کَٹ۔۔۔(9)ڈاکٹر ستیہ پال آنند

CUT

لینز* پہ کچھ منظر تیزی سے
ابھر رہے ہیں

پہلا منظر

بیل ہانکتے
بل کے پھل پر پاؤں رکھے
اس دہقان کا ہے، جو اپنا
کھیت جوت کر
فصل اُگانے کی امید میں
خون پسینہ ایک کرتا ہے

دوسرا منظر

سوکھے اپلے چنتی
اس عورت کا ہے، جو
پگڈنڈی پر چلتے چلتے
سوچ رہی ہے
کب گھر پہنچے اور بچوں کی
روٹی سینکے

تیسرا منظر

گاؤں کے وسط میں شور مچاتے
کھیلتے کودتے بچوں کا ہے
جو اپنی چھٹی کے دن میں
ہنستے ہنستے
گیند کے پیچھے بھاگ رہے ہیں

چوتھا منظر

بوڑھوں کا ہے
جو چوپال میں
پیڑ کے نیچے بیٹھے
حقہ تازہ کرتے
کھانس کھانس کر
خوش گپیوں میں
وقت کاٹتے
شام ڈھلے ہی گھر جاتے ہیں

ہیں ناں  خوشی کے سارے منظر؟
دل کو راحت دینے والے؟
آنکھ میں ٹھنڈک بھرنے والے

پانچواں منظر
دور سے اُڑ کر
آنے والے
گِدھوں کا ہے
جو اپنی
چونچوں میں بم کے گولے
اور میزائل اٹھائے
دور افق سے گڑ گڑ کرتے
اُڑتے آ کر
گاؤں کے اوپر چھا جاتے ہیں

بعد کے منظر
سب گڈ مڈ ہیں
بیل ہانکتا ہالی
اُپلے چنتی عورت
گیند کھیلتے بچے
حقہ پیتے بوڑھے
یہ چاروں منظر
اب خون میں لتھ پتھ ہو کر
مل جاتے ہیں
پھٹتے گولوں
تیز دھماکوں کی آندھی میں
سب کچھ گڈ مڈ ہو جاتا ہے

گِدھوں کے واپس اڑنے تک
بس اک منظر رہ جاتا ہے
خاک و خوں میں لتھڑی لاشیں
ٹوٹےگھر اور اُدھڑی گلیاں
کہیں کہیں ڈکراتی بھینسیں
آسمان کی جانب اپنے سر کو اٹھا کر
روتے کُتے
پیڑ کے نیچے گرا پڑا
اک اوندھا حقہ
انسانی بستی اب
بھوتوں کا ڈیرہ ہے
Cut

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
* فلم ڈائریکشن میں ایکشن روک دینے کا اشارہ *۔ Lens

ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *