پاکستان میں گاڑی خریدنے کے مسائل۔۔۔آصف وڑائچ

پاکستان میں متوسط طبقہ اپنی ذاتی سواری سے پچھلے 70 سال سے محروم ہے۔ لوئر مڈل کلاس فرد کی آدھی عمر بس اسٹاپ پر کھڑے ہو کر نیم پاگل ڈرائیورز کے ہاتھ چڑھی تنگ بسوں کے انتظار میں گزرتی ہے۔ جس غریب کا کُنبہ بڑا ہے، اس کی بہو بیٹیوں کو گھٹیا کوالٹی کے رکشوں اور ٹھرکی ڈرائیورز کی مقبوضہ ویگنوں میں دھکے کھانے پڑتے ہیں ،اس پر ستم کہ یہ مجبور لوگ جن افراد کو اپنا حکمران چنتے ہیں وہ خود لگژری گاڑیوں کے قافلے لے کر سائرن بجاتے ہوئے گزر جاتے ہیں۔

وطنِ عزیز میں متوسط طبقے کی اکثریت اپنی ذاتی یا اچھی گاڑی افورڈ نہیں کر سکتی کیونکہ حکومت نے گاڑیوں اور ان کے پارٹس پر ٹیکس ہی اتنے لگا رکھے ہیں کہ اللہ کی پناہ، اوپر سے ڈالر کی اونچی اُڑان کہ سبحان اللہ ۔ یمن جیسے ملک میں بھی گاڑی پر اتنے ٹیکسز نہیں جتنے یہاں ہیں۔ اگر یہ زائد ٹیکسز اور ظالمانہ ڈیوٹیز کم کی جائیں تو ایک تو متوسط طبقے کا بھلا ہو، دوسرا کار ڈیلنگ کے کاروبار میں بھی اضافہ ہو ،خصوصاً اگر سیکنڈ ہینڈ امپورٹڈ گاڑیاں منگوانے میں حکومت نرمی اختیار کرے تو آٹو اندسٹری میں مقابلے کی فضا بنے گی جس سے گاڑیوں کی قیمتیں کم ہونگی اور عام آدمی کو یقیناً فائدہ ہو گا مگر یہاں بھی ہماری بدقسمتی آڑے آ جاتی ہے کہ ہم پر چند کمپنیاں مسلط کر دی گئی ہیں جو لوکل گاڑیوں کی پروڈکشن میں انتہائی ناقص مٹیریل استعمال کرتی ہیں۔ گاڑی کی ابھی رجسٹریشن بھی نہیں ہوتی کہ اسے زنگ لگنا شروع ہو جاتا ہے جبکہ گاڑی کا انٹیرئر رکشے سے بھی گیا گزرا ہوتا ہے، حالانکہ 1992 میں گورنمنٹ سکیم کے تحت جو گاڑیاں امپورٹ کی گئی تھیں ان کو ابھی بھی زنگ نہیں لگا۔

پاکستان کی آٹو انڈسٹری میں ‘بِگ تھری’ مافیا عوام کو دونوں ہاتھوں سے لُوٹ رہی ہے۔ سوزوکی، ٹیوٹا اور ہنڈا جو گاڑیاں بناتے یا لوکل اسمبل کرتے ہیں ان کا معیار دیگر ممالک کی نسبت بہت نیچے ہے، جبکہ قیمتیں باہر کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔ سوزوکی اور ٹیوٹا کو تو چھوڑیے اب ہنڈا سیوک بھی تھرڈ کلاس گاڑی بن چکی ہے۔ گاڑی کے اندر اسٹیئرنگ اور ٹرانسمیشن کے متعلق شکایات کی بھرمار ہے، لیکن ہنڈا کمپنی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ سیوک کی مثال اس خاتون جیسی ہے جسکی عمر 60 سال ہو اور اسے اعلیٰ میک اپ کر کے 28 سال کی دوشیزہ بنا کر کسی نوجوان کے عقد میں دے کر گھر والے سکون کا سانس لیتے ہیں، اگلے دن دلہن کا دُھلا ہوا منہ دیکھ کر نوجوان کا جو حال ہوتا ہے وہی حال چند دن بعد ہنڈا سیوک خریدنے والے کا ہوتا ہے۔ کمپنی جتنے پیسے لیتی ہے گاڑی کا معیار ان سے آدھے کے برابر بھی نہیں۔ جتنی قیمت میں یہاں ہنڈا سیوک یا ٹیوٹا کرولا ملتی ہے، اتنے میں مڈل ایسٹ میں مرسیڈیز، بی ایم ڈبلیو اور لیکسز مل جاتی ہیں۔

کمپنیوں کی اس بدمعاشی میں ہمارے صاحبِ  حیثیت افراد کا بھی اتنا ہی ہاتھ ہے  کہ جو اتنی مہنگی گاڑیاں آنکھ بند کر کے خرید لیتے ہیں بعض لوگ محض نمود و نمائش اور اسٹیٹس کیلئے گاڑیاں لیتے ہیں۔ بعض لوگ ٹیکسز سے بچنے کی خاطر کوئٹہ اور چمن سے نان کسٹم پیڈ گاڑیاں لے آتے ہیں اور جعلی ڈاکومنٹس بنوا کر انہیں استعمال میں لایا جاتا ہے۔ یہ غیر قانونی کام ہے جس میں بعض سرکاری اہلکار بھی ملوث ہیں۔

پاکستان میں 1974 ماڈل کی پرانی گاڑی چلنے پر پابندی نہیں مگر 2008 ماڈل کی گاڑی امپورٹ کرنے پر پابندی ہے جو اس سے کروڑ درجے بہتر ہوتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ باہر سے گاڑیاں امپورٹ کرنے میں آسانی پیدا کرے، اس میں حکومت یہ کر سکتی ہے کہ اٹھارہ سو سی سی سے اوپر والی گاڑی پر بے شک پابندی لگا دے یا سختی کر دے لیکن چھوٹی گاڑیاں لانے کی اجازت دے ،بھلے وہ پرانی ہی کیوں نہ ہوں اور کسٹم ڈیوٹی میں چھوٹ دے۔ علاوہ ازیں تین کمپنیوں کی بدمعاشی کو روکنے کے لئے دنیا کی دیگر کمپنیوں کو بھی لائسنس جاری کرے۔ Kia اور Renualt کی گاڑیاں اگرچہ بہت اچھی اور معقول قیمت ہوتی ہیں لیکن پاکستان میں زائد ٹیکسز کی وجہ سے Kia والے یہاں زیادہ ماڈل نہیں لاتے اوپر سے روایتی تین کمپنیوں نے یہاں اپنی اجارہ داری بنا رکھی ہے۔ اگر حکومت عوام کی زندگیوں میں بہتری لانا چاہتی ہے تو اسے ان معاملات پر توجہ دینا ہو گی۔

یہ بھی یاد رہے کہ لوکل گاڑیاں سیفٹی فیچرز کی عدم موجودگی اور ہلکی  کوالٹی کے باعث ہر سال ہزاروں شہریوں کی قاتل ٹھہرتی ہیں جس کی  ذمہ دار لوکل کمپنیاں ہیں جو ایسی لو پروفائل گاڑیاں بناتے ہیں کہ جن میں آئیر بیگ تک نہیں ہوتا جو کہ بیرون ملک سستی سے سستی گاڑی میں بھی دستیاب ہوتا ہے۔ اگر پرانی سے پرانی جاپانی کار کا موازنہ نئی لوکل کار سے کریں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ہماری آٹو انڈسٹری کس قدر پیچھے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ امپورٹڈ گاڑی کو ہی ترجیح دیتے ہیں کیونکہ وہ پائیدار ہونے کے ساتھ ساتھ حفاظتی فیچرز   بھی رکھتی ہے۔

ایک اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں ہر ہزار میں سے اٹھارہ افراد کے لیے ایک کار ہے۔ بھارت میں ہزار میں سے بائیس افراد گاڑی کے مالک ہیں۔ امریکہ میں ہزار میں سے نو سو اسی اور برطانیہ میں ہزار میں سے آٹھ سو پچاس افراد گاڑی کے مالک ہیں۔

پاکستان کی آٹو انڈسٹری میں ریگولیٹری نظام نہ ہونے کے برابر ہے اس لیے لوکل گاڑیاں بنانے والے گاڑیوں کی قیمتوں میں آسانی سے اضافہ کر سکتے ہیں بغیر اس خوف کے کہ مارکیٹ میں ان کے شیئر ز پر کیا اثر پڑے گا کیونکہ مارکیٹ میں ان کا مقابل ہی موجود نہیں۔

گاڑیوں کی طلب اور رسد کا نظام بھی غیر متوازن ہے، اس پر کار ڈیلر گاڑیوں کی فروخت پر ’پریمیم‘ کے پیسے جسے عام زبان میں ’آن ‘ کہا جاتا ہے بھی مانگتے ہیں۔ یہ رقم گاڑی کی اصل قیمت کے علاوہ ڈیلر طلب کرتا ہے تاکہ گاڑی معینہ مدت سے پہلے یا اسی وقت خریدار کو دی جا سکے۔ اس لین دین کی کوئی رسید نہیں ہوتی اور کوئی ریکارڈ نہیں ہوتا۔ کار ڈیلر ایک گاڑی کے پیچھے دس ہزار روپے سے لے کر دس لاکھ روپے تک وصول کرسکتا ہے۔

اس قسم کی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے کابینہ کے اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے ایک کمیٹی بنائی تھی جو اس معاملے کی نگرانی کرے گی۔ اس کمیٹی نے احکامات جاری کیے کہ وہ نئی گاڑیوں کی خریداری کے عمل کو ریگولیٹ کریں گے جس میں ایسے کار ڈیلروں اور کار بنانے والوں پر جرمانے عائد کیے جائیں گے جو غلط سرگرمیوں میں ملوث پائے جاتے ہیں۔ لیکن ابھی تک کار خریدنے والے اس قسم کے اقدامات کے ثمرات سے محروم ہیں لہذا حکومت کو چاہیے کہ آٹو پالیسی میں ترمیم کرے اور کم از کم اس شعبے پر تو رحم کرے۔ گاڑیوں کی ہوش ربا قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لئے حکومت یا تو نئی کمپنیوں کو ملک کے اندر لائے اور مقامی پروڈکشن بڑھائے یا امپورٹڈ گاڑیوں پر کسٹم ڈیوٹی کم کرے ورنہ عوام یونہی سڑکوں پر رلتے رہیں گے اور حکومت کو گالیاں دیتے رہیں گے۔ رہے نام اللہ کا!

آصف وڑائچ
آصف وڑائچ
Asif Warraich is an Engineer by profession but he writes and pours his heart out. He tries to portray the truth . Fiction is his favorite but he also expresses about politics, religion and social issues

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *