خدا کے گھر کی بھی خبر لیجیے۔۔۔محمد اظہارالحق

یہ دارالحکومت کی مشہور و معروف جناح سپر مارکیٹ کا ایک ریستوران تھا جہاں ہم چند دوست بیٹھے ہوئے تھے۔ نماز کا وقت ہوا تو اُٹھے۔ جناح سپر مارکیٹ اور صفا گولڈ پلازا کے درمیان ایک چھوٹی سی مسجد ہے۔ جیسے ہی اندر داخل ہوئے بدبو کے بھبکوں نے استقبال کیا۔ چھوٹے سے کمرے پر مشتمل یہ مسجد تھی۔ ہوا کی نکاسی کا کوئی انتظام نہ تھا۔ وال ٹو وال قالین نے فرش کو پوری طرح ڈھانپ رکھا تھا۔ سجدے کے لئے پیشانی کارپٹ پر رکھی تو بدبو مکمل طور پر ناقابل برداشت تھی۔ نماز کے بعد ہم لوگ مولانا کی خدمت میں حاضر ہوئے انہیں سمجھایا کہ یہ بدبو قالین سے آ رہی ہے۔ انہیں اپنے فون نمبر دیے اور پیشکش کی کہ ہم پلاسٹک کی صفیں خرید کر بچھانا چاہتے ہیں جو دھوئی جا سکتی ہیں۔ مولانا نے ہمارے فون نمبر بادل نخواستہ نوٹ کئے۔ صاف پتہ چل رہا تھا کہ وہ قائل نہیں ہوئے۔ ہو سکتا ہے وہ اس بدبو کے عادی ہو چکے ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ مسجد کمیٹی سے بات کریں گے۔ زیادہ امکان یہ تھا کہ مسجد کمیٹی میں اردگرد کے تاجر شامل ہوں گے۔ چھ سات ماہ گزر چکے ہیں۔ ابھی تک مولانا کا فون نہیں آیا۔ زمانہ بدل چکا ہے ایک وقت تھا کہ گھروں میں فرش سیمنٹ کے ہوتے تھے۔ پھر چپس پڑنے لگے۔ وال ٹو وال قالینوں یا Rugsکا رواج پڑا۔ یہ سٹیٹس کی علامت بن گیا۔ فیشن کی صورت اختیار کر گیا اس سے ویکیوم کلینر بھی خوب بکے۔ انہی دنوں مساجد’’قالینی صفوں‘‘ کے دور میں داخل ہوئیں۔ اس کالم نگار کو یاد ہے کہ بہت سے قارئین کو بھی یاد ہو گا کہ اخبارات و جرائدمیں قالینی صفوں کے اشتہار چھپا کرتے تھے یہ بلین ڈالر کی انڈسٹری تھی۔ ایک کے بعد ایک مسجدمیں قالینی صفیں بچھنے لگیں۔ بڑے شہروں کے بعد قصبوں کی باری آئی۔ پھر یہ رواج گائوں گائوں پہنچا۔ پہلے مسجد کے اندرونی ہال میں خشک گھاس بچھائی جاتی تھی جو سردیوں میں حرارت کا سبب بھی بنتی تھی۔ مسجدوں کی تعمیر نو ہونے لگی تو قالینی صفیں بچھا دی گئیں۔ یہی وہ زمانہ تھا جب بالائی طبقے کی دیکھا دیکھی مڈل کلاس اور پھر زیریں طبقے کے گھروں میں بھی وال ٹو وال ایک دیوار سے دوسری دیوار تک قالینوں کا فیشن داخل ہو چکا تھا۔یہ قالینیں نہیں تھیں۔ اصل میں Rugsتھیں جو بازار میں کپڑے کے بڑے بڑے تھانوں کی طرح لپٹی ہوئی دیکھی جا سکتی تھیں۔ اردو میں انہیں دری کہا جا سکتا ہے مگر دری پتلی ہوتی ہے۔ بہر طور یہ بھی کارپٹ ہی کہلائیں۔ رواج یہاں تک پہنچا کہ خواب گاہوں اور ڈرائنگ روموں کے بعد سیڑھیاں بھی کارپٹ سے ڈھانک دی گئیں۔ دفتروں میں بھی اس کا رواج ہو گیا۔مگر ع رہتا نہیں زمانہ کسی ایک حال پر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت واضح ہونے لگی کہ وال ٹو وال کارپٹ‘ بدبو گرد ‘ ذرات اور قسم قسم کے جراثیم کا ذخیرہ بن جاتی ہے کچھ گھروں میں باقاعدگی سے روز ویکیوم کلینر سے صفائی ہوتی مگر ایسے گھر‘ مجموعی طور پر‘ تعداد میں کم تھے۔ جنوبی ایشیا میں یوں بھی گرد بہت زیادہ ہے۔ شاہراہوں پر چلنے والی گاڑیوں کی جانچ پڑتال کرنے والے محکمے اپنے فرائض سرانجام نہیں دیتے۔ دھواں‘گر دوغبار اور کثافت ہر پاکستانی کے پھیپھڑوں کی روزمرہ کی خوراک ہے۔ جن کے گھروں میں ویکیوم کلینر نہیں تھے وہ جھاڑو سے قالینیں صاف کرتے، گرد ایک جگہ سے اٹھتی تو دوسری جگہ جا کر قالین میں بیٹھ جاتی۔ ضرورت ایجاد کی ماں ہے! آہستہ آہستہ گھروں سے وال ٹو وال کارپٹ اٹھائے جانے لگے ماربل (سنگ مر مر) یا ٹائلوں کے فرش بننے لگے ان میں خوبی یہ تھی کہ دھونے سے صاف ستھرے ہو جاتے تھے۔ امرا نے ڈرائنگ روموں میں قیمتی ماربل یا ٹائل لگوا کر قالین کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا درمیان میں رکھ لیا۔ جو استطاعت کم رکھتے تھے ان کے لئے بازار میں نسبتاً ارزاں ماربل اور ٹائل دستیاب تھی۔ یہی تبدیلی دفتروں میں ظہور پذیرہوئی۔ افسران کے کمروں سے وال ٹو وال Rugsاٹھا لی گئیں اور عمدہ قسم کی ٹائل یا ماربل لگائے گئے۔ اب کسی دور افتادہ گائوں میں بھی جائیں تو سستے ماربل کا فرش اکثر گھروں میں ملے گا! مگر خدا کے گھر میں ابھی تک قالینی صفیں چل رہی ہیں۔ بہت کم مساجد میں روزانہ ویکیوم کلیننگ ہوتی ہے۔ یہ قالینیں گرد کثافت اور مٹی کے ذرات سے اٹی رہتی ہیں۔ سینکڑوں قسم کے بیکٹیریا اور جراثیم یہاں پرورش پا رہے ہوتے ہیں۔ وضو کر کے نمازی ان پر گیلے پائوں چلتے ہیں یا کھڑے ہوتے ہیں، یوں یہ گیلی ہو جاتی ہیں۔ اکثر و بیشتر مساجد میں سجدہ دیتے وقت قالین سے غیر خوشگوار بو صاف محسوس ہوتی ہے۔ ثواب کے لئے لوگ باگ آ کر جھاڑو دیتے ہیں اس سے منوں کے حساب سے دھول اڑتی ہے جو واپس قالین ہی میں جاتی ہے۔ آنکھوں اور ناک میں اس گرد سے تکلیف ہوتی ہے یہ دمہ کا باعث بھی بنتی ہے۔ ہر شعبے کی طرح اس سلسلے میں بھی تحقیق کا سہرا مغرب ہی کے سر ہے۔ انہوں نے تحقیق کی تو پتہ چلا گرد آلود قالینوں سے تین واضح نقصانات لاحق ہوتے ہیں۔ اول جسم کا مدافعتی نظام کمزورپڑتا ہے۔ دوم ننگے پائوں قالین پر چلنے سے بکٹیریا اور پھپھوندی کا جسم سے براہ راست لمس ہوتا ہے۔ اگر پائوں میں کوئی چھالا ہے یا کھال کھلی ہوئی ہے تو زیادہ نقصان ہو سکتا ہے۔ سوم سجدہ دیتے وقت گندی قالین سانس کو متاثر کرتی ہے اور نماز کے دوران ناک یا منہ کے راستے بیکٹیریا جسم کے اندر داخل ہو جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (عالمی ادارہ صحت ) نے 1980ء میں ایک اصطلاح وضع کی یہ اصطلاح سک بلڈنگ سنڈروم(SBS)ہے یعنی جس ماحول میں ہم رہتے ہیں یا کام کرتے ہیں یا عبادت کرتے ہیں وہ ہماری صحت پر کتنا منفی یا مثبت اثر ڈالتا ہے۔ اسی شعبے کے ماہر ڈاکٹر بیری مائیکل کی تحقیقات بتاتی ہیں کہ گیلی اور گندی کارپٹ سک بلڈنگ سنڈروم(SBS) کی بہت بڑی وجہ ہے۔ کمرے کی فضا اس سے آلودہ رہتی ہے اور آنے جانے والوں کی صحت پر خطرناک حد تک مضر اثرات پڑتے ہیں۔ ان قالینوں میں بیکٹیریا کی کالونیاں آباد ہو جاتی ہیں۔ کیمیائی ذرات منفی اور ہیجانی کیفیت پیدا کرتے ہیں یہ الرجی کا بھی باعث بنتے ہیں۔ حرمین شریفین میں ہر طرف قالینیں بچھی ہیں مگر وہاں سے ہو کر آنے والوں کو معلوم ہے کہ ہر روز کئی بار ان قالینوں کی صفائی کی جاتی ہے۔ اس درجہ احتیاط ہمارے ہاں مساجد میں ممکن ہی نہیں! سالہا سال سے یہ قالینیں اور ان کے نیچے پڑے ہوئے وال ٹو وال Rugsہٹائے جاتے ہیں نہ فرش دھوئے جاتے ہیں۔ لوگوں نے اپنے گھروں سے قالینیں اٹھوا دیں ٹائل یا ماربل کے فرش لگوا لئے۔ خدا کے گھر میں یہ تبدیلی نہیں لائے۔ لازم ہے کہ یہ قالینیں اٹھوا دی جائیں اور پلاسٹک کی بنی ہوئی صفیں بچھائی جائیں ان کی یہ خاصیت ہے کہ انہیں دھویا جا سکتا ہے۔ کسی زمانے میں مسجدوں میں کھجور کے پتوں سے بنی ہوئی چٹائیاں بچھائی جاتی تھیں ان کا فائدہ یہ تھا کہ گیلا کپڑا مارنے سے صاف ہو جاتی تھیں۔ کچھ عرصہ استعمال کے بعد ان کی معیاد ختم ہو جاتی تھی۔ پھٹ جاتی تھیں یوں نئی چٹائیاں آ جاتی تھیں۔ قالینی صفیں سینکڑوں برس بعد بھی نہیں پھٹتیں۔ نمازی اور مسجد کمیٹیاں مطمئن رہتی ہیں کہ ایک مستقل بندوبست چل رہا ہے وہ یہ نہیں سوچتیں کہ یہ ’’مستقل‘‘ بندوبست کثافت کا باعث ہے۔ کھجور کے پتوں سے بنی ہوئی چٹائیوں کو واپس لانا ممکن نہیں مگر پلاسٹک کی چٹائیوں کا رواج تو ڈالا جا سکتا ہے۔ انہیں ہفتے میں دو یا تین بار دھویا جا سکتا ہے اور ان کے نیچے مسجد کا فرش بھی!! وما علینا الا البلاغ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *