مکالمہ بنا سبب ملاپ کا

کاش ہم بھی داستان گو ہوتے تو مکالمے کی داستان چسکے دار انداز میں پیش کرتے مگر وائے حسرتا! ہم اپنے چند  غیر ضروری امور نمٹا کر جائے وقوعہ یعنی جہاں یہ نیک کام سر انجام دیا جانے والا تھا وہاں پر پہنچے تو میری چشم نیک حسنین جمال پر پڑی – کیا جمال صورت آدمی ہیں اور اس پر مستزاد یہ کہ باکمال بھی ہیں۔ وہیں پر کسی نے کہا کہ جلدی اندر چلیے خٹک لالہ کا ڈانس شروع ہونے والا ہے۔بہرحال ڈانستے ڈانستے ہال میں داخلہ فرما لیا – میری نگاہ تو خیر میسنیوں کی تلاش میں بھٹکتی رہی مگر کچھ بھلا اس میں ہمارا نہ ہوا – موسیو نے پروگرام کی چند شریر سی شرائط پیش کیں جن پر ہر کوئی من مرضی سے عمل کرنے کا مجاز تھا – سب سے پہلے پروفیسر شہباز صاحب نے ابتدا  فرمائی اور بہت خوب رہی – مفتی محمد زاہد صاحب نے مکالمہ کے بارے میں ابتدائی کلمات انتہائی 
مختصر مگر پر اثر انداز میں کہے -خاکوانی صاحب نے اپنا طے شدہ بیانیہ سنایا-
دوسرے سیشن میں محترم حکیم فاروق سومرو صاحب نے نہایت لذیذ کلام ترنم سے پڑھ کر سنایا اور خوب داد سمیٹی مگر وقت کی کمی کے باعث تشنگی باقی رہ گئی – جان محفل یقینا ًخٹک لالہ رہے-انکا انٹرویو ویسے تو کسی شنو خاتون کو کرنا چاہیے تھا یا ہو سکتا ہے رانا صاحب نے کوشش بھی کی ہو ،تو ہر کوئی عزت بچانے کے چکر میں نکل لی ہو کہ خٹک کے انٹرویو سے ہم ایسی ہی بھلی – سو ،چار و ناچار یہ ذمہ داری رانا صاحب کے ناتواں کندھوں پر آن پڑی – خیر کی بات یہ ہے کہ خٹک صاحب نہایت بے شرم ہونے کی بجائے بڑے شرمیلے واقع ہوئے ہیں ،نئی نویلی دلہن کی مانند کافی سارا شرما لینے کے بعد انہوں نے لب کھولے اور پھر سب کھلکھلا اٹھے – گو کہ انہوں نے ماسکو میں دوران تعلیم پیش آنے والے  بےشمار معاشقوں و معانقوں کے بارے لب کشائی نہیں فرمائی جس کی ہمیں بے حد خوشی ہے – خواتین کی نمائندگی آٹے میں نمک برابر بہرحال رہی – رانا صاحب سخت مصروف رہے البتہ چٹکلے چھوڑتے رہے اور خوب تر رہے – ثاقب ملک صاحب سے ملاقات اور محمد بلال سے ملاقات اس لیے زیادہ خوشگوار رہی کہ گرائیں ہیں اور باہر جا کر گرائیں کا مل جانا ذرا زیادہ خوشی کی بات ہوتی ہے –
سعید ابراہیم صاحب نے اپنی رائے اچھے انداز میں پیش کی – لالہ صحرائی کی کمی بارہا محسوس کی گئی – رانا صاحب کا اپنا انٹرویو ڈاکٹر عاصم صاحب کے حصے میں آیا ،رانا صاحب پر سوال داغے گئے جسکے جوابات تسلی بخش عنایت ہوئے البتہ ایک بات پر میں حیران و پریشان ہوا کہ جو فرنگی طرز کا سوٹ زیب تن کر رکھا تھا وہ اتنا کھلا تھا کہ عارف خٹک اسی کے ساتھ ایڈجسٹ ہو سکتے تھے – بہت سی محبتیں، شفقتیں عنایت ہوئیں – کچھ لوگوں کی غیر حاضری اچھی نہیں لگی جیسا کہ  احمد رضوان، افتخار بھائی، عثمان سہیل صاحب، ریاض علی خٹک صاحب، اور چند اور میسنیوں کی غیر حاضری کا  بھی بہرحال قلق رہا ،ہمارے دل میں – بہت کامیاب ایونٹ رہاجسکا سہرا بہرحال مکالمہ مینجمنٹ کے سر ہے – 
یار زندہ صحبت باقی. 

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *