• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • سفر نامہ: شام امن سے جنگ تک۔ حمص کا ابو حارث کیا سُناتا ہے/سلمیٰ اعوان۔۔قسط23

سفر نامہ: شام امن سے جنگ تک۔ حمص کا ابو حارث کیا سُناتا ہے/سلمیٰ اعوان۔۔قسط23

شام میں اقتصادی بحران نے اپنا منحوس سایہ حمص کے متوسط طبقے کے لوگوں پر ڈالا،جو کہ آسمان کو چھوتی قیمتوں،ٹیکسوں کی بلند شرح اور کم آمدنی کی صورت میں زندہ رہنے کے لیے جدوجہد کررہے تھے۔یہ کتنا بڑا المیہ تھا کہ نوجوان جب تک 30سال کے نہ ہوجاتے وہ شادی نہیں کرسکتے تھے۔ وہ اپنے خاندان کا آغاز نہیں کرسکتے تھے۔

یہ بھی بڑی کربناک بات تھی کہ ملازمتیں دینے میں امتیازی سلوک نے مقامی لوگوں میں اسد حکومت کے خلاف غصے میں اضافہ کردیاتھا۔ایک مخصوص مسلکی لوگوں نے سرکاری ملازمتوں پر غلبہ ہی حاصل نہ کیا تھا،دوسری مسلکی اکثریت کو نظرانداز کرکے مراعات اور فائدے بھی حاصل کرنا شروع کردئیے تھے۔ عام لوگوں نے نے خود کو غلاموں کی طرح محسوس کیا۔یہ صورت ایک طویل عرصے سے جاری تھی۔
ہمارے گھر والوں میں شامی فرقہ پرست حکومت کے خلاف نفرت میں شدت آتی جارہی تھی۔جب میں بچہ تھا تو میرے والد نے حکومت کے خلاف لعن طعن کرنا سکھا دیا تھا۔وہ موقع کی تلاش میں تھا کہ جب وہ لوگوں میں اپنی حکومت مخالف آواز بلند کرپائے۔
تو آخر وہ وقت آگیا جب مظاہرین اپریل 2011میں حمص کے مرکز میں اکٹھے ہوتے ہیں ،یہ وہ دن تھے جب شام کے شہری اُن ڈگمگاتی ہوئی عرب ظالم حکومتوں کو دیکھ کر خوش ہورہے تھے جو کہ تیونس،لیبیا،مصر اور یمن میں انقلابی تحریکوں کے پھیلنے کے بعد ڈگمگارہی تھیں۔یہ تو صاف ظاہر تھا کہ یہ انقلابی بخار شام تک بھی ایک نہ ایک دن پہنچ جانا تھا۔لیکن ہمیں یہ توقع بالکل نہیں تھی کہ درعا کے بچوں نے شہر کی دیواروں پر اشتعال انگیز تحریریں لکھ کر بغاوت کی آگ کو اتنی جلدی ہوا دے دی ہے۔

”ڈاکٹر بشراب تمہاری باری ہے۔“حکومتی سخت کاروائی جو درعاکے لوگوں پر کی گئی تھی وہ ہمیں اپریل 2011کو (حمص) کی گلیوں میں لے آئی تھی۔جو کہ شامی انقلاب کا نقطہ آغاز تھا۔
تاریخی مسجد خالد ابن الولید وہ بنیادی جگہ تھی جہاں شامی حکومت کے خلاف نافرمانی کی پہلی لہر نے مارچ شروع کیا۔اِس احتجاج میں تقریباً 1300آدمی تھے،کچھ حکومت کو گرانے کے نعرے لگارہے تھے۔حکومت کی بدعنوانیوں کو گنوا رہے تھے۔ سکیورٹی فورسز پر پتھراؤ کررہے تھے۔
سکیورٹی فورسز نے احتجاج کرنے والوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور پانی کا استعمال کیا اور کچھ لوگوں کو گرفتار کرلیا۔تین ہفتوں کے بعد حکومتی برداشت ختم ہونا شروع ہوئی اور اس نے براہِ راست اسلحہ استعمال کرنا شروع کردیا جس نے پُر امن احتجاج کو مسلح انقلاب میں بدل دیا۔

میں ان احتجاجیوں میں سے ایک تھا جو گرفتار کرلیا گیا ،کئی ساتھیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ بعض کوماردیا گیا۔حمص میں سکیورٹی برانچ میں حراست کے دوران مجھے بجلی کے جھٹکے لگا کر اذیت دی گئی اور مارا پیٹا گیا۔جب عام معافی کا اعلان ہوا، تب مجھے چھوڑا گیا۔اس کا بڑا مقصد لوگوں کے غصّے کو کم کرنا تھا۔ قید کے دوران میں نے ایک چھوٹے جہادی گروپ میں شمولیت اختیار کرلی۔وہ اچھی طرح تربیت یافتہ تھے اور ہتھیاروں کی تجارت کرتے تھے۔ میں نے ان پُر تشدد واقعات کی اپنے موبائل میں فلم بھی بنائی اور اسے یوٹیوب پر چلانے کے لیے اپنے ان دوستوں کو بھیج دی جو باہر ممالک میں رہتے تھے۔

گلف ریاستوں سے مخیر حضرات کے فنڈ سے میں نے ایک میڈیا گروپ تشکیل دیا اس میں کوئی اکیس 21 مسلح آدمی تھے۔ہم حکومتی جرائم کو فلماتے تھے۔
عطیات کی صورت ہمیں انسانی مدد کی شکل میں بھیجی گئی تھیں جنہیں ہم نے میڈیا کے سازوسامان اور ہتھیار خریدنے کے لیے بیچ دیا۔میں نے کئی معرکوں میں حصّہ لیا جب تک کہ (بابا عمر) جو کہ (حمص) کا ایک ضلع ہے۔اُسے حکومتی فوج نے محاصرے میں نہ لے لیا۔تب بہت سے مقامی لوگوں کو فرار ہونا پڑا۔
میں نے سلافی حزب الطاہر میں شمولیت اختیار کرلی جو کہ ایک اسلامی ریاست کے لیے آواز بلند کررہی تھی۔ ان کے ساتھ میں نے بہت سی جنگی مہارتیں سیکھیں۔لیکن میں (جباہتہ النصرہ) کے عروج کو بڑی تحسین کے ساتھ دیکھ رہا تھا۔ان کے شہادت کے کارناموں سے مکمل طور پر متاثر تھا۔اب ہماری لڑائی عالمی برادری سے،امریکہ اور صلیبی جنگجوؤں سے ہے۔

محاصرہ دو سال تک جاری رہا اور یہ ہمارے لیے بڑی سخت آزمائش تھی، اور ہمیں کیڑے مکوڑوں، گائے کی چمڑی اور پتے کھانے پر مجبور ہونا پڑا۔میں نے مارچ 2014 میں آئی ایس آئی ایس(داعش) سنی مجاہدین کی تحریک سے وفاداری کا عہدلیا۔میں نے ایک ماہ کا شریعتہ کورس مکمل کیا جس میں قرآن سیکھنے کے لیے فی دن پانچ اسباق شامل تھے۔اسلام کی شرائط، آئس کا نظم و ضبط اور اسلامی شریعت بھی اس کورس میں شامل تھے۔پھر موصل اورراقہ آزاد کرالئیے گئے ہم اصل اسلامی ریاست بن گئے۔

میری زندگی مکمل طور پر تب سے تبدیل ہوئی ہے جب سے میں نے آئسISIS(داعش) میں شمولیت اختیار کی۔میں ایک جاہل آدمی تھا جو کئی لڑکیوں سے دوستی رکھتا تھا لیکن اس کے بعد نہیں جب میں نے جان لیا کہ اصل اسلام نہیں کہ کسی لڑکی سے شادی کیے بغیر اس سے محبت کی جائے۔ مجھے فٹ بال کھیلنے کی بجائے شریعت سیکھنی تھی اور بے دین لوگوں سے لڑنا سیکھنا تھا۔ گانوں کی بھی اجازت نہیں۔اب میری زندگی کا ایک مقصد ہے اور ایک ریاست ہے جس کا مجھے دفاع کرنا ہے۔

چند دنوں میں تیونس کی ایک جہادی ڈاکٹر سے شادی کرنے والا ہوں۔میں نے اس کی مدد کی ،اور بہت سے لوگوں کی برطانیہ، فن لینڈ اور پاکستان سے یہاں آنے میں آئسISIS(داعش) جہادیوں کو خوراک، رہائش اور خرچنے کے لیے پیسہ دیتی ہے۔ اگر ایک جہادی شادی کرنا چاہتا ہے تو آئسISIS(داعش) اُسے پیسہ دیتی ہے اور اس کے گھر کا کرایہ ادا کرتی ہے۔

شامی حکومت کمزور ہے۔ اس کے پاس ٹینک اور طیارے ہیں لیکن لڑنے والے ناکافی۔ہماری جنگ اب عالمی برادری،امریکہ اور صلیبی جنگجوؤں سے ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ امریکہ نہیں چاہتا کہ اسد جائے ورنہ اس کو پہلے ہی ہفتے ہٹا دیا گیا ہوتا۔ وہ یہ چاہتے ہیں کہ شام کے لوگ کہیں:”ہم بس ہوگئے ہیں۔حکومت نے ہمیں شکست دے دی ہے۔براہِ مہربانی آئیں اور ہماری مدد کریں۔“وہ کہیں گے کہ حل مذاکرات اور مخلوط حکومت ہیں جس سے تمام شہیدوں کو خون رائیگاں جائے گا۔
میں اب الفرقان میڈیا سنٹر کے لئیے کام کرتا ہوں ہم نے اُردن کے ہواباز کے قتل کے لئیے رائے شماری کرائی۔شام میں بہت سے لوگ اس بات سے متفق تھے۔شام کے لوگ جانتے ہیں کہ یہ صلیبی جنگ، یہ بے دین اور بدخواہ اتحادمسلمانوں کے خلاف ہے۔آئس ISIS(داعش) کے نہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *