سے بالا ہو کر لکھنے کی از سر ِنو ضرورت جتنی آج ہے پہلے کبھی نہ تھی۔
گاندھی جی ایک ہندو تھے اور محمد علی جناح رح ایک پکے مسلمان جب تک تاریخ اس اقتباس کیساتھ پڑھائی جائیگی اس وقت تک بیمار ذہن کبھی صحتمند نہیں ہوسکتے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *