اے چاند بھٹائی سے کہنا۔۔۔انور پیر زادو/ترجمہ:مشتاق علی شان

اے چاند بھٹائی سے کہنا!
جس رات میں تو نے شعر کہے
وہ رات ابھی تک جاری ہے
سورج کی تمازت ہے ویسی
صحرا میں سفر وہ جاری ہے
میں کس سے اپنا درد کہوں؟
اے چاند بھٹائی سے کہنا

اے چاند بھٹائی سے کہنا!
یہ رات ہے خوں آنسو روئی
تاروں نے درد پیا گھولے
وہ سانجھ سسکتی روئے ہے
سولی پر گیت ہیں آویزاں
تجھ سے نہ کہوں تو کس سے کہوں؟
اے چاند بھٹائی سے کہنا!

اے چاند بھٹائی سے کہنا!
میں نے تیرے راگوں کے سُر میں
ہلکی سی  دُھن بجائی ہے
ہر شخص نے پتھر برسائے
گھر گھر میں گویا سولی ہے
کرنوں کی کروں اک چیخ بلند
اے چاند بھٹائی سے کہنا!

اے چاند بھٹائی سے کہنا!
تیرے دان سے میں نے آج ذرا
چاہت کی اک چسکی ہے بھری
بیراگ جدل سے میں نے لیا
ہر شخص کو اپنا ویر کیا
تیری “وائی” بن کر خوب لڑا
اے چاند بھٹائی سے کہنا!

اے چاند بھٹائی سے کہنا!
ہر شخص ترے اشعار یہاں
دھرتی سے جدا کر دیتا ہے
تری “وائی، وائی” سر نوچے
ترے سارے سُر ہیں اشک فشاں
فریاد یہ ساری کر دینا
اے چاند بھٹائی سے کہنا!

اے چاند بھٹائی سے کہنا
کسی ظلم کی ہے سب بدنظمی
تجھے لوگ کہیں سب شاہ یہاں
اور تیرے راگ رسالے کو
آیات سمجھ کر سر ہیں دھنیں
تُو دور گیا جانے کتنا؟
اے چاند بھٹائی سے کہنا!
اے چاند بھٹائی سے کہنا!

مشتاق علی شان
مشتاق علی شان
کامریڈ مشتاق علی شان مارکس کی ان تعلیمات کو بھولے نہیں جو آج بھی پسماندہ طبقات کیلیے باعث نجات ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *