کہروڑ پکا کی نیلماں۔۔۔۔محمد اقبال دیوان/قسط21

سویرا کے مدیر اعلیٰ سلیم الرحمان صاحب نے شمارہ نمبر سو کی اشاعت میں غیرمعمولی تاخیر کے پیش نظر مصنف کو کمال شفقت سے اجازت دی کہ یہ کہانی مکالمہ میں پہلے شائع کرلیں۔۔سو پیش خدمت ہے۔۔۔افسر و سیاست دانوں کے معاشقوں پر مبنی ایک واردات قلبی کا احوال۔اس کے جملہ کردار، شعبہ جات،سرکاری محکمے اور واقعات خالصتاً افسانوی ہیں۔ ان کا اپنے زمان و مکان سے جڑے اصل کرداروں سے کسی قسم کا کوئی واسطہ نہیں۔ جیمز بانڈ کے خالق مصنف آئن فلیمنگ برطانیہ کی خفیہ ایجنسی ایم آئی سکس اور ہالی ووڈ پوری سی آئی اے کو اگر اپنی فلموں میں شامل کرسکتے ہیں تو جان لیں کہ مزکورہ افراد کے عہد ے،طور اطوار اور مقامات اس کہانی کے حوالے سے محض زیب داستاں کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ان کا اصل افراد اور واقعات سے کوئی تعلق نہیں۔

قسط نمبر بیس کا آخری حصہ

ایک ہفتہ تو میں کہروڑ پکا ہی میں تھی۔شوقی اور اس کی امی لاہور سے آئے ہوئے تھے۔شوقی کو یقین سا ہوچلا ہے کہ ہماری شادی ہونے والی ہے۔کسی دن مجھے بس ہاں کہنا ہے۔ بہت فارمل سا ہوگیا ہے۔کئیرنگ بھی۔ یہ پہلی دفعہ ہے کہ اس نے مجھے ہنی بھی کہا اور ہاتھ بھی پکڑا۔جب ملتان کے اس بڑے ہوٹل کی ڈرائیو میں اتر رہی تھی تو مجھے ہاتھ تھام کر کہنے لگا آئی مس یو۔ میں نے بھی کہہ دیا ہاؤ سوئیٹ۔کچھ دن صبر کرو۔ میں اور میرا سب کچھ تمہارا ہے۔گڈو ملتان آئے ہوئے تھے۔ شوقی اپنی امی کو ڈراپ کرنے لاہور جارہا تھا تو مجھے ہوٹل ان کے پاس ملتان چھوڑتا ہوا چلا گیا۔بے چارے کو کچھ پتہ نہیں کہ طشتری میں ہیرے بانٹ رہا ہے۔

میرا ابو اور ابو اور شوقی سے بچ بچا کر کہروڑ پکا سے غائب ہونے کا بہانہ یہ تھا کہ پارٹی کے سربراہ کی ہدایت ہے کہ آپس میں باقاعدہ ملاقاتیں اور تال میل   رکھو۔ َ جنوبی پنجاب مشکل ریجن ہے۔رات کو بھی دیر تک ورکنگ پارٹی کے اجلاس رہتے ہیں۔میں ملتان رات رک جایا کروں گی۔ ملتان ہماری بستی سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو ہے۔ابو کو اعتراض یوں نہیں کہ کچھ پرانے دوستوں کا اجتماع ہے۔ اسی لیے وہ شام کو اسلام آباد جارہے ہیں۔انکل خواجہ کے ہاں قیام رہے گا۔ میں نے کہا آپ چلے جائیں میں صبح ارسلان صاحب کے ساتھ آجاؤں گی۔۔جیسے جیسے دن گزرتے جاتے ہیں مجھ میں ایک میٹھی سی تھکاوٹ آرہی ہے۔میرا اندرونی ادراک یہ ہے کہ تمثیل میاں پیٹ میں آگئے ہیں۔ میں نے سوچا ہے اپنا پریگننسی ٹیسٹ اسلام آباد، چھوٹم کے ساتھ جاکر کراؤں۔وہ بھی باقاعدہ طور پر سائیں سے انگیج ہوگئی ہے۔ ممکن ہے ایک آدھ ہفتے میں شادی بھی کرلے۔سب ہی جلدی میں ہیں۔ پارٹی کی کلئیرنس مل گئی ہے۔اس کی سینٹ کی سیٹ پکی ہے۔

عنابی شیڈڈ بنارسی لہنگا

میں اسلام آباد پہنچ کر چھوٹم کا بہانہ کرکے دو رات میں اس کے پاس تھی۔اوشا کو اچھا نہیں لگتا تھا جب کمرے کا دروازہ کھلتا اور میں اپنی بے بی ڈول نائٹی میں ہی لاؤنج میں آجاتی تھی ۔میں نے اسے
بتادیا تھا کہ جب تک میں تیار نہ ہوجاؤں باہر کا کوئی مرد اندر نہیں آئے گا۔میں نے کچن کے باہر سبز اور سرخ بلب لگادیے ہیں۔سبز روشن ہو تب ہی اندر آنے کی اجازت ہے۔ وہ بھی کچن کے راستے چابی سے اندر آتی ہے۔ماہر تب تک اسکول جاچکا ہوتا ہے۔
ارسلان کو میں نے بتادیا ہے کہ وہ میرے بچے کا باپ بننے والا ہے۔اس نے کہا اجازت ہو تو مولوی صاحب کو بلو ا کر نکاح پڑھ لیں۔ میری ہمت نہیں پڑتی کہ میں اسے بتاؤں کہ اصل قصہ کیا ہے۔
نئی قسط کا آغاز
میں اور ابو ، کرنل مسعود کی بہن کی شادی پر گئے تھے ۔ کرنل صاحب کو میں نے بتادیا تھا کہ میری طبیعت ٹھیک نہیں اس لیے جلدی جارہی ہوں ۔راستے بھر ابوکی وہی ضد کہ شوقی سے شادی کرو۔پھوپھو کی آمد آج صبح ہی ہوئی تھی۔ مجھے لگا یہ انہی کا پریشر تھا۔میں دونوں بھائی بہن اور شوقی کو تقریب میں چھوڑ کر گڈو کے گھر آگئی تھی۔ عنابی (فوشیا ۔جب انگور سرخ سے سیاہ ہونے لگے) شیڈ والے بنارسی لہنگے چولی میں مجھے دیکھ کر پاگل ہوگیا۔ اوشا بھانپ گئی کہ میری خیر نہیں۔مجھے بند دروازے کے پیچھے ارسلان کی تعریف اور وحشت اچھی لگتی ہے۔کیا کہوں مگر اسی دوران حسد بھی مجھے مارڈالتا ہے کہ یہ تبسم یہ تکلم اس کی عادت ہوئی تو اوشا بھی دیار نور میں تیرہ شبوں کی ساتھی ہوتی ہوگی۔گرینڈ سلے ایم کی ٹرافی کی حقدار ٹھہرتی ہوگی۔ وہ بھی بڑی لچکیلی ،من بھاؤنی، سیکسی اور فطرت کے قریب ہے۔فگر بھی ہم دونوں کا ایک سا ہے۔صبح پانچ بجے مجھے لگا فون بجا تو دوسری طرف پھوپھو تھیں۔

یورو ریل
یورو ریل پاس

پتہ چلا کہا شادی کے بعد واپس آن کر ابو کو دوبارہ بہت شدید ہارٹ اٹیک ہوا ہے شکر ہے اٹیک حامد خواجہ انکل کے گھر پر ہوا۔ میرے تو ہاتھ پاؤں پھول گئے تھے۔ہم بھاگم بھاگ پہنچے۔ بروقت طبی امداد سے جان بچ گئی۔

ہسپتال کے بستر پر میرا ہاتھ تھام کے لیٹے تھے۔اشک آنکھوں کے کونے سے رواں تھے۔مجھے لگا ندامت ہے۔معافی مانگتے تھے۔میں ہاتھ چومتی رہی۔خود ہی پوچھا۔ کیا ارسلان بہت اچھا لگتا ہے۔ جی میں آیا کہہ دوں آپ اس کے بیٹے کے نانا بننے والے ہیں۔ پی۔ سی۔ٹی ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت ہے۔میں حاملہ ہوں ۔ہمت نہ پڑی۔ ان کی دل جوئی کے لیے بات ٹالی۔ کہنے لگے ایک آخری فرمائش پوری کردے۔شوقی کو ہاں کردے۔ تیری پھوپھو شہلا کو بہت ارمان ہے کہ جلدی سے دادی بنے۔ میں چپ رہی تو کہنے لگے بیوروکریٹس اچھے انسان نہیں ہوتے ہیں۔ اچھے تو ہم بھی نہیں ہوتے۔ ہمارا بگاڑ مگرکرنل کے بعد شروع ہوتا ہے۔یہ سیاست دان اور سویلین افسران تو دائی کے پرس سے بھی رقم چرانے کے چکر میں ہوتے ہیں۔ان سیاست دانوں اور ڈی ایم جی افسران میں تو بالکل وفا نہیں ہوتی۔
ابو ہسپتال سے آگئے ہیں۔ چھوٹم کی ضد تھی کہ وہ اس کے ہاں قیام کریں۔میں نے یہ بھی سوچ کر میڈیکل سپورٹ رہے گا۔ انہیں منالیا۔ان کے قیام کے لیے چھوٹم کے گھر پر قیام کو ترجیح دی۔ایک بات تو میں بھول گئی چھوٹم کا سائیں سے نکاح ہوگیا ہے۔ سائیں کی پارٹی کی جانب سے اس کی سینٹ کی سیٹ بھی طے ہوگئی ہے۔خوش ہے کہ ہم دونوں نووارد خواتین قومی سیاست میں اپنا اہم رول ادا کریں گی۔

شادی کی سادہ سی تقریب چھوٹم کے گھر پر ہی منعقد ہوئی تھی۔چھوٹم کا وکیل میری ضد پر گڈو کو بننا پڑا۔ شریر مجھے رات بستر میں کہنے لگا۔ نکاح ہمارے دونوں جیسا ہونا چاہیے۔۔یورو اسٹار کے ریل پاس جیسا، جس ملک سے چاہو، سوار ہوجاؤ۔ جہاں چاہے، اتر جاؤ۔میں نے پوچھا اتر نے کی بہت جلدی ہے تو مجھے جتانے لگا کہ مجھے نہیں میرے بیٹے کو تھی۔ کاپو ڈوکیا ترکی سے پیچھے لگا تھا کہ ابو امی کے پاس جانا ہے۔ اللہ میں صدقے جاؤں کیسا رجھانے والا  مرد ہے۔بضد ہے کہ میں اس کا نام تماثیل کی بجائے تمہید آغا رکھوں۔میں نے کہا ہرگز نہیں پہلا تماثیل اورد وسرا عنادل آغا۔ نو کمپرومائز۔مجھے جانے کیوں یقین ہے کہ میرے دونوں بچے لڑکے ہوں گے۔

امی کی پرنانی میوہ جان کے ویک اینڈ بوائے فرینڈ جن قوموبط کی اس Curse (بدشگونی ) کو،سرکار کا یہ جن۔میرا سرتاج۔ ارسلان آغا توڑے گا۔یاد ہے نا اس نے امی کی پرنانی میوہ جان کو کہا تھا کہ چوں کہ وہ اپنے پروہت دوست کو وچن(قول) دے چکا ہے اس لیے کچھ بھوگ (جرمانہ)وہ دے گا کچھ بلیدان (قربانی) میوہ جان کو دینی پڑے گی۔ایک تو یہ کہ ان کے ہاں سات نسلوں تک بڑی بیٹی کو صرف ایک اولاد ہوگی یعنی صرف ایک بیٹا۔ شوقی کا تبادلہ چار ماہ کے لیے لاہور ہوگیا ہے۔ وہاں سے اسےMSc Computer Networks and Network Design میں ایم ایس سی کے لیے باتھ یونی ورسٹی برطانیہ جانا ہے۔ دو سے تین سال کا پروگرام ہے۔پھوپھو کا کہنا ہے۔سرکار کے ہاں یہ پروگرام میری آمد سے پہلے زیر غور تھا۔ میں بھی ساتھ چلی جاؤں۔ اچھا ہے میں بھی کچھ پڑھ لوں گی۔
میں نے یہ کہہ کر صاف انکار کیا یہاں ابو اور زمینوں کو کون سنبھالے گا۔ ا پنے تئیں وہ یہ منصوبہ بناکر بیٹھی ہیں کہ یہ سارا زمیندارا،ان کا بڑا بیٹاطوقی سنبھال لے ۔ میں نے انہیں بتادیا ہے کہ میرے پیٹ میں سعید گیلانی کا بچہ ہے۔ انہیں ساتھ ہی یہ بھی جتادیا کہ نجی مصروفیات کی وجہ سے میں عدت میں نہیں بیٹھ رہی مگر مجھے بچے کے پیٹ میں ہونے کا علم ہے۔یہاں سیاست کے بھی جھمیلے
ہیں۔

پھوپھو شہلا، سعید کے بچے والے انکشاف پر ناخوش ہیں۔ دبے الفاظ میں مجھے اسقاط حمل کا بھی مشورہ دیا ہے۔ سمجھانے کی کوشش کی کہ سعید کو کیا خبر کہ تم اس کا بچہ پیٹ میں پال رہی ہو۔ آپس میں جب ہر معاملہ ختم ہوچکا ہے تو اس بچے سے بھی جان چھڑالوں۔یوں بھی نا خوشی والے بچے صحت مند نہیں پیدا ہوتے۔یہ پھوپھو کی حجت ہے۔ دل میں آیا کہ سنا دوں جب وہ پندرہ سال کی عمر میں اسکول وین ڈرائیور کی مدد سے طوقی کو پیدا کررہی تھیں تو اس وقت وہ خوش تھیں یا ملول؟۔ اس قدرغیر یقینی حالات کے باوجود ان کاطوقی تو ریس کے گھوڑے جیسا ہے۔

وہ اس پر بھی دل گرفتہ ہیں کہ میں سیاست میں حصہ لوں۔ یہ خاندانی عورتوں کا کام نہیں۔ منہ  بند کرنے کے لیے انہیں جب میں نے چند اہم نام گنوائے تو وہ چپ ہوگئیں۔ میں نے اسقاط حمل سے بھی انکار کیا ہے۔انہیں نے بتا دیا ہے کہ میرے نزدیک یہ قتل کے برابر ہے۔ وہ روہانسی ہوکر کہنے لگیں کہ میرا ارمان تھا کہ میرا پوتا میرے بھائی کی اور میری نسل کی مشترکہ علامت ہو۔میں نے انہیں کہا میں اس موضوع پر مزید گفتگو نہیں کرنا   چاہتی۔ اگر انہیں اپنا لوک ورثے کا چراغ جلانا ہے تو شوقی کے لیے کسی اور بیوی کا انتظام کریں۔ میرے گھر میں صرف میری مرضی چلے گی۔میری دو ٹوک گفتگو سن کر ان کا چہرہ ایک ایسی پرانی بس جیسا ہوگیا ہے  جس کا شہر سے دور کسی چڑھائی پر ٹائی راڈ ٹوٹ گیا ہو اور وہ بمشکل کسی درخت سے ٹکر ا کر کھائی میں گرنے سے بچ گئی ہو۔ابو بیمار نہ ہوتے تو شاید میری شکایت کرتیں۔

ایک غیر اہم اطلاع یہ ہے کہ اوشا، بی۔ اے کا نتیجہ آنے پر کامیاب ہوکر کراچی چلی گئی ہے۔اس کے بھائی کا وہاں کپاس پر تحقیق کے ادارے میں تبادلہ ہوگیا ہے۔اوشا کی ایک خبر یہ بھی ہے کہ وہ باہر کی کسی ائیر لائن میں ائیر ہوسٹس ہوگئی ہے۔ سارا گھرانہ ہی اسلام آباد سے کراچی منتقل ہوگیاہے۔ مجھے لگا اسے یہاں سے فارغ کرنے میں ارسلان کا ہاتھ ہے کیوں کہ میں نے چند دن پہلے اسے کہا تھا کہ اوشا اور ماہر کو میں اپنے پاس کہروڑ پکا لے جاؤں گی۔ مجھے اپنے بیٹے تماثیل کے لیے ایک دوست اور خود اپنے لیے اوشا جیسی ایک پر اعتماد ساتھی کی ضرورت ہے بالکل ناہید خان جیسی۔
ظہیر بھائی کو مجھ پر اعتماد ہوچلا ہے۔موڈ میں ہوں تو بہت سے قصے بیان کرتے ہیں۔

گڈو کے ہاں ظہیر بھائی کا دور پرے کا رشتہ دار ایک لڑکا فیاض اس کی والدہ اور بہن آگئے ہیں۔ فیاض کی ایک بیاہتا بہن اور والد صاحب تا حال وہاں کراچی میں محمودآباد میں ہی رہتے ہیں۔
فیاض کی اپنے باپ سے نہیں بنتی۔ باپ مقامی حکومت کے ایک ادارے میں سرکاری ڈرائیور ہے۔اس کی یہ بہن صبا اوشا کے مقابلے میں ایسی ہے جیسے آپ نے کسی بڑی فرنچائز کا پیٹزا کھا کر بعد میں آلو چنے کی چاٹ کھالی ہو۔

فیاض وہاں کہیں کراچی میں سرکاری ملازم تھا۔ حالات بگڑے تو شارٹ (کراچی کے محاورے میں مفرور )ہوگیا۔ظہیر بھائی نے چھوٹم سے اس کی سفارش کی۔چھوٹم نے میرے ذریعے گڈو سے کہہ کر اسے اسلام  آباد بلوایا ہے۔گڈو نے یہاں این اے آر سی میں ڈیٹا انٹری آپریٹر لگوادیا ہے اس کی ڈیوٹی بھی میرے کہنے پر میرے ساتھ لگا رکھی ہے۔ جب اسلام آباد ہوتی ہوں تو وہی میرا اسپیشل اسٹنٹ ہوتا ہے۔ میرے قیام کے دوران وہیں سے ایک عدد ڈرائیو ر بھی میرے پاس ہوتا ہے۔

فیاض بہت چپ چپ سا ہے۔دیکھتا رہتا ہے۔ جیسے کسی جائزہ مشن پر ہو۔حلیہ بدل رکھا ہے۔ یہاں شلوار قمیص اور ملتانی ٹوپی اور ڈاڑھی سجا لی ہے۔نماز بھی پڑھتا ہے۔اپنے آپ کو تبلیغی مشہور کیا ہوا ہے۔چلوں کے بہانے غائب ہوجاتا ہے، رائے ونڈ بھی پہنچ جاتا ہے۔
ظہیر بھائی نے مجھے بتایا کہ سیکٹر میں اس کا بہت رعب تھا۔پہلے تو سب لوگ اسے فیضوٹپکن کہتے تھے۔اب فیضو بھیا بلاتے ہیں۔ جب پارٹی زور پر تھی تو ٹکٹ دینے میں منٹ نہیں لگاتے تھے۔ٹکٹ دینا،وہاں کراچی کے محاورے میں سامنے والے کو اوپر اللہ میاں کے پاس بھیجنا ہے۔

میں نے لودھراں سے اپنی سفارش پر ڈی سی صاحب سے کہہ کر اسے پستول کا ایک لائسنس بھی بنوادیا ہے ۔مجھے ظہیر بھائی نے ہی بتایا کہ ٹپکن بھیا کا نشانہ ایسا ہے کہ سیکٹر میں بات تھی کہ سو گز سے آوارہ کتے کی کھوپڑی اڑادیتے تھے۔ شرط یہ ہوتی کہ پہلی گولی اس کتے کو نہ لگے تو دوسری گولی ان کے سر پر مارنی ہے۔کئی فعہ نشانہ خطا ہوا، کتے بھی بھاگ گئے مگر ٹپکن بھیا سلامت رہے۔ پنجابی بدمعاش ہوتا تو کہتا کہ مولے نوں مولا نہ مارے تے مولا نئیں مردا۔ٹپکن بھیا کا ایسے موقعے پر یہ کہنا ہوتا ہے کہ پٹھان کا دماغ اور چین کا مال چل جائے تو چلتا رہتا ہے۔درے کے پستول کی گراریاں ڈھیلی ہیں۔

ایک شام ایسا منظر تھا کہ میں چھوٹم اور ابو آپس میں گفتگو کررہے تھے۔ ابو کی طبیعت  بھی کچھ   نڈھال تھی۔ ہفتہ ہوا عام انتخابات ہوچکے ہیں۔ ہم سب اسلام آباد میں ہیں۔ ناموں کی منظوری ہوچکی ہے۔میں قومی اسمبلی اور چھوٹم سینیٹ کی مخصوص نشستوں کے لیے اپنی اپنی پارٹی کی جانب سے نامزد ہیں۔ پرسوں ہمارا چناؤ ہے۔ وزیر اعظم کا بھی انتخاب ہونا ہے۔ہماری پارٹی ہی اکثریت کی بنیاد پر حکومت بنارہی ہے۔صدر کو ایک سیاسی رکھیل کی ضرورت ہے۔فوجی صدر کے لیے مسلم لیگ سے کم دام والی رکھیل اور کون سی ہوسکتی ہے۔

میں،شہلا پھوپھو، طاہرہ آنٹی سب چھوٹم کے گھر ہیں۔ ابو کے دماغ پر بس ایک ہی ضد سوار ہے کہ میں ابھی شوقی کو شادی کے لیے ہاں کہوں۔ان کے چہرے پر اس وقت شدیدکرب کے آثار نمودار ہوئے جب میں انہیں بتایا کہ میرے پیٹ میں سعید کا بچہ ہے۔ پھوپھو شہلا اور شوقی کو شایدیہ سب کچھ منظور ہو یا نہ ہو۔

طاہرہ آنٹی کی آنکھیں بھی اس اعتراف پر ان کے گریبان تک جھک گئی ہیں جو چھٹے ماہ کے پیٹ کی وجہ سے زیادہ ہی لٹکنے لگا ہے۔ان کے علم میں یہ راز بھی ہے کہ میری جانب سے دبے دبے یہ الزام بھی اکثر لگایا جاتا تھا کہ سعید نامرد ہے اور میں مستند طور پر کنواری ہوں۔سیاسی بصیرت کی روشنی میں مجھے یہ علم ہے کہ وہ اس شک کو ایمان کا درجہ مل جانے پر بھی اس راز کو نہیں کھولیں گی کہ سعید نامرد ہے۔ ان کی جانب سے بہت ممکن ہے اس بچے کا باپ ہونے کا شک ارسلان کی جانب تو جاسکتا ہے سعید اس کا باپ ہرگز نہیں ۔ وہ کبھی بھی اعلانیہ طور پریہ نہیں کہہ سکتی ہیں کہ سعید تو نامرد ہے۔اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ سعید کی جس لڑکی سے شادی ہورہی ہے۔ اسی لڑکی کے دو بھائیوں سے وٹے سٹے میں فخرالزماں گیلانی یعنی سعید کی دو بہنوں یعنی حنا اور ثنا کی شادی ہورہی ہے۔بچے کی ولدیت کے انکار کا فال آؤٹ بہت بھیانک ہوگا۔ ان کے والد فخر الزماں گیلانی اور طاہرہ آنٹی کے سرپرست اعلی یہ بات باہر لانے پر ان کی کھال کھینچ لیں گے۔

رات کا وقت تھا۔پھوپھو کو برابر کے کمرے سے بلوایا گیا کہ بتادیں میری اصل صورتحال کیا ہے۔اس کے بعد شادی کی بات فائنل ہو۔وہ میرے حمل کے اسقاط کے بارے میں بات کرنے لگیں تو میں اٹھ کر چلی گئی۔چھوٹم نے سمجھایا کہ اس کے باوجود کہ اسے یعنی ارسلان کو نیلو کے پیٹ میں سعید کے بچے کے موجود ہونے کا پتہ ہے، تین دفعہ مجھ سے خود نیلم سے شادی کی بات کرچکا ہے۔وہ تو نیلم اپنے ابو کو ناراض نہیں کرنا چاہتی ورنہ وہ تو سائیں کے ساتھ ہی دولہا بننے پر ضد کر رہا تھا۔ اس کی امی اور بہن تک شادی کا جوڑا اور انگوٹھی لے کر آگئے تھے ۔چھوٹم کا یہ وار ابو اور پھوپھو پر بھر پور طریقے سے کار گر ہوا ہے۔ابو نے اپنی ہمشیرہ شہلا کو کہا ’نیلم کون سی بڑی عمر  کی ہے سال بھر بعد تمہارا بھی ارمان پورا ہوجائے گا۔

حالات کو نارمل کرنے کے لیے مجھے بمشکل چھوٹم ساتھ کے کمرے سے کھینچ کر لائی ہے۔میں نے پھوپھو کے ساتھ پہلی دفعہ زبان درازی کی ہے۔انہیں بتادیا کہ اگر اس موضوع پر خاص طور پر آئندہ بات ہوئی تو شوقی یا ہم میں سے کسی ایک کو گھر چھوڑنا ہوگا۔ ارسلان والی بات آپ نے سن لی۔ ان سے اپنے لخت جگر کا مقابلہ کرلیں۔ ان سے شوقی ملا تھا تو آواز نہیں نکل رہی تھی۔ مقابلہ کرکے دیکھ لیں کہ دونوں امیدواروں میں کلاس تعلیم اور اسٹائل کہاں زیادہ ہے۔ فیملی کی میں کوئی بات کھولنا نہیں چاہتی۔

دوسری بات ایک اور بھی سن لیں اگر مجھے بہو بنانا ہے تو میں آپ کا احترام حتی الامکان کروں گی مگر میرے گھر میں میری مرضی چلے گی۔جو میرا ہے وہ میرا ہی رہے گا یا میری اولاد کا۔شوقی کو مجھ سے شادی کا شوق پورا کرنا ہے تو Pre-Neputials سائین کرنا ہوں گے۔پوچھ لیں یہ سب منظور ہے تو کل شوقی سے کہیں انگوٹھی لے آئے۔

نیلا چوڑی دار پاجامہ سوٹ اور شال
بیلی ڈانسر کا لباس
ڈفل بیگ
ایڈن گارڈن کلکتہ
ایڈن گارڈن کلکتہ
وینس کا مجسمہ پیرس
مائیکل اینجلو

میں ارسلان کی طرف جارہی ہوں۔میرا موڈ بہت خراب ہے۔ شوقی کو چھوٹم نے فون کیا۔وہ بھی اسلام آباد میں موجودہے۔ دوڑا دوڑا پندرہ منٹ میں آگیا۔ سیکٹر جی سکس میں کسی دوست کے ساتھ رہتا ہے۔ شرائط بھی طے ہوئیں۔ میں سیاست میں بھی حصہ لوں گی۔برطانیہ اس کے ساتھ نہیں رہوں گی۔ اس ماں کے لاڈلے نے یہ سب شرائط منظور کرلیں تو میں نے بھی ابو کا ہاتھ چوم کر کہا شوقی جیسا بھی ہے۔ مجھے قبول ہے۔اس کی والدہ نے اسے سعید کے بچے کا بھی بتادیاہے۔ میری کوشش ہے کہ پھوپھو، ابو، شوقی کی موجودگی میں چھوٹم کے سامنے ان سب معلومات اور معاملات کی دیگ ٹھیک سے چڑھ جائے۔ ہر بات یہ تینوں آپس میں سوچ سمجھ لیں اس لیے میں نے انہیں کل تک کا وقت دیا ہے۔ان سے اس دوران پرے رہنے کے لیے میں نے جھوٹ بولا کہ  گڈو کے گھر پر کرنل مسعود کے بڑوں نے آنا ہے۔چھوٹم کی سائیں سے شادی کے بعد وہ اس جگہ کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔جنرل کے پاس سویلین سیٹ اپ کے حوالے سے کل دوپہر کو بریفنگ ہے۔الیکشن سیل میں ایک ہنگامہ ہے۔

میں نے انہیں یعنی پھو پھو اور شوقی کو امپریس کرنے کے لیے چھوٹم کو آنکھ مار کر پوچھ لیا ’بطور سینٹر اگر تمہارے بارے میں الیکن سیل والے پوچھیں تو کیا کہوں۔ہوسکتا ہے وہاں سے ڈیمانڈ ہو کہ  سائیں سرکاری پارٹی میں آجائیں۔وہ کہنے لگی میراسائیں صرف اس صورت میں مانے گا جب ان کے گھر کے دو بندوں کو مرکزاور صوبے میں دونوں میں ایک ایک وزارت دیں گے۔ورنہ سائیں کو سندھ کا گورنر۔

میں نے بات میں حقیقت کی رنگولی سجانے کے لیے چھوٹم سے کہا تیرے سائیں کو بتادے کہ اتنا چِھتا (سندھی میں آپے اوقات سے باہر ہونا) نہ ہو ۔یہ وڈیرے اور جاگیردار لوگ ایک ایس۔ ایچ۔ او۔کی مار نہیں۔خلائی مخلوق کا ایک افسر ان کے کسی اسکینڈل کی  ویڈیو یا سیکس کے فوٹو اس کی بیوی کو بھجوادے گا تو طبیعت صاف ہوجائے گی۔ایس پی صاحب کسی نامعلوم افراد والے کیس میں سائیں کے کمدار (مینجر) کو نیب کے دفتر میں بلالے لگا تو تیرا سائیں بس کی پچھلی سیڑھی سے  لٹک کر سوتھن(سندھی میں شلوار) اور چیک بک سنبھالتا آئے گا۔چھوٹم کہنے لگی ”سالی یہ چالاکی پہلے بتاتی تو سائیں سے شادی کے پہلے والے معاہدے (Pre-Neputials) میں ایک پراڈو اور کراچی میں کریک وسٹا کا نیا فلیٹ ڈلوالیتی۔

پھوپھو یہ سب کچھ سن کر برگ بے آسرا کی مانند کپکپا رہی ہیں۔ساس کا وہ بانکپن، پر اعتماد لب و لہجہ سب کا سب طوفانی بارش میں مٹی کی گیلی قبر جیسا ہوکر موت کے سکوت میں بدل گیا ہے۔ان کے لیے یہ ناقابل یقین قسم کا حوالہ ہے۔ ایسا بیانیہ جسے انگریزیAll Greek کہیے۔پھوپھو کا باپ یعنی میرا دادا پٹواری تھا۔ ان کا عاشق اور راجیش کھنا کا دیسی ورژن، ان کے پہلے بیٹے کاباپ اسکول وین کا ایک معمولی ڈرائیور، اسٹینڈ بائی میاں اور شوقی بے بی کا باپ عمر میں بیس سال بڑا اور چھوٹے قصبے میں احساس کمتری کا مارا اردو کا سرکاری پروفیسر، بھائی محض کرنل ۔ اس سے آگے ان کے سامنے ایک ناقابل فہم و شکست آ ہنی پردہ (Iron Curtain) ہے۔یہ بڑے عہدے اور نام ان کے لیے ایک انکشاف اور بھونچال ہیں۔

دس بجے کھانا کھاکر میں گہرے نیلے رنگ کا چوڑی دار پاجامہ، لمبا کھلا کرتا اور ہلکی نیلی شال پہن کر چلی گئی ۔باقی اہتمام میرے چھوٹے سے ڈفل بیگ میں موجود ہے۔ وہ بیلی ڈانسر والی بَرا جو گڈو پچھلے دنوں شام جاتے ہوئے ترکی سے میرے لیے لائے۔وہ ناف اور سینے پر سجانے والا گلٹر اور مہندی۔سب کچھ سمیٹ کر میں فیضو بھیا کے ساتھ گڈو کی طرف نکل گئی۔راستے سے گڈو کو فون کیا۔کہتے ہیں کہ حضرت سیکرٹری صاحب کے گھر ہیں۔مجھے کہنے لگے گھر پر صبا موجود ہے۔ Get Dressedآتے آتے گھنٹہ لگ جائے گا۔ میں نے نوٹ کیا ہے کہ گڈو کو صبا کچھ زیادہ پسند نہیں۔ میرے اس سیکسی ٹینڈولکر کے لیے اوشا اس کا ایڈن گارڈن (کلکتہ کا مشہور کرکٹ اسٹڈیم) تھی۔ ہوم گراؤنڈ۔۔ مہربانی فرما کر ذرا یوں بھی سوچیں کہ میرے جیسی بمبئی بریانی دستیاب ہو تو صبا جیسی آلو کی بجھیا کون کھائے گا۔

وحشت وصال سے نڈھال ہوکر جب وہ میری بانہوں کے حصار میں سینے میں سر چھپائے لیٹا تھا میں نے آہستہ سے بتادیا کہ میری شادی ہورہی ہے۔ ایسے لمحات میں مردوں کے ہوش اڑانے
ہوں تو چھوٹم کے بقول یہ بہترین ٹائم ہے۔مرد مرا پڑا ہوتا ہے اور عورت قلب زاہد کی مانند بیدار۔میں نے انکشاف کیا ،اور کہا ا بو کی ضد ہے یہ شادی شوقی سے ہو۔ اللہ میرا بچہ۔رونے جیسا ہوگیا۔ ماں صدقے ۔ یہ میں نے کیا ظلم کیا اپنے منُے ارسلان پر ۔میں نے اس کا دل باندھنے کے لیے پہلی دفعہ کہا۔ میری مرحوم ماں کی قسم جتنی ابھی تیری ہوں اس سے زیادہ تیری بن کے رہوں گی۔شوقی کوبس میرا ڈرائیونگ لائسنس سمجھ۔ ٹریفک پولیس کے چالان سے بچنا ہے۔گاڑی تونے ہی چلانی ہے۔بہن کی آنکھ شوقی اور اس کی ماں کی۔۔۔۔ کرنل صاحب یعنی میرے ابو دل پکڑ کر بیٹھ گئے تھے۔سوتیلی امی نے بھی اپنا سہاگ بچانے کے لیے دوپٹہ پیروں میں ڈال دیا تھا۔شوقی نے نماز کی ٹوپی پیروں پر رکھ دی اور پھوپھو شہلا نے اپنا بھائی بچانے کے لیے میرے  پاؤں پکڑ لیے۔میں نے جھوٹ بولا۔اب آپ کو پتہ چلا کہ ہم سیاست دان کس خوبصورتی سے جھوٹ بولتے ہیں۔

اسے مزید قائل کرنے کے لیے بتایا کہ پہلے وجدان تھا۔ پھر سعید، ہر دفعہ بس میری ہی مرضی چلی۔ اب کی دفعہ مجھ میں ہمت نہ تھی کہ انکار کرتی۔
وہ بستر میں اٹھ کر بیٹھ گیا۔عریاں مرد بستر میں بے آسرا بیٹھا ہو تو بالکل ایسا لگتا ہے جیسے پرانا خالی بٹوہ۔یہ پہلی دفعہ اندازہ ہوا۔مرد ننگ دھڑنگ ہو توبھونڈا لگتا ہے۔ مرد جب بچہ ہو تو بس پانچ سال تک ننگا اچھا لگتا ہے۔عورت اگر سامنے سے اپنی  ناف سے نیچے کی عریانی کا بندوبست کرلے تو Venus de Milo کا مجسمہ لگتی ہے۔ دور دور سے مشتاقان دید چلے آتے ہیں۔یہ میری سوچ ہے۔غلط بھی ہوسکتی ہے۔آپ کے دماغ میں ہوسکتا ہے مائیکل اینجلو کا فلورنس والا ڈیوڈ کا مجسمہ ہو مگر اس کے چہرہ۔ پوز اور اس کے سکس پیک اچھے لگتے ہیں۔سامنے لٹکتی بدصورتی دیکھو تو بہت مایوسی ہوتی ہے۔

مجھے لگا میرے چندا ارسلان آغا پر میری جانب سے بی یک وقت تین حملے ہوئے ہیں۔
ایک میری شادی کا اعلان۔ دوسرا میرا اسے تو ُ سے مخاطب کرنا اور تیسرا وجدان کاذکر۔ اسے تُو کہہ کر مخاطب کرنا میرے لیے ایک طرح کی Celebration تھی۔ اب میں قومی اسمبلی کی ممبر ہوگئی ہوں۔ وہ محض ایک بیورو کریٹ ہے ۔وہ زمانے گئے جب ایک اصلی تے وڈے آئی سی ایس افسر نے بلوچستان سے چنے ہوئے ایک مولوی وزیر کے پاس چپڑاسی بھیج کر کہا تھا سیکرٹری صاحب نے پوچھا ہے کیا کام ہے۔گڈوبھلے سے میرے بچے کا باپ سہی مگر اس کی حیثیت تو محض ایکSperm -Donor کی ہے۔ میرا اسے توُ کہہ کر مخاطب کرنا میرے نزدیک پیار کا بیان ہے یا طاقت کا اس کا فیصلہ وہ خود کرے۔

اس نے بھی لیساں سوئزرلینڈ میں مجھے درد مدھم پڑنے اور آہوں سے سانسوں کے بحال ہونے تک جب اس کا احساس تفاخر اور جذبہ تسخیر عروج پر تھا تو پہلی دفعہ توُ کہہ کر پکارا تھا۔ میں نے اس طرز تخاطب کو بہت انجوائے کیا تھا ۔ اس نے پوچھا تھا ’بتا میں تیرا کون ہوں؟‘۔۔۔اس وقت میں نے کہا تھا۔۔’آپ میرے وہ سب کچھ ہیں جو کوئی اور نہیں‘ دوسرا سوال وہ میں کیسے بھول سکتی ہوں۔اپنی روح کے اس سودے کا دام مجھے یاد ہے۔ پوچھ رہا تھا’ اب بتا تو میری کون ہے‘؟۔میں آپ کی باندی، آپ کی غلام، آپ کی رنڈی، رکھیل، بچ، آپ کی عورت سب کچھ اور اس سے بھی زیادہ آپ کے تماثیل آغا کی ماں۔ ہم عورتیں مرد کے پیار میں اتنی اندھی کیوں ہوجاتی ہیں۔اب ایسا نہیں ہوگا۔یہ میں نے اب اس وقت اسے اپنا رشتہ طے ہونے پر تُو کہنے کے دوران تہیہ کیا ہے۔ اب یہ سپردگی بہت کنٹرول میں رہے گی۔

مجھے نہیں لگتا اسے والدین یا مرد دوستوں کے علاوہ آج تک کسی خاتون نے تُو کہہ کر پکارا ہو۔اس کی شخصیت کے ارد گرد شیشے کی ایک ایسی چار دیواری ہے۔ بوتل کے کانچ والی باڑھ،جسے پھلانگنا آسان نہ ہو۔میں نے اسے بانہوں میں واپس گھسیٹنے سے پہلے کہا ’جاؤ کافی بناکر لاؤ تو ایک دفعہ پھر میاں کے نعرے وجن گے۔ وہ کچن میں چلا گیا تو معمولی وقفے کے بعد میں بھی پیچھے چل دی۔جاکر پیچھے سے کمر میں بانہیں ڈال کر پکڑ لیا۔ مڑا تو کہا اپنے بیٹے کو پیار تو کرو۔ میں جب بے لباس ہوں تو پتہ لگتا ہے کہ پیٹ میرے بدن میں خوشیوں کی دھنک جیسا ایک نمایاں قوس سا بننے لگا ہے۔اس پر ہاتھ پھیرنے میں  مجھے ایک تسکین اور تفاخر محسوس ہوتا ہے۔

کافی ہم نے وہاں رکھی ٹیبل پر بیٹھ کر پی۔ گڈو نے مجھے آہستہ سے کہا جانے کیوں لگ رہاہے کہ تم میں ایک غیر ضروریPower Expression (طاقت کا اظہار) آگیا ہے۔میں نے چھیڑا اب کراچی جاؤ تو اپنی امی سے پوچھنا کہ پیٹ میں بچہ لے کر گھومنے والی ماں سے زیادہ دنیا میں اورکون طاقت ور ہوتاہے۔پہلی دفعہ مجھے لگ رہا ہے کہ میرے قدم اس سے پہلے آگے بڑھ رہے ہیں۔بہت باتیں ہوئیں۔ کئی دفعہ پیار بھی کیا۔ مجھے یقین نہیں شوقی اس قدر پپرجوش ہوگا۔ عمر میں ارسلان سے تو دس سال چھوٹا ہے۔فارسی میں کہتے ہیں ایں سعادت بہ زور بازو نیست۔ میں نے یقین دلایا کہ گڈو میری جان میں نے اپنی زندگی کو اتنا Reformat کرلیا ہے کہ اس پر ہر قسم کا ڈیٹا اسٹور ہوسکتا ہے۔ تم تو میری سسٹم فائل ہو۔

رات مہتاب اور صبح گلاب۔ہوٹل کا حجلہء عروسی
رات مہتاب اور صبح گلاب۔ہوٹل کا حجلہء عروسی

اسمبلی میں اپنا حلف اٹھانے کے بعد میری شادی شوقی سے ہوگئی۔ پھو پھو کے ارمان تھے کہ ذرا دھوم دھڑکا ہو۔ کہروڑ پکا میں بارات آئے، کھانا ہنگامہ ہو ، لاہور میں ولیمہ بھی ہو۔ کنجریوں کے مجرے پر بندوق سے ٹھوں ٹھاں بھی ہو۔دونوں بھائیوں کی آپس میں نہیں بنتی لہذا ماں کی ضد کے باوجود طوقی نہیں آیا۔ میں  نے شوقی کو سمجھایا کہ تقریب اگر خاموشی سے نہ ہوئی تو مجبوراً مجھے صدر کو بلانا پڑے گا۔ دونوں ہاؤس کے ممبرصاحبان، میری طبیعت بھی ٹھیک نہیں، ہر آدھے گھنٹے بعد الٹیاں ہوتی ہیں۔الٹیاں کرتی دلہن کیسی لگے گی۔اسکینڈل کھڑا ہوجائے گا کہ ہمارے شادی سے پہلے جنسی تعلقات تھے۔مجھ میں اور ابو میں اتنی ہمت نہیں کہ اسمبلی، گورنر، آدھا جی ایچ کیو کہروڑ پکا چلا آئے اور ہم مہمانداری کریں۔تم نے بھی اگلے ماہ روانہ ہونا ہے۔شادی تمہاری میری ہے۔ کسی اور کی نہیں۔

میں نئے کیرئیر کی ابتدا ایک SOFT OPENING (نرم آغاز) سے کرنا چاہتی ہوں۔ جلدی سے بہترین ڈگری لے کر آؤ تو ارسلان کو وزارت داخلہ کا سیکرٹری لگو اکر تمہیں بھی نادرا میں DG Projects لگوادوں۔اسے نہیں معلوم کہ  ارسلان کو ابھی گریڈ بیس نہیں ملا۔طوقی سے دوری کی وجہ سے ماں اس کا بڑا مان رکھتی ہے۔ اس نے سمجھایا تو پھوپھو مان گئیں۔ارے ہاں چھوٹم بھی حاملہ ہے۔
میں نے پوچھ لیا کہ ایسا اتاولا پن کیوں اس کا کہنا ہے مزید لیٹ ہونے کا مطلب ہے۔ سائیں سے طلاق کا خطرہ ہوسکتا ہے۔

شادی پر میں نے گڈو کو بھی دعوت دی اس کا ارادہ آنے کا نہ تھا مگر میں نے کہا اس سے ہمارے تعلقات پر پردہ پڑا رہے گا۔ میرا برائیڈل سوئٹ (حجلہء عروسی) ایک پانچ ستارہ ہوٹل میں تھا۔دلہن تیار ہونے کا پارلر بھی وہیں پر ۔میں نے گڈو کو بھی وہیں بلوالیا ہے۔میرا اصلی میاں تو وہی ہے نا۔ڈش کو سب سے پہلے تو شیف ہی چکھتا ہے نا۔یہ جائز ہے۔ میرا میک اپ کرنے والی لڑکی کی بڑی مرضی تھی کہ عرب عورتوں کی طرح پیٹ اور دیگر مقامات پر ویلکم ویلکم۔پیر صاحب ویلکم۔قسم کے ایم کیو ایم کے ابتدائی دنوں والے نعرے، مختلف بیل بوٹوں کے ساتھ لکھ مارے۔میں نے سمجھایا کہ جھلی ایک تو میں ایم این اے  ہوں۔ That way I am very cool
میں نے یہ بھی سمجھا دیا کہ میری دوسری شادی ہے اور طبیعت بھی ناساز ہے۔So Spare me for another day۔پارلر کی مالکن نے کہا وہ لڑکی کو چھوٹم کے گھر بھیج دے گی۔میں نے کہا مجھے فوڈ پوائزننگ ہوگئی ہے۔ ممکن ہے مجھے نکاح سے پہلے ری ٹچنگ کی ضرورت پڑے۔ ڈریسنگ بھی وہ مجھے چھوٹم کے ہاں ہی کریں گے۔ہوٹل سے میں چھوٹم کے ساتھ آؤں گی۔مجھے اور چھوٹم کو نہیں
معلوم کہ ہوٹل پبلک پلیس ہوتے ہیں اور یہاں آنے جانے والوں پر خلائی مخلوق بڑی کڑی نگاہ رکھتی ہے۔نائن الیون کے بعد دنیا پہلے جیسی نہیں رہی۔ ارسلان چالاکو ہے۔ اسی لیے اس نے مجھے گاڑی بھیج کر اپنے کسی دوست کے گھر چک شہزاد بلوالیا ہے۔دو گھنٹے کی رفاقت ہے۔اداس اور چپ چپ ہے۔ رویا رویا سا بھی لگتا ہے۔میں اس رانڈ رونے کو کسی سچے عشق سے زیادہ اس کے اپنے حق میں ایک سونے کے انڈے دینے والی مرغی کا نقصان سمجھتی ہوں۔ ایساہی عشق تھا تو مجھے اور اوشا کوصبح شام طبلے کی جوڑی سمجھ کر نہ برت رہے ہوتے۔

اوشا سے اس کے جنسی روابط کا میرے پاس کوئی ثبوت نہیں مگر میں اس بارے میں بہت شدیدبد گمان ہوں میری چھٹی حس،میرا نسوانی ادراک مجھے یہ باور کراتا رہتا ہے کہ یہ موقع  ملتے ہی بستر میں دونوں بقول گڈی تو گنگا کی موج میں جمنا کا دھارا بن جاتے ہیں۔ اوشا کے بیٹے ماہر کا چہرہ بھی میں نے بہت غور سے دیکھا بلکہ میں ایک جوڑا خرید کر لے گئی تھی۔مہنگا سا، گھوڑے کے نشان والی ٹی شرٹ،جینز، بیلٹ، جاگرز۔ خود اس لیے تیار کیا کہ کوئی تل کوئی برتھ مارک دیکھوں۔ گڈو کے شانے کے پیچھے ایک برتھ مارک ہے۔ ماہر کی شکل بھی اپنی ماں سے ملتی ہے۔گڈو سے بالکل نہیں۔اوشا نے پوچھا بھی تھا کہ میں  ماہر کو بہت غور سے تکتی ہوں۔مجھے یہ بات گڈو نے پوچھی بھی تھی۔میں نے کہا ماں ہوں نا۔ ہم مائیں بچوں کو بہت مختلف انداز سے دیکھتی ہیں۔ میری اس حرکت اور دو تین دفعہ انہیں کہروڑ پکا منتقل کرنے کی ضد سے انکار پہلی نافرمانی ہے جو گڈو نے کی ہے۔ اس کو کراچی بھجواکر ائیر ہوسٹس بنوانا بھی مجھے اسی کا چمتکار لگتا ہے۔

میرا بیٹا تماثیل پیدا ہوا تو سب کو حیرت ہوئی کہ اس کا باپ شوقی نہیں آیا۔میں نے سمجھایا کہ وہاں پڑھائی کا بہت بوجھ ہوتا ہے۔سردیاں ذرا کم ہوں تو میں خود لے جاؤں گی۔میری مرضی تھی کہ بیٹے کی پیدائش کی خوشی میں وہ گڈو یہ گھر تماثیل کے نام کردے۔اس کی ضد ہے کہ عنادل پیدا ہوجائے گا تو دونوں کے نام ایک ساتھ کاغذات میں ڈلوادوں گا۔ جائیداد کے کاغذات میں ذرا سی بھی ہلچل ہوتی ہے تو جنرل امجد کے نیب والے سونگھتے ہوئے پہنچ جاتے ہیں۔ ان دنوں باؤلے ہوئے ہیں۔نئی فوجی حکومت کا پہلا نشانہ ہم سول سروس والے ہوتے ہیں تاکہ مال کمانے کے گر ان کے اپنے فوجی افسر سیکھ لیں۔ ٹرسٹ می۔ میرا آپ کے اور ان کے علاوہ دنیا میں اور کون ہے۔

میں زیادہ تر اب گڈو کے گھر رہتی ہوں۔میرا اندازہ غلط نکلا ہے۔ رات کو میں سوئی رہتی ہوں تو وہی تماثیل کو سنبھالتا ہے۔ ویسے تماثیل ہے بھی اپنے ابو جیسا۔آنکھوں میں ذہانت کی چمک اور میرے  جیسے اجلی کشمیری رنگت۔دودھ پیتے پیتے اکثر منہ  ہٹا کر کبھی مجھے تو کبھی گڈو کو دیکھتا ہے۔سینے پر طبلہ بھی بجاتا ہے۔گڈو کی بھی یہ ہی عادت ہے میں چھیڑتی ہوں کہ میرے سینے کا جو تم دونوں باپ بیٹا حال کرتے ہو تو لگتا ہے کہ استاد ذاکر حسین کی اور تمہاری جینز ایک ہیں۔عجب سرخوشی کا عالم ہوتا ہے اس کے سینے پر میں اور میرے سینے پر تماثیل،ہمارا بیٹا۔ارسلان کی فرمائش پر میں  نے وزیر اعظم کو کہہ کر اسے پیرس۔ فرانس میں Commercial Counselor  لگوا دیا ہے۔

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *