حفظِ قرآن کیوں؟۔۔۔۔حافظ صفوان محمد

خدا بخشے جنابِ مختار مسعود سے بہت ملاقات رہی اور فون پر متواتر ربط۔ میری سعادت ہے کہ مجھے مختار مسعود صاحب اپنی کتابیں مطالعے کے لیے دے دیا کرتے تھے۔ ایک بار تبلیغی اجتماع کے لیے رائے ونڈ جانا ہوا (غالبًا 1995) تو واپسی پر ایک دوست کے ہمراہ ان کے ہاں چکر لگا۔ تبلیغی کام کے اسٹیبلشمنٹ سے تعلق اور بعض موضوعات پر طویل باتیں ہوئیں۔ چائے کے بعد انھوں نے کہا کہ میں چند سوالات کرتا ہوں جن کے جواب آپ دونوں دیں گے، اور آپ کے جوابات کے بعد میں جواب دوں گا۔ یہ سوالات مندرجہ ذیل تھے جو میں نے واپس آکر ایک ڈائری میں لکھ لیے۔ یہ ڈائری کبھی مل گئی تو کچھ اور مزے کی چیزیں بھی سامنے آئیں گی۔ فی الحال صرف حافظے پہ انحصار ہے:

حفظِ قرآن کیوں کیا کرایا جاتا ہے (جب کہ یہ نہ فرض ہے نہ واجب نہ سنت نہ مستحب)۔ عشرۂ مبشرہ میں سے سوائے حضرت عثمان کے کوئی حافظ نہ تھا (اور نہ کوئی معروف صحابی خود حافظِ قرآن ہوا) اور نہ کسی بڑے صحابی نے اپنے بچوں کو حفظ کرایا۔ بچوں کو حفظ کرانا ضروری ہوتا یا نیکی کا کام ہوتا تو کم سے کم حضرات حسنین کریمین کو تو ضرور حفظ کرایا جاتا۔ عورتوں کو حفظ کرانا دین میں اہمیت رکھنے والی چیز ہوتا تو امہات المومنین ضرور حفظ کرتیں (یا کم سے کم نبی کریم کی چاروں بیٹیاں ضرور حافظ ہوتیں)۔ کیا قرآن حفظ کرنا کرانا (بدعت اور) وسائل کا ضیاع نہیں ہے؟ کیا حفظ کرانے سے قرآن محفوظ ہوجاتا ہے جب کہ آج قرآن کو محفوظ کرنے کے کہیں بہتر اور ارزاں آلات مہیا ہیں؟ کیا حفظ کرانے سے اخلاق بہتر ہوجاتے ہیں یا بہتر دینداری آجاتی ہے؟ (بریکٹ میں لکھے الفاظ میرے اپنے ہیں۔)

خوب گرما گرم بحث ہوئی۔ اس سوال کے جواب میں کہ ” کیا حفظ کرانے سے قرآن محفوظ ہوجاتا ہے جب کہ آج قرآن کو محفوظ کرنے کے کہیں بہتر اور ارزاں آلات مہیا ہیں؟” ہم دونوں یہی کہتے رہے کہ قرآن کی حفاظت کے لیے اس کا زبانی یاد کرنا ضروری ہے۔ اس موقع پر جنابِ مختار مسعود نے عجیب بات کہی جو کبھی نہیں بھولے گی۔ فرمانے لگے کہ حفظ کیجیے اور شوق سے کیجیے لیکن اس نیت سے حفظ کرنا کہ اس سے قرآن کی حفاظت ہوجائے گی، خدا کے کارخانے میں دخل دینے والی بات ہے۔ خدا نے اپنے ذکر کی حفاظت خود کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اگر کوئی شخص اس نیت سے حفظ کرتا یا کراتا ہے کہ وہ قرآن کی حفاظت کر رہا ہے یا اس کے اس عمل سے قرآن محفوظ ہوجائے گا تو یہ خدا پر نہایت جری ہونے والی بات ہے۔ قرآن کا محافظ خدا ہے نہ کہ انسان۔ کیا انسان یہ دعویٰ کرسکتا ہے کہ خدا اپنے کلام کی حفاظت کے لیے اس کا محتاج ہوگیا ہے؟ کیا قرآن میں کوئی ایسی آیت موجود ہے کہ خدا نے اپنے کلام کی حفاظت کا کام فلاں انسان یا فلاں طبقے کے ذمے لگایا ہے؟

سناٹا ہوگیا۔ بلکہ یوں کہیے کہ ہماری سٹی گم ہوگئی۔ اس دن کے بعد سے مجھے انسان اور خدا کا مقام سمجھ آگیا۔

اب لیجیے مندرجۂ بالا سوالات پر میرے جوابات:

میں تسلیم کرتا ہوں کہ حفظِ قرآن نہ فرض ہے نہ واجب نہ سنت نہ مستحب۔ اگر یہ عمل مستحب بھی ہوتا تو کم سے کم حضرت عمر اسے اپنے قلمرو میں حکمًا جاری کراتے۔ اور اگر وہ خود حافظ ہوتے تو کسی ایک ہی تراویح میں چند پارے سنا دیتے تاکہ ان کے عمل سے لوگوں کو حفظِ قرآن کی یا تراویح میں پورا قرآن سنانے کی ترغیب ہوتی۔ تاہم واضح ہے کہ ہمارا سارا مذہبی لٹریچر ایسی ایک بھی روایت کے وجود سے خالی ہے۔

میں تسلیم کرتا ہوں کہ عشرۂ مبشرہ میں سوائے حضرت عثمان کے شاید ہی کوئی صحابی حافظ ہو اور میں یہ بھی تسلیم کرتا ہوں کہ نہ کوئی معروف صحابی (یعنی جس کی روایات زیادہ ملتی ہیں) خود حافظِ قرآن تھا اور نہ کسی بڑے صحابی نے اپنے بچوں کو حفظ کرایا۔ نہایت آسودہ حال صحابی حضرت عبد الرحمٰن بن عوف جن کی بڑی جاگیر اور سیکڑوں ملازم تھے ان کی سیرت بھی اپنی کثیر اولاد میں سے کسی کو حفظ کرانے کے تذکرے سے خالی ہے۔

میں تسلیم کرتا ہوں کہ اگر بچوں کو حفظ کرانا ضروری ہوتا یا نیکی کا کام ہوتا تو کم سے کم حضرات حسنین کریمین کو تو ضرور حفظ کرایا جاتا۔ حفظِ قرآن کے فضائل کے ضمن میں جتنی بھی روایات ہیں ان میں ایک بھی اگر حضرت علی و فاطمہ کے علم میں ہوتی تو ممکن ہی نہ تھا کہ وہ اپنے بچوں کو حفظ نہ کراتے اور نہ خلفائے راشدین کے بچے بھی اس سعادت سے محروم ہوتے۔ یاد رہے کہ حضرت ابوبکر کے 6، حضرت عمر کے 12، حضرت عثمان کے 17 اور حضرت علی کے کم سے کم 16 بچے تھے۔
یہ حدیثِ نعمت ذکر کیے بغیر آگے نہ بڑھوں گا کہ مجھے میرے ابو نے حفظ کرایا اور بہت شوق سے کرایا۔ میں ہمیشہ ان کا احسان مند رہوں گا۔ بحمدللہ اپنے خاندان کی اس معروف روایت کو میں نے جاری رکھا اور بکوشش اپنے بچے کو حفظ کرایا۔ خدا مجھے اور میری اولاد کو فہمِ قرآن کی دولت ارزاں کرے۔

میں تسلیم کرتا ہوں کہ عورتوں کو حفظ کرانا دین میں اہمیت رکھنے والی چیز ہوتا تو امہات المومنین ضرور حفظ کرتیں یا کم سے کم نبی کریم کی چاروں بیٹیاں ضرور حافظ ہوتیں۔ حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ جیسی کم عمر اور مضبوط تفقہ فی الدین والی امہات المومنین کا حفظ نہ کرنا کسی بھی طرح جسٹیفائی کرنا آسان نہیں ہے جن کو بچوں والی کوئی مصروفیت بھی نہ تھی۔ بالخصوص حضرت عائشہ جنھوں نے ساری زندگی فعال مذہبی مصروفیات میں گزاری ان کے لیے حفظِ قرآن کرنا کچھ بھی مشکل نہ تھا۔

کچھ لوگوں کے نزدیک قرآن حفظ کرنا کرانا بدعت اور وسائل کا ضیاع ہو تب بھی میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک اچھی مصروفیت ہے جس کی وجہ سے زندگی کا کچھ حصہ مذہبیات کے شغل میں گزر جاتا ہے۔ جن لوگوں کے پاس وقت ہو اور وسائل موجود ہوں وہ جہاں اور کئی کام سیکھ لیتے ہیں انھیں قرآن حفظ کرنے کرانے پر بھی ضرور سوچنا چاہیے۔

میں تسلیم کرتا ہوں کہ حفظ کرانے سے قرآن محفوظ نہیں ہوتا کیونکہ قرآن کی حفاظت کا وعدہ خدا کا ہے اور میرا ایمان ہے کہ جب ازروئے حدیث دینِ اسلام واپس مدینہ کو ایسے لوٹ جائے گا جیسے بل میں سانپ گھستا ہے اور مکہ میں خانہ کعبہ کی عمارت منہدم کر دی جائے گی اور روئے ارض مسلمانوں سے خالی ہوجائے گا تب بھی قرآن موجود اور محفوظ رہے گا۔ خدا اپنی وحی کی حفاظت کے لیے جس طرح ریکارڈنگ کے بہتر اور ارزاں آلات کا محتاج نہیں ہے ویسے کسی انسان کا بھی محتاج نہیں ہے اور نہ انسان کے بنائے کسی ادارے یا نظام کا۔

میں تسلیم کرتا ہوں کہ حفظ کرانے سے اخلاق بہتر نہیں ہوتے اور نہ بہتر دینداری حفظِ قرآن سے مشروط ہے۔ عمدہ اخلاق انسانی صفت ہے جس کا قرآن تو الگ رہا، کسی مذہب سے بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔ حضرت محمد علیہ السلام قرآن کے نزول اور اعلانِ نبوت سے بھی بہت پہلے سے اپنے معاشرے میں اعلیٰ اخلاق کا حامل ہونے کی عمومی شہرت رکھتے تھے۔

خاتمۂ کلام یہ کہ میری رائے میں مسلمان کو حفظِ قرآن خالصۃً خدا اور رسولِ خدا کی محبت کی نیت سے کرنا چاہیے جو بے شک بہت بڑی سعادت ہے۔ اگر اس کے علاوہ کوئی نیت رکھی جائے تو وہ بالآخر مادّی ہوجائے گی جس سے میں خدا کی پناہ مانگتا ہوں۔ جونہی مادّہ اور مادّیت در آتے ہیں، حفظِ قرآن بھی ایک کاروبار کی صورت اختیار کرلیتا ہے جس سے معاشیات اور سیاسیات جڑ جاتی ہے اور قرآن جیسی چیز دنیا کمانے اور نتیجۃً خود کو خدا جیسے احترام کا حقدار سمجھنے اور اپنی رائے کو وحی جیسی حتمی مقام والی hallucination کی طرف لے جاتی ہے، اور حافظِ قرآن معاشی و مذہبی مفادات کے ٹکراؤ کی وجہ سے سماجی طور پر تنہائی کا شکار ہوتا چلا جاتا ہے۔

حافظ صفوان محمد
حافظ صفوان محمد
مصنف، ادیب، لغت نویس

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”حفظِ قرآن کیوں؟۔۔۔۔حافظ صفوان محمد

  1. اسلام وعلیکم
    کیا واقع ھی صحابہ کثرت سے حافظ اور خلفا سرے سے نہ تھے?
    یہ حفظ کی روایت کب پڑی?
    جبکہ صدیق اکبر کے دور میں حفاظ کے شھید ھونے کی روایت ھے
    جواب کا منتظر ،،،،،کاشف قیوم

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *