استاد کی عظمت کو سلام۔۔۔رمشا تبسّم

اس بات سے انکار نہیں کہ اب اکثر استاد کے روپ میں منفی کردار سامنے آتے رہتے ہیں۔جو طالب علموں پر ذہنی ,جسمانی تشدد, جنسی زیادتی, حتی کہ  طالب علموں کا قتل کرنے جیسے جرائم میں بھی شامل ہیں۔ اور اسی طرح طالب علم بھی استادوں کے قتل اور استاد کی توہین کا باعث بنتے نظر آتے ہیں۔
مگر یہ تمام منفی پہلو بہت کم شرح میں ہیں،اور مثبت پہلو اور اثرات نظر انداز کر کے صرف منفی پہلو پر بات کرنا انتہائی نا مناسب  ہے۔ استاد کے روپ میں چند کالی بھیڑیں موجود ہیں مگر اسی روپ میں بے شمار مسیحا اور خوبصورت معلم بھی موجود ہیں۔وہ معلم جن کی وجہ سے آپ اور میں آج تعلیم یافتہ کہلاتے ہیں اور بہتر معیارِ زندگی کی طرف کوشاں ہیں۔

جن کے کردار سے آتی ہو صداقت کی مہک
ان کی تدریس سے پتھر بھی پگھل سکتے ہیں

آج “ورلڈ ٹیچرز ڈے” پر ہمیں تمام استادوں کا شکریہ ادا کرنا چاہیے اور ان کی عظمت کو سلام پیش کرنا چاہیے۔اسلام نے استاد کو بہت بلند درجہ عطا کیا ہے۔
ارشادِ گرامی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ :۔
’’استاد کی حیثیت روحانی باپ کی سی ہے ‘‘۔
حضرت علی ؓ کا فرمان ہے کہ:۔
’’جس شخص سے میں نے ایک لفظ بھی پڑھا میں اس کا غلام ہوں، چاہے وہ مجھے بیچ دے یا آزاد کردے‘‘
سکندر اعظم استاد کا بے حد احترام کرتا تھا ۔ کسی نے اس سے اس کی وجہ پوچھی تو سکندر نے جواب دیا ۔۔
’’میرا باپ مجھے آسمان سے زمین پر لایا ۔ جبکہ میرا استا د ’’ارسطو‘‘ مجھے زمین سے آسمان پر لے گیا ۔ میرا باپ باعث حیات ِ فانی ہے اور استاد موجب حیات ِ جاوداں ۔ میر ا باپ میرے جسم کی پرورش کرتا ہے اور استاد میری روح کی۔

انسان کو پیدائش کے بعد بشریت سے آدمیت تک تراشنے والی ہستی معلم کی ہی ہے۔ اور اس ہستی کا احترام ہم سب پر کتنا لازم ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے خود کو معلم کہا۔اور آپ ؐ کے شاگرد آپ ؐ کےصحابہ کرام ؓ تھے اور وہ آپ ؐ کا کتنا احترام کرتےتھے ۔ دنیا کی تاریخ ایسی نظیر پیش کرنے سے آج تک قاصر ہے اور تا قیامت  رہے گی۔

والدین اولاد کی بنیادی ضروریات پورا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔اولاد کو بہتر معیار زندگی دینے کی غرض سے والدین دن رات محنت کرتے ہیں۔مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ کوئی بھی والدین بچوں کی مکمل تعلیم کی ذمہ داری خود  نہیں نبھا سکتے  ۔ والدین بچے کے پہلے لفظ بولنے پر اسکو کچھ سکھانے کی بجائے سکول یا ٹیوشن ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔اور  اس  خدمت کے لئے وہ پیسہ ضرور ادا کرتے ہیں مگر تعلیم کی ذمہ داری سے دستبردار ہو جاتے ہیں۔وہ چھوٹے چھوٹے لفظ بولنے والے ،ننھے ننھے ہاتھ پاؤں رکھنے والے اور توتلی زبان    میں میٹھی باتیں  کرتے بچے استاد کی مدد سے ہی الفاظوں میں نکھار حاصل کرتے ہیں۔

پلے گروپ یا نرسری میں اپنا ننھا سا وجود سہما سا دل لے کر بیٹھنے والے بچوں کا تعلیمی سفر ٹیچرز کے ساتھ کچھ نظموں سے شروع ہوتا ہے۔جیسا کہ
“چھوٹی سی گڑیا
چھوٹے چھوٹے بوٹ
گوٹے والا سوٹ
نرسری میں پڑھتی ہے
سب کو بائے بائے کرتی ہے”
اور یہ سفر   کامیابیوں اور ناکامیوں سے ہوتا ہوا چلتا رہتا ہے۔۔آج ہم جو معاشرے میں ایک  مقام رکھتے ہیں، بہتر سے بہترین نوکری کر رہے ہیں وہ سب استاد کی محنت کا نتیجہ ہے۔استاد کوئی ایک شخص نہیں بلکہ ہماری زندگی کا ایک ایسا عنصر ہے جس کے بنا ہمارا وجود، ہمارا مقام، ہماری زندگی ادھوری ہے۔ہر دور میں ہم کسی نہ کسی صورت میں مختلف اشکال میں استاد سے وابستہ رہتے ہیں اور سیکھتے رہتے ہیں۔اور ان کے بنا ہمارا وجود بالکل بےکار ہے۔ ہمیں دنیا میں  لانے والی شخصیت والدین کی ہے ،بولنے کی سکت دینے والی ذات اللہ پاک کی ہے اور اس بولنے کے لئے بے شمار الفاظ عطا کرنا اور بولنے کی ہمت کرنا, آگے بڑھنا, بہتر سے بہترین کی طرف جانا صرف اور صرف استاد کی وجہ سے ہے۔

آئیں! منفی کرداروں کو بھلا کر آج اپنے تمام استادوں کو سلام پیش کریں۔وہ استاد جنہوں نے ہمیں نظمیں سکھاتے سکھاتے انٹرنیشنل لیول تک بولنا اور آگے بڑھنا سکھا دیتا۔
میں تمام ٹیچرز کی شکرگزار ہوں جو ہمیں پڑھاتے آئے  ہیں اور پڑھا رہے ہیں۔

اور میں “مکالمہ” اور مکالمہ ٹیم کی بھی شکر گزار ہوں جنہوں نے میرے لکھنے میں نکھار پیدا کیا۔اور میرے عام سے لفظوں کو خاص بنانے کی طرف میرا سفر ہمت اور حوصلے کے ساتھ جاری رکھنے میں تعاون کیا۔میں نے مکالمہ سے بھی بہت کچھ سیکھا اور سمجھا اور انشا اللہ آگے بھی یہ سفر یونہی جاری رہے گا۔میرے لئے مکالمہ بھی ایک استاد کی حیثیت رکھتا ہے اور اسکی بنیاد ڈالنے والے انعام رانا سر کا بھی شکریہ جنہوں نے سیکھنے اور سکھانے کے اس عمل کی بنیاد ڈالی۔

تمام ٹیچرز کے لئے ڈھیڑوں دعائیں, اور جو آج تک آپ کو تنگ کیا, شرارتیں کیں جو آپ نے کبھی برداشت کی, کبھی ڈانٹا بھی, کبھی محبت سے جواب دیا ان سب کے لئے بہت سا پیار!

دیکھا نہ کوہ کن کوئی فرہاد کے بغیر
آتا نہیں ہے فن کوئی استاد کے بغیر!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *