کہروڑ پکا کی نیلماں ۔۔۔اقبال دیوان/مکمل کہانی

دیوان صاحب ایک کہنہ مشق بیوروکریٹ اور سیر و سیاحت تدریس تصوف مصوری کے شوقین ہیں:چیف ایڈیٹر

مصنف مکالمہ کے دیرینہ کرم فرما ہیں، ان کے مکالمہ پر شائع ہونے والے کالمز اور دیگر کہانیاں اس لنک میں

https://www.mukaalma.com/author/iqbal-dewan/

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسکی پول ائیر پورٹ۔ایمسٹرڈیم

ارسلان آغا کو یہ دیکھ کر بے پایاں مسرت ہوئی کہ وہ بی بی جس کے تعاقب میں وہ یہاں کا ؤ نٹر تک پہنچا تھا وہ بھی استنبو ل جانے والی اسی فلائیٹ کے کاؤنٹر پر کھڑی تھی جہاں پر خود اس نے بھی بورڈنگ کے لیے رپورٹ کرنا تھا ۔ سفری دستاویز کی جانچ پڑتال کے بعد ایک بورڈنگ کارڈ کی صورت میں اسے بھی پروانہء روانگی ملنا تھا۔ کاؤنٹر سے کچھ فاصلہ ہونے کی وجہ سے وہ بی بی اور ائیر لائن کے خواتین عملے کی گفتگوسن نہ پایا مگر وہ اسے قدرے ہراساں، سراسیمہ،بے لطف اور لاچار لگی۔۔
ایمسٹرڈم۔ہالینڈ کے اسکی پول ایئرپورٹ کی عمارت میں جب وہ داخل ہوئی تھی اس لمحے ہی وہ اس کی نگاہ میں کھب گئی تھی۔ ارسلان نے اسے دیر تک اور دور تک دیکھا تھا۔وہ عام خواتین سے ذرا دراز قد اور ہر زاویے سے قابل توجہ تھی۔ ایک مکمل پیکر جاذبیت و رعنائی۔ فیشن اسٹیٹ منٹ کی ایک سیل رواں۔ فیض نے بھی ایس ہی کسی بی بی کو دیکھ کر کہا تھا

اسکی پول ائیر پورٹ ،ایمسٹر ڈیم

گداز جسم، قبا جس پہ ناز کرے۔۔۔ دراز قد جسے سر وصحیح  نماز کرے۔

وہ ائیر پورٹ پرواز کے وقت سے پہلے پہنچ گیا تھا۔ اس خیال سے کہ اس کے پاس چیک ان کی بوریت کا دکھ جھیلنے کے لیے خاصا وقت ہے، اس نے مختلف اسٹالز کو اچھی طرح کھنگال لیا تھا اور اب وہ مزے سے ایک کرسی پر براجمان تھا اور جرعہ جرعہ بئیر پیتا تھا۔
اس پری وش کو عجلت میں قدم اٹھاتا دیکھ کر ذرا حیرت ہوئی۔ بی بی کی چال توایسی تھی کہ وقت کیا شے تھا وہ اگر رک جاتی تو گردشیں بھی اس کا طواف کرنے لگتیں۔باہر کی دنیا میں لوگ،حسین لوگوں کو دیدے ہتھیلی پر انڈیل کر ندیدوں کی طرح نہیں دیکھتے ان کی طرف گھورنا بد تمیزی کی علامت ہوتا ہے۔ مہذب لوگوں کا مشاہدہ تیز،بیان مختصر وجامع اور یاداشت بڑی بروقت ہوتی ہے ۔اس کے باوجود ارسلان آغا نے نوٹ کیا کہ اس حسن تیز خرام کو کئی نگاہوں نے پسندیدگی کا ایساگارڈ آف آنر پیش کیا ہے جسے وہ ایک تغافل عارفانہ سے نظر انداز کرکے اپنے ہدف کی طرف بامقصد بڑھے جاتی ہے ۔ عام حالات میں وہ بیٹھ کر آتے جاتے لوگوں کو دیکھتا رہتا ۔اس زاویے سے ائیر پورٹ کا بین الاقوامی روانگی کا لاؤنج ہمیشہ سے بہت رومانچک لگتا تھا مگر اب کی دفعہ یہ کچھ عجب ہوا کہ اسے دیکھ کر ارسلان کو نہ جانے یہ کیا سوجھی کہ اپنی بئیر کی بوتل وہیں ادھوری چھوڑ منہ  میں پیپر منٹ کی میٹھی پرت اور روپہلے اوراق میں لپٹے الائچی دانے پھانک کروہ کچھ خیال کیے بغیر اس کے پیچھے چل دیا۔اس کے حساب سے فلائیٹ میں اب بھی پورا ایک گھنٹہ باقی تھا۔

ٹاپ ڈن

وہ بی بی بھی استنبول کی فلائیٹ والے کاؤنٹر پر پہنچی تو اس کی حیرت ایک تسکین بخش طمانیت میں تبدیل ہوگئی۔تیز تیز اندازے لگائے کہ اس کی سیٹ کے برابر والی سیٹ کیسے پکٹرنی ہے۔مزید دل چسپی کو اس نے یہ سوچ کر موقوف کردیا کہ اگر اس نے یہ نوٹ کر لیا ہے کہ وہ اس کا پیچھا کررہا ہے تو سفر میں وہ اس سے کچھ گریزاں رہے گی۔ وہ ان مردوں میں نہ تھا جو عشق کا کارواں چلنے سے پہلے ہی اپنے اتاولے پن اور کوتاہیوں سے راہ ء الفت میں غبار کا ایک طوفان اٹھا لیتے ہیں۔ بی بی کا خیال اپنے جانب سے کہیں اور موڑنے کے لیے اس نے پانچ سات منٹ اور ادھر اُدھر کے Backlit Signs دیکھنے میں لگا دیے۔
کاؤنٹر کے اردگرد کوئی رش نہ تھا۔ ارسلان نے سوچا کہ رات کے دس بجے ہیں ،سردی ہے، یوروپ والوں کے لیے استنبول یوں بھی سندھی زبان میں گھر کا ککڑہے۔جب مہمان آئیں دعوت کے لیے ذبح کر لو ۔سوا تین گھنٹے کی تو کل فلائیٹ ہے۔ جرمنی سے تو بہت فلائٹیں چلتی ہیں کسی وقت بھی وہاں سے جہاز پکڑ کر صبح صبح ترکی پہنچا جاسکتا ہے۔ ا یڈا وی کی سیاپا۔

بیکلِٹ سائن

ائیر لائن کی چیک۔ان کاؤنٹر والی خاتون سے جب وہ بی بی   چند تیز تیز فقروں کا تبادلہ کررہی تھی، تو اسے لگا شاید اس کے ٹکٹ یا ویزہ وغیر ہ کا کوئی ایشو ہے۔ارسلان کو ہرگز گماں نہ ہوا کہ دو گھنٹے کے لازماً رپورٹنگ ٹائم کی بجائے وہ دونوں جب پہنچے ہیں کہ تو فلائیٹ کے ٹیک آف میں بمشکل آدھا گھنٹہ باقی تھا۔ان کی مطلوبہ فلائیٹ کلوز ہوچکی تھی۔ائیر پورٹ پر نائیٹ کرفیو شروع ہوچکا تھا۔ جاپان،یورپ اور امریکی ممالک میں شہریوں کی نیند میں خلل نہ پڑے اس وجہ سے رات کی فلائیٹس پر پابندی لگ جاتی ہے۔جاپان میں مشرقی ٹوکیو کے باشندوں نے تو بین الاقوامی اNarita Airportمحض اس لیے اپنے علاقے میں بننے پر طوفان اٹھالیا کہ اس کی وجہ سے ان کی رات کی نیند میں خلل پڑے گا۔یوں یہ ائیر پورٹ شہر سے خاصی دور بنایا گیا۔
جس وقت وہ کاؤنٹر کے نزدیک پہنچا تو وہ اپنا پاسپورٹ اور ٹکٹ بددلی سے Versace کے سیاہ ٹوٹ بیگ میں رکھ رہی تھی۔ارسلان کے لیے یہ مشکل نہ تھا کہ وہ اس سبز پاسپورٹ پر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سنہری الفاظ پڑھ لے۔اس نے غور سے دیکھا۔ بی بی کی عمرتیس برس سے کم ہی ہوگی،پر اعتماد چہرہ،بال کاندھوں تک آتے آتے لہروں میں بدل جاتے تھے جن میں سنہری اور براؤں اسٹریکوں کے دائرے آپس میں گڈ مڈ تھے۔آنکھیں ایسی نہ تھیں کہ سرمہ فروش اسلام آباد کے ڈی چوک پر ان کی وجہ سے دھرنا دے کر بیٹھ جائیں اسے پھر بھی لگا کہ اگر وہ کم گو ہو ں تب بھی اظہار سے بھرپور ان آنکھوں کے بے صوت تکلم کی وجہ سے ان کی خاموشی شریک گفتگو کے لیے جاں گسل ہوگی۔ہونٹ بھرے بھرے تھے۔اسے یہ پتہ نہ چل پایا کہ ان پر لپ اسٹک کی ہلکی سی ٹرانسپرینٹ تہہ جمی ہے ، یہ لپ گلوس کی کرامت ہے یا وہ جو کچھ دیر پہلے ہونٹو ں پر  زبان پھیر رہی تھی اس کی گیلاہٹ نے یہ ملک روز لبوں پر الٹادیا ہے۔ناک میں سونے کی نتھ جس میں گول جھلملاتا نیلم جڑا تھا،اس نتھ کی وجہ سے وہ فرنگی پن جو اس کے پورے وجود سے نمایاں تھا۔اس پرمشرقیت کی اعلانیہ ایک مہر لگ گئی تھی۔کانوں میں مین ہیٹن کی بلڈنگوں جیسے لہراتے سیاہ موتیوں کے آویزے جو اسکارف کو گردن اور سر کی خفیف جنبش کا اشارہ پاکر سجدہ ء تعظیم بجالاتے تھے۔

ورساشے بیگ

نتھلی
ڈی چوک ،دھرنا

موسم سرما کا آغاز ہوچکا تھا لہذا اس نے جامنی رنگ کا ٹرٹل نیک سوئٹر پہنا تھا جس میں آدھ انچ بنت کے سوراخ تھے۔سوئیٹر کے نیچے اس نے جلد کی رنگت کی برا پہنی تھی جو ایک مدھم سی مسکراہٹ سے دنیا کی بھول بھلیوں میں گم لوگوں کو بادلوں کی اوٹ سے جھانکتے کسی پہاڑی مندر کے کلس کی طرح دھیمے دھیمے “Hi I am here” کہتی ہوئی،انہی  سوراخوں کے باہر جھانک رہی تھی(یہ اس نے کاؤنٹر کے پاس پہنچ کردیکھا)۔سوئیٹر ایک سلیقے سے کارڈرائے کی پرانی کائی کی رنگت کی جینز۔ سے دو انچ اوپر آن کر رک جاتا تھا۔جینز پر باندھے گئے بیلٹ کا ایک سرا لاپرواہی سے اس طرح پتلون کے لوپ میں ڈالے بغیر چھوڑ دیا گیا تھا کہ گلے میں زعفرانی رنگ کا ایک نیم اونی مفلر جوایک ڈھیلی ٹائی کی مانند سامنے کے رخ پر اس طرح چھوڑ دیا گیا تھا کہ اس کے دونوں کنارے موقع ملتے ہی بیلٹ کے سرے سے بوس و کنار میں لگ جاتے تھے۔ ان دو کم بختوں کی کھلواڑ کا مشتاقان دید کو یہ نقصان ہوا تھا کہ اس کی ناف بآسانی جلوے لٹانے سے محروم کردی گئی تھی ۔اسی کھلنڈری ناف میں وہ رنگ اڑسی ہوئی تھی اور جس میں ایک گھنٹی میں نیلم کا ہی ایکclapper لٹک رہا تھا(یعنی وہ لٹکن جس کے  ٹکرانے سے گھنٹی بجتی ہے اور جسے ہندی میں ٹن ٹنا کہتے ہیں)۔ مزید لباس میں فاختائی رنگت کا بغیر بٹن کا کیپ (چھوٹا کوٹ) اور ان سب کے اوپر خشک ریت جیسا ٹرینچ کوٹ شامل تھے۔

نیول رِنگ

ارسلان اس غلط فہمی میں مبتلا تھا کہ فلائیٹ پکڑنے وہ مناسب وقت پر پہنچا ہے مگر جب اسے بتایا گیا کہ ڈبلن اور ایمسٹرڈم کے وقت میں پورے ایک گھنٹے کا فرق ہے اور فلائیٹ کلوز ہوچکی ہے۔استنبول کی اگلی فلائیٹ کل چاربجے سہ پہر سے پہلے نہیں ملے گی۔ وہ اگر نیا ٹکٹ بنوائیں گے تو وہ انہیں پوری قیمت پر ملے گا اور دونوں کا موجودہ ٹکٹ چونکہ سپر۔ ڈسکاونٹ۔ لو۔ سیزن۔فئیر۔ ٹکٹ ہے لہذا یہ ری فنڈ ایبل نہیں۔ان دونوں کے فلائٹ مس کرنے کی وجہ ان کی اپنی غلطی ہے اور ائیرلائین کا اس  میں کوئی قصور نہیں لہذا انہیں مفت ہوٹل کے قیام کی سہولت فراہم نہیں کی جاسکتی۔دونوں کو ائیر پورٹ سے باہر جانے کی اجازت نہیں کیوں ان کے پاس ری انٹری ویزہ نہیں۔ یہ سب منحوس انکشافات کاؤنٹر پر بیٹھی بی بی فائزہ نے کیے۔ وہ شاید سری نام کی تھی جو کبھی ہالینڈ کی کالونی ہوتاتھا اور جہاں سے پاکستان کے ایک سیاست آلودہ، بدن دریدہ عالم دین جن کی ماہء رمضان میں چھ روزہ تراویح بڑی دھوم تھی اُن کی تھکاوٹ دور کرنے کی لیے سری نامی قومیت کی بھارتی نژاد مسلمان مریدنیاں جو خادماؤں میں شمار ہوتی تھیں منگوائی جاتی تھیں۔ رمضان اسی لیے تو پاکستان کے تاجروں اور مولوی صاحبان کے لیے برکتوں کا مہینہ ہے۔فائزہ نے ہی انہیں مشورہ دیا کہ وہ مزے سے کل تک اسی لاؤنج میں بیٹھیں۔

سری نام کی فائزہ

کئتھرین زیٹا جونز بطور ایملیا وارن

ارسلان آغا نے وقوعے کی کڑواہٹ کم کرنے کے لیے شرارتاً کہا So we have whole 18 hours to re-enact movie The Terminal
دونوں ہنس دیں مگر وہ بی بی کہنے لگیBut I was never meant to be an unsuspecting Amelia Warren.۔
ہم آپ کو یاد دلادیتے ہیں کہ Amelia Warren فلم سن 2004 ء والی ”دی ٹرمینل“ کی
ہیروئین کیتھرین زیٹا جونز کا نام تھا۔ہیرو کا ٹام ہینکس کا نام Viktor Navorski تھا۔
یہ فلم ایک حقیقی واقعے سے متاثر ہوکر بنائی گئی مہران کریمی نامی ناصری ایک ایرانی نوجوان تھا جو ایران سے بے دخل کیے جانے کی وجہ سے ،پیرس کے چارلس ڈی گال ائیرپورٹ پر آن اترا تھا اور وہ بھی بغیر سفری دستاویزات کے۔ اسے اٹھارہ سال تک ایئر پورٹ کے ٹرانزٹ لاؤنج میں رہنا پڑا تھا.۔فلم کی کہانی میں تو یوں ہوتا ہے ایک فضائی مسافر وکٹر ناوروسکی جب امریکہ کے جان ایف کینیڈی ائیر پورٹ پر اترتا ہے، تو اس کا مشرقی یورپ والا ملک کراکوزیا،خانہ جنگی کے باعث اپنی جغرافیائی شناخت سے محروم ہوجاتا ہے اور اس کا پاسپورٹ امریکی امریگیشن حکام کے لیے قابل قبول نہیں رہتا۔اس دوران وہ ائیر ہوسٹس ایمیلا وارن سے دوستی میں کامیاب ہوجاتا ہے اور اس کی طبیعت کے باعث ائرپورٹ پر کام کرنے والا عملہ بھی اس کا دوست بن جاتا ہے۔
اس مختصر سی جملے بازی کے بعد عملے کی خواتین تو ہاتھ ہلاتے ہوئے رخصت ہوگئیں۔لاؤنج کے اس حصے پر جہاں یہ دونوں حالت اضطراب و بے یقینی سے کھڑے تھے اور Stanchion۔ Rope سے احاطہ شدہ لاؤنج میں ان کی حالت ایک دوسرے سے قطعی طور پر ناواقف ان دو اجنبی ملزمان جیسی تھی جنہیں ہنگاموں کے دوران سڑک سے پکڑ کر پولیس نے لاک اپ میں بند کردیا ہو۔

ویب سٹینسیو پول وِد ریڈ روپ

ارسلان آغا نے طے کیا کہ یہی وہ لمحات ہیں جو اس تعلق کو یا تو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جوڑ دیں گے یا دیکھتی آنکھوں اور سنتے کانوں کو جلد ہی اللہ حاٖفظ یا شایداتنا بھی سننے کو نہ ملے۔لطف و کرم کا یہ سلسلہ جو اس کی اپنی نالائقی اور حریف مخالف بی بی کی آمد میں تاخیر اور جہاز کی بروقت روانگی سے چلا ہے یہ پیار کے اس ٹینس میچ کے آخری سیٹ کا ‘break point’ ہے۔یوں تو وہ بخوبی واقف تھاکہ جلد بازی سے خواتین بدک جاتی ہیں۔ جب ہی تو کسی شاعر نے کہا تھا کہ ع
ہمارے اور تمہارے پیار میں جو فرق ہے تو اتنا

ادھر تو جلدی جلدی ہے، اُدھر آہستہ آہستہ۔۔
در پیش صورتحال کا ٹھنڈے دل سے جائزہ لینے کے بعد ارسلان نے اس گو سلو تکنیک کو خیر باد کہا ۔ وہ خود کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہوگیا کہ زمان اور مکان ( Time and Space )سب ہی نظریہ مناسبت ( Theory of Relativity ) کے تابع ہیں۔اسے بخوبی علم تھا کہ مادہ مچھر 42- سے 56 دن جیتی ہے۔ایک سو کے لگ بھگ انڈے بچے دیتی ہے۔ڈی۔ ایم۔جی بیوروکریسی کی طرح رج کے خون پیتی ہے۔اس پر مستزاد یہ کہ اگر وہ اصیل ڈینگی نسل کی ہو تو شہباز شریف جیسے مالدار اور طاقتور پنجاب کے وزیر اعلی کو تگنی کا ناچ نچا دیتی ہے۔ہاں البتہ نرمچھر کی زندگی تو بے چارے کامیاب مردوں اور کسٹم پولیس اور انکم ٹیکس گروپ کے افسران کی مال بناؤ پوسٹنگ طرح چند دن یا ہفتوں کی ہوتی ہے۔ اس قلیل عمر میں بھی وہ باپ ضرور بنتا ہے اس کے برخلاف دنیا میں ایسے لوزرز کچھوے بھی ہوتے ہیں جو نو سو سال جی کر بھی کنوارے ہی مرجاتے ہیں بقول ساحر لدھیانوی ان غریبوں کے مقبرے بے نام و نمود رہتے ہیں اور آج تک ان پر جلائی نہ کسی نے قندیل والا معاملہ رہتا ہے۔سو پیارے آغا جی یہاں بھی معاملہ ”ابھی نہیں تو کبھی نہیں والا“ ہی ہے۔پے جاؤ۔۔یہی اٹھارہ گھنٹے ہیں جن میں مچھر کا مکمل لائف سائیکل جی لو، ورنہ کنوارے بوڑھے کچھوے کی موت مارے جاؤ گے۔
اس تقویت بخش خیال کے سہارے اس نے تعارف کرانے کے لیے بالکل ویسے ہی ہاتھ بڑھایا اور جس طرح جیمز بونڈاپنے مدمقابل کا احاطہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ”بونڈ،مائی نیم از جیمز بونڈ “ اس نے بھی جنبش دست کے ساتھ ہی کہنا شروع کردیا ’آغا، مائی نیم از ارسلان آغا۔اینڈ آئی ایم فروم اسلام آباد“ ایسا نہ تھا کہ اس پری پیکر نے اپنے یورپ کے قیام میں مردوں سے ہاتھ نہ ملایا ہو مگر جانے وہ کیوں اسے نفسیاتی جھٹکا دینے کے لیے دست دراز کو نظر انداز کر کے کھل کھلاتی ہوئی کہنے گی ”نیلم،مائی نیم ازناٹ نیلم بانڈ۔۔ اے فیو کال می نیلماں۔ اینڈ آئی ایم اوری جنلی فروم کہروڑ پکا ڈسٹرکٹ۔لودھراں۔پاکستانی پنجاب“

طعام اور قیام
کوئی اور موقع ہوتا اور اگر کوئی خاتون اس کامصافحے کے لیے بڑھا ہوا ہاتھ نظر انداز کرتی تو اسے لگتا کہ رنگ میں اس کے پوزیشن لینے سے پہلے ہی گھنٹی بجتے ہی اس کے مخالف نے ٹکا کر اسے لیفٹ ہک رسید کیا ہے۔جس سے اس کے اوسان خطا ہو چکے ہیں مگر ارسلان نے اس کی کھلّی بازی (ہنسی مذاق)کے دوران ہی فیصلہ کیا کہ اس بی بی کو وہ قسمت کی لکیروں سے چرائے گا۔اس نے ہمت پکڑی اور دو تجاویز پیش کیں۔ پہلے تو یہ کہ مجھے بھی آپ کی طرح بھوک لگی ہے۔ دوسرے یہ کہ آپ مناسب سمجھیں تو سامنے خواتین کا ریسٹ روم ہے میرا یہ گارمینٹ بیگ لے جائیں۔اس میں اپنا یہ ٹرینچ کوٹ اور یہ کیپ بھی لٹکا لیں۔اس میں تین ایکسٹرا ہینگر ز ہیں جن میں ایک پر بالکل نئی نویلی جیکٹ ہے وہ آپ پہن لیں۔اپنے دونوں کوٹ اس میں لٹکالیں۔چاہیں تو اپنی ٹرالی ساتھ لے جائیں۔
نیلم کو پہلی دفعہ کوئی پاکستانی مرد ایسا ملا جس کی ہمدردی میں ایک محتاط سا لحاظ اور تفصیلات کے حوالے سے ایک سلیقہ مند رکھ رکھاؤ تھا۔ جسے یہ بھی علم تھا کہ اس کے دونوں کوٹس کا درست نام کیا تھا۔
پاکستان ہو یا برطانیہ یہاں کے مردوں کوجوتوں سمیت دیدوں میں گھسنے کی بڑی عجلت ہوتی ہے۔اس نے نسوانی ادارک کا سہارا لیا۔ اسے پرکھنے کی خاطر اس کی دوسری تجویز پر پہلے عمل کرنا مناسب سمجھا۔یہی وجہ تھی کہ اس نے ارسلان میاں کو غور سے دیکھا۔ مردوں کو پرکھنے کے لیے اس نے کالج کے زمانے سے ہی دس نکات کی ایک چیک لسٹ اس بارے میں اپنے دماغ میں بنا رکھی تھی۔

نمبر ون۔حلیہ۔ سمجھ میں نہیں آتا پاکستان کے کس علاقے سے ہیں مگر پنجاب اور کے پی کے ،کے  تو ہرگز نہیں لگتے۔ آنکھیں بہت پرکھنے والی اور مسکراہٹ گمراہ کن ہے ۔ہاتھ بڑے ترشے ہوئے اور انگلیاں لمبی۔ یہ   طبیعت کا ایسامیلان ظاہر کرتی ہیں جس میں صبر اور تفصیلات کو برتنے کی عادت ہوتی ہے۔

اسٹائل: جواب۔شرفاء کا،رکھ رکھاؤ والا ۔والد کے طور اطوار سے مماثلت۔ عمر میں ان سے کوئی دس بارہ سال چھوٹے ہوں گے۔بظاہر تو انہیں کی طرح بڑے کئیرنگ لگتے ہیں۔ چلیں گے۔ لیکن ابو کی طرح پینڈو چک چورانوے برانڈ نہیں۔

انداز گفتگو:۔دل چسپ جینٹلمین والا۔

پیشہ بھی اس نے لگے ہاتھوں پوچھ لیا اور اس پر بھی نائیکی والادر ستگی کا نشان لگادیا۔موصوف سول سروس میں تھے۔آج کل ڈیپوٹیشن پر وزارت خوراک و زراعت میں آئے ہوئے تھے۔قیام اسلام آباد میں تھا۔یوں حضرت کا کھونٹا مضبوط اور پس منظر سالڈ تھا۔باقی پانچ نکات پر وہ کپڑے تبدیل کرتے ہوئے،آئینہ دیکھتے ہوئے سوچ لے گی۔اس میں سب سے اہم تو یہ تھا کہ وہ اس عارضی رفاقت کو کس طرح اس ائیر پورٹ لاؤنج اور بہت ہو تو ہوائی سفر تک محدود رکھ سکتی ہے۔

نفسیاتی طور پر وہ ان دنوں ایک ہوائی تھیلی (air-pocket) میں تھی۔اس کا قوی امکان موجود تھا کہ سعید گیلانی سے شادی ممکن ہے پاکستان پہنچنے پر طلاق کے کاغذات میں سمٹ جائے۔وہ اپنا سوٹ کیس چھوڑ کر رول آن اور گارمینٹس بیگ لے کر جانے لگی تو ارسلان نے اس سے  دوباتیں کیں جس پر وہ ریسٹ روم میں بھی محضوظ ہوتی رہی ایک تو وہ کہنے لگا کہ آپ کا نام بڑا قیمتی ہے مگر ذرا Risky۔اس سے پہلے کہ وہ پوچھتی کہ نام کیسے پر خطر ہوسکتا ہے۔وہ خود ہی کہنے لگا کہ ہیرا اور نیلم ، یہ دو قیمتی پتھر ایسے ہیں جو سب کو راس نہیں آتے مگر یہ راس آجائیں تو پہننے والے کے وارے نیارے ہوجاتے ہیں۔نیلم نے مناسب سمجھا کہ وہ اسے بتادے کہ اس کی بات سو فیصد درست ہے۔ وہ اپنے میاں سعید گیلانی کو بالکل راس نہیں آئی مگر اپنی کمپنی کو پچھلے پانچ سال سے اوردو سہیلیوں کو بھی وہ خوب راس آئی ہے جنہوں نے اس کے مشورے سے کئیریر اور شوہر تبدیل کیا اور بہت آسودہ ہیں۔ اس نے یہ بتانے کے لیے الفاظ کا انتخاب ذہن میں شروع ہی کیا تھا کہ اسے خیال آیاکہ اپنے بارے میں اسے بات کرنے میں کسی عجلت کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔یہ رفاقت کسی دیکھے بھالے تعارف اور حوالے سے نہیں۔اپنے بارے میں وہ بات کرنا چاہے گی تو اب بھی اس کے  پاس سترہ گھنٹے پچاس منٹ ہیں۔ اس نے ارسلان سے پوچھ لیا کہ آپ نے دو باتیں کہیں تھیں۔وہ دوسری بات کیا تھی۔آہا وہ دوسری یہ کہ اب آپ جب بھی سفری سامان خریدیں تو دھیان رکھیں کہ ان میں نیچے 360 ڈگری پر گھومنے والے پہیے  لگے ہوں۔اس سے ان کو کیری کرنا آسان ہوتا ہے۔

ڈائمنڈ
سفائر۔۔ نیلم

نیلم کو ا س کے مشورے پرریسٹ روم کا رخ کرنے کی جلدی نہ تھی۔ برلن سے آتے ہوئے جس بس میں وہ سفر کرکے یہاں پہنچی تھی اس کا ٹوائیلیٹ بہت صاف ستھرا تھا۔بھوک بھی ایسی خاص نہ تھی اس نے ایک ڈونٹ راستے میں کھا کر کافی بھی پی لی تھی ۔اس نے سوچا لباس کی تبدیلی سے پہلے کچھ بات چیت اور کرلیتے ہیں حضرت کتنے پانی میں ہیں اس کا علم ہوجائے گا ۔اس کے بعد بھی اگر کچھ وضاحت مطلوب ہوگی تو وہاں تنہائی میں اسے پانچ دس منٹ ایسے مل جائیں گے کہ وہ پانچ سات Silver bullet”questions, سوچ لے گی۔یہ وہ سوال ہوتے ہیں جو عام طور پر ملازمت کے انٹرویو اور بینک کی جانب سے سرمایہ لگاتے وقت انوسٹمنٹ بینکر پوچھ لیتے ہیں۔ حضرت کی جانب سے جو جواب ملیں گے ان کی روشنی میں وہ اس کے ساتھ مزید وقت گزارنے کا دورانیہ اور طریق کار طے کرلے گی۔ یہ سوچ کر کہ تعریف و توصیف مردوں کی بھی اتنی ہی بڑی کمزوری ہوتی ہے جتنی عورتوں کی۔مرد جب عورتوں کی تعریف کرتے ہیں تو اس کے پیچھے جنسی عزائم کی بھرمار ہوتی ہے۔ عورتیں جب خوشامد کا جال بچھاتی ہیں تو کچھ دیرپا رفاقت کے منصوبے یا کچھ فوری فوائد مطلوب ہوتے ہیں۔اس نے اس ہی کی بات نبھانے کے لیے ترپ کا پتہ پھینکا اورکہا کہ نام تو اس کا بھی بہت اچھا اور Sounding۔Sweet۔ ہے جس پر وہ کہنے لگا ’کہاں اچھا ہے۔ بی بی یہ تو جانوروں والا نام ہے‘۔نیلم نے پوچھا وہ کیوں؟ کہنے لگا ’ ترکی زبان میں ارسلان شیر کو کہتے ہیں‘۔ اس کی یہ وضاحت سن کر نیلم اتنے زور سے ہنسی کہ اسے لگا کہ ائیرپورٹ کا یہ لاؤنج پار و وادی بھوٹان کی تین ہزار فیٹ کی بلندی پرTiger’s Nest خانقاہ ہے جس کے مندر میں کئی گھنٹیاں بادلوں کے ساتھ آنے والے ہوا کے جھونکوں نے شرارتاً بجادی ہیں۔وہ کھڑی ہوکر چل دی۔

ٹائیگر نیسٹ

Paro Taktsang (Tiger Nest) on mountain in Upper Paro Valley, Bhutan. Taktsang Lhakhang is Bhutan most iconic landmark and religious site.

وہ جب برآمد ہوئی تو اسی جالی دار ٹرٹل نیک سوئیٹر کی بجائے سرخ رنگ کی Asymmetrical Hemline: ڈھیلی آستینوں والا ٹاپ پہنا تھا جو کمر سے ہوتا ہواکولہوں کے درمیاں آن کر بے دھیانی سے ٹھہر گیا تھا۔ سامنے کا معاملہ کچھ اور تھا اور یہ سابقہ ٹرٹل نیک سوئٹر جتنی ہی اٹھی ہوئی تھی ۔ایسا لگتا تھا یہ ہیم لائن چھوٹی بڑی پہاڑیوں کا کوئی پرفضا سلسلہ ہے جس کا ایک کا دائرہ کولہوں کے  گرد سے گھوم کر ناف کے درمیان اپنی سب سے  شریر چوٹی کی جانب سے کسی حسین طوائف کی مانندآداب عرض کرکے کورنش بجاتا ہوا واپس اپنے مقام آغاز یعنی کولہوں پر لوٹ گیا ہو۔ظالم نے اس پر سیاہ رنگ کا شرگ(چھوٹا سوئٹر) بھی پہنا تھا۔

نیلم نے سوچ رکھاتھا کہ اگر وہ اس کی ٹی شرٹ اور جینز کے درمیان نو مین لینڈ سے جھانکتی ناف کو دیر تک دیکھے گا تو وہ کچھ دیر گفتگو کرکے اسے ترک کردے گی اور سو جائے گی۔ارسلان نے لباس کی تبدیلی اور حسن ناف کی جھلکی کو نوٹ بھی کیا ہو تو اس دید بانی میں وہی سلیقہ تھا جو فائٹر پائلیٹس اور یورپی اور امریکی مردوں کی نگاہ ڈالنے والے انداز میں میں ہوتا ہے۔ان کی تربیت ہوتی ہے کہ کم وقت میں زیادہ دیکھو۔۔اس کی توقع کے برعکس ارسلان نے جیکٹ جس میں اندر کی طرف جیب کے بٹن میں اڑسا جھولتا لیبل صاف نظر آرہا تھا۔ اس کے بازوپر پڑی دیکھ کر ایک تفکر آمیز حیرت کا اظہار کیا۔ دید کی یہ بے اعتنائی اور جاڑے سے اس کی حفاظت کی یہ چنتا نیلم کو اچھی لگی۔ دس نکات کی چیک لسٹ جو اس بارے میں نیلم نے اپنے دماغ میں بنا رکھی تھا۔ان پر کئیرنگ کے خانے کے باہر دوسری دفعہ نائیکی والاسوش لگا دیا۔
نیلم نے سوال سن کر کہا کہ یہ تو بالکل نئی ہے پتہ نہیں آپ نے کسی کے لیے خریدی ہے یا اپنے لیے۔ حضرت کہاں چونکنے والے تھے کہنے لگے ’اسلام آباد میں تو میرے ساتھ میرا کتا ملنگی اور میرا گرے پیرٹ باپو رہتے ہیں۔ان کے لیے تو یہ جیکٹ بالکل بے کار ہے‘۔نیلم اس کے پالتو جانوروں کے نام سن کر زور سے ہنس پڑی۔وہ ان دیانت دار ، خوش مزاج عورتوں میں سی تھی جو پورے بدن سے ہنستی تھیں۔ایک دفعہ ہنس پڑیں تو اس بات کا اطمینان کرنا ان کے لیے ضروری ہوجاتا تھا کہ وہ اپنی اگلی بات یا رد عمل اس وقت دیں جب یہ مسکراہٹ پوری طرح دودھ میں چینی کی طرح ان کے اپنے وجود اور سامع کے تاثرات میں گھل مل جائے۔ ہنسی کے حوالے سے اس کے بدن کے بوئینگ جیٹ کے انجن بند ہوئے تو نیلم نے اپنی بے پناہ ٹوپاز براؤن(ٹوپاز۔پکھراج) رنگت کی آنکھوں کو کچھ دیر اس کی جانب دیکھ کر جھکالیا اور سرگوشی کے لہجے میں کہنے لگی۔’یہ بھی اچھا نہیں لگتا کہ آپ نے کوئی چیز اپنے لیے خریدی ہو اور میں وہ آپ سے پہلے پہن لوں‘۔
’اس کا جواب ذرا طویل اور شرارتی ہے‘۔ارسلان نے کہا۔’دے دیجئے۔ہمارے پاس اب بھی سترہ گھنٹے اور پینتالیس منٹ ہیں۔شرارت کی اچھائی اور برائی کا فیصلہ میں کروں گی‘ نیلم نے جتایا۔

ٹوپز براؤن آئز

وہ کہنے لگا کہ’یہ بات یاد رکھیں کہ آپ کا اعتراض ہے کہ یہ بھی اچھا نہیں لگتا کہ آپ نے کوئی چیز اپنے لیے خریدی ہو اور میں وہ آپ سے پہلے پہن لوں۔مشہور قلم کار خوشونت سنگھ کا ہماچل پردیش کے ہل اسٹیشن کسولی میں ایک عمدہ ولا تھا۔انہیں اداکارہ نرگس بہت اچھی لگتی تھی۔ان کے بچے اس ہل اسٹیشن کے کسی اسکول میں پڑھتے تھے۔ وہ اور اس کا میاں سنیل دت ان دنوں پیسوں سے کچھ ٹوٹے ہوئے تھے۔وہ کچھ وقت اپنے بچوں کے ساتھ ان کی تعطیلات کے دوران گزارنا چاہتے تھے مگر اتنے پیسے نہ تھے کہ اپنے اسٹیٹس کے حساب سے کوئی عمدہ سے کمرے کسی اچھے سے ہوٹل میں پوری فیملی کے لیے ماہ دو ماہ کے لیے کرائے پر لے لیں۔ایک دن کسی مشترکہ دوست کی وساطت سے نرگس خشونت سنگھ کو ٹائمز آف انڈیا کے دفتر ولا کی درخواست کرنے پہنچ گئیں کہ وہ اگر اجازت دیں تو سنیل دت ان کے میاں اور وہ کچھ دن اپنے بچوں کے ساتھ ان کے ولا میں رہ لیں۔خوشونت سنگھ نے جواباً ایک رعایت مانگی کہ وہ اس قیام کے بعد یہ بات   کہنے پر حق بجانب ہوں گے کہ نرگس میرے بستر میں سو چکی ہے۔یہ جواب سن کر نرگس بھی آپ کی طرح ہنس پڑی اور خوشونت سنگھ سے کہنے لگی ’ہاتھ لایئے‘۔

کسولی۔ ہماچل پردیش
خشونت سنگھ
نرگس،سنیل دت

ارسلان نے جتایا کہ آپ جب جیکٹ پہن لیں گی تو مجھے بھی یہ کہنے کی اجازت ہوگی کہ نیلم ایمسٹرڈم میں میری جیکٹ پہن کر گھومتی تھی۔نیلم یہ سن کر ہنسی تو نہیں مگر اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر کہنے لگی میں بھی منیر نیازی کی طرح کئی کاموں میں دیر کردیتی ہوں (منیر نیازی کی مشہور نظم ”ہمیشہ دیر کردیتا ہوں میں)۔ اس کی معذرت کا اشارہ اپنی اس ادا کی جانب تھا جو اس نے ابتدا میں ارسلان کی جانب سے مصافحے کی پیشکش نظر انداز کرکے دکھائی تھی۔
وہ کھڑی ہوئی تو ارسلان نے اس کا ا حساس ندامت کم کرنے کے لیے انگریزی میں   کہا کہ ’ا گر وہ اجازت دے تو وہ اسے  جیکٹ پہننے میں مدد کرسکتا ہے‘۔ یہ اجازت ملی اور اس کے ساتھ ہی اس نے اپنا دایاں بازو ارسلان کی جانب دراز کیا تو جیکٹ کی آستین میں ہاتھ ڈالتے وقت اسے اندازہ نہ ہوا کہ ٹی شرٹ کی ڈھیلی آستین یکا یک کاندھے کے جوڑ تک کھسک گئی ہے۔ جسے وہ جب  سیدھی کرنے لگی تو ارسلان نے دیکھا کہ اس نے جلد کی رنگت کی برا کی جگہ اب نرم چمکیلی اسٹریپ والی سیاہ برا پہنی ہے او ر جہاں اس کا سینہ اس کے کاندھے سے ملتا ہے وہاں ایک برتھ مارک ہے۔یہ پیدائشی علامت جس کا شناختی کارڈ پر اندراج نہ تھا چھوٹی سی ریاست مناکو کے نقشے جیسا تھا۔ نیلم کے کاندھے اور سینے کے میل ملاپ کی مناسبت سے سوچیں تو یہ مناکو اور فرانس کی سرحدوں کا منظر پیش کرتا تھا۔وہی دلفریب نشیب و فراز،وہی چمکیلی ڈھلوانیں،ویسا ہی بازو کے نیچے بغل کا اجلا شانت سمندر۔بارڈر ٹینشن سے بے نیاز اپنی دلفریبی لٹاتا منظر تھا۔۔

کسولی۔ ہماچل پردیش

ارسلان چالاک تھا۔جانتا تھا کہ یہ ناممکن ہے کہ اس نے مفت کے جو سرحدی جلوے لوٹے ہیں ان کا اہل وطن کو ادراک نہ ہو۔ایسا ہوا تو فطرت نسوانی کے باب میں یہ ذرا انہونی سی بات ہوگی ۔ اس نے نیلم کو اس مقام خود آگاہی سے کھینچ کر دور لے جانے کے لیے تجویز دی کہ یہاں سے ذرا ہٹ کر ہالینڈ بلے وارڈ پر ایک عمدہ brasserie(برے سری۔۔عمدہ چھوٹا ریستوراں) ہے جس کا نام کبایا ہے۔یہاں کافی ایشائی ممالک کے کھانے ملتے ہیں۔وہاں بیٹھ کر کچھ چر پر (پرانی اردو میں کھاپی لینا) لیتے ہیں۔

نیلم ایک طویل عرصے برطانیہ میں رہنے کے باوجود بہر طور ایک پاکستانی عورت تھی ۔پاکستانی عورت میں،بائبل کے دس بڑے ضوابط (Commandments)اور پاکستانی قانون میں ایک بقدر بڑی مشترک ہے ۔ ان کی اکثر دفعات کا آغاز نفی سے ہوتا (عبادت مت کرو بجز میری، مت کروقتل۔ مت کرو بدکاری وغیرہ وغیرہ ) بائبل کی طرح پاکستان کے قوانین بھی Notwithstanding (ہرچند ،باوجود اس کے کہ )سے کھدبدارہے ہیں۔ اس نے پہلے تو کبایا کے نام پر اعتراض کیا کہ یہ کسی بوتیک کا نام ہوگا۔کبایا انڈونیشین خواتین کے لباس کا نام ہے۔ ارسلان نے کہا ایسا نہیں یہ ایشین ریستوراں ہی ہے۔

بائبل کے دس احکامات
کبایا

فطرت کے مطالعے اور مشاہدے سے بدو اور کسان آنے والے مظاہر کی خبر پکڑ لیتے ہیں دشت سے زندگی کی رو، یوں کوئی نہ کوئی مثال اچک لیتی ہے۔ہندوستان میں کسان ٹیسو کے پھول دیکھ کر آنے والی برسات کا اندازہ لگاتے ہیں ۔ ٹیسو سے گوند اور گلال بنتا ہے۔ تین پتوں کے اس پھول کو ہندی میں ڈھاک بھی کہتے ہیں۔اس وجہ سے ڈھاک کے تین پات کا محاورہ ضد اور ہٹیلے پن کے لیے کہتے ہیں۔۔۔۔عرب بدو اونٹ کی حرکات و سکنات اور ریت کے ٹیلے کی بنتی بگڑتی چوٹی کی اشکال سے ہوا کے تیور جان لیتے ہیں.ارسلان کو بھی لگا کہ یہ نیلم آسانی سے اپنی
جگہ سے ریشمی دوپٹوں اور پرانی بریزیر کے اسٹریپ کی مانند تلکنے (پنجابی میں کھسکنے )والی نہیں۔اس رد عمل کو اس نے Save Your Password کے طور پر براؤزر میں دوبارہ استعمال کے لیے جکڑ لیا۔
نیلم کا دوسرا اعتراض یہ تھا کہ انہیں لاؤنج سے باہر جانے کی اجازت نہیں ۔ یہ سن کر ارسلان کہنے لگا یہ ہالینڈ والے بھی گوروں کی طرح پکے بیوپاری ہیں۔انہوں نے ایک تو اپنے لاؤنجز کی راہداریوں کے نام رکھ لیے ہیں اور پھر چائے کی پیالی جتنے ملک میں رکابی (ساسر) جتنا بڑا اسکی پول ہوائی اڈہ بنادیا ہے۔ ہمیں لاؤنج نمبر دو کے اندر ہی رہ کر یہ کھانا مل جائے گا ۔اب دنیا کا معاملہ ایسا ہے کہ گورا تو بجٹ ٹریولر ہے۔ ان کے طالب علم ،عشق کی دکھیاریاں مطلقہ اور بیوائیں سیاحت کو نکلتے ہیں۔ ٹوٹل کنگلا پارٹی ان کے برعکس چینیوں جاپانیوں اور دیگر ایشائیوں کے پاس اچانک بہت پیسہ آگیا ہے۔ہندوستانیوں کی طرح یہ بھی اپنے کھانے کا کوئی ڈھابہ دیکھ لیں تو کھانے پر ایسے ندیدوں کی طرح ٹوٹتے ہیں جیسے پاکستانی مسلمان اللہُ اکبر کہہ کر افطاری پر حملہ کرتے ہیں۔اسی لیے کبایا بنایا گیا ہے۔

ٹیسو کے پھول

نیلم کو ارسلان کا یہ انداز بیاں پر مزاح اور دل چسپ لگا۔اس کا اپنا میاں سعید گیلانی ایک پیتھالوجیکل لیبارٹری میں میڈیکل ٹیکنالوجسٹ تھا۔ والدین کا وطن میر پور ۔آزاد کشمیر سے تھا۔ اگر مرد ہونا صرف مردانہ خط و خال کا نام ہے تو وہ بہت بے سک (بنیادی) سا مرد تھا۔ مونو ۔ریل کی طرح اس کی زندگی کی کمیوٹر ٹرین بھی آتے جاتے ایک ہی پٹی پر زمینی حقائق سے بلند ہوکرچلا کرتی تھی ۔سارا دن لیبارٹری میں خون، تھوک، پیشاب اور دیگر جسمانی مائع جات میں بگاڑ ڈھونڈ نے کے باعث اس کا مشاہدہ بڑا تیز ہوچلاتھا۔بیک اینڈ لیب میں اسکرین کو تکتے رہنے کی وجہ سے وہ فن گفتگو سے ناآشنا رہ گیاتھا۔ اسی لیے بات چیت کے دوران محفوظ اور محدود دائروں میں رہتا تھا۔کثیر العیال گھر انے کا فرد ہونے کا یہ نقصان ہوا کہ مسلسل نظر اندازی  کی وجہ سے اس کی شخصیت بہت چر مر ا سی گئی تھی ۔ بنیادی رشتوں کے دباؤ میں بہہ جاتا تھا جس کا ازالہ وہ یوں کرتا تھا کہ جلد ہی انفرادی ضد پراترآتاتھا۔

مونو ریل

شادی والدین کے اصرار  پر اس نے سر نیہوڑائے  یہ سوچ کے کرلی کہ یہ شاید زندگی کی لازمی ضرورت تھی ۔یوں یہ اس کے لیے ایک روٹین کا معاملہ تھا۔جس طرح گھر میں دیگر افراد تھے ویسے ہی نیلم بھی تھی۔بیوی ہونے کا کوئی اسے خصوصی مقام امتیاز عطا کرنے کا سعید نے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔تین بڑے بھائی بہنوں اور دو عدد چھوٹی بہنوں میں پلنے بڑھنے کی وجہ سے زندگی کے بیشتر رویوں میں وہ اختصار ذات کا شکار تھا۔باپ فخرالزماں کی شخصیت کی چھاپ گھر انے کے پورے ماحول پر بہت گہری تھی۔باپ کا تعلق بھمبر۔ آزاد کشمیر کا تھا ۔وہ جواں عمری میں پاکستان کے پاسپورٹ پر بغیر ویزہ برطانیہ آگیا تھا۔ان دنوں کشمیریوں کی ایک بڑی تعداد یہاں پہنچی ہوئی تھی۔معاملات کچھ ایسے تھے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد سر اٹھاتی معیشیت کی خاطر گورے کو سستے مزدور درکار تھے۔جلد ہی قومیت کے کاغذات بن گئے تو پہلے اس نے لندن پھر برمنگھم میں ٹیکسی چلائی اوررفتہ رفتہ ہوٹل کے کاروبار میں چلا گیا۔ سیلف میڈ آدمی تھا اس لیے شخصیت میں ڈینٹ بھی بہت لگے۔ شادی بھی ہو گئی۔ بیوی اس کے رشتہ دار گھرانے کی ہی تھی۔

نیلم کی ماں کا این سی اے میں دوران تعلیم ہی کہروڑ پکا میں انتقال ہوا تو اس کے والد کرنل ظہیرنے طویل رنڈاپا کاٹنے کی بجائے اپنی پرانی محبوبہ طاہرہ سے شادی کرلی جو محبوبہ ہوتے ہوئے بھی کچھ خاص پرانی نہ تھی۔کرنل ظہیر جب میجر ہوتے تھے تو انہیں اپنی بھمبر پوسٹنگ کے زمانے میں وہاں کشمیری روایتی دیہاتی حسن کی شاہکار سرکاری اسکول کی استانی طاہرہ سے عشق ہوگیا تھا۔ ضیا الحق کا مارشل لاء لگا تو ان کے بریگیڈیئر صاحب کی کراچی پوسٹنگ ہوگئی اور وہ انہیں ساتھ ہی گھسیٹ کر لے گئے ۔وہ اگلی پوسٹنگ پر کراچی چلے گئے تو طاہر ہ نے سوچا کہ مرداں دے وعدے جھوٹے ۔ جھوٹا ہوندا پیار وے ۔۔۔کرکے محبتاں قول جاندے ہار وے۔صبر کرکے بیٹھ گئی۔

این سی اے۔لاہور
طالب علموں کے شغل
کشمیری حسن

چھیکا

ادھر ان باوردی درست افسران کو تو جانو بلی کے بھاگوں چھیکا ٹوٹا ( چھیکا ۔ وہ ٹوکری جس میں گھروں میں فرج کی آمد سے پہلے کھانا محفوظ رکھنے کے لیے ہوا میں لٹکا دیا جاتا تھا) ۔ ان دونوں نے کراچی میں رج کر دولت سمیٹی۔پیپلز پارٹی کے بڑوں نے کراچی کی زمینوں کو کوڑیوں کے بھاؤ انتقاماً اور کرپشن میں آلودہ ہوکر ٹھکانے لگایا تھا۔زمینوں سے متعلق ایک سیل صوبائی مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کے دفتر میں کھل گیا تھا وہاں کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی فائلیں منگا لی جاتیں ۔افسر اور سیاست دان اپنی جان بخشی کے عوض خزانے کا منہ  کھول دیتے ۔کرنل ظہیر نے بھی کپڑے اتار کر دولت سمیٹی۔ اور اپنے آبائی علاقے میں زمین خرید لی۔کرنل ظہیر سر پر پیر رکھ کر بھمبر سے غائب ہوئے تو طاہرہ کے ماں باپ نے  ایک غیر اہم مسکین سے مرد قسم کے رشتہ دار جو پیشے کے لحاظ سے درزی تھا اس کی شادی کرد ی ۔بچہ تو ہوگیا مگر وہ میاں کے حوالے سے ناآسودہ رہی ۔
طاہرہ سعید کے والد فخر الزماں گیلانی کی خالہ زاد بہن تھی۔ ۔بھائی فخر الزماں چھٹیوں پر وطن لوٹے تو اس کا دکھ دیکھ کر جان گئے کہ دیکھا تو اقبال نے جو اک خواب سہانا، اس بے چاری کو اس خواب کو جنت کی حقیقت بنانے کا موقع نہیں مل پایا۔برطانیہ میں وہ اپنی اولاد کو کہتے تھے کہ مسئلے پر بحث کرنے کی بجائے وہی وقت مسئلے کا  حل ڈھونڈنے میں صرف کرو۔ برطانیہ اس لیے پیچھے رہ گیا ہے کہ اس کی پارلیمنٹ میں بحث بہت ہوتی ہے۔امریکہ نے جاپان پر دودفعہ ایٹم بم گرائے مگر کانگریس میں بحث ایک دفعہ بھی نہیں کی۔سو انہوں نے Quick Fix کے طور پر کرنل ظہیر سے رابطہ کیا۔ وہ مان گئے اور طاہرہ نے بھی ٹوٹے ہوئے تاروں کا ماتم کرنے سے ازدواجی پٹری بدلنے میں بہتری سمجھی ۔موجودہ درزی میاں کی سوئی سے قبائے درد کو ساری عمر سینے سے بہتر یہ جانا کہ ڈبے سے باہر(out of box) حل تلاش کریں۔اپنے ساتھ طاہرہ کو لے کر کہروڑ پکا پہنچ گئے۔اسے گیم پلان سمجھادیا۔فخر الزماں گیلانی فخر برمنگھم و کشمیریان برطانیہ نے اس کی طلاق سے لے کر دوبارہ شادی کا ہر مرحلہ اک او ر معاشی پس ماندہ گھرانے کی رشتہ دار نوخیز دیہاتی کلی سے اپنی سر پرستی میں طے کرایا۔خیاط بھمبر یعنی شوہر سابقہ کے نکاح کا خرچہ بھی خود اٹھایا۔انگریزی میں ایسے معاملہ کو A win-win deal ۔ کہتے ہیں ۔یہ اس خوش اسلوبی سے طے ہوا گویا  ۔گائے کے تازہ مکھن میں چھری اترگئی۔گاۓ،لسی ،مکھن چھری، کھانے والے سب راضی۔
کرنل صاحب جو آسودہ تھے ، رنڈوے تھے۔فخر میاں کے معتبر دوست تھے ۔ان سے اچھا دامن عاطفت اسے اور کہاں مل  پاتا۔طاہرہ کے حسن جہاں تاب کے پرانے گھائل۔میجر بن کر دل پر جو چوٹ لگی تھی وہ کراچی کی دولت سے سمیٹی ہوئی دیہاتی آسودگی اورکرنل کے عہدے سے رٹا ئرمنٹ کا اعتماد بھی بھر نہ پایا تھا۔دوسری جانب طاہرہ کی حشر سامانیوں پر ایک بچے کی پیدائش نے کوئی خاص منفی اثرات نہ چھوڑے تھے۔پندرہ دن میں فخر میاں کی مساعی سے،کرنل صاحب ،طاہرہ،نیلماں سب کی زندگی میں اہم فیصلے ہوگئے۔
دلہن بن کر طاہرہ نیلماں کے ساتھ کھڑی تھی تو کرنل صا حب کو لگا کہ پانچ سات کے ادھر ادھر کے  برسوں کے فاصلے سے مدھوبالا اور نرگس کسی فلم کے سیٹ پر دو بہنیں بن کر ساتھ کھڑی ہیں۔ دن گزرے کہ طاہرہ نے ایسی پر فریب منصوبہ بندی کی کہ اس کی دھیمی دھیمی ضد پر نیلم کی شادی کرنل ظہیر نے سعید سے  کرتے ہوئے لمحہ بھر کو بھی نہ سوچا۔طاہرہ کے اب تک اپنے دو بیٹے ہوچلے تھے ایک اپنے سابقہ درزی میاں سے تو دوسرا کرنل صاحب سے ۔طاہرہ کی منصوبہ بندی کی روشنی میں نیلم کو ایک ایسا پل بنادیا گیا جس کے ذریعے طاہرہ نے اپنی تمام تر اولاد کو بھی ملکہ برطانیہ کی رعایا بنا کر یورپی یونین میں شامل کرنا تھا ۔

نیلم، سعید سے اپنی شادی کی بات پر چپ ہوگئی اس سے قبل وہ کرنل ظہیر کو اپنے کالج کے  سرامکس کے استاد وجدان احمد سے عشق کا اعتراف اور شادی کا تذکرہ کرکے جھاڑ اور گولی مار دینے کی دھمکی سن کر بے مزہ ہوچکی تھی۔ وجدان کا قادیانی مذہب اور اس کا بوہیمین لائف اسٹائل کرنل ظہیر جیسے کمانڈ اینڈ اوبی ڈیئنس کے سرکے میں بھیگے اچار ی مرد کے لیے ماں کی گالی کے برابر تھا۔وجدان سے شادی نہ ہونے کا اسے کوئی خاص غم نہ تھا ۔ دوسری جانب وجدان نے بھی اس انکار پر ایسا خاص اودھم نہ مچایا کہ نیلم کو لگتا کہ حضرت کی رگوں میں کیسا نوا کا خون دوڑ رہا تھا۔اس کی ایک دوست نے تو نیلماں کو کہا کہ وجدان کو ایک ٹرافی گرل فرینڈ مطلوب تھی ۔سیکس آن ڈیمانڈ قسم کی۔شادی ایسے مردوں کے نزدیک بس کچھ دن کا ایک ٹورسٹ ویزہ ہوتی ہے۔ایسے لوگ جم کے نہیں رہتے ۔ تین سال پہلے بھی اس کا کسی لڑکی ربیعہ کے ساتھ ایک یارانہ تھا مگر وہ این سی اے کی نہیں بلکہ کسی میڈیکل کالج کی طالبہ ہوتی تھی۔ حسین تو نہ تھی مگر بڑی فری تھنکر تھی۔ وہ وجدان کی رہائشی گرل فرینڈ تھی۔کالج میں بعد میں کسی جونئیر استاد کو اچھی لگ گئی تو اس چھوڑ کر اس سے بیاہ کرلیا،اس گلو خلاصی پر وجدان نے مسیح معود کا دل سے شکریہ ادا کیا ہر چند کہ اسکی شہرت ایک وہ لبرل دہریے کی تھی مگر مسلکی وہ بہر حال ایک مسلکی لبرل دہریہ تھا۔اللہ ہو نہ ہو مگر امام برحق ہے۔

برمنگھم۔برطانیہ
نیلم کے شوہرسعید گیلانی نے اب تک کی زندگی میں صرف ایک دفعہ ہی بغاوت کی تھی۔وہ گھرانے کے کاروبار میں شریک ہونے کی بجائے کاؤنٹی اسکالر شپ پر میڈیکل لیبارٹری سائنس پڑھنے کنگسٹن کالج آگیا تھا۔باقی سب بھائی بہن اور والد صاحب نے برمنگھم کے ایسٹن نامی علاقے میں بستی بسائی تھی۔برمنگھم میں ان کے دو اسٹور اور ایک نیوز اسٹینڈ تھا۔ان دیسی لوگوں کو وہاں Brummieکہا جاتا تھا “سارا گھرانہ اسی کاروبارمیں جتا رہتا تھا بجزسعید گیلانی کی جڑواں بہن فیروزہ کے۔ وہ اپنے کزن سے بیاہ کر اوسلو۔ ناروے چلی گئی تھی۔سعید نے اس بغاوت کا جذباتی ہرجانہ یوں اداکیا کہ وہ ایک کمرے میں نیلماں کے ساتھ والدین کے گھر   میں ہی ٹکا رہا تھا۔سعادت مند بچے کی طرح اپنی تنخواہ آج بھی پہلی تنخواہ کی مانند، والدہ کے ہاتھ پر رکھ دیتا تھا گو یہ شادی اب چھٹا سال پورا کرکے ساتویں برس میں داخل ہوچلی تھی۔

ایسٹن برمنگھم
کالج کی تصویر

نیلم کو یاد نہیں پڑتا کہ اسے سعید نے اپنی تنخواہ کبھی بتائی ہو،اسے سیر و تفریح کے لیے کسی ا ور ملک لے گیا ہو۔ اسے بہت ارماں تھا کہ وہ وہ صحرا سہارا میں تواریغ مردوں کو دیکھے۔وہی نیلی جلد ، نیلی پگڑیوں والے چوڑی چھاتی، چبھتی نگاہوں والے مغرور،دور افتادہ بربر ،گھڑسوار، پیکر مردانگی زور آورخان جی مرد جن کی بستر میں جنسی ٹھوکر میں وہ صحرا و دریا بن کر دو نیم ہوجائے
مراکش میں املیشیل کے مقام پر وہ کوہ اطلس میں بسے بربروں کی شادی کے اس تہوار میں شرکت کرے جہاں باپ اپنی سجیلی نوخیز دختران نیک اختر کو لے کر جھیل کے کنارے آتے ہیں۔بہت سے لڑکے بھی وہاں بطور دولہا منتخب ہونے کے لیے آئے ہوتے ہیں۔پورا دن یہ مسلمان لڑکے لڑکیاں ناچتے گاتے اور ساتھ گھومتے پھرتے ہیں۔ایک دوسرے کو منتخب کرنے کے بعد یہ اپنے والدین کو بتادیتے ہیں کہ انہیں کون اچھا لگا پھر شادی کا دن بھی آجاتا ہے۔شادی کی رات دلہن کو وہ تجربہ کار خواتین جو اپنی زمانے میں خود بڑے حسین تنکے رہی ہوتی ہیں مگر اب اس پاپن کی طرح ہوتی ہیں جو بھگت کبیر کے مطابق کوئلہ بھئی نہ راکھ  ،وہ اسے سمجھاتی ہیں۔ نی شادو، بے خبرے، ماں صدقے ، جم کے رہنا ،منہ  میں رومال رکھنا۔ ،وہ آج تمہیں تنکے کی طرح توڑے گا،صبح دلہن اور دولہا کے زیر استعمال وہ سفیدچھوٹی سی  چادر لہراتے ہیں جس پر خون کے دھبے پڑے ہوتے ہیں پھر ولیمہ برپاہوتا ہے۔نیلم اکثر دل مسوس کر رہ جاتی کہ اس کے ہاں تو چادر ہی لال نہ ہوپائی تھی کبھی کبھی اسے خیال آتا کہ سعید کم بخت نے اسے تنکا نہیں بلکہ برازیل کا مضبوط شیشم کا شہتیر سمجھ کر مردوں کی طرح چھوا تک نہیں۔نیلم کا یہ کنوارا پن ایک راز تھا جس کا علم صرف اسے تھا ۔
نیلم کو یہ بھی بہت آرزو تھی کہ وہ سرنگاٹی ندی میں تنزانیہ کے علاقے مسائی مارا میں سینکڑوں کی تعداد میں Wilder Beasts کو دریا پھلانگتا دیکھے۔انڈونیشیا کے کسی دور دراز جزیرے میں کوکونٹ آئل کی دیر تک مالش کراکر بکنی پہن کر خاموشی سے ہیمک میں لیٹی کوئی بیسٹ سیلر پڑھے اور Besserat de Bellefon Brut کی روز شمپیئن وائن پیے  مگر اے بسا آرزو کہ خاک شد (ہائے وہ آرزو کہ دھول چاٹتی ہے)۔

تواریغ مرد

جھیل۔امیل شیل-مراکش

مائونٹ اطلس
برازیل کے شیشم کے تنے

وائلڈ بِیسٹ کروسنگ

 

شمپین
بیٹھ کے سیر دو جہاں کرنا
ہیمک

یہ سب تو نہ ہوا مگر اب یہ عالم ہے کہ حضرت سعید گیلانی ۔اس کے مجازی خدا اس سے ملنے اور وقت گزارنے کے لیے برلن آئے تھے۔دونوں کے درمیان ایک خاموش سا یہ سمجھوتہ ہوا تھا کہ اس شادی کو ایک موقع اور دے کر دیکھنا چاہیے۔ نیلم نے سوچ لیا تھا کہ وہ اسے ٹھوک کر جتادے گی کہ وہ اپنی ماں کو بتادے کہ مردانگی کا مسئلہ اس کا اپنا ہے۔نیلم اب بھی کنواری کلی ہے۔سو پوتے پوتی کا شوق ہے تو اس کی ٹانگوں میں جھانکنے کی بجائے بیٹے کی پتلوں میں انگارے انڈیل دے۔ نیلم کی یہ بھی مرضی تھی کہ سعید گیلانی اپنی ماں کو سمجھادے کہ  نیلم کو اپناFashion Merchandising کا کام بہت عزیز ہے۔وہ کسی خاندانی کاروبار کا حصہ نہیں بنے گی۔
نیلم نے طلاق لینے کے بارے میں پہلے برس ہی سوچ لیا تھا اس کے ارادوں کا سن کر فخرالزماں نے کرنل ظہیر سے بات کی اور کرنل صاحب نے طاہرہ کو دوڑا دیا ۔ طاہرہ کو والدہ کے طور پر جب نیلم نے سعید کے حوالے سے اپنی جسمانی ناآسودگی کا  بتایا تو ا سی نے نیلم کو سمجھایا کہ کچھ مرد گلئیشئر ہوتے ہیں معمولی درجہ ء حرارت اور ابتدائی موسم گرما کی تمازت سے جلد نہیں پگھلتے مگر جب پگھلتے ہیں تو بڑا بہاؤ ہریالی اور کٹاؤ لاتے ہیں ۔وہ اسے سمجھانے خاص طور پر برطانیہ آئیں۔ طاہرہ کا بڑا دل چاہا کہ اسے کوئی جھوٹی سچی داستان اپنے اور ظہیر صاحب کے حوالے سے بطور تسلی سنادے مگر پھر اسے خیال آیا کہ وہ تو دوسری شادی کے پہلے ہی مہینے حاملہ ہوگئی تھی اور نیلم تب پاکستان میں ہی تھی اور ان حالات کی عینی گواہ بھی تھی۔
برلن آنے سے پہلے نیلم کا اپنی ساس سے بڑا جھگڑا ہوا۔ ساس کی خواہش تھی کہ نیلم اپنا فیشن اور مارکیٹنگ کا تجربہ کام میں لائے اور خاندان کے بزنس راجواڑے میں ایک دیسی بوتیک کا اضافہ کرے ۔ اس دھندے میں وہ اپنی ایک عدد عدد بیٹی اور بیٹے کو بھی نیوز اسٹینڈ سے شفٹ کرنا چاہتی تھی تاکہ وہ نیلم کا ہاتھ بٹائیں۔ ان کی کاروباری منصوبہ بندی کی روشنی میں نیلم کا کام یہ ہوگا کہ پاکستان سے شادی بیاہ کے اور تقریبات کے جوڑے فروخت کرنے کے لیے لے کر آئے۔ٹھیٹ پینڈو آف دا بوٹF.O.B(ولایت اور امریکہ میں نووارد مہاجرین کو کہا جاتا ہے) ساس نے نیلم کے پیشہ ورانہ مہارت اور تجربے کو سامنے رکھ کر دھند ے کی بالکل ٹھیک لائن پکڑی تھی ۔یہ سارا بزنس پلان اس نے نیلم کے پاکستان جانے کا پروگرام سن کر بنایا تھا۔اسی لیے سعید کو بھی ساتھ کردیا تھا کہ وہ اس کا  پیچھا کرتا رہے۔ا پنے اس بوتیک کا نام بھی وہ میرپور میں اپنے میکے کے علاقے ڈڈیال کے حوالے سے سوچے بیٹھی تھی مگر اپنے تئیں کول بننے کی خاطر اس نے کہا ’’وے نیلمے اسی اینوں انگلش وچ Daddy’s All لکھاں گے ۔دیسی کڑیاں امپریس ہوجان گیاں ۔ اسی ساریاں نوں پرائس وچ بیٹ ساں‘‘۔نیلم کو لگا کہ یہ اس کے  علم و فن اور ذوق جمالیات کی نہ صرف صریحاًتوہین ہے بلکہ اس کی آزادی پر ایک طرح کی قدغن ثابت ہوسکتی ہے۔اس نے یہ سب سن کر جب مختصر سا  بل شٹ کہا تو ساس بھڑک گئی۔۔
بیٹا شام کو آیا تو اسے خوب لگی لپٹی سنائیں۔ ایسی Toxic باتیں سن کر وہ بھی ہتھے سے اکھڑ گیا۔ اس نے اپنے ذہن کے کسی تاریک کونے میں طلاق دینے کا منصوبہ بنالیا۔نیلم سے چھٹکارے میں اس کی  بے بے کی دیرینہ شہ بھی شامل تھی جسے اولاد کا بڑا ارمان تھا مگر جو اس بات سے ناواقف تھی کہ Fluoxetine یعنی (Prozac) مسلسل استعمال سے سعید نامرد ہوگیا تھا۔ سعید کو اپنے کنگسٹن کالج کے زمانے سے ایک Junky بنگالن اندارنی بینرجی بہت پسند تھی۔وہ وہاں فیزیوتھراپی کا کورس کرنے آئی تھی ۔
شکستہ خاندانی پس منظر تھا، ماں مالدار تھی ،کمیونسٹ بھی۔ماں بیٹی دونوں کو نشے کی عادت تھی۔سعید میاں کے ساتھ جانے ایسا کیا ہوا کہ نشہ،اندرانی،مردانگی سب بہت خاموشی سے ساتھ چھوڑ گئے۔
سعید کمرے میں آیا تو نیلم کو بہت بددلی اور بے اعتنائی سے دیکھا۔ دونوں نے پورے کپڑے پہن کر بستر میں ادھوری  گفتگو کی اور سوگئے۔طے ہوا کہ باقی باتیں وہ پاکستان براستہ برلن اور استنبول کریں گے۔ طلاق اگر آخری حل ہے تو وہ بھی پاکستان میں ہی ہوگی کیوں کہ شادی بھی وہیں ہوئی تھی۔ صابرہ و شاکر ہ نیلم کو اس پر بھی کوئی اعتراض نہ تھا۔ برلن وہ ایک پیشہ ورانہ مصروفیت کی وجہ سے آئی تھی ۔ ایک تجارتی ادارے جس میںFashion Merchandiser کے طور پر نیلم ملازم تھی اس کامالک ایک لبنانی عیسائی تھا اس پورے ادارے میں آٹھ دس ملازم تھے۔ برلن میں ترکی اور مشرقی یورپ کے فیشن ڈیزائینر کا شو تھا۔مالک کا خیال تھا کہ وہ کچھ ملبوسات کو دیکھ لے ان کے بارے میں رپورٹ مرتب کرکے گڈی کو بھیج دے۔باقی کام وہ سنبھال لے گی۔
سعید اور وہ ساتھ ہی برلن آئے تھے۔وہ صبح اپنے کام سے نکلی تو خیال یہ تھا کہ شام کو واپس آن کر شہر دیکھیں گے ۔شام جب وہ واپس ہوٹل کے کمرے میں شاور لے رہی تھی تو سیل فون پر سعید کا میسج آگیا کہ وہ فیروزہ سے ملنے بس میں بیٹھ کر اوسلو پہنچ گیا ہے۔یوں بھی ان کا اصل پروگرام تو استنبول دیکھنے اور پاکستان جانے کا ہے۔ وہاں مل لیں گے ۔برلن تو باقی شہروں جیسا ہے۔ ان کی زیادہ تر گفتگو بے لطف ٹیکسٹ میسیجز پر ہی ہوتی تھی۔
۔ اب جب وہ کبایا میں بیٹھے مینو دیکھ رہے تھے نیلم کے فون پر یکے بعد دیگرے کئی پیغامات موصول ہوئے۔ ارسلان کو لگا کر انہیں پڑھ کر وہ یک دم کچھ بے لطف سی ہوگئی۔رکھ رکھاؤ کے مارے ارسلان نے پوچھا کہ سب خیریت ہے۔ وہ کہنے لگی کہ’ وہ اس کی مدد کرے کیوں کہ وہ بہت دنیا دار مرد لگتا ہے ۔اس کی سمجھ میں ایک بات نہیں آتی‘۔اس پر ارسلان نے اسے کہا کہ’ اگر وہ اجازت دے تو وہ اسے ایک منٹ یہاں اس مقام پر روک لے‘ ۔اجازت ملی تو وہ کہنے لگا کہ’ صرف ایک بات کا سمجھ میں نہ آنا توخاص فکر کی کوئی بات نہیں‘۔وہ مسکراکر کھڑی ہوگئی اور کہنے لگی یہ آپ کی جیکٹ شاید آوٹ ڈور کے لیے بہتر ہے ۔فی الحال مجھے اس میں گرمی لگ رہی ہے۔ اپنی نشست سے بلند ہونے کے عمل میں اس کی ٹی شرٹ ذرا اوپر اٹھ گئی اور ارسلان نے اس کی ناف کو غور سے دیکھتے ہوئے کہا یہ آپ کی نیول رنگ بہت خوب صورت ہے ۔نیلم کو یہ تعریف ناگوار تو محسوس نہ ہوئی مگر اسے سن کر اسے بہت خفیف سی حیرت بھی ہوئی   ۔ اس نے جواب دیا کہ میری سکھ دوست گڈی دہلی سے لائی تھی

ارسلان نے سلسلہ کلام جاری رکھنے کی خاطر پوچھ لیا کہ’ شاید کچھ ناپسندیدہ پیغامات اسے فون پر ملے ہیں؟‘۔’ آپ کو کیسے اندازہ ہو‘ا؟۔ نیلم نے پوچھا۔’آپ کے چہرے کے تاثرات سے ۔ آپ کا چہرہ بہت Reflective ہے‘۔’ یہ ارسلان کا جواب تھا جس کو سن کر نیلم نے کہا ’ اصل میں میں بہت بنیادی جذبات کی عورت ہوں‘۔نیلم کو یہ بات کہنے کے بعد احساس ہوا کہ یہ تو بہت ہی اعترافی بیان ہے۔اس  پر بند باندھنے کے لیے اس نے کہا۔’مجھے نہیں معلوم کہ مجھے یہ سب کچھ آپ سے شئیر کرنا چاہیے کہ نہیں۔ اس طرح کی صورتحال کا سامنا کبھی بھی مجھے نہیں کرنا پڑا کہ میں کسی غیر مرد کے ساتھ کھانے پر گئی ہوں یا اپنے بارے میں بات کی ہو ۔‘ یہ سن کر ارسلان ہنس کر کہنے لگا ’میں نے بھی اپنے بے ڈھنگے خوابوں تک میں یہ نہیں سوچا تھا کہ کسی فلائیٹ کا مس ہونا اتنا خوشگوار تجربہ بھی ثابت ہوسکتا ہے۔آپ  کے ساتھ تو انسان مہران کریمی کے اٹھارہ سال سے بھی زائد کا عرصہ کسی ائیر پورٹ ٹرمینل پر گزار سکتا ہے۔ نیلم کو یہ بات اچھی تو لگی مگر بہت بنیادی جذبات کی مالک ہونے کے باوجود وہ ایک عورت تھی اور ہر عورت کی مانند اسے اظہار و اخفا جسے عرب لف و نشر کہتے ہیں مکمل کنٹرول تھا۔اس نے یہ بات سن کر اسے کہا پلیز۔۔Not so soon and not too  fast

دی ٹرمینل

اسکی پول ائیر پورٹ۔ایمسٹرڈم

ارسلان کے جواب دینے سے پہلے ہی کھانا آگیا۔آئسڈ لیمن ٹی کا گلاس اور ڈم سم نیلم نے آرڈر کیے تھے اور ارسلان نے اپنے لیے رولز اور کوکونٹ جوس پسند کیا تھا۔کھانا آیا تو اس نے ایک رول خاموشی سے نیلم کی پلیٹ میں ڈال دیا۔ اور کوکونٹ سپ کے لیے گلاس اس کی جانب بڑھا دیا وہ انکار کرتی رہی مگر جب اس نے وہ منہ  کے  سامنے سے نہ ہٹایا تو نیلم کومجبوراً ایک لمبی سپ لینا پڑگیا ۔نیلم کو یہ بھی اچھا لگا۔ یہ البتہ اسے مناسب نہ لگا کہ وہ بھی جواباً اپنی آئس ٹی کے گلاس سے اسے سپ لینے کا کہے۔جانے کیوں اسے لگا کہ ایسے مواقع شاید آئندہ اور بھی آئیں گے۔اچھا ہے وہ اس کی محتاط ،شائستہ مردانہ جارحیت کا لطف لے۔اپنے اس خیال سے وہ کچھ شرمائی بھی اور اس نسوانی تھرتھراہٹ کا خاموشی سے مزہ لیتی رہی جو کسی عورت کو ایک اجنبی مگر پسندیدہ صورت حال میں ناف کے ارد گرد اور سینے کے درمیاں محسوس ہوتی ہے۔۔

ڈم سم اور آئس لیمن ٹی
ناریل کا جوس اور سپرنگ رول

وہ کہنے لگا ’کوئی بات تھی جو آپ کی سمجھ میں نہیں آرہی تھی۔۔نیلم کو یاد آیا کہ وہ جو تواتر سے اسے میسجیز ملے تھے وہ ان کے بارے میں پوچھنا چاہتی تھی۔نیلم نے بات کو ایک خاص زاویے سے اس طرح چھیڑا کہ پہلے تو تعریف کرتے ہوئے کہا ’آغا صاحب آپ سے کبھی کسی نے یہ تعریف بھی کی کہ آپ کی توجہ اور دماغ دونوں ہی بڑے الرٹ ہیں اور رد عمل کا انتظار کیے بغیر کہنے لگی’ یہ بتائیے سر جی کہ جب کوئی کسی سے ہمیشہ کے لیے بچھڑ رہا ہے تو ایسے میں دوسرے پر الزام اور دشنام طرازی کا کیا حاصل؟۔نیلم کو یہ بات کرتے ہوئے ہرگز یہ احساس نہ رہا کہ وہ اسے کچھ دیر پہلے ہی ایک ایسا دنیا دار مرد قرار دے چکی تھی جس کی توجہ اور دماغ دونوں ہی بہت الرٹ تھے اور ایسے مرد کے لیئے یہ بھانپنا مشکل نہ تھا کہ اس سوال کے زلزلے کا ( E pi-Center )مرکز اسے ملنے والے میسجیز تھے۔
کوئی اور مرد ہوتا تو اپنی تعریف اور ادارک کے سحر میں کھوکر اس کے سوال کا جواب بھول جاتا مگر سرکار کی ملازمت میں تین برس تک وہ ایسی پوسٹنگ پر رہا تھا جہاں اسے مختلف خفیہ اداروں کے ساتھ مل کر چند اہم کیسز پر کام کرنے کا اتفاق ہوا تھا۔ان خفیہ ایجنسیوں کے افسران خود کو تفتیش و معلومات تک رسائی میں بڑا چیمپئن سمجھتے تھے۔ان میں بہر حال ایک بہت بڑی کمزوری یہ ہوتی تھی کہ وہ تالاب کے پانی کی مانند رکے رکے ہوتے تھے۔ ان میں مطالعے ، نفیسات اور سیاست سے عدم واقفیت بھی بہت واضح ہوتی تھی۔ بین الاقوامی حوالہ جات سے پرے ہونے کی وجہ سے ان رجحانات اور واردات کے تقاضوں سے لا علم ہوتے تھے جو ان وارداتوں کے پس پردہ محرکات کاسبب بنتے۔ان کے لیے یہ اپنی انا کے بار گراں کی وجہ سے یہ تسلیم کرنا مشکل ہوتا کہ فیلڈ میں سچویشن لحظہ بہ لحظہ تبدیل ہورہی ہے ۔ٹیکنالوجی نے نئے رویوں اور مواقع کو جنم دیا ہے۔طاقت ور اداروں سے وابستہ افراد یہ کرنے میں بھی بہت ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ ان سے زیادہ ذہین بھی کوئی ہوسکتا ہے سوچیے کہ اور جولین اسانج جیسے لوگ اور گمنام ہیکر پینٹا گون ،سی آئی اے اور ان کے پورے سسٹم کو بھنڈ(ہندی میں مفلوج ) کرسکتے ہیں۔

ایڈورڈ سنوڈن
جولین اسانج

ہوم سیکرٹری صاحب نے یہ فریضہ اسے سونپ رکھا تھا کہ وہ ان سب کی رپورٹوں سے فالتو چربی اور کم علمی دور کرکے ایک ایسی مربوط ،قابل ہضم،لیس دار Executive Summary بنادے جسے وہ اپنے دستخطوں سے مملکت کے عدم دلچسپی کے مارے بڑے کرتا دھرتاؤں کو پیش کرسکیں۔
ارسلان نے بہت آہستگی سے یہ اندازہ لگالیا کہ پیغامات بھیجنے والا ہی وہ فرد ہے جسےنیلم نے اپنی زندگی سے خارج کرکے پیچھا چھڑانے کا فیصلہ کیا ۔اس نے نیلم کو تلخی کے اس کنوئیں سے فراست کا سنہری ڈول ڈال کر یوں باہر نکالا اور بتایا کہ لوگ جب آپ کی زندگی سے نکل رہے ہوتے ہیں تو وہ اپنا جرم بھی آپ کے کھاتے میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ نیلم کسی توقف کے بغیر بولی کہ اگر آپ کو ایسی صورتحال کا سامنا ہو تو آپ اس سے کیسے نمٹیں گے۔ آپ کی اجازت ہو تو میں آپ کو امجد اسلام امجد کی ایک نظم کے کچھ بول سناؤں۔
لیکن بہتر ہوگا کہ میں آپ کے لیے ایک لیمن آئس  ٹی اور منگواؤں یا کچھ اور پیئں گی ۔نیلم نے کہا اس کا ارادہ کوکونٹ جوس اور اس کے بعد بلیک کافی وہ بھی شہد کے ساتھ پینے کا ہے۔میرا سونے کا کوئی ارادہ نہیں میں برلن سے بس میں سارا راستہ سوتی آئی ہوں۔ویٹرس جب برتن اٹھانے کے لیے آ ئی تو نیلم اپنا سائیڈ پر رکھا پرس کھول کر کارڈ نکالنے لگی ۔اس کی مزید توجہ ہٹانے کے لیے ارسلان نے آئسڈ ٹی کا  گلاس نیلم کے سامنے سے اپنے آگے کھسکا کر دو تین سپ لیے جس پر نیلم کو ہنسی بھی آئی اور حیرت بھی ہوئی مگر وہ اس دوران یہ دیکھ نہ پائی کہ ارسلان نے   اپنا کریڈٹ کارڈ پے منٹ کے لیے خاموشی سے ٹرے میں رکھ دیا ہے ویٹرس اس وقت تک جاچکی تھی۔

وہ یہ سوچ کر احتجاج کرنے سے باز رہی کہ ابھی ناشتہ اور لنچ دونوں ہی باقی ہیں۔ڈرنکس کا نیا دور چلا تو نیلم کہنے لگی’’ آغا جی آپ مجھے اب تک جو پاکستانی مرد میں نے برطانیہ میں دیکھے ہیں ان سے بہت مختلف لگتے ہیں۔آپ کو دیکھ کر مجھے اپنے این سی اے کے ٹیچر سر وجدان یاد آتے ہیں۔وہ سرامکس پڑھاتے تھے ۔ میں Textile Design میں تھی مگر ہمارا رابطہ رہتا تھا۔چلیں چھوڑیں یہ بتائیں وہ امجد اسلام امجد صاحب نے کیا کہا تھا۔ ارسلان آغا نے مسکراتے ہوئے کہا او کہندے سن
کہاں آکے رکے تھے راستے،کہاں موڑ تھا، اسے بھول جا۔۔۔۔
جو مل گیااسے یاد رکھ
جو نہیں ملا
اسے بھول جا
وہ تیرے نصیب کی بارشیں کسی اور چھت پر برس گئیں
دل بے خبر میری بات سن اسے بھول جا اسے بھول جا
میں تو گم تھا تیرے خیال میں،تیر ی آس میں تیرے گمان میں
صبا کہہ گئی میرے کان میں، میرے ساتھ آ اُسے بھول جا
نیلم جسے اپنے دوستوں میں ہمیشہ سے خوش مزاج سمجھا جاتا تھا یہ سن کر آہستہ سے کہنے لگی .’چلیں کچھ دیر کے لیے آپ کو صبا آغا سمجھ لیتے ہیں۔’’نہیں آپ مجھے راما سوامی سمجھیں‘‘۔ارسلان نے آہستگی سے اس کی حس مزاح کا راستہ بدل دیا۔

سوامی راما

آپ کا نام تو مسلمانوں والا ہے ارسلان آغا‘ یہ راما سوامی جی درمیان میں کہاں سے آگئے۔اس نے اپنی بڑی بڑی آنکھوں کو اس پر مرکوز کرتے ہوئے پوچھ لیا۔
یوں تو اسے اپنی شخصیت پر ہونے والے اعتراضات کا جواب دینا آتا تھا مگر آج اس نے مارشل آرٹس کی اس فلاسفی کو گلے لگایا جس کے ذریعے وہ سول سروس میں چیف منسٹر اور بڑے اہم طاقتور افراد سے نمٹتا رہا ۔وہ کراٹے میں براؤن بیلٹ تھا۔کراٹے میں اسے ایک کورین سینسی( Sensei گرو) نے بتایا تھا کہ کراٹے انفرادی مقابلوں کا فن نہیں۔ ۔انفرادی مقابلہ میں تو آپ اپنی جان مفرور ہوکر بھی بچالیتے ہیں یا اپنے حریف کو گراکر اس پر باآسانی قابو پاسکتے ہیں۔اصل مقابلہ تو وہاں ہوتا ہے جہاں ایک شر پسند گروہ آپ پر حملہ آور ہوجائے ایسے میں جان بچانے کی بہترین صورت یہ ہوتی ہے کہ گروہ کے ہر ممبر کو جو آپ پر حملہ آور ہو آپ disable کردیں۔

کورین سینسی

وہ بہت آہستگی سے کہنے لگا :راما سوامی ایک ہندوستانی گرو تھے جو لگ بھگ پچاس برس ہمالیہ کے پہاڑوں پر ،وہاں کے غاروں، مندوروں ،دھرم شالوں میں اپنے گرو بنگالی بابا کی خدمت میں رہے۔ابتدا میں تو ایک بھالو ان کا کا ساتھی ہوتا تھا۔ایک ہاتھ میں کمانڈلو (کدو،لکڑی یا پیتل کا کھلے منہ کا کوزہ جو سادھو اور سنت اپنے ہاتھ یا گلے میں  لٹکائے گھومتے ہیں)شانوں پر شیر کی کھال جو ان کا اوڑھنا بچھونا ہوتی تھی۔ان کے ہاں جب کسی چیلے کو دکھشا (بیعت یا initiation )دی جاتی ہے تو اسے جتادیا جاتا ہے کہ اس کا ماضی ایک مردہ گوشت ہے۔ وہ کب کہاں پیدا ہوا اسے بھول جانا ہوتا ہے۔وہ اپنے خون کے رشتے بھی بھلادیتے ہیں۔

خوض خا ص،أمرؤ۔ترکمنستان
نیلماں جب اس کا یہ خطبہء دانائی و ہدایات سن رہی تھی ارسلان نے دیکھا کہ بی بی کی  نگاہیں ایک دل بستگی سے اس پر مرکوز ہیں۔ نیلماں نے اپنا چہرہ ہات کی ہتھیلیوں کی ایک رحل بنا کر ان پر جما کر رکھ لیا۔ بازو وں کے دو طرفہ دباؤسے اس کے سیاہ رنگ کے شرگ والے گریباں سے جگمگاتے دو چاند دو جزیروں کی مانند ابھر آئے ہیں جن کے اجلے افق پر ایک لاابالی لاکٹ ادھر ادھر ڈول کر لشکارے ماررہا تھا ۔یہ لاکٹ یوں دور سے دیکھو تو بظاہر ایک کیمرہ لگتا تھا جس کے لینس کی جگہ ایک نیلم کا پتھر تھا۔یہ کیمرہ دراصل ایک چھوٹا سا بکس تھا۔ یہ بھی گڈی اس کے لیے تھیوا جویلرز والوں سے راجھستان سے بنواکر لائی تھی۔

مہاراج کا کمانڈلو
نیلم کا لاکٹ

سو نے کے اس جڑاؤ بکس میں ایک تو اس کا اپنی والدہ کے ساتھ specially coated ایلمونیم پلیٹ پر پرنٹیڈپروٹریٹ تھا اوردوسرا موم جامے میں لپٹا ایک تعویذ تھا ۔ خاندانی روایت کے مطابق کسی جن نے یہ تعویز ان کی حسین اور پری پیکر پر نانی میوہ جان کو دیا تھا۔ قصہ یوں بیان ہوتا تھا کہ وہ سر شام جمعرات کو غسل کرکے بال کھولے چھت پر بیٹھی تھیں۔ان کا گھر پرانی دہلی میں پہاڑ گنج میں باغیچہ علاء الدین کے نزدیک پیپل مندر کے پاس تھا۔علاقے میں مشہور تھا کہ اردگرد کے پرانے درختوں اور ادھر ادھر کے کونے کھدروں میں غیر انسانی مخلوق نے ڈیرے ڈال رکھے تھے۔ان درختوں پر آباد مخلوق اور مندر کے نوجوان کشمیری پروہت سے اس مسلمان جن کی دوستی تھی۔وہ ویک اینڈ پر ان کی طرف ترکمنستان سے دہلی آجاتا تھا۔

دہلی میں جن کا مسکن

مندر کے پروہت کے بارے میں سنا تھا کہ وہ بھی گانٹھ کا پورا ( ہندی میں مطلب کا پکا)تھا ۔خود بھی کسی ریاست کا راجکمار تھا ۔ دنیا تیاگ کر بیٹھا تھا۔پروہت نے کسی میلے ٹھیلے میں نانی میوہ جان کو دیکھا تو اپنے ہوش و ہواس کھوبیٹھا۔ جن سے فرمائش کی کہ میوہ جان جو نسلاً ترکمان تھیں ان پر کوئی محبوب آپ کے قدموں میں والا عمل ٹونا کرکے ان کا دل ان کی جانب راغب کردے۔جن آیا تو وہی پروہت والی فرمائشی  واردات کرنے کو  تھا مگر اس کا دل نہ مانا کہ وہ ایک مسلمان لڑکی کے ساتھ یہ حرکت کرے۔ وہ بھی اس لڑکی کے ساتھ جس کے بڑے، اس کے علاقے خوض خان ترکمنستان سے ہجرت کرکے دہلی آئے ہوں۔ اس نے نانی کو کہا بھی کہ وہ نانا سے طلاق لے کر اس کے ساتھ اس کے ساتھ گراں(گاؤں) واپس لوٹ جائے مگر وہ نہ مانیں۔جن نے کہا چوں کہ وہ اپنے پروہت دوست کو وچن(قول) دے چکا ہے اس لیے کچھ بھوگ (جرمانہ )وہ دے گا کچھ بلیدان (قربانی) میوہ جان کو دینی پڑے گی۔ایک تو یہ کہ ان کے ہاں سات نسلوں تک بڑی بیٹی کو صرف ایک اولاد ہوگی یعنی صرف ایک بیٹی۔ دوسرے وہ جمعرات کو سج دھج کی اس سے ملنے چھت پر آئیں گی۔ دس سے تین بجے رات تک وہ اس کی بیوی ہوں گی۔بدھ کی شام سے انہیں دورہ پڑے گا۔وہ چھت پر چلی آئیں وہ آجائے گا۔میوہ جان بدھ جمعرات کے چکر میں کچھ کنفیوز سی تھیں مگر جن نے انہیں سمجھایا کہ جس طرح چاند دیکھتے ہی رمضان اور شوال شروع ہوجاتے ہیں، اسی طرح ان کے رشتہء ازدواج کا آغاز بھی بدھ کی شام طلوع ماہتاب سے ہر ہفتے خود بخود بحال ہوجائے گا ۔

ترکمنستان میں جن کا مسکن

میوہ جان کو اس پوری رام لیلا میں اپنے میاں اشرف علی خان ریلوے گارڈ کی چنتا تھی۔ سو انہوں نے پوچھا کہ’’ نانا جان کا کیا ہوگا تو اس نے کہا یہ فکر کی بات نہیں ۔ وہ ریلوے کے گارڈ ہیں۔ ریلوے کا نارتھ ریجن کا ڈپٹی جنرل مینجر ،پروہت کا بھانجا ہے۔ وہ ان کی ڈیوٹی بدھ کی شام کو کسی ایسی ریل گاڑی پر لگا دے گا جو شہر دہلی سے باہر جاتی ہو۔گھر والوں کو بالخصوص اپنی خبر خلیدی ساس کو سمجھا دیں جوبی بی سی اور سی این این اور جیو نیوز کے عمر چیمہ کی طرح ہر وقت خبر اور اسکینڈل کھوج میں لگی رہتی ہیں وہ اپنی پروبوسیس بندر(Proboscis Monkey ) (انڈونیشیا کے جزیرے بورنیو میں پایا جانے والا لمبی عجیب سی بھدی ناک والا بندر ) جیسی ناک لے کر اس دوران چھت پر نہ آئیں۔ Bae .This is our quality time together
اس شرط کی خلاف ورزی اگر ان کی ساس نے کی  تو وہ نانی میوہ جان کو اٹھا کر خوض خان۔ مرو لے جائے گا۔میوہ جان کو اس کا انگریزی بولنا اچھا لگا۔نانا ان کو زیادہ پسند بھی نہ تھے۔بڑوں کی پسند کی شادی تھی ۔جن میں سوائے اس کے کہ، کم بخت ہر وقت اڑا اڑا پھرتا تھا کچھ اور برائی نہ تھی ۔وہ انہیں اپنے ریلوے کے نیم خواندہ اور کم تنخواہ یافتہ میاں سے کہیں زیادہ Classy لگتا تھا۔ہر وقت مہک رہا ہوتا۔شاہ محمود قریشی کی طرح بولتا بھی بہت چبا چبا کے مردوں کی امراؤ جان کے انداز میں تھا۔شیخ رشید کی طرح سیاست کا بھی بڑا گیان تھا۔

پروہوسس بندر
شیرنیاں بچوں کے ساتھ
ٹیرئن،جمائما،سلیمان اور قاسم

آنکھیں بھی رانا  ثناء اللہ کی طرح مخمور اور چہر ہ بھی مراد سعید کی طرح بہت پر کشش تھا۔فٹنس کا لیول ایسا کہ عمران خان بھی پناہ مانگے۔
نیلم نے اپنی امی سے پوچھا بھی کہ’ کیا اس جمعرات اسپیشل کی وجہ جن اور میوہ جان کے بچے نہیں تھے تو کہنے لگیں ’’ہوئے تھے مگر جن جس کا نام قوموبط تھا ۔ وہ بچے اٹھا کر وہاں خوض خان۔ مرو۔ترکمنستان لے جاتا تھا۔ اس کی وطن والی بیوی بالکل جمائما خان کی طرح کی پشتینی رئیس اور اعلی ظرف تھی ۔ افریقن شیرنیوں کی طرح سب بچے وہی پالتی تھی۔ خود جن محترم نے اس پروہت کو کیا بھوگ دیا ۔ گیا۔نیلم کا ارادہ تو اس بارے میں کچھ اور بھی پوچھنے کا تھا مگر اس کی امی سو چکی تھیں۔اس کی نانی، اس کی والدہ اور خود نیلم بھی اپنی والدہ کی اکلوتی بیٹی تھی۔ تعویذ البتہ ایسا محافظ تھا کہ پاکستان ،انگلستان چھوڑ کسی اور نے تو کیا خود اس کے اپنے میاں نے بھی اس کی عزت لوٹنے کی جرات نہیں کی۔
والدہ کی تاکید تھی کہ اس تعویذ کو ہر صورت اپنے بدن پر رکھنا ہے۔ کبھی کبھار کسی رات نیلم مکمل برہنہ ہوکر سوتی تھی۔ ایسے عالم میں اپنی عریانگی کی تکمیل کے لیے تعویذ بھی ایک طرف اتار کر رکھ دیتی تھی مگر اسے لگتا تھا کہ اس کا یہ باڈی گارڈ، یہ جن والا تعویز ، اس کا یہ کیون کاسٹنر (وہٹنی ہیوسٹن کی فلم باڈی گارڈ کا ڈراپ ۔ڈیڈ ہینڈسم ہیرو) ،یہ خاندانی جن قوموبط، اس کے علاوہ ہر مرد کو کلیشن تھامے( سندھی کلاشنکوف کو کہتے ہیں) سب کو ڈراتا ہوا دکھائی دیتا تھا ۔نیلم کو گماں ہوتا تھا کہ یہ ناہنجار سب سے زیادہ اس کے میاں سعید گیلانی کو دکھائی دیتا تھا۔جب ہی تو وہ اس سے دست  درازی نہیں کرتا۔ ورنہ سعید جو اس کا میاں تھا اگر سوتے جاگتے ہی میں اس کی کی عصمت لوٹ لیتا تو اسے ذرہ بھر بھی اعتراض نہ ہوتا ۔

کیون کوسٹنر اور وہٹنی ہیوسٹن

اس کی یہ شبینہ عریانگی دیکھ کر سعید بہت زچ ہوتا تھا۔اسے کچھ شرم غیرت کے واسطے دیتا تھا تو وہ کہتی تھی کہ کیا وہ نامرد ہے یا Gay ہے کہ Turn on نہیں ہوتا۔ اس کا دھیان اس کی طرف نہیں جاتا۔یہ طعنے تشنے سن کر پھر وہ کمبل گھسیٹ کر باہر نیچے لاؤنج میں صوفہ کم بیڈ پر دراز ہوجاتا۔ماں مقام استراحت کی اس تبدیلی کا پوچھتی تو کہتا کہ آج نیلماں کچھ Bitchy موڈ میں ہے۔نیلم کی ساس برمنگھم میں رہتے ہوئے بھی لفظ Bitchy سے اصل میں کتیا کا مطلب ہی نکالتی تھی  ۔ وہ ان تحقیر بھری تعلق داریوں سے بے خبر تھی جو اس لفظ کے ساتھ جوانگریزی زبان نے جوڑی ہیں۔ایک آدھ دفعہ ساس نے صلح صفائی کے لیے دروازہ کھٹکھٹا نے کی کوشش کی مگر نیلم نے جو میاں کی گالی سن چکی تھی کنڈی کھولنے کی بجائے ساس پر اپنی ہنسی کو دبا کر کتیا کی طرح بھونکا تو وہ اسے کشمیری زبان میں کوسنے دیتی ہوئی سیڑھیاں اتر گئی اور خوابیدہ بیٹے پر کمبل ڈال کر اپنے میاں فخر الزماں گیلانی کا پہلو گرم کرنے پہنچ گئی۔
بات نیلم کے اسکی پول ائیر پورٹ پر کبایا ریستورنٹ میں فون پر موصول پیغامات کی تلخی سے شروع ہوئی تھی۔جس کے حوالے سے اس نے سوال پوچھا تھا کہ ’یہ بتائیے سر جی کہ جب کوئی کسی سے ہمیشہ کے لیے بچھڑ رہا ہے تو ایسے میں دوسرے فریق پر الزام اور دشنام طرازی کا کیا حاصل؟ ‘اس کے جواب میں ارسلان صاحب نے یہ اسے بہت بلا واسطہ طریقے سے ماضی کو بھلانے کی تلقین کی تھی۔ اسی تلقین کو سن کر نیلم نے ایک مصنوعی جارحیت اور جھنجلاہٹ جس میں مزید ترغیب و اکساہٹ کا  سہارا لے کر ارسلان سے پوچھا،’’آپ کا کیا خیال ہے زندگی ایک کتاب ہے جس کے صفحات کو پھاڑ کر جدا کرلیں تو زندگی کو نئے سرے سے جینا آسان ہوتا ۔لیکن اس سے پہلے کے آپ میرے سوال کا جواب دیں میں آپ کو پانچ منٹ سوچنے کا موقع دیتی ہوں‘‘۔۔یہ کہہ کر وہ اٹھ کھڑی ہوئی اوراپنا پرس لے کر سامنے کی طرف سے راہداری میں چلی گئی ۔ وہ چونکہ اس چھوٹی سی باونڈری وال کے ساتھ ہی بیٹھا تھاجہاں سے آتے جاتے لوگوں کو دیکھنا آسان تھا اسے نیلم کو ایک مرتبہ پھر سے دیکھنے کا موقع مل گیا۔
اب کی دفعہ وہ پہلے کی سی تیز قدم نہ تھی ۔ پچھلی دفعہ تو ٹرینچ کوٹ کی وجہ سے اسے نیلم کے حسن دل فریب کا ٹھیک سے جائزہ لینے کا موقع بھی نہ ملا تھا۔ اب کی مرتبہ بات کچھ اور تھی۔ سرخ رنگ کی Uneven Hem والی ڈھیلی آستینوں والی ٹی شرٹ جو پشت سے کولہوں کے درمیاں آن کر بے دھیانی سے ٹھہر گئی تھی اس کی وجہ سے ارسلان کو لگا کہ نیلم کی چال میں ایک لہرا (چلتی ہوئی لے، سارنگی کی ایک گت) سا ہے ۔چلتے وقت اس کے کولہے ایک سلیقے سے ہلکورے لیتے تھے ۔ ارسلان کو تب تک یہ علم نہ تھا کہ فیشن انڈسٹری سے جڑا ہونے کے باعث نیلماں کو ماڈلز کو قریب سے دیکھنے کا بہت موقع ملا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ ان کے چلن کے نہ سہی چال کے کچھ ناز و انداز لاشعوری طور پر اس نے بھی اپنا لیے تھے۔

پانچ منٹ وقفہ

نیلم کا رول آن بیگ قریب ہی رکھا تھا جس پر اس کے نام اور پتے کا ٹیگ لگا تھا۔ جسے ارسلان نے ایک لگاؤ سے پڑھا ’نیلم سعید گیلانی۔۔۔چالیس ۔چیسٹر اسٹریٹ۔ایسٹن۔برمنگھم۔‘اس کا دل چاہا کہ یہ جو آدھا گھنٹہ گزرا ہے اس عرصے میں اس کے بدن کی کچھ خوشبو یقیناًاس کی جیکٹ میں بس گئی ہوگی۔اسے سونگھ لے مگر یہ سوچ کر کہ اگر وہ کہیں اردگرد ہوئی اور اس حرکت کو اس نے نوٹ کیا تو اس سے بات بگڑ جائے گی۔اسے کچھ امید ہوچلی تھی کہ بلوط کا جو تناآور درخت اُگنا ہے اس کے لیے چھوٹا سا بیج (acorn) بویا جاچکا ہے۔ان خیالات میں غلطاں وہ انگریزی
میںNext Move کا سوچ ہی رہا تھا کہ اسے سامنے سے نیلم آتی ہوئی دکھائی دی۔

شاہِ بلوط

اس کے پاس پہنچ کر نیلم نے انگریز ی میں اعلان کیا کہ وہاں دوسری طرف صوفے رکھے ہیں وہاں بیٹھنا اچھا ہوگا۔ تو وقتاً فوقتاً یہاں کچن سے جو کھانے کی لپیٹیں اٹھتی ہیں وہ اس کی ناک اور دماغ کے لیے الجھن کا باعث بنتے ہیں۔سامان اٹھائے وہ اس کی رہنمائی کرتی ہوئی دوسری گلی میں مڑی تو اسے ایک گوشہ نظر آگیا جو یقیناًاس کا حسن انتخاب تھا۔رات کی وجہ سے مسافروں کی تعداد کافی قلیل
تھی۔ایک گوشے میں بار کے عین مقابل آمنے سامنے دو بڑے سنگل سیٹ صوٖفے پڑے تھے۔یہاں روشنی مناسب مگر مدھم اور رومانٹک تھی۔اس نے انگریزی میں پوچھ لیا کہ” ” Do you drink? ” اس کے انکار کے جواب میں  اس نے مزید تصدیق کے لیے پوچھ لیا Not even beer. its famous here.”
وہ بلاتکلف بار کے اندر گئی اور اپنے لیےVodka Cranberry Shrub کا ایک بڑا سا گلاس چھوٹی سی ٹرے پر رکھ کرلے آئی۔ٹرے احتیاط سے سامنے رکھی میز پر جما کر اس نے اپنے جوتے اتارے اور مزے سے صوفے پر پیر لے کر اس چھیڑنے کے لیے کہنے لگی کہ مجھے آپ کے اس اجتناب پر آپ کے پاکستان کے ایک شاعر ہیں افضل خان ان کا ایک شعر یاد آگیا ع
کہیں ایسا نہ ہو یارب کہ یہ ترسے ہوئے عابد
تیری جنت میں اشیا کی فراونی سے مرجائیں

ووڈکا کرین بیری شرب

’آپ کو دیکھ کر یقین نہیں آتا کہ آپ کو اردو شاعری سے بھی شغف ہوگا ؟‘ارسلان نے بطور داد یہ جملہ ادا کیا
چلیں آپ نے یہ جاننے کے لیے کہ مجھے شعر و شاعری سے شغف ہے کہ نہیں آپ نے خود کو احمد فراز کی طرح اپنے آپ کو برباد کرکے دیکھ لیا۔۔۔۔
تو لگے ہاتوں یہ بھی بتادیں کہ میرے بارے میں آپ نے اور کیا کیا اندازے لگائے تاکہ ان کی تصدیق بھی ہاتوں ہات ہوجائے۔ہمارے پاس کل تک بہت وقت ہے تو Please tell me sad and not so sad story of your life. Tell me all that you have on me Mr. Bureaucrat”
(کل تک ہما رے پاس بہت وقت ہے تو آپ مجھے اپنی دکھیاری اور کچھ کم دکھیاری زندگی کے بارے میں بتائیں۔یہ بھی بتادیں کہ آپ کی فائلوں میں میرے بارے میں کیا کچھ موجود ہے مسٹر بیوروکریٹ)۔
’’تو آپ کی منشا و رضا یہ ہے کہ اس داستان الف لیلی میں خاکسار بغیر کسی sex-change آپریشن کے شہرزاد کا کردار ادا کرے اور آپ اپنے حسن بے پناہ کی طاقت کے سہارے شہریار بننے کا فیصلہ کرچکی ہیں‘‘۔ ارسلان کا یہ ردعمل نیلم کو بڑا بروقت اور بہت من بھاؤنا لگا…

دھیمے دھیمے اس نے سوچا کاش اس کا میاں سعید گیلانی ،اس سامنے بیٹھے اتفاقی مرد ، ارسلان کی شخصیت کا دس فیصد ہی دل چسپ ہوتا تو وہ ا بھی واپس برمنگھم لوٹ جاتی۔ اس کی دوست جس کا اصل نام تو برمیندر کور تھا وہ اور نیلم شام کو دفتر سے لوٹتے وقت یا توEagle & Ball پب یاBacchus Bar میں بیٹھ کر چل (Chill) کرنے کے لیے ایک ایک گلاس شراب کا ضرور گھٹکاتی تھیں۔دونوں کے گھر بھی قریب قریب تھے۔دو گلیاں چھوڑ کر گڈی اپنے بھائی بھابھی کے گھر سے ہٹ کر ایک چھوٹے سے اپارٹمنٹ میں رہتی تھی۔
پینے پلانے کا چھوٹا موٹا شوق نیلم کو اپنے استاد اور دلبر، وجدان احمد کی رفاقت میں پڑا تھا۔

ایگل اینڈ بال

باچُس بار

موگا ۔مشرقی پنجاب ہندوستان سے شادی کے بعد انگلستان پہنچ کر سب سے پہلے برمیندر نے دو کام کیے۔ پہلے تو اپنے ہتھ چھٹ سکھ میاں سے نجات حاصل کی اور دوسرے برمیندر سے اپنا نام گڈی بدل لیا ۔وہ کہتی تھی برمیند ر اور برمنگھم سننے میں بہت جڑے جڑے سے لگتے ہیں۔ میاں چھوڑ دیا توماں باپ والا نام بھی چھوڑ دیا جائے ۔سکھوں میں ڈولیاں بہت تھیں۔ہر تیسری لڑکی اپنا نام ڈولی سنگھ بتاتی تھی۔برمیند نے ڈولی والے نام کو سرسوں کے تیل کی مالش کرکے چھاچھ سے غسل دیا اور اپنا نام گڈی رجسٹر کرادیا ۔
گڈی تیز تیزفیصلوں کی عادی تھی۔وہ دو سال میں ہی بھانپ گئی کہ اس کا بس ڈرائیور میاں اس کے مزاج کے حساب سے لمبی ریس کا گھوڑا نہیں۔ انگلستان نے اس کے اپنے پینڈو فطرت میاں ترلوچن سنگھ اور نیلم کے میاں سعید گیلانی کا کچھ زیادہ نہیں بگاڑا ۔ یہ دونوں پنجابی کے مْحاورہ جیہڑے ایتھے پیہڑے او لہور وی پیہڑے( گاؤں کے لفنگے، لاہور شہر جا کر بھی لفنگے رہیں گے) دونوں ازدواجی دھندے میں گھاٹے کا سودا ہیں۔اس کے اپنے الفاظ میں ٹوٹل لاس،Frustrated Cargo،انسانی نسل اور خوراک کا نرا نقصان۔ شراب کے تین گھونٹ کے  ساتھ ہی اس کے اندر کی سکھنی لاچا کس کر ککلی کرنا شروع کردیتی۔ نیلم کو اس وقت گڈی بہت اچھی لگتی ۔وہ گالیاں دیتی اور اپنی فرسٹریشن نکالتی تو نیلم گڈی کا ہاتھ پکڑ کر بار میں ہی جھونٹے لینا شروع کردیتی
ککلی کلیر دی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وزن کے بول
پگ میرے ویر دی۔۔۔۔پگڑی میرے بھائی کی
دوپٹہ پر جائی دا۔۔۔۔۔دوپٹہ میری بھابھی کا
فٹے منھ جوائی دا،،،،،منھ کالا ہو ہمارے داماد کا
جوائی بیٹھا کھوئی تے۔۔۔داماد جو کنوئیں پر بیٹھا ہے
ڈنڈا مارے ڈھوئی تے۔۔۔اسے پیچھے سے ایک لات مارو

ککلی
چنڈو خانہ ہالینڈ میں

بار والوں کے لیے وہاں بیٹھے گوروں کے لیے ایک دل چسپ نظارہ ہوتا۔کبھی کبھار ان کی تقلید میں گورے گوریاں مطلب پوچھ کر ناچنے کھڑے ہوتے تو گڈی اس میں من پسند مغلظات شامل کر دیتی ۔
وہاں ایک سماں بندھ جاتا ایسے ہی ماحول کو فرینچ میںbonhomie کہا جاتا ہے جس کا مطلب خوشیوں بھرا دوستانہ ماحول  گڈی اس  کو سمجھاتی کہ ان لوزرزسے جان چھڑانے میں ہی بہتری ہے۔اپنے طلاق کے فیصلے کے تمام افکار پریشاں اس نے نیلم سے باآواز بلند اس لیے شئیر کیے کہ اسے سعید گیلانی سے اسطرح کے فیصلے پر پہنچنے میں کسی دقت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔گڈی نے طلاق کے معاملے میں نیلم کو بھی سعید کی ڈھوئی پر ڈنڈا مارنے کا مشورہ دیا ۔دفتر کے کام سے جڑا کسی اور ادارے کا ملازم ایک عراقی لڑکا اسے بہت پسند کرتا تھا۔ اس کی مرضی تھی کہ نیلم اس سے جڑ جائے ۔جب نیلم نے اسے ٹالا تو کچھ دن تک۔وہ خود اس کے ساتھ اب آتی جاتی تھی۔اس کے کام میں ایسے مواقع اکثر کمپنی کے خرچ پر نکل آتے تھے ۔یورپ کے پچاس ساٹھ ملک ایک دوسرے سے تین تین گھنٹوں کی مسافت پر ہیں۔ان رفاقت بھری مسافتوں میں گڈی کو اس  سے  دوستانہ لگاوٹ ہوگئی ۔نیلم کو چھیڑتی تھی  کہ مسلمان کوئی اور کام ٹھیک سے کریں یا نہ کریں پر ساڈا داؤد بستر میں سکندر اعظم ہے ۔بہت دن بعد نیلم کو پتہ چلا کہ داؤد مسلمان نہیں عیسائی ہے تو اس نے گڈی کو بتادیا تو وہ کہنے لگی
So much water has passed under the bridge۔
In any case he is moving back. Winter here was harsh .We kept each other warm and we saved on gas.
(پل کے نیچے سے بہت پانی بہہ گیا ہے۔چلو وہ ویسے بھی واپس جارہا ہے. اب کی دفعہ یہاں سردیاں شدید تھیں۔ہم ایک دوسرے کی وجہ سے گرم بھی رہے اور گیس کا بل بھی کم آیا) ۔نیلم جو فطرتاً ایک Conformist تھی اسے گڈی کا یہ من چلا اور دنیا کو جوتی کی نوک پر رکھنے کا انداز بہت پسند تھا،اسی وجہ سے وہ اپنے بھائی بھابھی سے ان کی رضامندی کو نظر انداز کرکے ذرا دور اکیلی رہتی تھی۔
نیلم جانتی تھی کہ اس کی مالی حالت میں گھر کے کرائے کی وجہ سے ایک دباؤ آجاتا ہے اس وجہ سے اسے وہ گڈی کو ان کے ساتھ رہنے کی تلقین کرتی تھی ۔جواب میں گڈی اسے جتاتی تھی کہ تجھے کیا پتہ پلنگ کے دونوں طرف سے اٹھنے کی آزادی کتنی بڑی آزادی ہے۔وہ کوئی بوائے فرینڈ اپنے گھر نہیں لاتی تھی۔نیلم کو وہ چھیڑتی تھی کہ وہ جب سعید سے طلاق لے لے تو وہ دونوں Same-Sex Marriage   کرلیں گے۔ دونوں پنجاب پھرسے ایک ہوجائیں گے۔ساتھ رہیں گے۔گا گا کر پیار کریں گے۔نیلم جس دن میں دلہن ہوں یو سنگ وے ماہی میرا سونے ورگا وے ماہی تینوں چم چم رکھنا جب تو دلہن ہوگی وی ڈونٹ گوٹو پب ؔمیں تینوں ٹب وچ پاکےتے نالے پٹیال پیگ پی کے کہوان گی

وے ماہی میرا وہسکی ورگا

وے ماہی تینوں غٹ غٹ پی واں

وے ماہی تینوں۔۔۔

ایک ہفتے وہ میاں اور ایک ہفتے نیلم یا جیسے مناسب لگے ۔

سیم سیکس جوڑا
برطانیہ-میں-سیم-سیکس-شادی-کی-اجازت-پر-سرکار-کا-شکریہ
کبھی دل دولہا ہو
کبھی دل دلہن ہو

نیلم کو نوکری بھی گڈی نے ہی دلوائی تھی ۔دونوں بہت گہری دوست تھیں۔دوستی کے تین ماہ بعد ہی جب کہ نیلم کی شادی دو سال پرانی تھی اس نے نیلم کو طلاق کا مشورہ دیا جس کو ٹالتے ٹالتے مزید چار برس اور بیت گئے۔
زندگی جس رفتار سے گزر رہی تھی ممکن ہے ویسے ہی گزرتی رہتی مگر اب کی دفعہ کرنل ظہیرنے ہمت پکڑی۔انہوں نے نیلم کی شکایات کو ٹھنڈے دل سے سن کر اسے پاکستان آنے کو کہا ۔ انہیں لگا کہ بچی تنگ ہے اور وہ اس کے معاملے میں   کوئی حتمی فیصلہ کر نا چاہتے ہیں۔

اس فیصلے کے بارے میں سوچنے کا مرحلہ اس لیے درپیش آیا کہ طاہرہ اور کرنل ظہیر دونوں ہی ایک بڑے حادثے کے نتیجے میں ہمت ہار بیٹھے تھے۔طاہرہ کے دونوں بیٹے اور نیلم کے سوتیلے بھائی اس وقت حادثے میں ہلاک ہوگئے جب بھمبر جاتے ان کی جیپ ایک کھائی میں جاگری۔طاہرہ بھی جیپ میں موجود تھی مگر وہ ہلاک ہونے سے اس لیے محفوظ رہی کہ وہ ڈرائیور کے اوپر جا گری تھی جس کی وجہ سے بے چارے کو ہاتھ پیر ہلانے کو موقع  ہی نہ ملا کہ جان بچ جاتی ۔ وہ کچھ دن ہسپتال میں رہی مگرجب شفایاب ہوکر گھر واپس آئی تو اس کی شخصیت بجھ سی گئی۔زندگی بہت بے لطف ہوگئی،دنیا داری جاتی رہی۔

من آمدم
نیلم کی طلاق کے موضوع پر طاہرہ نے چپ ہی سادھے رکھی ۔دور کہیں اسے یہ بھی بات سمجھ میں آگئی کہ ناخوش نیلم کے برطانیہ میں رہنے سے بہتر ہے کہ وہ پاکستان آن کر ان کی جاگیر داری سنبھال لے۔ یہاں کسی عزیز وغیرہ سے شادی کرلے۔ اللہ نے کبھی وطن کی مٹی کو گواہ بنا کر ریٹائرڈ کرنل ظہیر صاحب کے حوصلوں کو جولانی دی تو وہ پھر سے ماں بن جائے گی ۔ نیلم سے اسے نو مولود کے ساتھ جائداد شئیرنگ کا کوئی خطرہ نہ تھا ۔ وہ جانتی تھی کہ نیلم سعادت مند ہے ۔ ممکن ہے وہی اس نئے بچے کی ماں نما بہن بن کر اسے جاگیر میں حصہ دے دے گی۔یوں بھی جب اس کے بیٹے عفان اور غفران ہی اس دنیا میں نہ رہے تو نیلم کے برطانیہ میں رہنے کا اسے ذاتی طور پر کوئی فائدہ نہ تھا۔ اس کے سود و زیاں کا اینٹنا کاکروچ کے antennae جیسا  تھا ۔ وہ ان بے رحم افراد کی طرح سوچتی تھی کہ اپنا کام پورا تو بھاڑ میں جائے نورا ۔

کاکروچ کا اینٹئنا

نیلماں کی ازدواجی ناآسودگی کی گولی اس نے اپنے کزن فخر الزماں کے کان کے پاس سے ہلکے سے گزار دی تھی۔بہت آہستگی سے اس نے نیلم کے تاحال کنوارے ہونے اور سعید کی بستر میں پسپائی کا بتادیا۔فخر الزماں گیلانی نے لخت جگر کی اس نامرادی کا سنا تو دل میں آئی کہ پوتےْ پوتی کے لیے چیسٹر اسٹریٹ میں گھر کے پاس ہی واقع بلیک برن مسجد کے امام صاحب سے سیدنا زکریا علیہ سلام کی اولاد والی دعا کی درخواست کرے مگر پھر ڈر گیا کہ اس کی بیوی زیب النساء عرف زیبی بھی کچھ ایسی خاص عمر رسیدہ نہیں۔ بیالس برس کیا ہوتے ہیں ۔ اب تک باقاعدگی  سے پیراکی بھی کرتی ہے اور وہ دونوں کے جنسی تعلقات میں لطف ،چنچل  ، تواتر اور استحکام ہے۔Menopause بھی شروع نہیں ہوا ۔کہیں ایسا نہ ہو کہ دعا کا اثر نیلم کی بجائے اس کی اپنی بیگم پر ہوجائے۔ وہ حاملہ ہوگئی تو بہت بھنڈ ہوجائے گا۔

بلیک برن برمنگھم کی مسجد

نیلم نے پاکستان جانے کا پروگرام بنایا تو سعید نے سوچا کہ وہ آخری ٹرائی کے طور پربرلن میں مل لیں۔ وہاں بات ہوجائے گی ۔وہ نیلم کو سمجھادے گا کہ والدہ کا جو Daddy’s All Boutique کا منصوبہ ہے اس میں شریک ہوجائے۔خاندان بڑا ہے۔ مزید اضافے کے امکانات ہیں۔ برطانیہ میں پٹیل اور گجراتی  دونوں ہاتوں سے دولت لوٹ رہے ہیں تو وہ کیوں نہ اپنا حصہ بٹوریں۔ کاروبار میں برکت ہے۔ہندو نوکری کو نیچ کہتے ہیں۔بیوپار کو اصل میں یہ گجراتی میمن بے پار کہتے ہیں۔
وہ جب برلن پہنچے تو طاہرہ نے اپنے کزن فخر الزماں کی بہو نیلم کی چند ماہ پرانی شکایات پر غور کیا ۔جن میں ساس سے بدسلوکی سر فہرست تھی کہ نیلم اس کی بیوی اور اپنی ساس کو بہت Trash کرتی ہے ۔شراب بھی روز گھٹکاتی ہے۔مے بی اس حرامی گڈی کے ساتھ Orgies میں بھی جاتی ہو۔طاہرہ کے لیے اورجی نیا لفظ تھا مگر وہ سمجھ گئی کہ پی پلا کر یہ دونوں برمنگھم کے نقشبندیوں کی مراقبہ Meet-ups میں تو شریک ہونے سے رہیں۔یہ سوچ کر اس نے اس محفل شہوت و خرافات کے بارے میں تفصیل سے جاننا ضرور ی نہ سمجھا مگر یہ ٹھان لیا کہ کبھی نیلم ہاتھ لگی تو  اورجی کا ذکر ضرور چھیڑے گی ۔دونوں کی عمر میں زیادہ سے زیادہ یہی کوئی دس برس کا فرق تھا۔

صوفی اجتماع ذکر -برمنگھم

اور اسی مکالمے کے دوران ہی فیصلہ ہوگیا کہ سعید نیلم کو طلاق دے دے۔نو ہارڈ فیلنگ۔۔۔بس Irreconcilable Differences (مزاج کی عدم مطابقت)
سعید کو یہ علم نہ تھا کہ بڑوں کے فیصلے کیا ہیں۔ وہ اس شادی کو بچانے کے لیے برلن آیا تھا مگر بڑی بہن فیروزہ نے اسے اوسلو بلالیا۔ اس نیلم ایک آنکھ نہ بھاتی تھی ۔ وہ اسے ویمپائر اور ہیری پوٹر کی پھوپھی جیسے القاب سے یاد کرتی تھی وہ ان کشمیری اور بستی کے جالندھری برکی پٹھانوں کی عورتوں کی طرح تھی جو گھرانے کے مرد کی باہر شادی پر پوری بستی کو آگ لگادینے کے چکر میں رہتی ہیں ۔ نیلم اور سعید کا اگلا پڑاؤ استنبول تھا۔ انہیں سیر و تفریح کے دو دن ساتھ گزارنے تھے۔اسے لگا کہ نیلم کو بھی طلاق کی بھنک پڑگئی ہے ۔اس لیے جان بوجھ کر لیٹ ہوئی ہے گڈی نے بھی فیری پکڑ کر ایمسٹرڈم کا رخ کیا ہوگا، کہیں بیٹھ کر دونوں چرس پی رہی ہوں گی ۔
کشمیری ،انگلینڈ جاکر بہت شکی مزاج ہوگئے ہیں۔اس نے اپنی بہن کو پیغام بھی دیا کہ وہ ان کے پسندیدہ Watering Holes پر(انگریزی زبان میں مئے کدے کو کہتے ہیں ) ایک جھاتی( پنجابی میں جھانک کر )مار کر آئے۔اس خفیہ مشن کا مقصد گڈی کی برمنگھم میں موجودگی کا پتہ کرنا تھا۔اسے بہن کی زبانی یہ سن کر مایوسی ہوئی کہ گڈی Bacchus Bar میں اکیلی بیٹھی پی رہی تھی ۔۔اس نے سعید کی بہن کو دعوت دی تو وہ بھی جام لنڈھانے بیٹھ گئی۔

برطانیہ سے ہالینڈ کی فیری

فیروزہ نے اسے اوسلو میں کشمیری ڈش گشتابہ کھلا کر بتایا کہ والد صاحب نے آنٹی طاہرہ سے بات کرلی ہے جینٹلمن۔ دی ۔پارٹی۔ از۔ اوور ۔ وہ اسے پاکستان میں جاکر طلاق دے دے ۔ انگلستان میں طلاق دے گا تو برتن بک جائیں گے ۔ گڈی کا چچا وکیل ہے ۔یہاں وہ میدان میں کود پڑے گا۔سعید کو نیلم سے خود سے کوئی شکایت نہ تھی۔وہ نیلم کا کریڈیٹ کارڈ بھی استعمال کرلیتا تو
اس سے سوال جواب نہ ہوتا تھا۔اپنی مردانہ کمزوری کا اسے ادارک تھا۔ کہیں سے نیلم کی  بے راہ روی کی شکایت نہیں ملی ۔برمنگھم میں کونسی دیسی لڑکی کس کالے گورے کا بستر گرم کرتی ہے یہ پتہ چلانا کچھ ایسا خاص مشکل نہ تھا۔ دیسی مرد تو خاص طور پر ان اطلاعات کو عام کرنا اپنا فرض اولین سمجھتے تھے کہ ان کے ہندوستان پاکستان کی کونسی لڑکی کس پارٹی پر دم گٹکو ہوکر کتنے کپڑوں میں کس کس کی بانہوں میں اوندھی پڑی تھی۔

گشتابہ کشمیری ڈش

اس کی بہنوں نے جب اس کی ہر شام پب جانے کی شکایت کی تو وہ بھی اس نے سنی  ان سنی کردی گو ماں بہنوں نے اسے انگریزی میں شراب کے حوالے سے باخبر کیا کہ One thing leads to another, Drink Today , Dance tomorrow۔ڈانس سے آگے کی انہوں نے بات نہ کی۔ انہیں اس کے بعد کے مراحل کا تجربہ تھا کیوں کہ دونوں بہنیں حنا اور ثنا  اسکول کے آخری سالوں میں ایک گورے ڈرمر اور ایک امریکی کالے سے ڈیٹ مارتی رہیں تھی اور ثنا کے تو کالے سے مراسم اس نہج تک جاپہنچے تھے کہ اسقاط حمل تک نوبت پہنچ گئی تھی۔

آئیں اسی گوشہء عافیت میں چلیں جہاں نیلم اور ارسلان آغا مدھم روشنی میں ایک دوسرے کے قریب صوفے پر بیٹھے تھے۔
Vodka Cranberry Shrubٍ جو درحقیقت کچھ کرین بیری کا جوس جو سیب کے سرکے کی ترشی اور وڈکا کی کڑواہٹ کی وجہ سے خاصا حواس باختہ کاک ٹیل تھا جب نیلم کے گلے سے اترا تو اس گوشہ ء رفاقت میں وہ عجب سرور محسوس ہوا جو گڈی کے ساتھ بیٹھ کر مئے نوشی کے دوران کبھی محسوس نہ ہوا تھا۔اس نے بہت آہستہ سے ارسلان آغا سے اپنی فرمائش دہرائی کہ So What is Your Story Mr. Bureaucrat۔
اسی سرور کا نتیجہ تھا کہ وہ صوفے پر ایک جانب بازو رکھ کر نیم دراز انداز میں ٹخنے  کولہوں کے نیچے سمیٹ کر بیٹھ گئی اب وہ لاکٹ اور ایک جانب سے سینے کا ابھار ایسا نمایاں تھا کہ سیاہ برا کی دھواں دھواں سی شفون کی نیک لائن بھی باہر جھانکنے لگی۔یہ نیک لائن ایسی تھی جیسے لائن ڈرائینگ کے کسی ماہر مصور نے سمندر کے کناروں کو کسی خط واضح سے ایک کینوس پر کھینچا ہو۔ایسا نہ تھا کہ تھی مگر نیلم اپنے لباس کی اس اندرونی شورش سے غافل تھی۔یہ کوئی Wardrobe Malfunction (شو بز کی مشہور اصطلاح جو کسی مشہور خاتون کے لباس کی غیر دانستہ حادثاتی کوتاہی کی وجہ سے جسم کے پوشیدہ حصوں کا ظاہر ہوجانا) نہ تھا۔

وہ جانتی تھی کہ اب وہ سعید گیلانی کے حبالہء نکاح سے آزاد ہورہی ہے اور ایک مرد اسے اتفاقاً مل گیا ہے۔آزادی کی اس نو دریافت کیفیت میں کئی عوامل شامل تھے یعنی سعید کے ٹیکسٹ میسجیز کی کڑواہٹ ، اس کا اپنا احساس تفاخر، ایام نو کو گلے لگانے کا ایک چیلنج اور سامنے والے مرد کی دل چسپ شخصیت۔
یہ مرد اس کی زندگی کے اب تک کے تین اہم مردوں کرنل ظہیر ،استاد وجدان اور میاں سعید گیلانی سے بہت مختلف تھا۔وہ شانت تھا،صاحب ذوق تھا، اس میں ٹینس کی ٹپے کھاتی گیند والی  لاابالی پن کا سا اچھال تھا ۔اس باؤنس نے اسے اکسایا کہ وہ اس گیند کے عقب میں آن کر کمر کو پیچھے موڑ کر بدن کا ایک دل نشین نیم قوس بنا کر اپنی جگمگاتی سورج کو آئینہ دکھاتی بغل والا بازو بلند کرکے ،ایک پیر زمین سے اٹھا کر ماریا شراپوا کی طرح کا ایک زبردست شاٹ مارے گی۔سو میل فی گھنٹے کی رفتار والا شاٹ ۔

شاراپوا

ارسلان نے بیان شروع کیا تو نیلم کاک ٹیل کے دو گھونٹ لے چکی تھی جس کی وجہ سے  Zombie Glass ایک انچ خالی ہوچکا تھا۔مشروب کے سطح سے نیچے جانے سے اس کے لیے   گلاس کے اس پار سے ارسلان کا جائزہ لینا آسان ہوگیا۔نیلم کو خود پر یہ بہت ناز تھا کہ وہ بہت سے کام بہ یک وقت کرسکتی ہے لہذا جب اسے لگتا کہ ارسلان لاکٹ سے آگے اور برا کی نیک لائن سے نیچے جارہا ہے تو وہ اس بیان بازی میں اسے یہ احساس دلانے کے لیے کوئی سوال داغ دیتی تھی۔کوئی ایسا اشارہ کردیتی جس سے دید بانی میں شدید خلل آجاتا تھا۔

زومبی گلاس

وہ کہہ رہا تھا کہ وہ سی ایس ایس کرکے ملازمتوں میں آگیا تھا۔ شادی ایک حادثہ تھی۔بیگم کا دباؤ بہت تھا۔وہ ایک تاجر گھرانے کی فردتھیں گھر والوں کا ہوزری اور یارن کا کام تھا۔بیگم کے  ایک چھوٹے بھائی اور بہن کی وجہ سے سسر کا دباؤ تھا کہ ارسلان ان کے کاروبار میں شرکت کرے۔وہ نہ مانا تو ازداوجی اختلافات بڑھتے چلے گئے۔ارسلان کو یہ بھی لگا کہ اس کی بیوی مدیحہ کو اپنا کزن بھی اچھا لگتا تھا ۔وہ اس کا غریب خالہ زاد بھائی تھا۔میمن ہونے کے ناطے اس بات کے بہت قوی امکانات تھے کہ وہ اپنے خالو کا کاروبار سنبھال سکتا ہے۔
الزامات سے بہت پرے ارسلان نے اس موضوع کو یہ کہہ کر لپیٹ دیا کہ شادی پہلے چار برس میں ہی ختم ہوگئی۔دونوں دفعہ مس کیئرج ہوا تو مدیحہ کی شخصیت نفسیاتی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی۔اس کے منفی اثرات مجھ پر بھی ہوئے۔اسے شک تھا کہ میں دوسری عورتوں میں دل چسپی لیتا ہوں۔
’ایسا تھا‘؟ نیلم نے بہت آہستگی  سے غیر محسوس طریقے سے ملین ڈالر کا سوال پوچھا۔اپنی اس چالاکی پر اسے دل ہی دل میں مسرت بھی ہوئی۔
’اتنی ہی جتنی اب لے رہا ہوں۔وہ بھی کم نہ تھا۔وہ لڑکھڑاگئی کہ یا اللہ یہ کس فتنے سے جوڑ ڈالا ہے۔اس نے غور سے دیکھا مگر ارسلان کے چہرے پر کوئی فاتحانہ علامات نہ تھیں۔وہ سوچنے لگی ایک اور داؤ آزماتے ہیں۔کیوں نہ حضرت کے ساتھ وقت گزاری کے لیے ذہنی کاتھا (کراٹے کی مشق) کی جائے۔
اس کے لیے اس نے ایک نسوانی جال لفظوں کی مدد سے بچھایا مگر اس سے پہلے اس نے اپنے دونوں ہاتھ پیچھے کرکے انگڑائی لی اور کہا ہاؤ سویٹ۔یو آر امیزنگ۔آئی ایم سو امپریسڈ۔ میرا خیال ہے ایک عورت کے ناطے  وہ آپ کی مدیحہ صاحبہ یہ سوچتی ہوں کہ آپ فطرتاً برے یا لیڈی کلر ٹائپ نہیں مگر موقع ملنے پر کسی خاتون میں ایسی دل چسپی لیتے ہوں جو آپ سے وابستہ کسی اور خاتون کو بھی بری لگ سکتی ہے۔

اجازت ہو تو میں بھی آپ کی کچھ تعریف کرلوں۔ارسلان نے پوچھا۔
نیلم نے کہا اس سے آپ میرے سوال کو اگنور کرنے کا حربہ نہیں بنائیں گے۔
’’ہر گز نہیں۔میں کسی سچویشن کو avoid کرنے  کی بجائے اسے فیس کرنا زیادہ بہتر سمجھتا ہوں۔
آپ جتنی دل کش دکھائی دیتی ہیں اس سے زیادہ آپ مجھے unexplored لگتی ہیں۔ایسا لگتا ہے آپ سمندر کے درمیاں ایسا جزیرہ ہیں جو صرف پورے چاند پر ابھر کے پانی کے باہر آتا ہو
وہ کھل کھلا کر ہنس دی اور کہنے لگی Call me mermaid of a distant island(مجھے کسی دور افتادہ جزیرے  کی جل پری سمجھو)
’’مگر میرے سوال کا جواب‘‘۔وہ مصر ہوئی
’حالات کی مجبوری کو ایک خوش گوار ملاقات میں بدلنا کوئی جرم ہے تو میرا جرم وہی ہے جو آپ کے مطابق مدیحہ نے سوچا اور آپ نے اس گوشۂ انصاف میں پڑھ کر سنایا۔ہم بات نہ کرتے تب بھی
زندگی کی یہ رات گزر ہی جاتی۔
’ ’ایسا ہوتا تو آپ کیا کرتے ؟‘نیلم نے پوچھ ہی لیا۔۔۔

کورین سینسی

میں سوچتا یہ آپ کا بھی اتنا ہی بڑا نقصان ہے جتنا میرا۔‘ارسلان نے وار کیا۔
نیلم کو لگا کہ اب اس گفتگو میں ایسا موڑ آگیا ہے کہ وہ رومانٹک جارحیت جیسے ہاتھ پکڑنا ،گلے لگانا ،چومنا شروع کرے گا تو اس کی مدافعت کم سے کم ہے اور اس کے پاس اس کا جواز بہت زیادہ ہے۔وہ کھڑی ہوگئی اور آہستہ سے کہنے لگی I need a time out(مجھے کچھ وقفہ درکار ہے)

ارسلان نے اس پر کہا وہ چاہے تو وہاں کافی شاپ سے اس کے اور اپنے لیے کچھ مشروب لاسکتی ہے یا وہ یہاں بیٹھنا چاہتی ہے تو وہ لے آئے گا۔

نیلم کہنے لگی نہیں I dont feel like changing the battlefield. You go and bring it .
وہ اسے جاتا دیکھتی رہی۔جانے اسے کیوں خیال آیا کہ جب وہ اس سے کسی ایر پورٹ پر جدا ہوگا تو وہ ریزہ ریزہ ہوجائے گی۔یہ وہ قدم نہیں جو اسے چھوڑ کے جانے کے لیے اٹھیں۔سامان پاس نہ ہوتا تو وہ اس کے پاس جاکر کہتی Don’t you ever walk away from me
(مجھ سے کبھی دور جانے کا سوچنا بھی مت)
اس نے گریبان میں جھانکا تو لگا جن قوموبط کا تعویذ ایکس پائر ہوگیا ہے۔اسے ارسلان اچھا لگ گیا ہے ۔اس نے اس کے جسم کو تو چھوا نہیں مگر دل کو لیزر کی شعاعوں سے کاٹ دیا ہے۔ کیمرہ لاکٹ اتار کر اس نے پرس سے نکال کر فیروزہ کا لاکٹ پہن لیا۔ارسلان واپس آیا تو شہد کی ایک پوری بوتل بھی بلیک کافی کے ساتھ تھی۔
نیلم نے اس امر پر حیرت کا اظہار کیا تو وہ کہنے لگا جتنا استعمال ہوا ٹھیک ہے ورنہ ہم میں سے جسے آج کی ملاقات اچھی لگی ہو وہ اس کو رکھ لے۔ اس کی مٹھاس زندگی میں یاد دلاتی رہے گی کہ ع
شہد جینے کا ملا کرتا ہے تھوڑا تھوڑا
نیلم نے یہ شعر سن رکھا تھا گلزار کی غزل تھی۔ جگجیت کو وہ بہت شوق سے سنا کرتی اس لیے خود ہی کہنے لگی ع

 

کیمرہ لاکٹ
فیروزے کا لاکٹ

جانے والوں کو لیے دل نہیں تھوڑا کرتے۔۔۔۔۔

اسے لگا کہ کوئی لمحہ جاتا ہے کہ اس کی چشم نم ناک سے ایک قطرہ بہنے کو ہے۔ اس بے ارادہ اظہار پر اس کی آنکھ نم ہوگئی جو اس کے لیے خفت کا باعث بن سکتی تھی مگر ذہین عورت تھی کہنے لگی میری امی کو یہ غزل بہت پسند تھی۔بیمار تھیں تو بس جگجیت کو سنا کرتی تھی اس نے جلدی سے ٹشو پیپر آنکھ پر رکھ لیا اور ہاتھ سے منہ  چھپا کر کہنے لگی ۔ پلیز جاری رکھیں ۔ آپ مدیحہ کے مس کیرجز کا بتا رہے تھے ۔
وہ کہنے لگا کہ مدیحہ کو جانے کیوں یہ شک دل میں گھر کرگیا کہ اس سے منسلک کسی عورت نے اس پر جادو کرایا ہے۔اسی لیے وہ ٹھیک سے ماں بھی نہیں بن پارہی۔اس ماحول میں اس کے گھروالوں کی مداخلت بھی بڑھ گئی۔ایک عامل صاحب بھی ان کےگھر  آنے جانے لگے۔ان کے مشورے سے ہی طلاق کا مطالبہ ہوا ۔ان کی ہدایت پراس طلاق کے بعد مدیحہ کی شادی اپنے خالہ زاد بھائی منیر لاکھانی سے ہوگئی۔اب وہ دو بچوں کی ماں بھی ہے اورمنیر نے سارا کاروبار سنبھال لیا ہے۔
اس کی دوران ملازمت صوبے کے چند طاقتور لوگوں سے الجھن ہوگئی۔اکیڈیمی میں اس کے   ایک اصلی سی ایس پی استاد اب فیڈرل سیکرٹری تھے۔ایماندار ، سمجھدار اور مردم شناس ۔ادب پرور اور فن کے دل دادہ ہونے کے ناطے یوں بھی ہر وقت عورتوں کی ناک کا کوکا اور آنکھ کا تارہ بنے رہتے تھے اس پر مزاج بھی ریشم کے لاچے جیسے کھلا کھلا اور آرام دہ تھا۔بنگالن بیوی برطانیہ میں قیام کو ترجیح دیتی تھی۔ ارسلان سے اکیڈیمی کے زمانے سے تعلق قائم ہوا تھا وہ اب بھی جاری و ساری تھا۔ان دنوں وہ وزیر اعظم کے پر نسپل سیکرٹری تھے۔ارسلان کو وزیر اعظم سے منظوری لے کر انہون نے وزارت زراعت میں غیر ملکی اشتراک سے چلنے والے پروجیکٹس کا انچارج ڈائیریکٹر لگادیا تھا۔وزارت کی جانب سے ایف اے او کے معاملات کو بھی وہی نمٹا کرتا تھا۔اسی حوالے سے وہ ڈبلن سے کانفرنس سے لوٹ رہا تھا۔

کوکا

نیلم نے جب اس داستاں گوئی کا آغاز ہوا تو اپنی سماعت میں فلٹر لگالیے تھے کہ جھوٹ پر کہیں دماغ میں بیپ سنائی دے تو وہ اسے سوال کرکے غیر محسوس طریقے سے سچ اگلوالے گی۔اب تک یہ بیپ ایک دفعہ بھی سنائی نہ دی تو وہ خود کو بہتSusceptible سمجھنے لگی۔
اسے شک ہوا کہ کہیں وہ اس کے شخصیت کے سحر میں سب کچھ بھول بھال تو نہیں گئی۔بچاؤ اور رکھوالی کی باڑ اس کی مئے نوشی اور میاں سے مخاطب کے موازنے نے گراتو نہیں دی۔ ایسا ہوا تو یہ گھاٹے کا سودا ہوگا۔ بقول گڈی کے ٹوٹل لاس ۔ اس نے بہت خاموشی سے اسے نظر انداز کرکے گلاس پر نگاہ دوڑائی۔بارہ اونس کا یہ گلاس،وہ اور گڈی عام دنوں میں ایسے دو تین گلاس گھٹکا کر گاتی ، ہنستی کھیلتی ، نارمل مگر قدرے خوش گوار موڈ میں گھر آتی تھیں۔سو شراب کا کوئی قصور نہیں۔اسے وہ بغیر بتائے اچانک کھڑی ہوگئی اور ریسٹ روم کی طرف جاتے جاتے واپس پلٹ کر آئی اور اس باؤنڈری پر کہنیاں ٹکا کر یوں جھکی کہ ارسلان کی نگاہوں کے سامنے موسم گرما کی امگی ہوئی رات کے دو پورے چاند جگمگانے لگے۔یہ اس کی باقی ماندہ مدافعت کے پرخچے اڑانے کا عمل تھا۔ یہ گولائیاں
اسے جتلا رہی تھیں.کہ بے بی No Running Away this time ۔اس نے اب آغا صاحب کی نگاہوں کی کھلواڑ کا بالکل برا نہیں مانا اور کہنے لگی We resume after this bathroom break یہ گڈی کی انگریزی تھی جو اس کے بقول اس نے پاکستانی اداکارہ میرا کی زبانی سنی تھی۔
ٹوائلیٹ سیٹ پر بیٹھ کر وہ یہ بھی سوچے گی کہ حضرت ارسلان کی آنکھ ایک دفعہ کیوں بند ہوئی تھی اور دوسرے کیا وہ استنبول ائیرپورٹ سے ہی سیدھی لاہور کی فلائٹ پکڑے یا اس کے ساتھ دو تین دن ترکی میں گزارے۔۔ریسٹ روم کے شفاف آئینے میں اس کی خود پر ایک نگاہ نے ہی آنکھ بند ہونے کا جواب دے دیا کہ اس کا یہ سراپا ایسا ہے کہ سامنے بیٹھے مرد کو خواب دکھا بھی سکتا ہے اور چاہے تو اس کی نیندیں اڑا بھی سکتا ہے۔ واپسی میں پورے دس منٹ لگے اور استنبول کافیصلہ وہ اس لیے بھی نہ کرپائی کہ کیا وہ طلاق کے کاغذات پر دستخط نہ ہونے تک کی وجہ سے وہ اب تک فیصلوں میں طے شدہ پروگرام کے مطابق اپنے شوہر سعید گیلانی کو جواب دہ ہے۔
اس نے واپسی پر بار سے پھر وہی کاک ٹیل کا چھوٹا گلاس اٹھا لیا تھا ۔ آتے ہی اس  کا ایک لمبا گھونٹ بھر کے ارسلان کوآر پار ہوجانے والی نگاہوں سے دیکھا ۔چہرے پر ایک صوفیانہ شانتی اور ایک معصومانہ رکھ رکھاؤ تھا ۔ مقابلے کے امتحان اور اہم عہدوں پر فائز رہنے کے باوجودچہرے اور شخصیت کا مجموعی تاثر تکبر ، خود ستائی کے خاموش احساس اور اندر آنے والوں کو کنٹرول کرنے والے مکڑی کے جالوں سے اٹا ہوا نہ تھا ۔مسکراہٹ گھائل کرنے والی اور بہت فطری سی تھی۔
اسے دیکھتے ہوئے وہ بھی مسکرادی۔شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ کم از کم ازدواجی ناآسودگی اور طلاق کے حوالے سے دونوں ایک دوسرے کی کمفرٹ زون میں تھے۔اسے خیال آیا کہ وہ اس شادی کے بعد کسی اور عورت سے وابستگی کا پوچھ لے مگر یہ اسے خود غرضی لگی کہ اس نے اپنے بارے میں تو کچھ  بتایا بھی نہیں اس موقعے پر بے چارے ارسلان کی نجی زندگی کاComputed tomography (CT), یعنی CAT Scan, کرڈالنا سر ا سر زیادتی ہوگا۔
اپنی نشست پر پھر سے براجمان ہوکر اس نے گلاس منہ  سے لگایا۔مشروب میں ذائقہ آفریں ترشی کی وجہ سے لگا   کہ اس کے دماغ میں ہلکی سی پھوار یوں برسی ہے کہ اس کی ریڑھ کی ہڈی سے
ہوتی ہوئی ناف کے بھنور میں ہلکورے لے رہی ہے۔ اس نے جھک کر اپنی ناف کو دیکھا بھی مگر وہاں اس کی نیول رنگ لٹکی ہوئی گھنٹیاں سانس کے زیروبم سے بج رہی تھیں۔اسی جھپ میں اس نے باقی ماندہ مشروب بھی غٹا غٹ  ختم کرلیا
ایک دلبرانہ سنجیدگی جو کسی طور مخاطب کو اپنے احساس اجتناب پر براہ راست حملہ نہ محسوس ہو وہ اس سے پوچھنے لگی’ آپ واقعی نہیں پیتے ؟ہم نے لاہور میں اپنے این ۔سی۔ اے میں بہت  سنا تھا کہ بیوروکریٹ تو بہت خراب ہوتے ہیں۔ارسلان نے ہنس کہ جواب دیا’’ بالکل صحیح سنا تھا آپ نے۔
۔میں بھی بہت خراب ہوں مگر شراب نہیں پیتا۔آپ کا سوال یہ ہے کہ کیوں تو اس کا جواب یہ ہے کہ میں ہمیشہ سے natural high میں ہوتا ہوں‘‘۔
گفتگو میں اس کے چلے جانے سے ایک خلل سا آگیا۔واپسی پر اسے اپنی سابقہ لے پر لانے کے لیے نیلم نے پوچھا اسلام آباد میں رہائش ہے کہ کراچی میں۔وہ کہنے لگا ابو کا کاروبار حیدرآباد میں ہے۔امی اس کے بڑے بھائی اور بہن کے ساتھ کراچی رہتی ہیں۔اس کا اپنا فلیٹ کراچی میں بھی ہے جو ابو نے سی ایس ایس کرنے پر تحفے میں دیا تھا۔ سمندر کے کنارے پرواقع ایک کثیر المنزلہ عمارت میں واقع ہے۔اسلام آباد میں اس نے سترہ موڑ پردو دوہزار گز کے دو پلاٹ سستے داموں خرید لیے تھے۔ایسے ہی دو پلاٹ اس کے باس نے بھی خریدے۔اس نے ایک پلاٹ پر تین کمروں کی مختلف لیولز کی کاٹیج بنائی ہے۔ ایک بوڑھا جاپانی کسان جوڑا یہاں آیا تھا ۔ اس نے یہ کاٹیج ڈیزائن کی تھی۔ساتھ کے گاؤں والوں سے بنوایا۔سب کام بہت سستا ہوگیا اور Classy بھی۔ ملک بھر میں ادھر ادھر دوروں کے درمیاں کباڑیوں سے پرانا فرنیچر لا لاکر اس نے یہ آشیاں سجایا ہے۔
پہلے وہ کراچی میں رام سوامی کے پاس ایک بلڈنگ میں رہتا تھا اپنی پھوپھو کے ساتھ ۔وہاں ایک ہندو فیملی سے ان کے دیرینہ مراسم تھے ۔وہ اب اس کے ساتھ ہی اسلام آباد میں رہتی ہے۔ کیوں کہ کراچی میں ان کے برے دن آگئے تھے۔گھرانے کا سربراہ کیشو رام جوا ہار گیا تھا۔اسے بتایا بھی نہیں۔ ورنہ وہ اپنے انڈر ورلڈ سے تعلقات کے ذریعے اس معاملے کو خاموشی سے حل کرلیتا۔کیشو رام نے خودکشی کرلی۔داماد نے بھی گیرج بیچ کر بھارت کی راہ پکڑ لی۔بلڈنگ کی کسی عورت نے اس کا ذکر کسی اخبار میں پڑھا ۔تب وہ کراچی میں ڈپٹی کمشنر تھا ۔چھوٹی موٹی خبریں اس کے نام کی بھی لگ جاتی تھیں۔ اسی نے کیشو رام کی بیٹی اوشا کو بتایا۔ بھائی نے رابطہ کیا ۔تب سے وہ انہیں ساتھ ساتھ لیے گھومتا ہے۔ماں کھانا بناتی ہے۔بھائی کو ایک سرکاری فارم پر اسی نے ملازم رکھوادیا ہے۔بہن اوشاکچھ نفسیاتی دباؤ کا شکار ہے ۔۔۔وہ اس کے پرندے سنبھالتی ہے۔اس کی لابئریری اور اس کے کمرے اور سامان کی دیکھ بھال بھی اس کا ذمہ ہے۔ پانچ سال کاایک بیٹا بھی ہے اس کا۔وہ اسکول جاتا ہے۔

رام سوامی کا علاقہ
رام سوامی کراچی
ارسلان کا فلیٹ

اس کا علاج نہیں کراتے ۔نیلم نے پوچھا۔
نہیں۔وہ خوش ہے۔ ککنگ کی کلاس سے کیک بنانا سیکھ گئی ہے۔وہ دو تین سیل کرتی ہے پانچ ہزار روپے تک مل جاتے ہیں۔
کاک ٹیل کے ختم ہونے پر نیلم نے دل میں پھر ٹائم آؤٹ کا سوچا اور کہنے لگی کیا  یہ ممکن ہے کہ وہ اپنے لیے کافی اور اس کے لیے یہی ڈرنک چھوٹا گلاس لے آئے۔ My last one for a big move؟‘‘
کافی والی جگہ ان کی نشست سے ذرا فاصلے پر تھی واپس آتے آتے ارسلان کو دس منٹ لگ گئے۔ ان دس منٹوں میں نیلم نے فیصلہ کرلیا کہ وہ اپنے سابقہ پروگرام پر عمل کرے گی۔یوں بھی اس کی ٹکٹ پر اسلام آباد کی روانگی چار دن بعد کی تھی۔ ممکن ہوا تو وہ استنبول میں سعید کو ڈھونڈے گی۔اسٹینڈ بائی یعنی متبادل انتظام کے طور پر وہ ارسلان کو ساتھ رکھے گی۔اسے سابقہ رفاقت کے برتے پر یہ بھی گمان ہوا کہ طے شدہ پروگرام میں خلل کی وجہ سے میاں سعید گیلانی اسلام آباد لوٹ گیا ہو ۔اس کے معاملے میں وہ جلد Snap کرجاتا تھا۔یہ بھی ممکن ہے کہ وہ ڈوڈیال چلا گیا ہو ۔ وہاں اس کی ایک بہن بیاہی ہوئی تھی۔ان کا اپنا گھر بھی تھا۔ بہت سے رشتہ دار بھی وہیں تھے۔ایسی صورت میں وہ ان ہوٹلوں میں ارسلان کے ساتھ قیام کرے گی ۔وہ اس کے ساتھ ایک کمرے میں نہیں رہے گی ۔ کوشش کرکے ایسے ہوٹل میں ٹھہرے گی جو بہت مہنگا نہ ہوا،شہر کے وسط میں ہو گرینڈ بازار یا سلطان محمد،کے علاقے میں ۔وہاں کمرے لازماً برابر برابر ہوں مگر سیر ساتھ ساتھ ہو۔وہ اونیا جائے گی۔موقع ملا تو ایک دو گھمریاں عالم سرخوشی میں سماع کی محفل میں لے لی گی۔

گرینڈ بازار کا ہوٹل
سماع مولانا روم کے مزار پر

کہنے کو تو یہ محض دس منٹ ہی تھے ۔ارسلان سے دوری کے دس منٹ۔ اپنے میاں سے وقتی دوری کافیصلہ اس نے اس دس منٹ میں کیا۔ اپنی ذات کی مرکزیت سے ہٹ کر وہ اتنا دور کبھی نہیں جی تھی ۔اب سوچے تو شادی ان وس منٹ میں ہی ٹوٹی ۔باقی سب تو وہ تھا جسے انگریزی میں Rites of Passage یعنی محض رسومات مسافت کہتے ہیں ۔ آپ سوچیں تو زندگی کے سب سے بڑے فیصلے آپ بہت کم وقت میں کرتے ہیں۔ان فیصلوں کو کرتے وقت آپ کو احساس بھی نہیں ہوتا کہ ان کے مفادات ،مضمرات اور اثرات کیا ہوں گے.
۔ یہ تیس بتیس گھنٹے وہ تھے جس نے اس کی زندگی کو ایسے چوراہے پر جس کی علامات و نشانات وہ ٹھیک سے سمجھ اور پڑھ بھی نہ پائی اسے بالکل انجانی شاہراہ پر موڑ دیا نیلم کو بالکل نہ محسوس ہوا کہ وہ زندگی کے کچھ بڑے فیصلے کر رہی ہے۔عجب امید و بیم کا عالم تھاجس نے دل کو گھیر رکھا تھا۔
سعید اگر استنبول میں اسے نہ ملا تو ارسلان کے ساتھ تین راتیں اور چار دن استنبول میں گزارنا چھوٹا فیصلہ نہ تھا۔ سعید گیلانی تا حال اس کا میاں تھا۔اب تک یہ شادی جیسی بھی تھی ٹو۔ از۔ کمپنی کے سنہری اصول پر چل رہی تھی۔
استنبول ،ترکی،ارسلان اور یہ پروگرام اس کے لیے قطعی غیر مانوس اور انجانے ہوں گے ۔کیا وہ یہ سب کچھ نبھا پائے گی۔سول سرونٹس کے بارے میں اس نے اپنی تعلیم کے دوران جو کچھ سنا وہ  کچھ ایسا حوصلہ بخش اور اعتماد دلانے والا نہ تھا۔
دور سے ارسلان آتا دکھائی دیا تو اس نے ایک جے آئی ٹی بڑے ملزمان سے تفتیش کے لیے بنائی جانے والی تحقیقاتی ٹیم جس میں سویلئین اور خفیہ عسکری اداروں کے نمائندے شامل ہوتے ہیںJ.I.T= Jointبنانے کی ٹھانی۔اس پر نیند کا غلبہ طاری تھا اور وہ جانتی تھی کہ جب مرد پر نیند غالب آجائے تو وہ اتنا ہی سچ بولتا ہے جتنا شراب حلق سے اترنے کے بعد بولتا ہے۔وہ مطلب پرست ،مفاد آلودہ جے آئی ٹی کی مانند اسے جگائے رکھے گی۔سونے نہیں دے گی تاکہ اپنی تسلی اور تشفی کرکے اس کے ساتھ ترکی میں قیام کا فیصلہ کرنے میں آسانی ہو۔اس کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ اسے ہانکا کرکے گھیرے۔براہ راست سوالات سے مرد بدک جاتے ہیں۔اس کے لیے وہ اسے بدن کا دانا ڈالے گی اور اپنا سیاہ شرگ اتار کر اپنے رول آ ن بیگ سے ایک جامنی اسٹول نکال لیا۔ سرخ رنگ کا ڈھیلی آستینوں والا ٹاپ یوں بھی کشادہ گلے کا اور قدرے Low neck تھا۔
۔بے تاب مرغابیوں کو جدا کرتی سینے کی لکیر او پر فیروزے کے نئے لاکٹ کے ہلکورے ۔یہ اس کونے میں کسی جواں مرد کے اوسان دھیمے دھیمے خطا کرنے کے لیے کافی تھے۔طے ہوگیا کہ اس تفتیشی عمل میں اس کے بدن اور اس کے یہ محدود جلوے Good Cop ہوں گے اور اس کا دماغBad Cop کا رول پلے کریں گے۔رہ گیا دل تو اسے یہ یقین دلا کر کہ یہ سب کچھ بقا اور بہبود نسواں کی جنگ کے لیے لازمی حکمت حربی ہے وہ اسے مفاد ذات کے زنداں کی قید تنہائی میں دھکیل دے گی۔

نیک لائن

ارسلان نے جونہی نشست جمائی اس نے پہلا وار کیا اپنا Vodka Cranberry Shrub کا گلاس اٹھا کر کہنے لگی کہ ہم نے اب تک ایک دوسرے کو ٹوسٹ تو کیا نہیں۔وہ آگے جان بوجھ کر جھکی تو لاکٹ گلاس کی کناری سے ٹکرا   گیا اور اسے لگا کہ ارسلان کی نگاہیں بھی ان چمکیلی اجلی ڈھلوانوں سے پھسل کر ایک مقام اختتام پر رک گئیں۔اس کے اوپر والے لب پر پسینے کے وہ قطرے نمودار ہو ئے جو وصال کی طلب کی علامت تھے۔اسے لگا کہ اس کی جانب سے یہ شعیب اختر کا پہلا باؤنسر تھا جس سے بیٹسمن لڑکھڑ ا گیا ہے۔اب زیادہ دیر وکٹ پر جم کر کھڑا نہیں ہو پائے گا۔ معاملہ اس کا الٹ ہوا ۔ارسلان نے جب یہ کہا کہ لیں ایک ساتھ تین ٹوسٹ ہوگئے۔نہیں شاید دو ہی ہوئے کیوں کہ پیپر گلاس کا کیا ٹوسٹ۔ مجھے اندازہ نہ تھا کہ آپ کا یہ لاکٹ میرا اتنا ہمدرد نکلے گا۔اس جملے کو سنتے ہوئی اور اس کی رسائی اور شرارت کو بھانپ کر وہ ایسے شرمائی کہ لگا کہ شعیب اختر کا باؤنسر کراتے وقت شانے کا پٹھا اکٹر گیا ہے۔وہ جانتی تھی کہ آپ حواس خمسہ کی رو شراب پیتے وقت آپ اسے دیکھ سکتے ہیں،چکھ سکتے ہیں،سونگھ سکتے ہیں،چھو سکتے ہیں۔ صرف سن نہیں سکتے۔سماعت کا یہی بھرم قائم کرنے کے لیے جام ٹکرائے جاتے ہیں
وہ کچھ دیر شرماتی رہی اور پھر کہنے لگی۔آپ ترکی گئے ہیں۔میرا وہاں جانے کا ارادہ ہے۔میرا اپنے میاں کے ساتھ یہی پلان تھا کہ ہم یہاں سے ساتھ ترکی جائیں گے۔بچھڑنا ہی ہے تو قریب آن کر کیوں نہ بچھڑیں۔مصر میں عزیز مصر کے سات بالیوں بھرے خواب نہ سہی آنے والے سات خشک سالی کے برسوں کا جشن ابتدا میں ہی مل جل کر منا لیں۔اس تذکرے پر نیلم نے محسوس کیا وہ کچھ جزبز ہوا ہے۔یہ اسے اپنی کامیابی لگی اپنی سرخوشی کے عالم میں وہ یہ بھول گئی کہ اس میں یہ اعتراف بھی شامل ہے کہ میاں بیوی کے حوالے سے یہ پارٹی جلد ہی اوور ہوجائے گی۔کہنے لگی یقین نہیں کہ میرے میاں وہاں آج کے Faux Pasکے بعد وہاں میرے منتظر ہوں گے۔ان کا ذہن فوراً اس جانب چلا گیا ہوگا کہ میں فلائٹ مس ہونے کی وجہ سے ہالینڈ میں اپنی دوست گڈی کے ساتھ Hens’ Night Out (وہ رات جب لڑکیاں پارٹی  کرتی ہوں )پر نکل گئی ہوں گی۔یہ دوسری نشانی تھی جسے ارسلان نے با آسانی نوٹ کیا کہ حالات کے دباؤ میں نیلم کچھ غیر معمولی فیصلے کرسکتی ہے۔
فرض کریں وہ اگر موجود نہ ہوں تو پھر آپ کیا کریں گی؟
Is it not a safe place for single girl. Single only in number?. ( کیا وہ شہر تنہا لڑکی کے لیے محفوظ نہیں۔سنگل عدد کی تک)اس اکائی میں ایک دکھ تھا ۔جس پر ارسلان کا دل پسیج گیا۔
ترکی ویسا محفوظ ملک نہیں جیسا مغربی ممالک اور سنگاپور جاپان ہیں۔زبان کا بھی بہت مسئلہ ہے۔ کم بخت تھینک یو بھی نہیں بول سکتے۔
اب میرا ارادہ مزید ایرپورٹ پر چار دن رہنے کا نہیں۔ نیلماں نے روہانسی ہوکر شکوہ کیا
ہر گز نہیں استنبول کا ایرپورٹ تو ویسے بھی پاگلوں کی سسرال ہے۔

انہیں لمحات میں دونوں کی نگاہیں اٹھیں اور ایک دوسرے پر اسی سسرالی چوکھٹ کو عبور کرکے رفاقت کے چار دن ساتھ گزارنے کی دعوت میں پہل کرنے کے لیے جم گئیں۔
پھر آپ اگر کاپو ڈوکیا اور قونیا نہیں دیکھتیں تو ترکی کا دورہ ادھورا رہ جائے گا۔
نیلم کہنے لگی کہ مجھے استنبول کے لالے پڑے ہیں اور آپ مجھے مارکو پولو بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔

کاپو ڈوکیا

I can be your travel guide.۔اگر آپ کے شوہر وہاں موجود ہوں تو ان کو دیکھتے ہی آپ اجنبی بن جانا ورنہ باقی سفر ہم آپ کی سہولت سے کریں گے۔میں استنبول تو آتے جاتے پانچ چھ دفعہ رک چکا ہوں۔ایک دفعہ کاپو ڈوکیا اور قونیا بھی گیا تھا۔
ویزہ کا اشو نہیں ہوگا۔میں نے لندن سے لے لیا تھا۔ آپ کیا کریں گے؟ نیلم نے پوچھ لیا
نہیں نیلے پاسپورٹ پر کئی ممالک کا ویزہ On arrival ہوتا ہے۔ارسلان نے بتادیا
اور چھٹی کا؟
نہیں باس کو میرے اوور اسٹے کی اعادت کا بخوبی علم ہے۔ وہ بھی موقع  ملتے ہی کسی نہ کسی کانفرنس میں بیرون ملک نکل جاتے ہیں۔

نیلم کو یک گونہ اطمینان ہوا مگر اس نے بے تابی کے اظہار سے بہتر سمجھا کہ گیند ایک دفعہ پھر اس کی کورٹ میں ڈالدے۔میرے میاں شاید ہوں۔ایسا ہو تو پھر آپ مجھے الزام نہیں دیں گے۔
نہیں۔ممکن ہے میں بس میں بیٹھ کر بلغاریہ نکل جاؤں وہ وہاں سے تین سو میل دور ہے۔

رات چلی ہے جھوم کے
ان اتفاقیہ ہم سفروں کا ناؤ نوش کا سلسلہ جب بخیر و خوبی اختتام کو پہنچا تو نیلم نے اپنے پاؤں سینڈل سے آزاد کیے۔ایک بڑی سی جامنی شال اپنے رول آن بیگ سے نکالی اور صوفے کے ایک آرمز ریسٹ سے کمر جوڑ کر پشت پر لگی دیوار سے سر ٹکا دیا گھٹنوں کی محراب بنا کر دوسرے آرمز ریسٹ سے پیر دوسرے خالی صوفے پر ٹکادیے اور شال کی بکل مارلی۔
ارسلان کو لگا کہ نیلم کی یہ پشمینہ شال ایک ایسی شانت جھیل ہے جس کی سطح آب سے صرف اس کی گردن اور چہرہ باہر ہیں لیکن اس کے نیچے نیلم کا بدن اپنی تمام تر حشر سامانیوں سے تیرتا ہے ۔وہ لمبے صوفے پر اس صوفے سے قریب بیٹھا تھا جہاں نیلم کے پاؤں رکھے تھے۔

انگریز معاشرے میں سات برس رہ کر اور ہر طرح کے تیز طرار اور صاحبان معاملہ و فہم سے مل کر نیلم اپنے اندر جاکر بہت ذہین اور سبھاؤ برتاؤ کی ماہر ہوگئی تھی۔ اسے معاملات کو ایک خوبصورت موڑ پر مد مقابل کو کسی بدسلوکی کا احساس دلائے بغیر خود کو خاموشی سے جدا کرنے کا ہنر پہلے بھی آتا تھاکہ وہ ہاسٹل میں رہتی تھی ۔اس کے بعد ایک ایسا بھر پور بنیادی سوچ والاگھرانہ ملا ،جہاں وہ اور باہر سے آنے والے داماد اور بہوئیں ثانوی حیثیت سے جینے کے پابند تھے۔پہلے کی مہارت اب ایک ایسے برتاؤ میں بدل گئی تھی جس نے اسے اب تک وہاں بہت Stress- Free رکھا تھا۔
اس نے بہت آسانی سے یہ سوچا کہ رات کا یہ آنے والا پہر ایسا ہے جہاں وہ ارسلان کو ٹھیک سے پرکھے گی۔رات گئے تک مرد ڈھل مل ہوجاتے ہیں جب کہ عورتیں تو ویمپائر کی طرح نکلتی ہی  رات کو ہیں۔
اپنے اس ارادے کی تکمیل کے لیے اس نے ایک بہانہ تراشا اور ارسلان کو بلا پوچھے ہی اظہار کربیٹھی کہ پی پلاکر وہ بہت anchored (یعنی اپنی جگہ بندھ جانا ) ہوجاتی ہے۔اس پر خاموشی کا دورہ بھی پڑتا ہے۔ اس کی گفتگو میں وقفہ بھی آجاتا ہے۔وہ بہت irrelevant (غیر متعلق) بھی ہوجاتی ہے۔ میری دوست گڈی تو wild بھی ہوجاتی ہے۔
گڈی کے وائلڈ ہونے کا انکشاف کرکے وہ دھیمے دھیمے مسکرانے لگی۔وہ کہتی تھی کہ وہ بوائز کے سامنے دو تین جام گھٹکا کرنے کے بعد شدید ٹن ہونے کی ایکٹنگ کرتی تھی۔لمحات وصل میں وہ   اپنے کپڑے خود نہیں اتارتی تھی۔ایسا مرحلہ آتا تو وہ مرد مقابل کو اپنی رضامندی کا اظہار یوں کرتی تھی Your, Honor(میرے،سرکار)کپڑے اتارنے سے وہ اندازہ بالخصوص برا کو کیسے unhook کرتا ہے اس سے مد مقابل کا تجربے ،ضرب کاری کا اندازہ کرلیتی تھی۔اس کا کہنا تھا کہ وہ مرد جو ایک انگلی سے اس کی طرح برا کو unhook  کرے ،وہی فائنل کا کھلاڑی ہے۔

ارسلان کو لگا کہ یہ گفتگو کا وقفہ ہے۔وہ اس لیے چپ ہے۔۔ کچھ دیر جائزہ لے کراس نے پوچھا’’ آپ وائلڈ نہیں ہوتیں؟
’ میں Never ‘۔
ارسلان نے پوچھا کہ ایساکیسے؟
تو نیلم نے جوابی وار کیا ’’ تو آپ چاہتے ہیں میں بھی wild ہوجاؤں؟‘‘۔
نہیں مجھے کسی انسانی ردعمل سے زیادہ اس کے Process میں دل چسپی ہوتی ہے۔ ارسلان کی وضاحت پر نیلم نے دوسری دفعہ دانا ڈالاthere is a girl in me which refuses to leave home
ایک خاموشی نے پھر سے نیلم کے گلے میں بانہیں ڈال دین۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ خاموشی کے وقفوں میں ایک تواتر سا آگیا۔۔۔
ارسلان نے دیکھا کہ اس کے چہرے پر خون کی گردش   نے ایک دھیمی مشتعل سرخی ویسے ہی طاری کردی جیسے کوئی سلگتے ہوئے Rouge (بلش آن ۔) یعنی  غازے کی دھند چھاگئی ہے۔ارسلان کا واسطہ ہر قسم کے ڈرنکر زسے پڑ چکا تھا۔اس کی دوست فضیلت جو ویسے خوش گفتار اور من موجی تھی ۔تین پیگ کے پاس ارسطو اور حسن نثار بن جاتی تھی۔اسے شیام بنیگل کی فلم منڈی میں نصیر الدین شاہ کے کردار ٹنگرس بھی یاد آگیا جو دن بھر تو خدمت طوائفاں میں چپ چاپ رہتا تھا تھا مگر دھندے کا ٹائم ختم ہونے پر پی کر بہت اودھم مچاتا تھا۔شراب پینے والوں میں چند علامات دیدہ ور کو فوراً دکھائی دے جاتی تھیں

نصیر الدین شاہ بطور ٹنگرس۔فلم منڈی

ان کے ردعمل میں وقفہ آجاتا ہے۔ان کیimpulsivity میں اور جرات میں اضافہ ہوجاتا ہے۔یاداشت بہکنے لگتی ہے۔سوچ میں توازن بگڑ جاتا ہے مگر سوئی کے اٹکنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں
Blackouts146, بھی ہونے لگتے ہیں ۔رات کیا ہوا کچھ یاد نہیں رہتا۔ الفاظ کی ادائیگی لکنت اور پھسلن آجاتی ہے جسے انگریزی میں Slurred speech کہتے ہیں۔نگاہ بھی کچھ دھندلا جاتی ہے جسمانی توازن کے بگاڑ کا اندازہ تو اس کے شال نکالنے اور صوفے پر پیر ٹکانے کے وقت وہ کر چکا۔چونکہ اس اعلان کے  بعد سینڈل اتارنے اور شال لپیٹنے کے بعد چونکہ کوئی اہم سنجیدہ گفتگو آپس میں نہیں ہوپائی تھی اس لیے اس کے جذبات میں شدت اور Mood swings کا اندازہ لگانا اس کے لیے آسان نہیں تھا مگر پھر بھی اس نے بہت آہستگی سے نوٹ کیا کہ اس کی توجہ ارسلان کی جانب بڑھ گئی ہے۔شاید وہ اسے اچھا بھی لگ چکا ہے۔اس لیے کہ  دور رکھنے کے لیے عورت بچے اور جانور کی آنکھ جو شاہراہ انسیت پر ہر کس و ناکس کے لیے کھڑی کرتی ہے ۔وہ ہٹ چکی تھی۔۔۔ ۔اب اس کی آنکھیں اس پر دیر تک مرکوز رہنے لگی تھیں ۔ہم ان دونوں کو زمین آسمان مان لیں تو یہ سمجھ لیں کہ اگر کچھ منصوبے زمین پر تھے کچھ تدبیریں آسمان کے پاس بھی تھیں۔
ارسلان کو نیلم نے اپنا میاں بنانے کا نہیں تو کم از کم اپنا پکا پکا دوست یعنی گڈی ۔ٹو بنانے کا فیصلہ  اس وقت کیا جب وہ کافی کے ساتھ شہد کی بوتل لے آیا۔ مزاج کی اس فیاضی نے بڑی پوائنٹ اسکورنگ کی ۔پرانے عربوں میں یہ خیال عام تھا کہ فیاضی اور شاعری کسی کو سکھائی نہیں جاسکتی۔سو حضرت فطرتاً فیاض ہیں۔خود غرضی سے پرے۔۔فیاضی، خود اعتماد لوگوں کا وصف ہے۔ سعید گیلانی اور اس کے بھائی ،بہنوں، ماں باپ، دوز بلڈی فریش آف دا بوٹ سسرالی ٹبر میں تو یہ وصف دور پرے سے بھی ہوکر نہ گزرا تھا۔ دفتر اور باہر کی دنیا میں رابطے  میں آنے والے مردوں میں نیلم نے اس وصف کو ڈھونڈنے کا کبھی نہیں سوچا ۔اس اجتناب کی بڑی وجہ یہ تھی کہ اس کا پرائس ٹیگ پڑھنا اس کے لیے آسان نہ تھا۔ عورت مرد کے ہر تعلق میں ایک بار کوڈ ہوتا ہے جسے دل و دماغ کی ہر مشین ٹھیک سے نہیں پڑھ سکتی سو Baby, better play safe.۔سعید بہرحال اس کا میاں ہے۔اسی سے جڑے رہنے میں بھلائی ہے۔
ارسلان کا معاملہ اچانک اور اس کی شخصیت اس کے لیے اپنی فاصلہ بھری اجنبیت کے باوجود مرعوب کردینے والی تھی۔اس نے اس وقت ہی اپنے اندر ایک لرزہ دینے والی Sonic boom [وہ دھماکے جو اس وقت ہوتے ہیں۔جب فضا میں اڑنے والے طیارے کی رفتار آواز کی رفتار سے زیادہ ہو] اس وقت محسوس کی ،جب نیلم  کو ا رسلان نے تجویز پیش کی تھی کہ وہ چاہے تو وہاں کافی شاپ سے اس کے اور اپنے لیے کچھ مشروب لاسکتی ہے یا وہ یہاں بیٹھنا چاہتی ہے تو وہ لے آئے گا۔یہ سن کرنیلم نے یہ کہہ کر اس کو ٹالا تھا کہ نہیں I dont feel like changing the battlefield. You go and bring it .
وہ اسے جاتا دیکھتی رہی۔جانے اسے کیوں خیال آیا کہ جب وہ اس سے کسی ایئر پورٹ پر جدا ہوگا تو وہ ریزہ ریزہ ہوجائے گی۔یہ وہ قدم نہیں جو اسے چھوڑ کے جانے کے لیے اٹھیں۔سامان پاس نہ ہوتا تو وہ اس کے پاس جاکر کہتی Don’t you ever walk away from me
(مجھ سے کبھی دور جانے کا سوچنا بھی مت)۔یہ ہی وہ دس منٹ تھے جب اس نے اپنی موجودہ ازدواجی زندگی پر ہٹ ہٹ کر ڈرون حملے کیے ۔ اس پر پے در پے فضا سے کئی میزائیل مارے اور ارسلان سے اسے دور کرنے والے نسوانی ادراک اور شکوک کے دہشت گردوں کے تمام خفیہ ٹھکانے برباد کردیے۔انہی  لمحات میں اس کے دل کے پینٹاگون اور دماغ کی سی آئی اے نے   آئندہ بھی  اس طرح کے تناؤ اور کھنچاؤ پیدا کرنے والے شبہات کے خلاف ایک مشترکہFourth-generation warfare کا باقاعدہ آغاز کیا۔یہی وہ لمحہ تھا جب اسے گلے میں پڑے خاندانی کیمرہ نما لاکٹ میں محفوظ تعویذ اور نانی میوہ جان کے ایکس (سابقہ عاشق )جن قوموبط کی خوض خاص ۔شہر مرؤ۔ ترکمنستان کے انجانے محاذ پر ناگہانی ہلاکت کی اطلاع ملی اور اس نے اس انگریزی محاورے کے مطابق اس dead albatross کو گلے سے اتارنے[an albatross around neck.] کی سوچی۔ عہد کرلیا کہ وہ یہ لاکٹ جب بھی ارسلان اس کے ساتھ ہوگا اس وقت کبھی گلے میں حمائل نہیں کرے گی۔

فورتھ جنریشن وار

نیلم کا لاکٹ

اسے لگا کہ ارسلان کی موجودگی میں یہ تعویز کسی کام کا نہیں ورنہ ایسا کیا تھا کہ جب وہ برہنہ سعید میاں کے بستر پر ساکت سمندروں پر کھلا بادبان بن کر پڑی ہوتی یہ تعویز دور میز پر ڈھیر ہونے کے باوجود سعید کے مردانہ حوصلوں کا وہی حال کرتا جو لتھو ٹریپسی گردے کی پتھری کا کرتی ہے۔اسے چھیڑنے کے لیے وہ کئی مرتبہ غسل خانے میں کوک کی بوتل میں چھپائی ہوئی شراب کے دو ایک گھونٹ بھر کے ،وکٹوریہ سیکریٹ کے ایمان شکن زیر جامے پہن کر  ناچتے ہوئے باہر آتی اور اعلان کرتی کہ Hey Mr. S.G Look here
اس تنگ سے بیڈ روم میں لہرا لہرا کر گاتی
یو ون (جوانی) کی رت جب آتی ہے
تھوڑے بھنورے ہوتے ہیں
تھوڑی مستی ہوتی ہے
بڑے طوفان ہوتے ہیں
ان میں کشتی ہوتی ہے
کلیوں کا چمن تب بنتا ہے

گردوں کی لتھو ٹریسسی

ایسا کرتے وقت وہ سینے پر سے ہاتھ ہٹا لیتی اور اپنی پینٹی اس کے منھ پر اچھال دیتی۔۔۔جس پر سعید زچ ہوکر انگریزی میں کہتا Will you ever grow up .Stop this silly antics
وہ کہاں کی مڑنے والی تھی، بدستور چھیڑتے ہوئے کولہے اس کی طرف کرکے انہیں لہراکر کہتی
شلپا سا فگر ،بے بو سی ادا
ہے میرے جھٹکے میں پھلمی مجا
ہائے تو نہ جانے
آئٹم یہ عام ہوئی
جواب میں وہ
f- – k you کہہ کر دوسری طرف منہ  پھیر لیتا تو اپنی برہنگی سے بے نیاز لیٹ کر وہ اسے طعنہ دیتی کہ  ’’تم سے ہونا ہوانا کچھ نہیں بس گالیاں دے کر خوش ہوجاؤ موئے گفتار کے  غازی ‘‘۔
وہ اسے کہتا کہ’’ اوکے آئی ایم گے۔اب خوش ۔‘‘
تو وہ اسے کچھ دیر کو اگنور کرکے کہتی ’’ہے سعید‘‘
۔۔جس پر وہ مڑکر پوچھتا ۔’’۔اب کیا ‘‘
تو وہ اپنی درمیانی انگلی بند مٹھی سے باہر کھینچ کر کہتی
’’ڈارلنگ تیرے لیے‘‘
یہ وہ آخری تنکا ہوتا جس پر اپنا کمفرٹر جاکر لاؤنج میں صوفے پر جاپڑتا۔ایسا چونکہ مہینے کے وسط میں یا آخر  میں ہوتا اس لیے اس پر بہت آتش بازی نہ ہوتی۔سعید کو پتہ ہوتا کہ یہ اس  کےovulation daysہیں۔
ویسے بھی جب وہ برہنہ سوتی تو سعید پر کوئی خاص اثر نہ ہوتا ۔وہ نیند میں بھی لائن آف کنٹرول کو کراس نہ کرتا۔کبھی وہ اسے سویا ہوا دیکھ کر سوچتی کہ وہ یہ بستر ایک ایسی پلیٹ ہے جس میں وہ تو گرما گرم مصالحے دار دانتوں کی آغوش میں کٹ مرنے والے سیخ کباب کی طرح پڑی ہے اور سعید گیلانی کشمیری کوئی ٹھنڈا ٹھاڑ بے جوڑ سلاد پتہ اور کھیرے کا اداس قتلہ ہے۔جا اپنی حسرتوں پر آنسو بہا کر سوجا۔

آئیں اس رات کی طرف لوٹ چلیں۔
ارسلان نے کچھ دیر پہلے نوٹ کیا تھا کہ نیلم نے گھٹنے پیٹ کی جانب سمیٹ کر ایک بلند سا اسٹینڈ بنا کر اپنے ہاتھ اور چہرہ ایسا جما لیا تھا ۔ جیسے کوئی بہت قیمتی کیمرہ کسی ٹرائی پوڈ پر پڑا ہو اور وہ اسے دیکھے جارہی تھی ۔ اب یہ وجود ملفوف و دل نشین مکمل طور پر ایک ہی صوفے پر سمٹا ہوا تھا۔۔

کمیرہ اور ٹرائی پوڈ

یہ ہی وہ لمحات دید بانی تھے جب اسے سعید گیلانی کی جنسی بے اعتنائی یاد آئی تھی۔اس کے باوجود وہ اپنی جگہ بہت خوش اسلوبی سے نصب تھی۔ اس لمحہ تعطل میں ارسلان نے بھی سوچا کہ اس کی آنکھوں میں لگاؤٹ کا کاجل یوں گھل مل گیا ہے کہ کبھی لمحات وصل آئے تو وہ کہے گی 194ll yours Sir. Your very obedient servant in my own pay and grade and until further orders. Take me all.
ارسلان نے بھی اسے ہلکا سا زور لگا کر کھسکانے کا فیصلہ کیا اور کہنے لگا ’’نیلم آپ جب آپ مجھے دیکھ رہی تھیں تو میں نے ایک عجیب بات نوٹ کی ۔‘‘

نیلم کو لگا کہ اسے کسی نے کسی بہت اہم ایونٹ کےmasquerade ball(وہ محفل رقص جہاں شرکا ماسک پہن کر آتے ہیں) میں رقص کے لیے دعوت دی ہو۔
وہ شرارت سے کہنے لگی I am all eyes and ears ’[میں ہمہ تن گوش ہوں]

ماسکوریڈ بال

’آپ جب ہنستی ہیں تو آپ کی آنکھوں میں مسکراہٹ کا اظہار آپ کے لبوں سے پہلے ہوتا ہے۔نیلم کے لیے وجدان کے بعد وہ پہلا مرد تھا جس نے اتنی سنجیدگی سے، اس قدر ر لگاوٹ سے اسے دیکھا تھا۔یہ جرات بھی کی کہ اس مختصر سے عرصہء رفاقت میں اس کا تذکرہ بھی برملا کردیا۔ وہ ہنسی تو ارسلان کو لگا کہ کسی ماہر گٹارسٹ نے بے دھیانی میں بہت کمال کی Strumming کی ہو(کئی تاروں کو ایک ساتھ چھیڑنا)۔
اس کی تعریف اور اپنی ہنسی سے دھیان ہٹانے کے لیے نیلم نے کہا مجھے’ اکثر یہ سوچ کر عجیب سے گوز بمپس(گوز بمپس بطخ کی کھال والے دانے ۔ اردو میں رونگٹے کھڑے ہونا مگر یہ خالصتاً خوف کی کیفیت کا عکاس ہے جب کہ انگریزی میں لطف و حیرت کی کیفیات سے بھی اس کاتعلق ہے) ہوتے ہیں کہ ’’اگر میرے میاں استنبول میں ہوئے تو آپ کی کیا کیفیت ہوگی؟‘‘۔
’’میں آپ سے کچھ فاصلہ رکھ کر چلوں گا بالکل اجنبی کی طرح‘‘۔
اور اگر سعید پاکستان چلے گئے ہوں گے تو؟
Then your wish is my command [ ایسی صورت میں آپ کی خواہش میرے لیے حکم کا درجہ ہوگی ) ‘ہم بیورکریٹس تو پاکستان میں یوں بھی الہ دین کا جن سمجھے جاتے ہیں۔ارسلان نے جواب دیا
نیلم نے چھیڑا کہ I hope Aladin has the right lamp this time.Can not afford to be a loser again[ مجھے امید ہے کہ میرے پاس الہ دین والا صحیح چراغ ہے۔میرے لیے دوبارہ شکست قابل قبول   نہ ہوگی۔

گوز بمپس

’ٹرسٹ می ‘کہہ‘ کر ارسلان نے ہاتھ بڑھایا تو نیلم ہاتھ ملانے کے لیے ایسے جھکی کہ  شال ادھر ادھر ہوگئی اور ٹی شرٹ میں مرغابیاں پھڑپھڑانے لگیں۔
I trust this gentleman. Everyone starts somewhere.[مجھے آپ سے شریف آدمی پر بھروسہ ہے۔ہر کسی کو کہیں نہ کہیں سے اسٹارٹ کرنا ہوتا ہے)
on my honor۔ارسلان نے بھی بہت سنجیدگی سے جواب دیا تو وہ کہنے لگی
Long night .But tell me a story نیلم نے مطالبہ کیا
کیسی کہانی؟ ارسلان نے سوال کیا۔
ویسی نہیں اک لڑکی کو دیکھا تو ایسا لگا۔۔۔۔
ارسلان نے کہا
چلیں ایک ٹی پکل کہانی ہے ۔تکون والی مگر دل کو بہت برماتی ہے۔میرے ایک ملنے والے تاجر واقف کار ہیں ان کی صاحبزادی کو اپنے ایک ہم جماعت لڑکے سے اسکول کے زمانے سے عشق تھا۔بہت مر پڑ کر اس بات پر رضامند ہوئے کہ لڑکا کچھ اچھی نوکری کرے گا۔ شادی تب ہوگی ۔میرے پیچھے پڑے رہتے تھے کہ اس کو کسی ملٹی نیشنل میں لگوادوں۔میں نے کہا یہ ملٹی نیشنل والا مال نہیں ملا شلوار،کڑھے ہوئے کرتے،پان،سر پر جالی دار ٹوپی۔آپ اسے اپنے مٹھائی کے کاروبار میں ڈالو۔ان کا خیال تھا کہ شادی سے پہلے یہ سب کچھ ہوگا تو تاجر براداری میں اس کی کوئی وقعت نہیں رہے گی ۔ان دہلی والوں کی طرف گھر دامادیوں بھی برا سمجھا جاتا ہے۔اس جوڑے کا نام جواد اور زار اسمجھ لیں۔ زارا کا ناک نقشہ اور قد گفتگو مزاج سبھی اچھے ہی تھے۔اوسط سے بڑھ کر۔

ایک دن ان دونوں کو پتہ چلا کہ ان کے اسکول کا ایک دوست محمد علی جو امریکہ گیا تھا وہ واپس آگیا ہے اس نے ایم بی اے تو کرلیا مگر یہاں واپس آکر اسپتال میں زیر علاج ہے۔زندگی موت کی کشمکش میں مبتلا۔کینسر کا عارضہ ہے۔
جواد اور زارا عیادت کی خاطر اسے دیکھنے گئے۔زارا سے اس کی زیادہ واقفیت تھی کہ وہ بزنس اسکول میں بھی ساتھ تھے۔مشترکہ دوستوں کے ہاں میل جول بھی رہتا تھا۔اسے علم نہیں تھا کہ زارا اور جواد کی منگنی ہوچکی ہے۔محمد علی نے عجب فرمائش کی کہ اگر جواد کچھ دیر کو باہر چلا جائے تو وہ زارا سے مرنے سے پہلے کچھ کہنا چاہتا ہے۔ جواد یوں تو بہت ڈارک سا لڑکا ہے مگر یہ سوچ کر کہ اسے اپنی منگیتر پر پورا بھروسہ ہے وہ چلا گیا۔بعد کی کہانی زارا نے اپنی بہن کو ، بہن نے ماں کو۔ماں نے باپ کو اور باپ نے کسی اور کو سنائی جہاں سے مجھ تک پہنچی۔ محمد علی نے کہا کہ وہ زارا پر  سکول  کے زمانے سے کرش رکھتا ہے۔وہ جانتا ہے کہ اس کی جواد سے منگنی ہوگئی ہے ۔طالب علم ساتھیوں میں ایسی بات کہاں چھپتی ہے۔کیا وہ اس کا ہاتھ تھام کر اسے گلے لگا سکتا ہے۔
زارا نے اسے گلے لگایا کچھ دیر اس کا ہاتھ تھامے بیٹھی رہی۔جواد آیا تو دونوں چلے گئے۔ تین دن بعد محمد علی کا انتقال ہوگیا۔اس واقعے کے بعد   زارا نے عجب ضد پکڑی ہے کہ وہ مزید تعلیم کے باہر جانا چاہتی ہے ۔منگنی بھی توڑ دی ہے اور جواد سے ملنا جلنا بھی چھوڑ دیا۔۔
کہانی کے بیان میں نیلم نے دیکھا کہ ایک یا دو دفعہ ارسلان کی آنکھیں لمحہ بھر کو بند ہوئیں۔جیسے نیند نے اس اچک لینے کی کوشش کی ہو۔اس نے جتلانے سے گریز کیا ۔
ارسلان میاں نے لاکھ ’ٹرسٹ می ‘ کہا ہو مگر وہ جو ماضی کی مشہور امریکی اداکارہ مئے ویسٹ نے کہا تھا  I understand only two languages English and Body.
تو حضرت کو پرکھنے کا نازک مرحلہ آرہا ہے۔اب کچھ دیر میں ڈھیر ہوجائیں گے۔

اسی اثنا میں ایک میسج اس کے آئی فون پر مچلنے لگا
ارسلان کو حیرت ہوئی کہ یہاں رات ڈھائی بجے کس کو نیلم کی یاد آئی مگر اس سے پہلے کہ وہ سوال پوچھتا نیلم کہنے لگی My Guddi-Sleelpless in Brimingham
اسے تنگ کرنے کے لیے نیلم نے ایک دفعہ یوں باتھ روم بریک مانگا کہ اپنا آئی پیڈ اور چارجر نکال کر اسے دیا اور کہنے لگی کہ وہ اس کو چارج پر لگا دے۔جب اس نے میز پر اپنا پڑھائی کا چشمہ رکھ کر وہ آگے بڑھ گئی مگر ایک جان لیوا ادا سے مڑ کر واپس آئی اور اٹھلا کر کہنے لگی
well me under 30. These are with anti -glare lenses . So dont give up on me. Like my last drink my last visit to loo is like a child’s visit to the zoo [ارے میں تو تیس برس سے کم کی ہوں۔ دل چھوٹا نہ کریں۔ یہ روشنی کی چکا چوند سے نمٹنے کا سامان ہے۔میرا آخری جام کی طرح میرا باتھ روم کا  آخری دورہ بھی کسی بچے کے زو کے دورے جیسا ہوتا ہے۔
فون پر سعید کا میسج تھا بتا رہا تھا وہ اسلام آباد پہنچ گیا ہے۔وکیل سے کل بات کرکے طلاق کے کاغذات  تیار کرنے کا کہہ دے گا۔والدین کی اور اپنی مسلسل بے عزتی سے تنگ آگیا ہے اس کے والدین بھی پوتے کی عدم موجودگی سے نالاں ہیں۔باقی تفصیلات ملنے پر۔ہم دوستوں کی طرح بچھڑیں گے۔ ترکی میں گھومو تو مجھے تصویریں ضرور بھیجنا ۔تمہاری دوسری شوہر گڈی تم سے ملنے اڑ کر پہنچ جائے گی۔
اس کے والدین کی پوتے کی عدم موجودگی والی بات کا طعنہ سن کرنیلم کا خون کھول اٹھا۔اس کا دل چاہا کہ اسے  فون کرکے مغلظات سنائے۔اس نے جواب میں صرف اتنا لکھا
Ready to pay all court expenses for the divorce.
Buy some good balls with your savings. Though I doubt these can even make a half man out of you
(کورٹ میں طلاق کے جملہ اخراجات میں ادا کروں گی۔تم کسی سے اچھے سے بالز خرید لینا۔مجھے پھر بھی شک ہے کہ اس کے باوجود وہ تمہیں نیم مرد بنانے میں کامیاب ہوپائیں

نیلم نے یہ اچھا کیا کہ سعید کا نام دیکھ کر میسج نہیں پڑھا ورنہ ارسلان تیز آدمی ہے ۔بھانپ جاتا۔وہ اسے ہرگز نہیں بتائے گی کہ ترکی میں کیا سرپرائز اس کا منتظر ہے ۔وہ جہاز سے اتر کر اداکاری کرے گی اس کا جائزہ لے گی۔ یوں بھی جو کچھ ہوا ۔وہ برا ہوا ہے۔اب وہ اس دنیا میں اکیلی ہے۔وہ اس میسج میں جو ایک حتمی فیصلہ ہے اس کے بارے میں اسے کچھ نہیں بتائے گی۔اس کو ایک ماڈل کی والدہ نے کسی فیشن شو کے دوران بتایا تھا کہ اپنی کمزوریاں دوسروں پر عیاں  نہ ہونے دو۔لوگ تمہاری مشکلات کو سمجھنے میں اتنی دل چسپی نہیں رکھتے جتنی ان سے فائدہ اٹھانے میں رکھتے ہیں۔کمزور انسان ایک جلتے  ہوئے  گھر  کی طرح ہوتا ہے جسے ہر کوئی لوٹ کر بھاگنا چاہتا ہے۔
وہ ارسلان کو اپنا دوست بنائے گی۔ اس ایک میسج نے اسے بہت بڑے اخلاقی بند ھن سے آزاد کردیاہے۔ سعید کی الزام تراشی نے ،اس کی مکاری نے ،وہ رہی سہی مدافعت جو اس نے اس کے حوالے سے ترکی کے لیے بچا کے رکھی تھی ۔ وہ کرچی کرچی ہوگئی ہے ۔وہ اگر اسے استنبول سے باہر لے گیا تو وہ جدا کمرے کی بھی ضد نہیں کرے گی۔وہ اس تعلق کو صرف عورت مرد کے چوکھٹے میں جڑکر دیکھے گی۔انسانی رشتے کے ویو فائنڈر سے اس کو فریم کرے گی۔ شادی وہ بعد کی بات ہے
سر دست وہ اسے سعید گیلانی کی اس کمینگی کے بارے میں کچھ نہیں بتائے گی ۔وہ اسے کچھ اور پرکھ لے۔بس کچھ اور Clinical tests پھر مریض کو وہ مکمل صحت یابی کے سرٹیفیکٹ کے ساتھ گھر جانے کی اجازت دے دی گی۔

ویو فائنڈر سے پہلے
ویو فائنڈر

ڈائریکٹر کا ویو فائنڈر

جائزہ، جائزہ جانچ پڑتال ، پرکھنا ۔نیلم کو لگا کہ وہ ارسلان کے ساتھ بلاوجہ زیادتی کررہی ہے۔ اس کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے اس میں اس بے چارے کا  کوئی قصور نہیں۔یہ تو اتنا اچھا آدمی ہے کہ اس کی خاطر دوستی میں چار دن اور تین راتیں اس کے ساتھ ترکی گھومے گا۔یہ تو اس کی پروگرام آئی ٹینری میں شامل نہ تھا ۔پورے پچیس منٹ بعد جب وہ واپس نکل کر اپنی نشست کی طرف جارہی تھی۔نیلم نے آخری نفسیاتی  طبی معائنے پر اسے یوں راغب کیا کہ وہ بہت کم سوال پوچھتا ہے ایسا کیوں ہے؟ کیا وہ ایک غیر دل چسپ شخصیت کی مالک ہے۔؟یہ ایک خلاف توقع باؤنسر تھا
ایسا ہرگز نہیں بلکہ جب وہ  اپنے anti -glare lenses اور عمر کا بتا کر اسے جارہی تھی وہ سوچ رہا تھا کہ اس میں ایسی لبھاؤ ، اتنی ادا اور اداکاری ہے، وہ خود کیوں ماڈل نہیں بنی۔کیا یہ پیشہ برا ہے؟
نہیں مجھے جزئیل بنڈ چین بہت اچھی لگتی ہے۔بڑی کامیاب اور سمجھدار ماڈل ہے۔چوتھائی  صدی تک ماڈلنگ کی دنیا پر چھائی رہی۔چودہ برس کی عمر میں برازیل کے ایک چھوٹے سے قصبے سے ماڈل بننے کے لیے گھر سے نکلی تھی۔آج بھی سپر ماڈل ہے۔

زئیل بنڈ چین

ماڈل کی زندگی پر اس کی کتاب Lessons -My Path to a Meaningful Lifeمیں بہت دل چسپ باتیں درج ہیں۔ وہ کبھی پارٹیوں پر نہیں جاتی تھی،شوز کے بعد پارٹیاں ہی بربادی کا سامان ہیں ۔ دن بھر کی محنت کے بعد اسے اپنے کتےVida, کے ساتھ کھیلنا اور کتاب پڑھنا بہت اچھا لگتا ہے۔میں ایک مشہور ماڈل Anyelika Perez سے ملی تھی کسی نے مجھے بتایا کہ اس بے چاری کا محنت سے ایسا حال ہوتا تھا کہ کمر میں تکلیف ہوجاتی تھی اور یہ آئس بکس پر لیٹ جاتی تھی۔میرا مسئلہ تو یہ تھا کہ میں بہت Contextual حوالے سے برطانیہ آئی۔ پرانے خیالات کا حامل ایک جوائنٹ فیملی والا گھرانہ ہے۔ اس میں کسی قسم کے ایڈونچر کی گنجائش نہیں۔

انیلیکا پیلز

انیلیکا پیرز آن آئس باکس

نیلم نے پہلی دفعہ دیکھا کہ کچھ دیر کو ارسلان کی آنکھ لگ گئی۔اس نے جتانا مناسب نہ سمجھا۔جب وہ جاگا تب بھی وہ چپ رہی ۔اس نے اپنا آئی پیڈ نکالا اور چشمہ لگایا تو ارسلان کو پہلی دفعہ لگا کہ آج رات کی ملاقات بس اتنی ۔وہاں سے مگر سوال آگیا کہ وہ سوتا کب ہے۔کوئی خاص عادت۔اس نے کہا وہ بہت اعلی الصبح ا ٹھتا ہے۔اس لیے وہ جلد سوجاتا ہے۔پارٹیوں کی یا دیگر تقریبات کی دعوت ہو تب بھی نہیں جاتا۔اکثر تو وہ ٹی وی پر خبر نامہ دیکھتے دیکھتے سو چکا ہوتا ہے۔اوشا اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے بستر کی طرف لے جاتی ہے۔وہ اور اس کا بیٹا گھر میں باہر مہمانوں کے کمرے میں سوتے ہیں۔اس کا کتا ملنگی باہر اور افریقین گرے پیرٹ کمرے میں ہی سوتے ہیں۔نیلم کو اوشا کی یہ دست درازی اچھی نہیں لگی۔وہ اسے اپنے بھائی اور ماں کے پاس سونے کا کہے گی۔میں دیکھتی ہوں حضرت مجھ سے پہلے کیسے  سوتے ہیں اور ہم دوستوں کی پارٹیز میں بھی جائیں گے۔صبح کو آپ کا کیا معمول ہوتا ہے؟ یہ دوسرا سوال تھا۔
فجر کی اذان سے کچھ دیر پہلے اٹھ کر میں ذکر اذکار کرتا ہوں تلاوت اور نماز سے فارغ ہوکر مرغیاں پالی ہیں ایک آدھ   دیسی مرغ ڈربے سے باہر نکال کر اس کو پکڑنے کی کوشش کرتا ہوں اس کے بعد کراٹے کے کاتھاز۔براؤن بیلٹ ہوں ۔

کاتھاز

نیلم کو مرغ والی بات بہت عجب لگی اس کا دل چاہا کہ وہ اس سے اس عجیب ورزش کا پوچھے مگر اسے لگا کہ ایک دفعہ اس کی آنکھیں پھر بند ہوگئی ہیں،بے چارہ کرٹسی میں نیند کے باجود سونے کی اجازت نہیں مانگ رہا۔اس نے خود ہی سوچا کہ اگر انجیلا پارک جو کوریا کی گالف چمپئین تھی اپنے شوق کی وجہ سے گالف کلب لے کر نذدیکی قبرستان میں چلی جاتی تھی اور وہاں قبر تا قبر پریکٹس کرکے چمپئین بن گئی تو مرغے کے پیچھے جان کھپانا بھی کوئی تربیت کا مرحلہ ہو ۔ان بیوروکوریٹس اور بزرگوں کی حرکات کا کچھ پتہ نہیں کہ یہ کس کے پیچھے کیوں بھاگتے ہیں۔ارسلان سے وہ پوچھتی تو وہ کہتا کہ یہاں کیماڑی کراچی میں ایک بزرگ تھے۔ ان کی بیٹھک میں  گدے اور سفید چادر بچھی رہتی تھی سالک ساتھ کے کمرے میں دروازے سے لگ کر بیٹھتے تھے۔مسئلہ دریافت کرنے پر بزرگ کمرے میں بچوں کی طرح قلابازیاں لگاتے تھے کچھ دیر سانس بحال ہوتی تو وہ سوالات کا جواب دیتے تھے۔

کورئین گولف پلئیر،انجیلا پارک
گولف کلب

ذرا دیر میں اس کی آنکھ کھلی تو اس نے ارسلان کو کہا کہ وہ سو جائے ، تھک گیا ہوگا۔حضرت بھی جیسے آدھی روٹی پر دال لیے بیٹھے تھے(دہلی کی عورتوں کے محاورے میں  آسرا نہ کرنا)پیر لمبے کیے اور قلندر کی طرح ڈھیر ہوگئے۔
نیلم کو جب یہ یقین ہوگیا کہ وہ واقعی دنیا و مافیا سے بے خبر چھوٹے بچوں کی طرح منہ  کھولے سو رہا  ہے تو وہ اس کی نشست پر آئی اور انگلی اس کے منہ  میں ڈال کر جلدی سے کھینچ لی۔نیلم کو لگا کہ سویا ہوا مرد گود کے بچے   کی طرح ہوتا ہے۔عورت کو پیار ہو تو اس سے زیادہ بے ضرر اور کنٹرول کرنے میں آسان کوئی اور وجود نہیں۔اسے لگا وہ صبح تک اسے دیکھتی رہے تب بھی اس کا دل نہیں بھرے گا
بے چارہ۔چلو اس کی کوئی مدرنگ کرتے ہیں اس نے اپنا ٹرینچ کوٹ اس کے گارمنٹ بیگ سے نکالا اور اس پر ڈالدیا کہ  امیر مقام خوشبو بھی سونگھتے رہیں گے اور اس کی گرماہٹ سے لپٹ کر سوتے بھی رہیں گے ۔رات کی خنکی کے پیش نظر اپنا کیپ پہن لیا اور شال سے ایک طرح سے پشت پر جمالی اور اپنے آئی پیڈ پر ہیلن میکڈونلڈ کی مشہور کتاب ایچ از فار دی ھاک پڑھنے لگی۔ایک بیٹی نے اپنے مرحوم باپ کی یاد میں باز کو سدھانا سیکھا ۔ یہ وہ داستان تھی۔

ڑنچ کوٹ

طفل خوابیدہ
پیانو پر انگلیاں ،کہ دیکھا کرے کوئی
ٹرنچ کوٹ
ایچ از فار ہاک
مصنفہ اور میبل گوز ہاک,گوز ہاک میبل
گڈی کی فرمائش
اسکی پول ائیر پورٹ
کراٹے کی مشق جسے کاتھا کہتے ہیں
کاتھاز

دوران مطالعہ جلد ہی اسے احساس ہوا کہ دھیان کچھ منقسم سا ہے۔کتاب ایک صدمے، ایک محرومی کے نشیب و فراز سے نمٹنے کے لیے انفرادی mechanisms . کی اہمیت اجاگر کرتی ہے اسے عین اس وقت گڈی کے  گاؤں کے شیو کمار بٹالوی یاد آگئے۔ ان کی مشہور نظم اس کتاب کے ٹائٹل اور حوالے سے اسے اداس کرگئی۔اس مرد خوابیدہ کو کچھ پتہ نہ تھا کہ اس کے سامنے بیٹھی ہوئی خاتون کو سردست زندگی کے کن بڑے فیصلوں کا سامنا ہے۔
گڈی ہفتے دس دن میں کسی شام بار سے نکل کر اپنے فلیٹ پر دھونی رماتی ۔نیلم اپنے میاں سعید کو ایک مختصر سا میسج اپنی دیر سے آمد کے بارے میں کردیتی۔ اس بے راہ روی پر ساس بڑ بڑاتی تو سعید موضوع بد ل دیتا۔ دھونی کا اہتمام یوں ہوتا کہ ایک بڑا سا کھلا کھلا گیروے رنگ کا بے بٹن،بے تسمہ کفتان پہن کر جب کسی نئی جسمانی قربت کا احوال سنانا ہوتا،جسموں پر پڑے نشانات وحشت اسے بطور ترغیب دکھانا ہوتے تو وہ تانپورہ لے کر جگجیت سنگھ کے انداز میں یہ گیت بخور جلا کر گاتی۔اس کی ضد ہوتی کہ نیلم بھی اس کے سامنے برہنہ یا کم از کم ایک سرخ یا سیاہ ساڑھی پہن کر دیوی بن کر بیٹھے۔سرخ رنگ اس وقت جب شب ِ وصال آسودہ اور من پسند ہوتی اور سیاہ اگر وہ کوئی شبِ مایوسی رہی ہوتی۔کیرتن (سکھوں کی عبادت میں تعریفی نغمات ) کی محافل میں شرکت کی وجہ سے گڈی کو گائیکی کا غیرمعمولی گیان تھا۔گڈی گاتی۔
مائے نی مائے میں اک شکرہ یار بنایا
اوہدے سر تے کلغی
تے پیریں جھانجر
او چوگ چگیندا آیا
اک اودے روپ دی دھوپ تکھیری
او دوجا مہکاں ترایا
تیجا او دا رنگ گلابی
او کسی گوری ماں دا جایا۔۔۔۔۔۔

کراساں اور کافی

لو لو ایپلک پاؤچ

نیلم نے یہ سوچ کر خود اپنے  گریبان کے  اندر جھانکا۔ سینے کی گولائیاں بے نشان تھیں اس نے زیرِ  لب گڈی کی نقل میں گاتے ہوئے سوچا کہ کیا یہ مصنفہ ہیلن میک ڈونلڈ کا وہ Goshawk. ، Mabel. ہے ویسا ہی ایک شکرہ جس کا ذکر شیو کمار نے اپنی نظم میں کیا تھا۔ کیا وہ بھی اس کی طرح پرندے پالنے کے شوق میں پڑ رہی تھی۔
اپنے درد و الم کو دور کرنے کے لیے وہ بھی میبل پالنے پر تو نہیں اتر آئی۔اسے سدھانا اور پالنا آسان نہ ہوگا۔پل بھی گیا اور سدھا بھی لیا تو کیا میبل اس کا بن کر رہے گا۔جب وہ اسے پرواز کے لیے اسلام آباد ائیر پورٹ پر رہا کرے گی تو کیا وہ لوٹ کر واپس آئے گا؟
پڑھتے پڑھاتے،سوتے جاگتے، اسے دیکھتے دیکھتے جانے کیا لمحات آئے گئے کہ کسی پل نامحسوس انداز میں وہ نیند کی وادیوں میں اس وقت تک بھٹکا کی جب تک کہ  اسے صبح کے شور نے بیدار کردیا۔۔صبح کی پہلی فلائٹوں کے مسافروں کی ہل چل سنائی دی۔حضرت اب بھی سو رہے تھے۔بڑے آئے فجر کی اذان سے کچھ دیر پہلے اٹھنے، ذکر اذکار کرنے والے،کہاں کی تلاوت اور نماز سے فراغت۔ارے آپ کے  پلے ہوئے مرغے یہاں اسکی پول ائیر پورٹ پر کہاں۔ ایک آدھ دیسی مرغ بھی نہیں کہ ڈربے سے باہر نکال کر اس کو پکڑنے کی کوشش کریں۔کراٹے کے کاتھاز بھی کرنے کی جگہ نہیں بھلے سے براؤن بیلٹ ہوں۔ہاں آپ کو تو اوشا ہاتھ پکڑ کر بیڈ روم تک چھوڑ آتی تھی۔یہ غلطی ہوئی اس لیے آپ ٹھیک سے سو نہیں پائے۔ میں کون ہوں کہ آپ کے لیے یہ سب کچھ کرتی۔یہ تو ایک چانس میٹنگ ہے۔ آپ کو اس سے کیا فرق پڑتا ہے اگر آپ پر میں نےBurberry کے پرفیوم کی خوشبو سے رچا ہوا ٹرینچ کوٹ ڈالا ہو۔

گھر کے بستر کا مزہ اور ہے اوشا کی کون جانے کیا پتہ وہ واپس اپنے بیٹے اور گرے پریٹ والے کمرے میں جاتی ہے یا اس کے فرائض میں افسر خوابیدہ کو کمبل سی گرمی کا فراہم کرنا بھی شامل ہے۔فیاض آدمی ہیں، بستر بھی یقیناً مقامِ  فیض و کشاکش ہوگا۔اسلام آباد میں سونے والیاں،بستر زادیاں، لندن سے کم نہیں۔ملازمت اور مال کے فوائد کی بھرمار کے لیے کونے کونے سے اہل طلب آتے ہوں گے۔ گڈی کہتی تھی وہاں ہندوستان میں عورت کنفیوژن میں زیادہ سیکس کرتی ہے بہ نسبت ادھر اپنی طرف انگلینڈکے It is all about choice. If you like it do it.Whats a big deal.(ایسا بھی کیا، یہ تو من چلے کا سودا ہے، من کرے تو موج کرو)

وہ اس سوچ میں تھی کہ اسے کیسے جگائے ،عین اس لمحے کسی کے ہاتھ  سے سیل فون گرا ،اور حضرت کی آنکھ کھل گئی، ورنہ اس کا ارادہ تھا کہ وہ اسے خود ہلکی سی چپت لگا کر منا بھائی ایم بی بی ایس والوں کی طرح کہے گی، چندا ماموں سوگئے سورج چاچو جاگے۔دیکھو پکڑو یارو گھڑی کے کانٹے بھاگے،ایک کہانی ختم تو دوجی شروع ہوگئی ماموں ۔اس کا مردوں کے ساتھ صبح اٹھنے کا تجربہ بہت محدود تھا۔وجدان کے ساتھ اس کا نائٹ کرفیو رات دس بجے شروع ہوجاتا تھا۔وہ بھی اس کا احترام کرتا تھا۔یہ سوچ کر کہ نیلم اگر مہرباں ہوئی تو گھڑی کا وجود بے معنی ہوگا، شکھری دوپہر میں کالج سے آن کر پردے کھینچ لیں گے، بلائنڈ گرالیں گے تو رات خود ہی دھمی لڈی چل پڑے گی۔سعید کو ایک دفعہ اس نے چھیڑنے کے لیے اعلی  الصبح یہ کہہ کر  جگا دیا تھا کہ صبح ہوگئی ماموں ،تو اس نے لیٹے  لیٹےاس کے کولہے پر لات رسید کی تھی اور انگریزی میں ایف۔ او بھی کہا تھا۔یعنی F – -k off

مسکرا کرگڈو نے اسے ا ے ویری گڈ مارننگ کہا اور ایک جھٹکے سے اس کا کوٹ سنبھال کر اٹھ بیٹھا، سلیقے سے اس کا کوٹ لٹکایا اور باتھ روم سے ہو کر آیا۔سعید ایسا نہ تھا ،اس کے کپڑے اشیاء  کرسیوں اور صوفے پر پڑی ہوتی تھیں۔واپسی پر ناشتے پر اس نے بتایا کہ وہ ناشتے کا شوقین ہے،نیلم کو کافی کراساں کی عادت تھی۔

اتوار ہونے کی وجہ سے ائیرپورٹ پر رش نہ تھا۔یہ واپس لوٹنے والوں کا دن تھا ،جانے والوں کا نہیں۔لنچ تک وہ وہیں بیٹھے باتیں کرتے رہے۔فون نمبر اس کے ڈائریکٹر اسپیشل پراجیکٹس اینڈ فارن اسسٹنس ۔ منفل والے کارڈ پر لکھا تھا وہ اسلام آباد آنا چاہے تو اس کا اپنا گھر بھی حاضر ہے۔ ان کے پاکستان بھر میں مختلف مقامات پر پراجیکٹس ہیں۔طعام اور قیام کا معقول بندوبست ہے۔وہ جہاں ہو بتادے ،وہ بھی دورہ بنا کر پہنچ جائے گا۔نیلم نے احتیاط سے اس کے فوٹو۔ گریبس بنائے۔وہ کارڈ وغیرہ گم کردیتی تھی مگر اس کا کارڈ اپنے تین چار کریڈٹس کارڈ کے درمیان اس نے Lulu Guinness Applique Lip Lottie Pouch: میں اڑس لیا۔یہ گم ہوگیا تو ظلم ہوگا۔وہ یہ نہیں چاہتی تھی کہ اسے دفاتر میں خوار ہوکر تلاش کرے۔میرا شکرہ میرا میبل، میرا گڈو میرے بلانے پر آئے گا۔وہ ہنس دی جس پر ارسلان کو خاصی حیرت ہوئی۔

باہمی گفتگو اور مسافروں کو دیکھنے کے  دوران  ان پر اس کے دل چسپ تبصرے اور اپنی مختلف پوسٹنگز سے جڑے واقعات سنتے ہوئے ،نیلم کو پتہ ہی نہ چلا کہ ان کی پونے تین بجے کی فلائیٹ کا وقت آگیا ہے۔اس کی ناخوشی کے حوالے سے جب ارسلان نے مزید کریدا تو وہ کہنے لگی اگر ترکی میں نہیں تو بہت ممکن ہے۔۔پاکستان جاکر اس کی یہ شادی ختم ہوجائے۔ایسا ہوا تو اس کا پاسپورٹ پاکستانی ہے۔ اس کا نجی سامان شوہر کے گھر موجود ہے ،وہ کیسے ملے گا؟

آئی ماسک
گتکا
گتکا
استنبول کا لیفٹ لگیج

ارسلان نے کہا عدالت میں جو فیصلہ ہوگا اس میں وکیل کے ذریعے یہ بات ڈلوائی جاسکتی ہے کہ وہ یہ سامان گڈی کے حوالے کریں گے۔ میں اورگڈی دونوں ساتھ جاکر اس کی دی ہوئی فہرست   کے حساب سے لے لیں گے۔وہ نہ دیں تو؟ نیلم نے پوچھا۔ہم ان کا کشمیر میں ناطقہ بند کردیں گے۔عدالت کے حکم پر اس کا جینا دوبھر کیا جاسکتا ہے۔

ساڑھے تین گھنٹے کی ٹرکش ائیرلائن کی فلائٹ نے  انہیں ساڑھے آٹھ بجے استنبول پہنچانا ہے۔ دونوں ممالک کے وقت میں دو گھنٹے کا فرق تھا۔نیلم کے دل میں یہ تفکرات کُلبلا رہے تھے کہ رات ایک اجنبی ملک میں ایک مکمل اجنبی مرد کے ساتھ ائیرپورٹ سے ہوٹل کے مراحل کیسے طے ہوں گے۔اسے یہ بخوبی علم تھا کہ وہاں سعید اسے لینے نہیں آیا ہوگا۔کیا یہ ممکن ہے کہ وہ استنبول سے سیدھا اسلام آباد کا ٹکٹ لے لے۔ وہ اگر استنبول میں قیام کرتی ہے تو سعید کے پاس اس کے الزام لگانے کو ایک اور کھڑکی کُھل جائے گی۔سعید کے خیال کو تو اس نے اپنا بورڈنگ کارڈ سنبھالتے وقت ایک جھرجھری لے کر جھٹک د یا۔اس جھپک میں اسے یاد نہ رہا کہ وہ اپنے بلندیوں کے خوف (Acrophobia)کی وجہ سے  کاؤنٹر پر یہ  بتانا بھول گئی کہ اسے ونڈو سیٹ نہ دی جائے۔

تین مسافروں کی سیٹ میں درمیان والی پر کوئی ترکی بوڑھا براجمان تھا۔مسئلہ یہ تھا کہ  اسے انگریزی نہیں آتی تھی۔آئیل سیٹ پر ارسلان میاں درمیان میں   اور وہ  خود ونڈو سیٹ کے ساتھ۔کچھ یوں بندوبست تھا۔ وہ سن نہیں پائی کہ مرد فضائی میزبان کو انگریزی میں ارسلان نے جانے کیا کہا کہ وہ اس بوڑھے کو لے کر کہیں اور بٹھانے چل دیا اور ارسلان نے کہا کہ وہ اب اپنے خوف اور سچ کو نبھانے کے لیے چاہے توآئیل کی سیٹ پر آسکتی ہے بلکہ وہ چاہے تو درمیان سے ہینڈل ہٹانے کی وجہ سے   سو بھی سکتی ہے،اس کی جانب پیر کرکے۔جہاز میں رش نہ تھا اس لیے اس کے ذہن میں نہ رہا کہ وہ پوچھتی کہ درمیان والے مسافر کو اس نے کیوں کر ٹھکانے لگایا  ۔

جہاز کے بلند ہونے کا اعلان ہوا تو وہ کچھ پریشان لگی۔ارسلان نے یہ سب بھانپ لیا۔اپنی سیٹ سے کمبل ہٹا کر اسے  اوڑھنے کی تلقین کی۔اس نے یہ تجویز رد کردی۔ البتہ اپناا ٓئی ماسک آنکھوں پر چڑھا لیا۔فلائٹ کے دوران وہ چپ چپ رہی،شاید کچھ دیر کو سو بھی گئی تھی کہ رات جب حضرت سویا کیے تھے تو موصوفہ انہیں تا دیر انہماک سے دیکھا کیے تھیں۔ مہ نو کو کیا پتہ ہے کہاں جاکے رات ٹھہرے۔ارسلان کو کچھ نہیں خبر تھی کہ نیلم کو ملنے والے ا ٓخری ایس۔ ایم۔ایس سے اس شادی کا ڈراپ سین ہوگیا تھا۔وہ رات اسے بہت دیر دیکھ دیکھ کر یہ سوچ سوچ کر دیر تک اشکبار رہی تھی۔اچھا ہوا کہ اس نے اس اعزا داری کے لمحات میں اسے آنکھ کھول کر نہیں دیکھا۔اس نے دو تین دفعہ پوچھا بھی کہ وہ کل شام کی نسبت  چپ چپ ہے مگر اس نے اسے ایک خوب صورت انگریزی کے فقرے

There is a tide in the affairs of men. Which, taken at the flood, leads on to fortune”

سے ٹال دیا تھا چوں کہ اس جملے میں آئندہ طوفانون سے فائدہ اٹھانے کی نوید تھی لہذا ارسلان کو پتہ ہی نہیں چلا کہ یہ وہ انگریزی نہیں جس کا مطلب وہ سمجھ رہا ہے۔اس جملے سے نیلم کو ایک دھواں۔ پردہ (Smoke-Screen)تان لینے کی مہلت مل گئی۔

ہر عورت کو اللہ نے اس صلاحیت سے نوازا ہے کہ وہ بہ یک وقت کئی لیول پر کئی پہلو سے سوچ سکتی ہے۔ اپنی اس ذہنی گتکے بازی میں دکھاوے کا ایک روپ بھی دنیا کی خاطر وہ سب کی نگاہوں کے سامنے لہراتی رہتی ہے۔ یہ دکھاوا اس بنیادی کیفیت سے بہت جدا ہوتا ہے جو اس کے ذہن میں در پیش مسائل سے جڑکر چل رہی ہوتی ہے۔ اس لیے ارسلان کو بھی اس کیفیت کا کچھ زیادہ اندازہ نہ ہوا,جس کا نیلم رات گئے شکار ہوئی تھی۔ایک خوش فہمی البتہ اسے دامن گیر رہی کہ شاید وہ اس کے ساتھ ترکی گھومنا چاہتی ہے اور اس بات کے حوالے سے ذہنی الجھن کا شکار ہے کہ وہاں اس کا میاں سعید اگر موجود ہوا تو یہ رومانٹک تعلق ایک ائیر پورٹ سے شروع ہوکر دوسرے ائیر پورٹ پر اختتام پذیر ہوجائے گا۔ اسے اس احساس تفاخر نے سرشار رکھا کہ کہیں دور جاکر نیلم نے اسے اپنے میاں سعید گیلانی سے بہتر سمجھا ہے۔

ایئر پورٹ لاؤنج میں آتے ہوئے احتیاط آشنا ارسلان نے نیلم سے دور چلنا شروع کردیا۔نیلم کو یہ اچھا لگا۔اس نے اشارے سے کہا بھی کہ ساتھ رہیں مگر وہ کہنے لگا کہ شیشوں کے پار کھڑا سعید  اگر دیکھ رہا ہوگا تو مشکل ہوگی۔یہ فیصلہ جہاز میں ہی ہوگیا تھا کہ نیلم اپنا بڑا سا سوٹ کیس اور چھوٹا سا رول آن وہاں امانت بیگج یعنیAtaturk Airport Left Luggage/ Baggage میں چھوڑ
دے گی۔اس کے چھوٹے سے سوٹ کیس میں اپنا سامان رکھ لے گی جو چار پہیوں  کی وجہ سے لانا لے جانا آسان تھا۔ارسلان نے پوچھا بھی کہ اگر سعید نے پوچھا یہ کیا ہے کہ اس کا سامان دوسرے کے بیگ میں  سے   نکل رہا، تو وہ کہے گی کہ غلط ٹیگ لگ جانے کی وجہ سے یہ گڑبڑ ہوئی ہے۔اس کی مزید تفتیش سے بچنے کے لیے اس نے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا My Husband, My Answers.This is# metooویسے اسے یقین ہے کہ وہ لوزر وہاں اس کے لیے نہیں رکا ہوگا۔بس ایکout of an abundance of caution(ایسی احتیاط جو کسی ایسے امر کے حوالے سے ہو جس کا امکان محض ایک اندیشہء دور دراز ہو) ہم کچھ دیر انتظار کریں گے۔
سامان جلد آگیا اور وہ ایک دوسرے سے فاصلہ رکھ کر لاؤنج سے باہر آگئے۔
نیلم کی زندگی کا مشکل ترین مرحلہ یہ ایئرپورٹ اور ہوٹل تک کا تھا۔جہاز سے باہر آتے ہوئے لگا کہ زندگی میں اتنا بڑا چیلنج کا کبھی اسے سامنا نہیں کرنا پڑا تھا۔ وہ تمام بڑے فیصلے کی جو اس کی زندگی کے سنگ ہائے میل تھے ،ان کی ایک ہائی اسپیڈ فلم اس کے نہاں خانہ وجود کی  اسکرین پر چلنے لگی۔ وجدان سے شادی کا سوچنا اور اس فیصلے پر اپنے جبرو باپ کے احترام میں شادی نہ کرنا ،جوانی کی کنٹرول اسٹریک تھی۔اپنے ضبط اور والدین سے وفاداری کا پاس۔

سعید کی دلہن بن کربرطانیہ آنا ایک رسم دنیا اور ایک نئی دنیا کی کھوج تھی۔سعید کے مد مقابل دستیاب سب رشتے قرابت داروں اور برادری والوں کے تھے۔ سب ہی بہت روٹین سے مرد تھے۔برطانیہ آنے کے فیصلے میں نیلم کے  سامنے یہ نقطہ بھی تھا کہ اگر شادی میں کوئی اڑچن آئی تو وہ اس سے جان چھڑا کر وجدان اور گڈی جیسا بوہیمیئن لائف اسٹائل اپنا لے گی یا کوئی مالدار مرد گھیر کر اس کی دولت کے مزے لوٹے گی۔ یہ فلائٹ کیا مس ہوئی، یہ اجنبی کیا ملا، یہ کیسی عجب صورت حالات بنی کہ جو محض ایک حادثہ تھاوہ ہی پیار کا عنوان بن گیا۔ وہ جو اجنبی تھا وہی روح کا ارمان بن گیا۔

ترکی بہ ترکی
سامان کے کنویئر بیلٹ پر آنے سے لاؤنج سے باہر سواری کی تلاش تک وہ اسے چھپ کر بھی اور بے دھڑک ہوکر دیکھتی رہی، دل کی آنکھ سے، کن انکھیوں سے،ہر طرح سے۔کوئی ایسی علامت، کوئی ایسا لفظ، کسی قسم کی بے تابی وصل،اسے چھونے کی معمولی سی کوشش کا کوئی تو سراغ ملے۔اس کا امتحان اس نے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر لے  بھی لیا  تھا۔یہ ایک طرح کیBaitتھی۔پاکستانی مرد بھلے سے اپنی دانست میں لاکھ ابن بطوطہ اور صلاح الدین ایوبی سہی مگرمغرب کی سان پر چڑھی (کمان) اس جیسی من بھاؤنی عورت کی اس اشارتی دعوت کو نظر انداز کرنا بڑے جگرے کی بات تھی۔

نیول رنگ
مفت کا سرکاری پاسپورٹ

مردوں سے مکمل جسمانی اجتناب کے باوجود اسے اندازہ تھا کہ مرد کی نگاہ میں, اس کی حرکات میں,وہ کیا علامات ہوتی ہیں جن سے اس کی طلب کا اندازہ ہوتا ہے۔ایسا نہ تھا کہ حضرت ارسلان آغا جی مٹی کے مادھو تھے۔جب وہ جھکی تھی تو اس کے گریباں میں جھانک کرحضرت کی آنکھوں میں ویسی ہی چمک بیدار ہوئی تھی جیسے غریب بچوں کی آنکھ میں آئس کریم کون دیکھ کر پیدا ہوتی ہے۔یہ بہت مختصر سا لمحہ تھا۔اس نے جب اس دید بانی کو رنگے ہاتھوں پکڑا تو حضرت جھینپ کر ایک دم ہی غائب الزماں ہوگئے۔اس کے بعد طلب تو اکثر نشست و برخاست میں دکھائی دی مگر اظہار سرے سے مفقود تھا۔کندھے پر ہاتھ رکھنے کے باجود جب کئی مرتبہ وہ ارداتاً اس سے بدن جوڑ کر قریب کھڑی تھی ارسلان نے اسے کسی طور چھونے میں پہل نہ کی ۔ نیلم  کودل کے کسی دور دراز گوشے سے ادراک نسوانی کی یہ باز گشت ضرور سنائی دی کہ حضرت کی یہ احتیاط اور یہ رکھ رکھاؤ ایک ایسا بڑا خفیہ جال ہے جس میں الجھ کر وہ اسے ایسی جگہ لے جاکر اُلٹی چھری سے ذبح کرے گا کہ اس کو پینے
کے لیے پانی بھی نہ ملے گا۔اپنی اس فکر مندی سے اسے الجھن ہوئی، اس نے سوچا کہ یہ کونسے خمیر سے اللہ میاں نے عورت کوگوندھا ہے کہ وہ کبھی بھی مکمل طور پر آسودہ اور بے فکر نہیں ہوتی۔چنتا کی جونکیں ہر وقت اس کے وجود سے کیوں چمٹی رہتی ہیں۔

اس حوالے سے اس نے عجیب عجیب باتیں سوچیں۔ارسلان جب دوران پرواز ٹوائلٹ کی طرف گیا تھا،اس نے اس کے چھوٹے سے سفری تھیلے میں سے اس کا پاسپورٹ نکال کر جلدی جلدی اس کی تصویریں بنالی تھیں۔ گڈو نے اپنے تعارف میں کوئی جھوٹ نہیں بولا تھا۔۔ حکومت پاکستان کا جاری کردہ نیلا،گرے -ٹس  پاسپورٹ،نام ارسلان آغا، گھر کا پتہ بھی مری کے پاس اسلام آباد کے ایک گاؤں سترہ میل کا تھا۔سرکاری عہدہ بھی ڈائریکٹر،وزارتِ  زراعت کا تھا۔ اب کیا خطرہ ہوسکتا ہے ،سوائے اس کے کہ وہ اس سے جنسی دست درازی کرے۔

اس طرح کا تو اب تک خفیف مظاہرہ بھی نہ ہوا تھا، نہ گفتگو کی کسی بداحتیاطی سے،نہ ہی چھو لینے کی جسارت سے۔اس نے دیکھا بھی بہت سلیقے اور تہذیب سے تھا۔ سوائے نیول رنگ کے اس کے بدن کا کوئی حوالہ اس طویل محفل میں نہ ہوا تھا۔پاکستانی مرد کے لیے جیتی جاگتی عورت کی ناف میں مچلتی رنگ کا جلوہ ایسا کوئی معمولی منظر نہ تھا کہ اسے چپ کرکے  گھونٹ بھرلیا جاتا۔حضرت بولے تو ٹھیک ہی بولے تھے۔This much is fine with me
باہر وہ اس سے ذرا پرے ہٹ کر دس منٹ تک سعید کی  آمد کا جھوٹ موٹ سا انتظار کرتی رہی۔آپ تو جانتے ہی ہیں عورتوں کے اس چمت کار کو ہندی میں تریا چلتر کہا جاتا ہے(تریا ہندی زبان میں نوجوان اور چالباز حسینہ کو کہا جاتا ہے اور چلتر، نخرہ،فریب کے معنی میں استعمال ہوتا ہے)

گرینڈ بازار
ترکش حمام
جالولو حمام
گرینڈ بازار کا ہوٹل
گرینڈ بازار کا ریستوراں
گرینڈ بازار استنبول کی قالین فروش
سویٹ ہارٹ برمنگھم والے
ملائی زعفرانی پستہ قلفی

جب نیلم نے اعلان کیا کہ وہ نہیں آئے گا، سعید تاؤ کھاکر شاید پاکستان چلا گیا ہے تو ارسلان نے آہستہ سے پوچھ لیا کہ کیا نیلم کو بھی تاؤ آتا ہے۔ یہ سوال سن کر نیلم نے لمحے کی خفت کا بوجھ مٹانے کا سوچا۔وہ ایک Silly سا اسکول گرل والا مذاق کرے اور خود ہی اس پر ان کی طرح Giggle بھی کرے اس سے شاید سعید کے ارادہ  طلاق کے انکشاف اور محرومی کی تلخی کم ہوجائے۔مجھے اس وقت بہت تاؤ آتا ہے جب مجھے کسی کا پورا نام لینا پڑے۔مجھے آپ کو ارسلان آغا کہہ کر پکارنا پڑ رہا ہے تو بہت تاؤ آرہا ہے۔میری واحد دوست گڈی ہے میں اسے Gees کہتی ہوں گڈی بھی نہیں۔ا تنا کہہ کر وہ زور سے ہنسی تو دو تین قریب کھڑے ہوئے ڈرائیور بھی ہنس دیے۔تب نیلم نے دیکھا کہ ترک مرد مہذب اور دلکش ہیں۔اس کا تو آسان علاج یہ ہے کہ آپ مجھے اس نام سے پکاریں جو آپ کو اشتعال دلانے سے بازرکھے۔کیا میں آپ کو گڈو کہہ سکتی ہوں۔
I have left so much behind. I hope you won’t mind?
وہ کہاں کا باز رہنے والا تھا آہستہ سے پوچھ بیٹھا”اور اس ایک نام سے اس نقصان کی تلافی ہوجائے گی”کوشش کرتے ہیں۔ah you want me to be your partner in this new change over(اچھا تو آپ کی مرضی ہے کہ اس تبدیلی میں خاکسار آپ کا رفیق کار ہو)
at least be around to help me realign (کم ا ز کم اس تبدیلیء سمت میں میرے پاس رہیں) اس نے انگریزی میں ہی کہا وہ آج کے بعد اسے گڈو ہی پکارے گی چاہے وہ چیف سیکرٹری پنجاب بن جائے یا اس کی شادی عالیہ بھٹ سے ہی کیوں نہ ہوجائے۔ اس نے کہا ،نہ تو اسے نام پر اعتراض ہے نہ چیف سیکرٹری پنجاب بننے پر مگر عالیہ بھٹ اسے پسند نہیں۔
اسے کون پسند ہے؟
”مجھے وہ لوگ اچھے لگتے ہیں جو مجھے اپنائیت سے بلاتے ہیں“۔ارسلان نے جواب دیا
ایسا کوئی ملا؟اب سوال کرنے کی باری نیلم کی تھی۔
آپ ہی نے ڈھونڈ کر دینا ہے۔میں بھی تو آپ کیrealign ہونے میں مدد کررہا ہوں۔

وہ اس دل چسپ سوچ میں غلطاں تھی کہ جواب میں گڈو نے بھی اسے کوئی نام دینے کی سوچی ہے کہ نہیں۔ وہ نام اللہ جانے کیا ہوگا۔نیلم،ارسلان آغا کے مقابلے میں چھوٹا سا نام ہے۔شاید حضرت فیصلہ کرچکے ہیں کہ اس کے نام و شناخت کا نیلم سعید گیلانی والا شرعی حصہ اس کی فلائٹ مس ہوتے ہی ضائع ہوگیا ہے اور اب وہ ان کے لیے محض نیلم ہے جسے وہ نیل یا نیلو پکار بھی لے تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔

اتنے میں کیوی ٹیکسی والے انہیں گرینڈ بازار کے ہوٹل میں لے جانے پر تل گئے۔رات ہونے کی وجہ سے شہر خوبصورت لگا مگر گرینڈ بازار کے ہوٹل پہنچ کرنیلم نے دو عجب فرمائشیں کیں۔ایک تو ہوٹل میں کمرہ لینے کا معاملہ وہ خود طے کرے گی ۔ کارپوریٹ فلور پر ایک دوسرے سے متصل دوکمرے انہیں مل گئے۔ کرایہ فی کمرہ دس ڈالر زیادہ تھا مگر وہ ایک اجنبی ملک میں تن تنہا کمرے میں ارسلان کے کمرے سے   کسی دور افتادہ کمرے میں نہیں ٹھہرنا چاہتی تھی۔ انگلینڈ کی بات اور تھی۔وہاں کے ادارے اور ان کی دسترس کا اسے اندازہ تھا مگر ترکی ایک نئی ٹرف تھا۔ اتفاق سے برابر برابر یہی دو کمرے دستیاب تھے۔کمرے میں پہنچ کر اسے ذرا گھبراہٹ ہوئی ،دونوں کے درمیان اندر بھی ایک دروازہ تھا ۔اس نے فیصلہ کیا کہ جس طرف سے چٹخنی لگتی ہے وہ والا کمرہ وہ خود رکھے گی اور اس کمرے میں دروازے کا راز اس سے پوچھے گی۔حضرت نے یقینا ً گھاٹ گھاٹ کا پانی پیا ہے۔وہ یورپ میں خود بھی گھومی تھی مگر عام طور پر کمپنی کی جانب سے اور گڈی کے ساتھ ہی اس کا قیام ہوتا ہے۔وہاں یہ چنتا نہیں ہوتی تھی۔

سامان کمرے میں رکھ کر کچھ دیر بعد وہ ہوٹل سے باہر بازار کی طرف نکل آئے۔گرینڈ بازار کے باہر سے ذرا ہٹ کر دوران سیر ان کی نگاہ ایک قدیم حمام پر پڑ گئی جس کا نام ترکی زبان میں Cagaloglu Hamam تھا۔ انہیں بعد میں اندر جاکر معلوم ہوا کہ یہ 1741 کا بنا ہوا غسل خانہ کسی امیر البحر کے نام سے موسوم تھا ترکی نام Cagaloglu کا درست تلفظ جا لولو تھا۔ حمام کا مشورہ اس کا اپنا تھا۔جب اس نے پوچھا کہ آج ہی تو؟“نیلم نے کہا کہ ’وہ ماضی کی کچھ کثافتیں آج ہی جسم سے میل کی طرح دھوڈالنا چاہتی ہے۔Rub away the dead skin of past،اس نے لفظ نیلم کو سوپ کے بلبلوں میں نہلا کر پتھروں،لوفا، اور کھردرے چمڑے سے پہلوانوں جیسی ایک ترکی خاتون Ece نے دوگھنٹے تک   کچھ ایسا رگڑا لگایا کہ جب وہ باہر آئی تو اسے لگا وہ جسمانی ثقالت کے حوالے سے بادلوں میں اڑتی پھر رہی ہے۔ سعید گیلانی سے جڑی کلفت اور کڑواہٹ جو شادی   کی ایک ناپسندیدہ تہہ کی صورت میں سرد موسم میں ایڑیوں کی مردہ چمڑی بن کر اس وجود کامل سے چپکی تھی وہ حمام میں کہیں دوران رگڑائی جھڑ کر بہہ گئی ہے۔اداسی اور مایوسیوں کی  دھول میں اٹا جسم جسے وہ برطانیہ سے جرمنی اور پھر  پاکستان لے جانا چاہتی تھی، وہ بھی کہیں راستے میں ہی تھکن سمیت رہ گیاہے۔ایسا لگا کہ اس کا بدن ایک ہوائی جہاز ہے جس نے نئے مقام پر لینڈنگ سہل بنانے کے لیے Fuel dumping کی(وہ عمل جس میں جہاز تیل گرادیتے ہیں۔)۔ دونوں کو بھوک لگ رہی تھی وہیں باہر ایک روڈ سائیڈ ہوٹل میں کھانا کھایا۔ کچھ دیر گھومے۔طے یہ ہوا کہ فی الحال ہوٹل جا کر سو جاتے ہیں کل وہ توپ کاپی میوزیم، اور گرینڈ بازار کی سیر کریں گے۔کل ہی وہ کاپوڈوکیا اور قونیا  ہائی اسپیڈ ٹرین کے ذریعے جانے کا معاملہ طے کرلیں گے۔

حمام کے مساج میں ہی اس نے آنکھیں بند کرکے  اس تعلق کے حوالے سے بہت کچھ سوچا مگر اسے لگا کہ یہ سوچیں کسی مٹیالی آنکھوں میں چبھنے والی دھند میں گم ہوگئی ہیں۔ ہوٹل واپسی پر اپنے کمرے کا دروازہ بند کرکے ،بستر پر لیٹ کر اس نے آنکھیں بند کرکے سونے کی کوشش کی تو نیند دامن چھڑاکر بھاگ نکلی ،تعلقات کے معاملے میں اس نے حساب لگایا تو پوری زندگی میں شعور آشنا ہونے کے بعد چار پانچ ہی ایسے لوگ تھے جو اس کی زندگی میں کسی اہمیت کے حامل تھے۔بند دروازے کے اس پار، برابر کے کمرے میں لیٹا یہ شخص کیا اس کی زندگی میں کوئی نیا مستقل اضافہ تھا۔مشکل یہ تھی کہ اس کی غیر موجودگی میں اس کے بارے میں سوچنا بھی مشکل تھا۔فلسفہ بگھارنے کی ذہن کو عادت نہ تھی۔ ورنہ وہ سوچتی کہ کیا جس کے بارے میں اس کے دل و دماغ میں دھیمے دھیمے طوفان ہلکورے لے رہے ہیں کیا وہ سارا دن اس کی نگاہوں کے سامنے نہ تھا کہ وہاں سے کوئی منظر باہر کھینچ کر وہ اپنے تخیل کی چادر تان کر اسے نگاہوں میں بسا کر   اس کے بارے میں سوچ سکتی تھی۔ مسئلہ یہ تھا سوچ کے حوالے سے وہ بہت بنیادی، ہدف آشنا اور سادہ مزاج تھی۔ سوچ کے ان طوفانوں کو ٹالنے کے لیے تنگ آن کر وہ بالکونی میں آگئی اور وہاں کھڑی باہر کے نظارے دیکھتی رہی۔ لابی میں
سے کمرے کی جانب آتے ہوئے البتہ اس نے ارسلان سے یہ سوال پوچھ لیا تھا کہ یہ درمیان میں دروازے کی منطق کیا ہے۔کمرے کی  بکنگ اگر اس نے خود نہ کی ہوتی اور کارپوریٹ فلور میں اپنی سہولت کی خاطر دو متصل کمروں پر اصرار اس کی جانب سے نہ ہوتا تو وہ شک کرتی کہ یہ دروازے والا گیم پلان ارسلان کا تھا۔ ایسا ہوتا تو ارسلان  اس کی نظروں سے فوراً گر جاتا۔قدرے توقف اور دوبارہ استفسار کرنے پر بتایاکہ کارپوریٹ دنیا میں اہل معاملہ کی کوئی حسین ماتحت بھی یا امور کاروبار سے جڑی خواتین میں سے کوئی خواہشات کی تکمیل کی سہولت خاطر شریک قیام ہوسکتی ہے ۔بظاہر اکاؤنٹ والوں کو اور کھوج لگانے والوں کو یہ دو کمرے لگیں گے۔

”آپ کو یہ سب کیسے پتہ؟“نیلم نے اٹھلا کر پوچھا۔

وہ بتانے لگا کہ جنرل پرویز مشرف کے چہیتے کچھ سابق فوجی افسران نے ایک سویلین ادارے میں چن کے اسلام آباد میں چند حسین نوجوان خواتین کو اپنا اپناسیکرٹری رکھ لیا تھا۔بازار سے زیادہ تنخواہ دیتے تھے۔کام کاج واجبی ہوتا تھا۔ سرکاری امور کی انجام دہی میں یہ التزام لازم تھا کہ حسین لگیں،ساتھ سفر کریں اور باس کے بارے میں مثبت سوچ، رازردارنہ اور تابعدارانہ رویہ(یعنی (Secretive and Fully Submissive رکھیں۔ ان ماتحت خواتین کے ہاں بھی عصمت سے زیادہ سیر،ملازمت اور نت نئے مواقع کی تلاش کا معاملہ تھا۔ان میں سے ایک سیکرٹری تو بعد میں ایک وزیر اعظم کے ساتھ بھی اس طرح کے میثاق مصلحت اور شاہراہ ترقی پر گامزن ہوکر ان کی تیرہ شبوں کی ساتھی رہی۔ان افسران کے سندھ میں دفتر کو کرائے   پرلینے کا اہتمام یوں ہوا کہ کرائے کی مد میں ہر دو متصل کمروں کی دیوار میں ایک دروازہ نصب کرنے کے اخراجات بھی شامل کردیے گئے۔ اصل دفتر،بیسمنٹ میں بنا۔ سابق فوجی افسر بضد ہوتے تھے کہ کوئی مٹینگ کسی اور ادارے کے افسران کے ساتھ بارہ بجے سے پہلے شروع نہ ہو۔وہ اپنی سیکرٹری صاحبان کے ساتھ دورے پر آتے۔میٹنگ کے شروع ہونے سے پہلے کمر درد کی شکایت عام اور با آواز بلند کی جاتی۔مقامی افسر ان ا ن مہمان مجاہدین کی عمر اور سیکرٹری صاحبان سے رات بھر کی مچائی ہوئی دھماچوکڑی کی لاج رکھنے کے لیے سارا الزام کراچی کی مرطوب اور زنگ لگانے والی ہوا کو دیتے تھے۔وہ سارا درد یہ کہہ کر لپیٹ دیتے تھے کہ سمندر کے قریب ہونے کی وجہ سے گھر کی گرلیں،بجلی کا سامان اے سی کے آؤٹرز، کمپریسر فرج ٹی وی سب خراب ہوجاتے ہیں۔سابق فوجی افسر کی اس بے رحم ہوا کے سامنے کیا وقعت ہے۔
نیلم نے گھڑی پر نگاہ ڈالی تو بمشکل پونا ایک بجاتھا۔
رات بارہ سے تین بجے صبح تک کا دورانیہ نیلم کے لیے وہ جہاں کہیں بھی ہو ایک عرصہء بے قراری ہوتا تھا۔ آج شام تو حمام اور مساج نے بدن کو یوں بھی بادلوں کی طرح مست اور ہلکا بنادیا تھا۔دماغ بھی بیدار تھا اور دل بے قرار۔کچھ جام گھٹکانے کی، کچھ سگریٹ پینے کی بھی طلب تھی۔ ہوٹل سے سامنے والی سائیڈ پر روڈ اور گلیوں میں لوگ ادھر ادھر مختلف قہوہ خانوں میں خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ اسے خیال آیا کہ ترکی باشندوں کے مغربی لباس میں مشرق اب بھی اندر کی طرف ریشمی استر بن کر چمٹا ہوا تھا۔وقت شاید وہاں بھی ایک پیما نہء اوقات نہ تھا۔ سمے کی دھارا میں بہتی ہوئی عمر کی  خوش گپیوں میں گزارے لمحات کا تا حیات سلسلہ تھا۔مغرب کی طرح سر ِ شام بستر میں جا گھسنے سونے اور صبح جلد اٹھ کر کام پر جانے کا رجحان شاید ان کے ہاں بھی نہ تھا۔زندگی کی رفتار اسے ائیر پورٹ سے نکلتے ہی کچھ خراماں خراماں سی لگی تھی۔مشرق کی سی آسودہ حال سستی سے عبارت۔

نیلم کو ایڈونچر کی سوجھی تو اس نے بالکونی سے ارسلان کے کمرے کی طرف جھانکا۔ کمرے میں مکمل اندھیرا تو نہ تھا مگر بالکونی کے دروازے پر پڑے پردے سے روشنی کی ایک موٹی کرن دامن چھڑا کر ریلنگ پر پڑ رہی تھی۔ یہ اس بات کی علامت تھی کہ باتھ روم کی لائٹ ارادتاً جلتی ہوئی چھوڑ دی گئی تھی۔
سوچ کا ایک سلسلہ چل نکلا۔ایسے میں کہیں یہ بھی سوجھی کہ بہت آہستہ سے وہ اپنی طرف سے دروازہ کھول کر جھانکے۔دیکھے تو سہی حضرت کیا کرتے ہیں، کیسے سوتے ہیں۔ کچھ دیر کو وہ اس تذبذب میں مبتلا رہی کہ جاگ گئے تو گڈو میاں کیا سوچیں گے۔اسے بستر میں گھسیٹا تو وہ کیسے دامن چھڑائے گی۔ بدن اور دل کا سردست وہ حال ہے کہ ایک بوسہ گردن پر، کان کی لو پر،ایک گرم سانس کی
مہکار،کمر پر ہلکا سا دباؤ اگر یہ سب کچھ ہوا تووہ تو بس برمنگھم کی مشہور دکان سوئیٹ ہارٹ کی ملائی یا زعفرانی قلفی بن جائے گی۔

نہیں وہ ایسا نہیں۔۔گرینڈ باز ار کے جالولو حمام میں جب اس نے اس کے پیسے بھی دینے چاہے تو اس نے اس کا ہاتھ پکڑ کر روکنے کی کوشش کی۔ وہ تنہا حمام کی طرف بھی جانے پر رضامند نہ تھی سو ارسلان کا ہاتھ اس نے تھامے ہی رکھا۔وہاں سے واپس باہر آنے کے بعد بھی اس نے کوئی عجلت اور رغبت نہ دکھائی، نہ ہاتھ تھاما،نہ کمر پر ہاتھ رکھا،نہ کولہوں کو چھوا ،نہ سینے کے قریب بدن کو لایا۔ ورنہ گڈی کہتی تھی کہ چالاک مرد،مافیا اور امریکہ ایک جیسے ہوتے ہیں۔ اپنا نیاسبق، کتاب شہوت و وصال کا پچھلا باب دہرائے بغیر وہیں سے شروع کرتے ہیں، جہاں چھوڑا تھا، مثلاً ہاتھ تھامنے کے بعد ان کا اگلا اقدام چوما چاٹی اور پھر اس کے بعد کی ملاقات میں ہل من مزید کے  نعرے کے ساتھ Do More کا مطالبہ۔

ہوٹل کے کمرے کا دروازہ
جنین انسانی
طفلِ خوابیدہ
رات کی بات
منیلا رسی
تجھ لب کی صفت
کافکا نرگیلا،استنبول
استنبول کا شیشہ
گرینڈ بازار استنبول
گرینڈ بازار استنبول

نیلماں نے دل میں سوچا کہیں یہ حضرت بھی تو سعید گیلانی کی طرح دور افتاد گلیشئر نہیں۔اس نے خود کو یہ سمجھا کر اس خیال سے پیچھا چھڑایا کہ جب وہ کئی دفعہ ائیر پورٹ پر مختلف اوقات میں نیچے جھکتی تھی تو گڈو میاں کی نگاہیں چئیر لفٹ کی طرح اس کے سینے کے درمیان ادھر سے ادھر دوڑنے لگتی تھیں So its all about timing۔ خود کو یہ کہہ کر سمجھایا کہ اب وہ کون سی مسز سعید گیلانی ہے۔میاں صاحب نے طلاق کا فیصلہ بھی بلاوجہ بِناکچھ سنے ، کچھ کہے یک طرفہ ہی سنا دیا ہے۔اب تو سب کچھ صرف کاغذی قانونی کارروائی کا مسئلہ ہے۔ اب وہ آزاد اور اپنے فیصلوں میں ایک خود مختار عورت ہے۔
درمیان میں حائل مشترکہ دروازے کی کنڈی کھولتے وقت اس نے اتنی احتیاط ضرور کی کہ کوئی آواز نہ ہو مگر پھر بھی یہ کمرے کوئی ساؤنڈ ریکارڈنگ اسٹوڈیو نہ تھے۔ایک ہلکا سا کھٹکا ضرور ہوا۔ وہ ٹھٹھک کر ایک طرف ہوگئی کہیں حضرت جاگتے ہوں تو انہیں دروازے کے دوسری طرف کسی کی بے قراری اور کھوج بھری حرکت کا احساس نہ ہو۔وہاں زندگی کے کوئی آثار نہ تھے۔ایسا لگتا تھا کہ صاحب سلامت آغا ارسلان گھوڑوں کے کوئی تھوک تاجر تھے جو شہر بھر کے گھوڑے بیچ کر سورہے تھے۔

وہ خود بھی بہت لائٹ سلیپر تھی۔ سعید اس کا میاں بھی ایسا ہی تھا۔بستر پر زور سے کروٹ لو یا ہاتھ، لات سوتے میں لگ جائے تو آنکھ کھول کر چپ چاپ دیکھ کر سوجاتا تھا۔ اس لمحہء مداخلت میں اس کی نگاہ میں ایک بے زاری ہوتی جو پوچھ رہی ہوتی کہ رات کو بھی چین نہیں۔خود کو لپیٹ کر کونے میں ایسے سوتا تھا جیسے ماں کے پیٹ میں کوئی  جنین ( fetus ) نشو و نما پاتاہو۔اس نے ایک عجب حرکت کی ،سوچا  کہ وہ کنڈی کھل جانے پر اس کے کمرے کا جائزہ لے، اس سے پہلے مگر اپنی ٹی شرٹ کے نیچے باتھ روم میں جاکر دوبارہ برا پہن لی جس سے سینے  کی بے باکی کو کچھ پردہ نصیب ہوا۔اس کے بعد اس نے دروازہ بہت آہستگی  سے کھولا۔

باتھ روم کے دروازے کو کچھ ہلکے سے دھکا دیا تاکہ روشنی کچھ اور پھیل جائے۔اس حرکت میں یہ بھی راز تھا کہ اگر گڈو جاگ جائے تو وہ کہہ سکتی تھی اس کے کمرے میں گرم پانی کا مسئلہ ہے سو اس نے سوچا اسے تکلیف دینے سے پہلے خود چیک کرلے Its all so English(یہ ذرا انگلش انداز ہے)۔
روشنی کے پھیلاؤ سے ارسلان کے کمرے کا منظر زیادہ بہتر واضح ہوگیا تھا۔ حضرت جی بستر پر ایک ہاتھ چہرے کے نیچے رکھے پیٹ کے بل ڈھیر پڑے تھے۔ٹانگ کا ایک حصہ، سفید کمفرٹر کے باہر تھا باکسر شارٹس کی کنار تک کمفرٹر بھی کھسکا ہوا تھا۔جسم طاقت اور حجم کے حساب سے مناسب تھا۔ چربی نام کو نہ تھی۔ اسے یاد آیا کہ وہ کراٹے کا براؤن بیلٹ ہے۔کاتھاز اور مرغے کے پیچھے بھاگنے میں کم بخت جسم نے خوب مسل۔ میلہ سجایا تھا۔ریشہ ریشہ Abaca plant کی گتھی ہوئی منیلا رسی جیسا۔منہ  ویسے ہی بچوں جیساکھلا تھا۔بال بھی بکھرے ہوئے تھے مگر وجود میں ایک شانتی تھی۔ اسے اپنے جذبات میں کچھ گڑ بڑ محسوس ہوئی تو وہ بہت خاموشی سے اپنے کمرے میں چلی آئی اور چٹخنی لگادی۔

سوچتی رہی کہ ارسلان کو جگا ئے اور ساتھ لے کر سامنے کسی کیفے میں جا گھسے۔بہت آہستگی سے یہ سوچ کر دروازے پر دستک دینا شایداچھا نہیں ،نیلم نے یہ طریقہ مہذب جانا کہ اسے اپنے روم سے ہی فون کردیا۔فون کے بجنے کی آواز اسے اپنے کمرے میں بھی سنائی دی اور دوسری گھنٹی پر فون اٹھ بھی گیا۔وہ چپ تھی کہ دیکھیں کیا ردِ  عمل آتا ہے، اس کے ہیلو کے بعد جب اس نے قدرے سنجیدگی سے گڈو کہا تو وہاں سے سوال ہوا کہ نیل آر یو اوکے؟
اس نے بھی ہنسی سے اٹھلا کر کہا ”یا نیل از اوکے، بٹ آئی وانٹ ٹو گو آؤٹ“۔
اوکے گیو می فائی منٹس۔پانچ منٹ  بعد وہ کمرے کے باہر دستک دے کر کھڑا رہا۔
باہر آئی تو نیلمان نے جینر اور کاندھے پر ڈوریوں سے بندھے جامنی جالی دار ہالٹر پر اپنا کیپ پہنا ہوا تھا۔ان کی ضد میں ایسی ہی دو برگنڈی (سرخی مائل کاسنی) شراب جیسے ریشمی جگمگ کرتے برا اسٹریپس بھی کاندھے کی اجلی جلد پر ریسنگ ٹریک کے نیم قوس جیسی ڈھلوان پر احتیاط سے مڑ کر کہیں کمر کی پشت کی طرف جاکر چھپ گئے تھے۔چلتے چلتے ناف میں وہ گھنٹی والی رنگ بھی اڑس لی تھی۔بالوں کو لائٹ کومبنگ سے کاندھے پر چھوڑ دیا گیا اور ہونٹوں پر اسٹریپس کی ہم رنگ blackened violet لپ اسٹک اور کانوں کے جھمکے اور ناک کی لونگ وہی تھی جو اولین
ملاقات میں دکھائی دی تھی۔ارسلان کو یہ پہناوا، یہ روپ اچھا لگا۔

ہوٹل سے ذرا سے فاصلے پر انہیں Kafeka Nargile Cafe نظر آگیا تو دونوں اندر چلے گئے اور باہر کا منظر د کھا تی ایک خاموش کو نے سے جڑی کھڑکی سے لگ کر، وہ اور نیلم آمنے سامنے بیٹھ گئے۔ سڑک پر لوگوں کی آمدو رفت اور شور کم تھا، اندر البتہ زیادہ تر وہ جوڑے موجود تھے جنہیں ان ہی کی طرح عشق میں غیرتِ جذبات نے سونے نہ دیا تھا۔ان گل رُخان استنبول کی دھیمی دھیمی سرگوشیوں میں گفتگو کا خاصا رومانچک سا ماحول  بن گیا تھا۔

نیلم نے اپنے لیےWhisky nightcap لے لیا۔ ارسلان کو کہنے لگی کہ میرا نائٹ کیپ کے بغیر گزارا نہیں ہوتا۔گورے تو عام طور پر اس کو one-off سمجھ کر پیتے ہیں مگرمجھے ایک دو پیگز سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ شراب کے معاملے میں میں بہت مضبوط اعصاب کی مالک ہوں۔جلد نہیں بہکتی۔ tippling so used to (عادتاً شراب پینا)۔ پارٹی از آن دی ہاؤس
(میزبانی کا ذمہ اس کا ہے)۔یہ کہہ کر پرس سے اپنے سگریٹ نکال کر میز پر رکھ دیے ، ساتھ ہی اس سے بھی پوچھ لیا کہ وہ کیا پینا پسند کرے گا ۔
منڈلاتے ویٹر کو ارسلان نے سمجھایا کہ اس کے لیے ترکی قہوہ،شہد کے ساتھ اور ڈبل ایپل میں پودینے کے تمباکو والا شیشہ لے آئے۔
جب ارسلان کی فرمائش پرآنے والا ڈبل ایپل میں پودینے کے تمباکو والا شیشہ دہکا دیا گیا تو اس نے(Let your own Lady Neel do the honours خدمت کا موقع آپ اپنی نیل صاحبہ  کوعطا کریں) کہہ کرارسلان سے پہلے خود ایک گہرا کش لیا اور دھواں یوں چھوڑ دیا کہ ارسلان کا چہر ہ اس نے ڈھانپ دیا گیا۔۔

نیلم کو کچھ اطمینان سا تھا کہ حضرت گہری نیند سے جاگے ہیں اس لیے ذہنی طور پر کچھ Blank ہوں گے۔ یوں بھی شب کے اس پہر، ایسا دعوت گناہ دیتا وجود سامنے ہو تو کون مرد ہے جو اپنے عقل و دانش کے سیٹ بیلٹس باندھ کر رہ سکتا ہے۔موجودہ کیفیت میں اسکے بارے میں، انہیں کھوجنا، پرکھنا اور کسی قسم کا فیصلہ کرنا آسان ہوگا۔ اسے اندازہ نہ تھا کہ اعلیٰ حضرت کا Bio Clock بچپن کا سدھایا ہوا ہے۔ مطلوبہ اوقات میں سونا جاگنا، کمانڈوز اور امریکہ کے مشہور سیل فوجیوں کی طرح اب فطرت ثانیہ ہے، مجبوری نہیں۔ ارسلان کے اس نیم خوابیدہ سراپے کے پیچھے تنہائی پسند تیندوے کی مانند ایک پھرتیلا دماغ یہ سوچ کر بیدار تھا کہ یوں نیند سے جگا کر اسے یہاں لانے کی پشت پر جانے کیاا یجنڈاہے۔ کش لگا کر نیلم نے ایک ادا سے انگڑائی لے کر بدن کا قوس بنا کر اپنا کیپ (کوٹ) ایک جانب اتار کر رکھا تو مرد مقابل کی نگاہوں کے سامنے اس جسم جواں کے حوالے سے دل ربائی کے طائفے ہلارے لینے لگے۔
دوسرے گھونٹ کے ساتھ ہی نیلم نے اپنی شرنج کی بساط بچھائی اور کہنے لگی کہ I have few questions and I need many answers.
(میرے پاس سوال تو چند ہیں مگر جواب بہت سے درکار ہیں)۔
All in one journey and a single night
وہ کہنے لگا(ایک مسافت میں ایک رات کے دوران)
I lost some one gradually but I want to find some one quickly
(میں نے کھویا تو بتدریج ہے مگر میں کسی کو بہت عجلت سے پانا چاہتی ہوں)
I have no issues with speed. But I am not sure about your loss?
( مجھے آپ کی عجلت پسندی پر کوئی اعتراض نہیں، مگر مجھے یہ سمجھ میں نہیں آرہا کہ آپ نے کس کو کھودیا ہے؟)
رات کو جو آخری پیغام مجھے ملا تھا اس میں سعید نے مجھے طلاق دینے کا کہا ہے“ نیلم بلا کم و کاست اصل موضوع کی جانب لوٹ گئی۔

ارسلان نے بھی بہت آہستہ سے جتلادیا کہ اسے اس ایس ایم ایس کے بعد ہی اندازہ ہوگیا تھا کہ کوئی بڑی بات ہوئی ہے۔ وہ فوراً ہی بہت Off- colour(بے لطف) ہوگئی تھی۔ جیسے اسے ایک اندرونی کشمکش، ایک ناقابل بیان نقصان کا سامنا ہو، ایک اندرونی عدالت لگی ہو جس میں منصف کو ہی یہ ناپسندیدہ فیصلہ کرنا ہو کہ وہ خود مجرم نہیں۔
اسی اثنا میں نیلم نے کہنیوں کے سہارے میز پر جھک کر ، ہتھیلیوں کی رحل بنا کر اس پر چہرہ رکھ دیا ایسا کرنے سے سینے کی گولائیوں نے جب ہالٹر سے بغاوت کرکے باہر جھانکا تو کچھ دیر کو ارسلان کو لگا کہ پینے والی سے زیادہ شراب کا نشہ خود اس پر طاری ہوا ہے۔ نیلم کا اگلا سوال یوں تو انگریزی میں تھا کہ Do you love me? Your answer ought to be just a No or Yes

(کیا آپ مجھے پیار کرتے ہیں۔مجھے اس کا جواب صرف ہاں یا نہ میں درکار ہے)
ارسلان کو اس سوال کی اتنی جلد توقع نہ تھی۔ رفاقت، شاہراہء وقت پر کچھ مسافت طے کرلیتی ہے تو ایسے سوال معمول کی گفتگو کا حصہ سمجھے جاتے ہیں۔ اس وقت مگر یہ سب کچھ ناگہانی تھا اس نے جواب دینے سے یہ کہہ کر پہلو تہی کی کہ
”آپ کو کیا لگتا ہے؟“
نیلم نے گلاس سے بڑا گھونٹ لیا اور اس کے ہاتھ  سے، شیشے کی نے بلاتکلفی سے  یوں چھینی کہ اس کے ہاتھ  پر نیلم کی ہتھیلی کی  ایک آشنا سی لگاوٹ  کا بِلاعجلت کچھ دیر قیام رہا۔ اسے لگا اس کی آج رات اس کی اپنی ہر بے تکلفی کا جواز یہ ہے کہ اس کا اپنا میاں سعید گیلانی ایک مرد تھا جو اس کی قدر کرنے سے محروم تھا اور ایک یہ مرد ارسلان آغا اس کا ا اپنا نامزد گڈو ہے جس پرنوازش لمس و
وصال کے ہر سلسلے پر اس کا اپناکنٹرول ہے۔اس سپردگی اور اس جسمانی حوالگی کا اس کے پاس کوئی ٹائم فریم نہیں۔ یہ سامنے موجود ذہین طالب علم کو جامعہء دلبری کی جانب سے مہیا ا یک ایسے Student Loan کی سہولت ہے جس کی واحد شرط یہ ہے کہ Pay as you earn(ادائیگی آمدنی سے مشروط ہے)
شیشے سے لمبا کش لے کر اس نے کہا میں نے آپ کو پہلے ہی جتا دیا تھا کہ. I have few questions and I need many answers
(میرے پاس سوال تو چند ہیں مگر جواب بہت سے درکار ہیں)۔
ارسلان نے اس اعتراض کا بہت دھیمے سے مجرمانہ اعتراف سے سر نیہوڑا کر جواب دیا کہ۔۔
I got dissuaded by your puff (میں آپ کی مرغولہ سازی سے بھٹک سا گیا تھا)۔
اس جواب سے میزپر ہتھیلیوں پر رکھے اس چہرے  کی اداکاری کے اشارے کی نشاندہی ارسلان نے پف کا ذکر کرکے یوں کی کہ یہ سوچ کرنیلم خود ہی جھینپ کے شرما گئی۔ ارسلان کو ان ہی لمحات میں پہلی دفعہ اپنے علم میں یہ اضافہ محسوس ہوا کہ سرخی گالوں کے علاوہ سینے کی گولائی پر بھی   جلوے دکھا دیتی ہے۔ خون کا فوارہ دل سے چھوٹتا ہے۔ وہی دل جو چولی کے پیچھے اور چنری کے نیچے ہوتا ہے۔ ۔ توبہ اس آدمی کو بات چیت میں کسی جگہ گھیرنا کتنا مشکل ہے۔بضد ہوئی کہ”میرا جواب؟“۔
”آپ بہت Intricate (نازک اور پیچیدہ) ہیں“۔ارسلان نے تبصرہ کیا تو نیلم اس لفظ کے استعمال سے بھیگ گئی۔سر دست وہ ایسی ہی تھی۔ بِلّور (کرسٹل) کی ایک صراحی جیسی، ایک گل تازہ،کینوس پر مکمل تصویر کے سامنے آرٹسٹ کا تھامے ہوئے فائنل ٹچز والے برش جیسی۔ایک غلط اسٹروک اور تصویر بگڑ جاتی۔اسے اپنی جرات اور عجلت،اپنے حتمی پن اور اصرار سبھی پر حیرت ہوئی۔یہ بھی خیال آیا کہ اسے آئی لو  یو نہ کہنا گڈو کے لیے بھی حوصلوں کی بات ہے۔ہاں کہتا ہے تو خود اس کے لیے یہ وہ شہتیر ہوگا جو شادی کے اس Ship -Wreck کے بعد اس متلاطم سمندر میں اس کے ہاتھ لگا ہے۔۔
”ہاں یا نہیں“۔گلاس میں اس کی وہسکی ختم ہورہی تھی۔اس نے ویٹر کو اشارہ کیا تو ارسلان نے بازو کے نیچے بغل کی سطح پر بادل کے پیچھے چاند جیسے اجالے دیکھے۔۔
”نہ کہوں تو یہ جھوٹ ہوگا“۔ اس نے کہا۔لیکن اس سے پہلے ایک درخواست کہ آپ اس مئے نوشی کو اب یہاں اس گلاس پر روک دیں۔
ڈرپوک۔شرابی عورت، پاکستان کی بیوروکریسی سے ہینڈل نہیں ہوتی۔نیلم نے کہا۔۔
وہ کھڑی ہوئی اور بار کاؤنٹر پر جاکر ویٹر کو منع کر کے لوٹ آئی تھی۔ ارسلان کا جواب یہ تھا کہ I found you in your senses and sensuality and i love with all my sensibility.
)میں نے تمہیں باہوش و حواس پایا تھا اور آپ میں ایک سرمستی تھی اور میں آپ کو اپنے مکمل ادراک کے ساتھ چاہنے کا خواہشمند ہوں)
واپسی پر اس نے گڈو کو گلے لگا کر کہاکہ ” آپ کا جواب اب بھی نامکمل ہے“۔
”آپ اگر سننے پر رضامند ہوں تو میرے پاس ایک وضاحت بھی ہے اور جواب بھی“۔
”ارشاد“ ۔ ۔گفتگو کو سنجیدگی کے دھرّے (ایکسل) پر ٹکا رکھنے کے لیے اس نے (bit chilly here) کہہ کر اپنا لیوینڈر رنگت کا بغیر بٹن کا کیپ ارسلان کی جانب پشت کر کے دوبارہ کاندھوں پر یوں اٹکا لیا کہ بازو اور رخ سے آتی ہوائیں تھم گئیں مگر سامنے کے مناظر کی جلوہ سامانی رنگوں کی اس پروفائلنگ جس میں سیاہ،جامنی،لیونڈر اور جلد کی چاندنی کے اجالے شامل تھے ان سب کی حشر سامانی میں مزید اضافہ ہوگیا۔

ارسلان نے اس رسم دلداری کی تکمیل پر آہستہ سے کہا”ہم سول سرونٹس پیار کو بھی پوسٹنگ سمجھتے ہیں۔ اس کی ذمہ داری اور اس کے perks شمار کرتے ہیں۔
جس پر نیلم نے زچ ہوکر کہا ”اتنا چھوٹا سا سوال کہ Do you love me? Yes or No. اور جانم آپ نے مجھے پورا سائبریا گھمادیا“۔
اس کی آنکھوں میں جھانک کر ارسلان نے بہت نرمی سے کہا،” اس وقت آپ اپنی نجی زندگی میں جس ذہنی الجھن کا شکار ہیں مجھے ڈر ہے میری ہاں یا نہ اس کی روشنی میں دیکھی جائے گی۔ مجھے یقین ہے کہ ہمارے اس تعلق میں ایسا ایک لمحہ ضرور آئے گا جب آپ اس پیار کی حق دار ٹھہریں گی تب یہ کسی سوال کا جواب نہیں بلکہ میرا اعتراف، میری سپردگی اور آپ کے وجود دلفریب کاانعام
ہوگا۔میرا دل کہتا ہے کہ وہ لمحہ بہت دور نہیں۔فی الحال میرے اقرارکو ٹوکن سمجھیں۔باقی ادائیگی حسب موقع اور پیار کے سود کے ساتھ ادا ہوگی گولڈ فار گولڈ کے انداز میں۔نیلم نے مزید اصرار کو فضول جانا۔

کچھ دیر اور بیٹھ کر ان دونوں نے وہاں جس اہم مسئلے پر گفتگو کی، وہ نیلم کی طلاق کا تھا.ارسلان نے اسے سمجھایا کہ پاکستان میں طلاق کا قانونی طریقہ عورت اور مرد کے لیے مختلف ہے۔مرد کو فیملی عدالت میں طلاق کے لیے کیس فائل نہیں کرنا پڑتا۔ عورت پر البتہ اس شرط کا لازماً اطلاق ہوتا ہے۔سو نیلم کے لیے یہ سوال بہت اہم ہے کہ طلاق میاں سعید گیلانی دے رہے ہیں یا وہ خلع مانگ رہی ہے۔ کوشش کرے کہ سعید اسے ایک stamp paper پر طلاق کا احوال اور شرائط لکھ کر بھیج دے جس کی دوسری کاپی وہ مصالحتی عدالت میں جمع کرائے گا۔وہاں سے ایک تاریخ پر دونوں فریقین کو عدالت کے سامنے پیش ہونا ہوگا۔سعید کی جانب سے کارروائی کے لیے کم از کم تین ماہ کی معیاد لازم ہے۔ اس طرح کا سرٹیفکیٹ جاری ہونے میں اکثر تاخیری حربے استعمال کیے جاتے ہیں۔ایسی صورت میں ہم اپنے اثر و رسوخ کو کام میں لائیں گے۔

نیلم نے اس تمام گفتگو کے  پیچھے یہ سازش نوٹ کی حضرت اس کے اس سوال کے جواب میں کہDo you love me? Yes or No سے وابستہ Commitment سے بچنا چارہے
ہیں۔اس نے خود کو ٹٹولا تو حیرت ہوئی کہ وہ کیوں اس بات پر بضد ہے۔ذہن و دل کے بے در و دیوار، نہاں خانے میں یہ جواب بھی منڈلاتا ہوا ملا کہ اس کو اس شادی کے یوں ختم ہوجانے پر ایک شدید نقصان کا احساس ہوا ہے جس کا ازالہ وہ گڈو جیسے classy prize- catch سے فی الفور کرنا چاہتی ہے۔کسی اور کو بھلے سے دکھانا مقصود نہ ہو مگر خود کے ذاتی اعتمادکے لیے یہ یقین دہانی بھی بہت کافی تھی۔  اس نفسیاتی Rebound میں گڈو کے اس تعامل اور ہچکچاہٹ سے وہ کچھ بے مزہ سی ہوگئی ہے۔
اس بے چارگی اور بے لطفی سے جان چھڑانے کے لیے اس نے ایک پہلو دار، تہہ در تہہ نسوانی shock- tactic سے کام لیا اور رائفل کے گولیوں کے برسٹ جیسے چند سوال کرلیے مگریہ سب کچھ کرنے سے پہلے نیلم نے چالاکی سے مگر قدرے غیر محسوس انداز میں اس تازہ دہکائے گئے  شیشے کی نے واپس لے کر ایک گہر ا کش لیا اور اس کے گرم کسیلے دھوئیں کے اثر کو حلق میں شراب کی نشیلی تلخی میں الجھا کر پوچھ لیا کہ
میرے آج رات کے تین سوال۔۔۔
پہلا اگر ہم کل واپس پاکستان چلے جائیں تو کیسا رہے گا؟ دوسرا  سوال یہ کہ وہ اس کے یعنی نیلم کے لیے آئندہ کیسی زندگی کا نقشہ دیکھ رہا ہے اور تیسرا کیا اس نے شادی کے لیے کسی خاتون کا انتخاب کررکھا ہے ۔اس  بیانیےکی چاٹ میں، کھٹی املی کی چٹنی انڈیلتے ہوئے گڈو پرایک خوش مزاج طنز یہ بھی کرلیا کہ جس طرح کا وہ ہے تو کیا گزارا اس طرح کی فلائیٹوں کے مس ہونے اور ائیرپورٹس کے نائٹ کرفیو کے دوران ملنے والی خواتین پر ہے۔

اس بیان آخر سے گڈو کے چہرے پر ایک ہلکی سی ناگواری اور کرب کی جھلک دیکھ کر اسے رحم بھی آیا۔ خالص مادرانہ رحم۔ اس جذبہ ء ترحم سے اس نے خود کو یہ باور کراکے نجات پالی کہ یہی تو وہ کیفیت تھی جس کے کنوئیں میں وہ اپنے یوسف بے آسرا کو دھکیلنا چاہتی تھی۔نیلم کی جانب سے فلائیٹوں کے مِس ہونے اور ائیرپورٹس کے نائٹ کرفیو کا سن کر گڈو نے کہا اسے ایک جوک یاد آرہا ہے۔ جوک ذرا ڈرٹی ہے مگر وہ اس میں سے ناپسندیدہ الفاظ، حذف کردے گا۔

بنئیے کی مارک ٹو
گنگا اشنان
گنگا اشنان
چتور گڑھ کی حسینہ
پھلواریا بنئیے کا گھر
گرینڈ بازار کی رونق

نیلم کہنے لگی ڈرٹی جوک اس کے لیے مسئلہ نہیں۔ اس کی برمنگھم والی دوست گڈی کی آدھی گفتگو اسی طرح کے جوکس پر مشتمل ہوتی ہے۔ ارسلان کو چونکہ اس نے گڈی کا مردانہ ورژن جانا اور مانا ہے لہذا وہ ذہنی طور پر تیار ہے کہ مرد ہونے کے ناطےvulagarity اور بے باکی کی یہ مقدار کچھ زیادہ ہوسکتی ہے۔ابتدا میں وہ گڈی کے ڈرٹی جوکس سے پریشان ہوتی تھی جس کا علاج گڈی نے یہ نکالا کہ اسے ابتدا ہی میں قائل کرلیا کہ ڈرٹی جوکس سوائے اس کے کچھ اور نہیں ہوتے کہ ہم عورتوں کے پاس کچھ پوشیدہ اعضا ایسے ہیں جن کا ذکر مردذ را زیادہ للچا کر اور قدرے غیر ذمہ داری سے کرتے ہیں۔دوسرے یہ کہ ان لطائف جنسی میں جن لطف بھرے اعمال کا ذکر ہوتا ہے وہ سب ہم مل جل کر کئی دفعہ سرانجام دے چکے ہوتے ہیں۔ سو جوک از آن دا ہاؤس۔۔
ارسلان کہنے لگا کہ بنارس کے ایک قصبے پھل واریا میں مندر کے انچارج پنڈت اور ایک ادھیڑ عمر کا بنیا پڑوسی تھے۔بنیا چتوڑ گڑھ۔ راجھستان سے بیاہ کر ایک بہت سندر،چھوٹی گائے جیسی مدھ  مست ،پندرہ اور سولہ برس کی سرحد پر ڈولتی بیوی لایا تو پنڈت جی للچا اٹھے۔ مندر میں گھنٹی کی آواز کے ساتھ ہی دھرم ویر بنیا گنگا اشنان (نہانے)چلا جاتا۔پنڈت نے اس کی اعلی الصبح رفاقت کا کھوج لگا کر یہ فیصلہ کیا کہ وقت مقررہ سے پہلے گھنٹیاں بجانے سے کام چل جائے گا۔لاجونتی (چھوئی موئی) نئی نویلی لطف و وصال کے کوئلوں پر دہکی منہ  پر گھونگٹ ڈالے مست چڑھتی ندی جیسے بدن والی بملا دیوی کو کیا پتا کہ کون آیا،میرے من کے دوارے سپنوں کا سنسار لیے۔یوں پنڈت جی کو ایک آرزو مند، سجدہ گاہ میسر ہوگئی۔
چالاک بنیے کو جلد ہی اندازہ ہوگیا کہ شادی سے پہلے تو جب وہ اشنان کرکے مندر آتا تھا تو پڑوس والے پنڈت جی وہاں پہلے موجود ہوتے تھے۔پاس پڑوس سے بے تاب بڈھے بھی ہانپتے کھانستے، رام نام جپنے کو آجاتے تھے۔ اب کچھ دنوں سے وہ تنہاء ہی بیٹھ کر ہنومان چالیسا پڑھتا رہتا تھا۔کوئی گھنٹے بھر بعد پنڈت جی بھی شاداں  و فرحاں آجاتے تھے۔ ایسی ہی ایک رات تھی ایسا ہی سماں تھا کہ اس نے گھنٹیاں سُنیں توجلدی سے چھپ  کر گھر سے نکل کر پچھواڑے تاک لگا کر بیٹھ گیا۔کیا دیکھتا ہے کہ پنڈت جی مندر سے گھنٹیاں بجاکر بھاگم بھاگ واپس آئے اور بملا دیوی کے لہلہاتے کھیت جیسے بدن سے لپٹ گئے۔وہ بھاگوان بھی یہ سوچ کر کہ شاہراہ کو مسافر کی شناخت کی کیا چنتا۔جیسے پتی، ویسے پنڈت جی ۔ ناری کا دھرم ہی سیوا ہے۔وصال کی چاندنی میں پنڈت جی کو چنریا بنا کر اوڑھے پڑی رہی۔بنیئے کو یہ سپردگی،یہ راضی بہ رضا معاملہ دیکھ کر دکھ تو بہت ہوا ،مگر سوچا ۔پنڈت جی سے کون بگاڑ کرے۔دنیا اور دھرم دونوں ہی ہاتھ سے نکل جائیں گے۔بہتر ہے مفاہمت کا راستہ پکڑیں۔ جمہوریت سب سے بہتر انتقام ہے۔
چپ چاپ اس نے بیوی کا ہاتھ تھاما اورگھر کا سامان لادا اور چل دیا۔پھیری لگا کر سود کا دھندا کرتا تھا۔ اپنے بھائی کے پاس جے پور پہنچ گیا۔گُنی تھا۔۔ بھائی کی مدد سے کاروبار ویسا ہی پہلے جیسا جم گیا۔ خوش حالی کا ہاتھی ڈیوڑھی پر جھومنے لگا۔پرانی گھر والی کا زچگی میں دیہانت ہوگیا۔نئی نویلی ٹھکرائین ملی تو پرانے گھاؤ بھول گیا۔ اسی آوک جاوک میں ایک دن ریلوے اسٹیشن پر پرانے پنڈت جی مل گئے۔حال احوال ہوا تو بنیے نے پوچھا پنڈت جی یہ تو بتائیے کوئی ویاہ وغیرہ رچایا،گھر گرہستی بھی مانڈی(ہندی گجراتی میں بسائی) کہ ابھی بھی خالی مندر کی گھنٹیوں پر گزارا ہے۔
نیلم جواب کی کاٹ سے ہنستے ہنستے دہری ہوگئی۔اس بے تکلفی میں ارسلان کی نگاہوں نے بھی برگنڈی برا میں بجتی گھنٹیوں کا خوب خوب لطف لیا۔۔

ہنسی کے اس پر ہیجان دورے کے اختتام پر وہ انگریزی میں ”آؤ چلیں“ کہہ کر اس اضافے کے ساتھ کھڑی ہوگئی کہ ”میرے کچھ جواب راستے میں، کچھ ہوٹل پہنچ کر“۔ارسلان نے باہر ہونے والی بارش کی جانب اشارہ کیا تو وہ سراسیمہ سی ہوگئی۔ارسلان نے اسے ایک منٹ رکنے کا اشارہ کیا اور خودکیفے کے منیجر کو جاکر جانے کیا کہا کہ اس مرد مہرباں نے جھٹ سے ایک چھتری نکال کر دی۔
نیلم کو یہ حاضر دماغی،یہ معاملہ سازی اچھی لگی۔چھتری درمیانہ سائز کی تھی۔بارش کا رخ سامنے سے تھا لہذا اس نے تجویز دی کہ وہ سردی کے پیش نظر اپنا کوٹ سامنے کرکے پہن لے،چھتری وہ پکڑے اور اس کے سامنے چلے۔۔تین گلیوں تک ہوٹل کی مسافت ایسی تھی کہ اسے کئی بار شانوں اور کمر سے تھامنے کی وجہ سے نیلم کا بدن ایک مکمل طور پر چارج کیا ہوا یو۔پی۔ ایس بن گیا۔ اپنے کمرے میں پہنچ کر وہ جب اپنا پاجا مہ سوٹ پہن کر اس کی طرف کا کمرے کا مشترکہ دروازہ کھول کر اندر آئی تو بدستو وہی جواب کا مطالبہ تھا۔یہ ضد بھی تھی کہ وہ کمرے کا دروازہ کھلا رکھے گی کیوں رات میں شاید وہ اس کا باتھ روم استعمال کرے اس کی طرف گرم پانی کا مسئلہ ہے اور وہ اس وقت ہوٹل کی روم سروس والوں کو زحمت دینے کے موڈ میں نہیں۔

پہلا سوال کیا، اگر ہم کل واپس پاکستان چلے جائیں تو کیسا رہے گا؟دوسرا  سوال یہ کہ وہ اس کے یعنی نیلم کے لیے آئندہ کیسی زندگی کا نقشہ دیکھ رہا ہے اور تیسرا کیا اس نے شادی کے لیے کسی خاتون کا انتخاب کررکھا ہے ؟
حضرت کا اس سوال کا جواب یہ تھا کہ پاکستان جانا کوئی مسئلہ نہیں اس میں معمولی سی رکاوٹ ٹکٹ کی تبدیلی کے اخراجات ہیں۔زندگی میں کھانے اور سیرکے بارے میں میری سوچ یہ ہے کہ پہلی آفر کو اگرٹھکرادیا جائے تو یہ کفران نعمت ہے۔اس کھانے اور سیر کے لیے پھر بہت دن مزید انتظار کرنا پڑتا ہے۔وہ مل جائے تو اس کا لطف جاتا رہتا ہے۔زندگی اگر مزید موقع دے تو وہ ایشیا مشرق وسطی افریقہ کے کئی ممالک دیکھ سکتی ہے۔وہ جانا چاہتی ہے تو وہ اس کی خواہش کا احترام کرے گا مگر جو کچھ ہے وہ صبح ہی ہوگا۔ بس وہ سوچ لے کاپوڈوکیا، قونیا اور استنبول سیاحت کے حساب سے بہت ہاٹ سپاٹ ہیں۔
دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ نیلم کے لیے پہلا چیلنج تو ایک آسان اور بے مخاصمت طلاق کا ہے۔ طلاق کے بعد کہروڑ پکا جیسی چھوٹی سی بستی میں زندگی گزارنے کا ہے۔ تیسرے سوال کا جوب یہ ہے کہ نہیں اس کے ریڈار پر کوئی عورت بطور بیوی موجود نہیں۔جب وہ سونے کے لیے ا پنے کمرے میں جانے کے لیے کھڑی ہوئی تو نیلم کو پتہ ہی نہ چلا کہ وہ کیا لمحہ تھا جب اس نے ایک انہونی بات کی کہ وہ نہیں مانتی کہ ایک دلیر مرد ہے۔وہ ذمہ داریوں سے فرار کا متلاشی ہے۔
رات کا جتنا پہر باقی تھا وہ کئی دفعہ اس کے کمرے میں آئی۔اس کے جاتے ہی گڈو میاں نے اپنے کپڑے ادھر اُدھر اتار پھینکے اورباکسر میں کمفرٹر کمر پر لپیٹ کر سوگئے۔مرغے اور اوشا کی غیر موجودگی کی وجہ سے کاتھاز بھی نہیں کیے وہ خود بھی چار بجے کی سوئی نو بجے اٹھی۔

اگلے دن انہوں نے سیر بھی کی، مشہور زمانہ توپ کاپی میوزیم بھی دیکھا۔استنبول اور اس کی رفاقت ایک خوش گوار مہلت تھی جس کا وہ بھرپور لطف لے سکتی تھی مگر اسے توپ کاپی میں ایک بناوٹ اور دوری کا احساس ہوا۔ سچ پوچھیں تو اس میں میوزیم کے ماحول سے زیادہ اس کی  اپنی کسیلی کیفیت اور ایک طویل ناخوشی سے بوجھل موڈ کا دخل ہے جس سے وہ گزر رہی تھی۔
نیلم کی اس کیفیت کا سبب یہ تھا کہ اسے وہ تمام الزامات یاد آتے رہے جو سعید گیلانی کے آخری طلاق کے اعلان والے ایس ایم ایس میں لگائے گئے تھے ۔ اسے وکیل سے طلاق کے کاغذات تیار کرنے کی دھمکی ،اس کی جانب سے سعید کے والدین کی اور اپنی مسلسل بے عزتی   کا بودا سا جواز بھی تھا۔اس پر یہ بھی جھوٹی تہمت لگائی گئی تھی اس کی کسی ناکامی کے باعث اس کے والدین کو پوتے کی عدم موجودگی کا دکھ سہنا پڑا اور اس پر یہ آخری زہریلی دھونی کہ اس کا اسٹینڈ بائی میاں اس کی دوست گڈی سعید کی غیر موجودگی سے مچل کر اس سے ملنے اڑ کر پہنچ جائے گی۔ ان سب کی وجہ سے اس کے اندر بہت ٹوٹ پھوٹ ہوئی تھی۔
نیلم کوان خیالات نے گھیر لیا کہ وہ کیسی نادان تھی نہ اس نے کبھی برطانیہ کی شہریت کے حصول کا سوچا،نہ ہی اس کی  بے اعتنائی پر اپنے بدن کے لیے کوئی سہارا ڈھونڈا۔نہ وہاں محنت سے کمائے ہوئے اپنے پاؤنڈز پر اس کی در اندازی کا کبھی برا منایا ۔ اس کے پاس لے دے کر اب یہ کل آٹھ ہزار سات سو پاؤنڈ زبینک میں موجود تھے ۔ اس کے علاوہ یہ پانچ ہزار پاؤنڈ ز جو مختلف حوالوں سے کمپنی کے پاس جمع تھے اور اب وہی کل سرمایہ تھا۔ وہ اپنی اچھائی کے بیان کا یہ موقع ضائع نہیں کرنا چاہتی کہ عمر کے اس اٹھائیسویں برس کے آغاز میں بھی اس کا شمار ان نیک بیبیوں میں کیا جاسکتا ہے جو نہ صرف کسی مرد کے لبوں کے بوسے سے نآشنا ہے بلکہ مسلمہ طور پر کنواری بھی ہے۔ نیلم کسی طور قطعی مذہبی، مشرقی عورت نہیں۔زندگی کے مزے لوٹنے ہوں تو وہ کسی سے پیچھے رہنے والی نہیں۔ اس کے باوجود ایک چیختی ہوئی حقیقت یہ ہے کہ یہ شادی جانے کیسا بندھن، جانے کیسا شیشے کا گھر تھا جس کی ہر دیوار ہر چھت کا اس نے پاس رکھا جب کہ وہاں یورپ اور برطانیہ باہر کی دنیا کے رنگین لطف بھرے مواقع اور بلاوے بہت تھے۔
اس بے لطفی میں عجب بات یہ تھی کہ رسلان کی رفاقت میں استنبول میں بھی کوئی وابستگی محسوس نہیں ہوئی۔روم اور استنبول کی سیاحت کا مسئلہ یہ ہے کہ آپ کے ذہن میں تاریخ کا شعور اور تجسس کا تال میل بہت تنا ہوا اور کتابی حوالوں سے مزین ہونا چاہیے۔ ارسلان کی خوبی یہتھی کہ وہ اس بات کو عمدگی سے سمجھ گیا تھا کہ نیلم کی اس کی رفاقت کا اس مسافت کے دورانیے میں محدود دائرے میں رہنا اس تعلق میں نکھار اور دوام ، اعتماد و لطافت کا باعث بنے گا۔

قونیا میں مولانا رومی کا مرقد پر نور
قونیا میں مولانا رومی کا مرقد پر نور
قونیا میں مولانا رومی کا مرقد پر نور
یا حضرت مولانا
یا حضرت مولانا
یا حضرت مولانا
جدید اور قدیم ترکی
جدید اور قدیم ترکی

مجھے اجازت دیں کہ میں یہاں اپنا بیان صیغہ واحد غائب یعنی Third Person Singular سے First Person Singular ( واحد متکلم ) کی جانب منتقل کرلوں۔اپنے بارے میں یوں خود سے دور کھڑے رہ کر کسی اجنبی کے انداز میں گفتگو کرنا اتنا سہل نہیں۔ آپ سے میں یہ بات شئیر کرلوں کہ میں نے ارسلان سے  ایک بڑی چالاکی کی تھی، وہ اس لیے کہ میں نے انگریز لڑکیوں سے یہ چمتکار سیکھا کہ آخری بات پہلے کرلو تو آئندہ تعلق کے تقاضے نبھانا آسان ہوتا ہے۔اسی لیے میں نے اس رات ا ستنبول میں Kafeka Nargile Cafe میں اس سے پوچھ لیا تھا کہ
Do you love me? Your answer ought to be just a No or Yes
قونیا میں بھی مجھے کچھ زیادہ مزا نہیں آیا ،مجھے مولانا روم اور اس طرح کے صوفیانہ سلسلوں کا کچھ پتہ نہیں۔مجھے لگا کہ ترکی معاشرت ایک شدید اندرونی خلفشار  میں مبتلا ء ہے۔ ایک زبان، مشترکہ ورثے، مذہبی ہم آہنگی نے معاشرے کو جوڑے رکھا ہے۔ اس شہر میں بوڑھی عورت نے حجاب اور جوان نے اسکرٹ پہن رکھا ہے۔یہاں کے باشندے اسے ایک جدید شہر بنانے پر تلے ہیں جب کہ  سیاحت سے ہونے والی آمدنی اسے اپنے قدیم فریم میں سینت کر رکھنا چاہتی ہے۔انسان خود تضاد اور انتشار کا شکار ہو تو اسے باہر کے تضادات لاکھ اجنبی اور افکار آشنا سہی پھر بھی بوجھ لگتے ہیں۔قونیا میں میری کیفیت بھی ایسی ہی تھی۔
کچھ اس میں میرے مزاج کی ماہانہ الجھن بھی آڑے آئی۔پہلا دن مجھ پر بلوغت کے ایام سے آج تک بھاری پڑتا ہے۔میں وہاں برمنگھم میں تو چپ چاپ ایک آدھ آئی بروفین درد کے لیے Beet, Strawberry, Cranberry کی Smoothie تھوڑی سی ووڈکا ملا کرپی لیتی تھی۔یہاں استنبول میں، میں نے صبح صبح اپنی درد کی گولی ہلکی نیند کی گولی Aleve PM ہاٹ چاکلیٹ کے ساتھ لے لی۔اس کی وجہ سے ریل کے ہلکورے اور اس کی قربت کی تحفظ آمیز حدت نے مجھے دھیمے دھیمے نیند کی بانہوں میں دھکیل دیا۔احتیاطاً میں نے اس کی انگلیوں میں انگلیاں پھنسا کر اس کابازو ایسے تھام لیا جیسے بچے بڑوں کی انگلی تھامتے ہیں۔

ہائی سپیڈ ٹرین

جانے کیا بات تھی کہ مجھے وہ بدن، اس دوری ،اس اجتناب کے باوجود وہ رفاقت اپنے وجود کا حصہ لگی ۔ہم عورتیں بھی عجب ہیں۔۔گڈی کی بھابی وہاں برمنگھم میں ماہر نفسیات ہے۔وہ کہتی تھی کہ مرد بہت جھلے کملے ہوتے ہیں وہ سمجھتے ہیں ایک تو عورتیں  صرف ایک مرد سے پیار کرسکتی ہیں۔ایسا نہیں،اظہار کی سہولت ہو تو اس تعداد میں اضافہ ہوجاتا ہے۔دوسرے ہم پر مذہب، دین کا  کوئی گہرا اثر نہیں ہوتا۔ یہ مردوں کے شوق ہیں۔ عورت تو بہت Biological Creature ہے۔اس کی ہر ضرورت بدن سے جڑی ہے۔دودھ پلانے والی راتوں کو بچے کے لیے بیدار ہونے والی مخلوق کیسے افکار کی دنیا میں رہ سکتی ہے۔یہ تو صرف جسمانی تقاضے ہیں۔وہ عورتیں جو افکار کی دنیا میں بہت اودھم مچاتی ہیں ان کی گھریلو اور نجی زندگی بہت غیر معمولی ہوتی ہے۔ وہ چاہے مصورہ فریدہ کولہو ہو، اداکارہ مدھوبالا، روحی بانو اور مارلن منرو ہوں،شاعرہ اور ادیبہ امرتا پریتم، قرۃالعین حیدر ہوں کس کس کا نام لوں۔

اسٹون پیلس ہوٹل کاپوڈوکیا
اسٹون پیلس ہوٹل کاپوڈوکیا
اسٹون پیلس ہوٹل کاپوڈوکیا
اسٹون پیلس ہوٹل کاپوڈوکیا
بید کا جھولا-ہیمک

ٹرین میں جب کچھ دیر کو کھانے پینے کا سلسلہ چلا اور فوڈ ٹرالی دھر ادھر ہوئی ،میں نے خوابیدہ آنکھوں سے نگاہ بھر بھر اسے دیکھا ۔حضرت خود کہیں کھڑکی سے باہر جھانکتے تھے۔ مجھے اس بات کا افسوس ہوا کہ کم بخت دو رات پہلے کہہ دیتے کہYes I love you. Neil ایسا کرتے تو ہوٹل میں اپنے کمرے  میں رات کو دروازہ کھول کر سونے کے لیے جاتے ہوئے میں اسے پیار کے پہلے بوسے سے قبول بھی کرلیتی۔شاید کچھ اور بے تکلفی کی اجازت بھی دے دیتی۔میں تو ایک بریک مانگ رہی تھی۔کون سا میں نے عدالت میں ان سے حلفیہ بیان لینا تھا۔اب خود ناسمجھ ہوں تو میں کیا کرتی۔آپ ہی کہیں ایک مر د کے لیے اس سے واضح اشارہ اور کیا ہوسکتا ہے کہ میرے جیسی کنواری کلی جس کا بھرپور وجود، ایام کے آغاز سے پہلے لذتِ  طلب سے دہکتا ہو، وہ ایک اصرار کے ساتھ خود ایک بے محاسبہ ماحول میں خود کو عاشق ِ بے دام کے حوالے کرنے کی آفر کرے۔ایک ایسے ماحول میں جہاں ہر قسم کی تحفظ بھری تنہائی بھی میسر ہو ۔وہ مرد بھی کس قدر فضول مرد ہے جو یہ جملہ سن کر   بھی کہ میں نہیں مانتی کہ ایک دلیر مرد ہے۔وہ ذمہ داریوں سے فرار کا متلاشی ہے۔ مٹی کا باوا بن جائے۔۔ مجھے یقین آگیا کہ پاکستان کی بیوروکریسی بھی سالی ایک ایسی بوڑھی گدھی ہے جس سے نہ ٹھیک سے وزن اٹھتا ہے نہ اس کی چال میں راستی ہے۔میں نے اس رات اپنی مایوسی پر گڈو ڈرپوک کو تو نہیں پاکستان کی بیوروکریسی کو گڈی والی ایڈی وڈی وڈی پنجابی گالیاں دیں جس میں پین دی سری بھی شامل تھی۔

سو چار گھنٹے کے سفر کے دوران بے چارے، میرے گڈو جان کو اتنی ہمت نہ ہوئی کہ مجھے بھی کہیں چھوتے۔ میں اگر شکر گزار روح ہوتی تو کہتی کہ بیوروکریسی بھلے سے بوڑھی گدھی سہی مگر مطلوبہ بوجھ چپ چاپ ڈھو لیتی ہے ۔ استنبول سے قونیا تکYüksek Hizli Tren, YHT ہائی اسپیڈ ٹرین میں اس کے کاندھے پر سر رکھ کر سونے والی کو جگا کر اپنے کندھے پر اس مسلسل بوجھ کے باوجود اس نے کوئی احتجاج نہ کیا۔ نہ ہی اس نے ٹرین کے بارے میں مجھے اس کے محاسن گنوائے کہ ترکی کی یہ ریل، مسلم دنیاکی سب سے تیز رفتار ٹرین ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اسے پتہ تھا کہ برطانیہ میں رہ کر مجھے Euro star high-speed Channel Trainمیں  سفر کا کئی دفعہ اتفاق ہوا ہوگا۔میری  عدم دل چسپی کی وجہ سے اور مجھے یوں اونگھتا سوتا دیکھ کر گفتگو کا سلسلہ بھی کچھ منقطع رہا۔

ہوٹل پہنچ کر لابی میں ہی میں نے جتا دیا کہ حضرت اگر مجھے Violate (جنسی دست درازی) کرنے کی کوشش نہ کریں تو بہتر ہوگا کہ دو علیحدہ بستروں والا ایک ہی کمرہ لے لیں۔حضرت کا احتجاج بہت مائلڈ سا تھا مگر اچھا لگا۔بہت شائستگی سے جتانے لگے کہ اس کا احساس اب تک تو آپ کو ہو ہی گیا ہوگا کہ میں اب تک آپ کے معیار کے حساب سے آپ کو برت رہا ہوں۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ آپ بہت Irresistible ہیں۔جس پر میں نے یہ سوچے سمجھے بغیر کہ یہ برطانیہ نہیں، انہیں یہ کہہ کر کہ وہ خود بھی بہت Adorable ہیں ،ماتھے پر ایک بوسہ دیا۔میں آپ کو جتا دوں اردو بہت شرمیلی زبان ہے، اس میں ہوتا تو سب کچھ ہے مگر بیان پر شرم اور نالائقی، کاہلی اور رائے عامہ کے خوف نے بہت گونگی زبان بنادیا ہے ،ورنہ جس زبان میں ماں بہن کی گالیاں موجود ہوں وہاں اور بھی بہت گنجائش نکلتی ہے سو انگریزی کے یہ تین الفاظ جو یہاں بیان ہوئے ہیں ان کا ترجمہ ان کیفیات کے قریب بھی نہیں پھٹکتا۔

کمرے میں پہنچ کر جب میں سیدھی بستر پر دراز ہوگئی تو گڈو نے میری اجڑی طبیعت کا احوال پوچھا۔میں نے بھی بتادیا کہCode Red ہے۔ حضرت کا موڈ تھا کہ وہاں ہوٹل میں چیک ان کرتے ہی باہر کہیں کچھ کافی وغیرہ پی کر مولانا روم کے مزار پر جاتے جو ہوٹل کے قریب سامنے ہی تھامگر جب میں نے کمر میں شدید درد کی شکایت کی تو ارسلان میاں نے کمر دبانے کی پیشکش کی۔

طفلِ خوابیدہ
کاپوڈوکیا
کاپوڈوکیا
سٹرابری سمودھی
جی چاہے تو شیشہ بن جا
کاپوڈوکیا گھڑ سواری
کاپوڈوکیر کا پونچو

مجھے یہ ایک اچھی پیشکش لگی۔اپنی کمر تک محدود رسائی دے کر میں اس کے ارادے بھی بھانپ سکتی تھی۔میں نے جب انہیں اس پُرسکون اور خوشگوار دباؤ کی نشیلی کیفیت میں آنکھیں بند کر کے پوچھا کہ کیا میرا اس حالت ِ ناپاکی میں مزار پر جانا درست ہوگا۔ ترنت جواب ملا کہ یہاں جو ہر قسم کی، چینی، گوری، جاپانی ہر جگہ کی ایلی میلی عورتیں آتی ہیں وہ کون سی پاک ہوتی ہوں گی۔گوریاں تو ٹوائلٹ میں پانی بھی استعمال نہیں کرتیں۔ان کی ناپاک آمد پر نہ کبھی ترکی نے اعتراض کیا ہے نہ مولانا رومی نے کبھی اپنی اس درگاہ نومیدی پر ان کی آمد کے موقع پر اس بے ہودہ غفلت و جسارت پر کسی قسم کے غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔وہ ایک صوفی شاعر ضرور ہیں۔ بڑے اہل رسائی بھی ہیں۔وہ اس فطری مجبوری اور سیاحت کے ٹائم ٹیبل والے تقاضوں کو بھی سمجھتے ہوں گے۔ باتوں کے اسی سحر میں مجھے اپنے پیٹ کے نیچے نرم تکیے کاجوابی دباؤ اپنی کاٹن کی نرم ٹی شرٹ اور کمر کے اوپر بہتے بہتے،سمٹتے،پھیلتے مردانہ ہاتھوں کا پھیلاؤ بہت انوکھا اور کیف آگیں لگا۔وہ خود بھی کہیں مجھے یا حضرت مولانا کے وہ اشعار اس کی توضیح کے ساتھ جھومتے گاتے دکھائی دیے کہ ع
باز آ، باز آ،ہر آن چہ ہستی۔۔۔۔۔۔۔آؤ اپنی ہستی کو بھول کر بار ہا چلے آؤ
گر کافر و گبر بت پرست باز آ۔۔۔۔۔مت سوچو کہ کافر ہو کہ بت پرست،چلے آؤ
ایں درگاہ ما درگہ نومیدی نیست۔۔ یہ میرا آستانہ،آستانہء ناامیدی نہیں
صد بار اگر توبہ شکستی باز آ۔۔۔۔۔۔وہ توبہ بھی جو تم ہزار بار توڑ چکے ہو اسے بھلا کر چلے آؤ۔
دوپہر تک ہم مزار وغیرہ سے فارغ ہوگئے اور اعلی الصبح کاپوڈکیا چل پڑے۔

اب آپ جو ہم دونوں کے بند کمرے کے تعلقات پر سی سی ٹی وی کیمرے والی نظریں گاڑے بیٹھے ہیں تو جان لیں۔ہم نے قونیا میں کھانا کھایا، ایک خوبصورت سے ٹریس والے ریستوراں پر بیٹھ کر شیشہ پیا۔کمرے میں باہر بالکونی میں مہربان ہوٹل والوں نے بید کا ایک جھولے جیسا ہیمک لٹکا دیا تھا سو میں تو اس میں جھولتی رہی،بہت ساری باتیں کیں۔
میں آپ کو بتاؤں وہ کیسا تھا۔بیورکریسی میں مکمل طور پر مِس فٹ، باہر کی کسی جامعہ میں پروفیسر لگنے کے لائق، کسی بین الاقوامی ادارے میں ترقیاتی کاموں کا سربراہ لگنے کا اہل،میرے بس میں ہوتا تو میں تو اسے اپنے ادارے میں ماڈل اسکاؤٹ، فیشن کی دنیا کے بڑے ایونٹس کا چیف بنا دیتی ۔رات جب وہ سوگیا تو میں بستر پر گالوں کے نیچے ایک اضافی تکیہ رکھ کر اونچا چہرہ کرکے اسے گھنٹوں دیکھا کی۔سوچا کی کہ کیا یہ قدرت کا کوئی بڑا فیصلہ ہے کہ ہم یوں ایک فلائٹ مس ہونے پر ایک کمرے میں لیٹے ہیں۔کیا میرے سرتاج سعید گیلانی کا یوں بزدلی سے الزام دے کر زندگی سے رخصت ہونا کوئی بڑا نقصان ہے یا قدرت کو زندگی کی اس ناخوشگوار شاہراہ پر ایک من پسندہم سفر کی رفاقت مجھے فراہم کرنا مطلوب و مقصود تھا۔عجب معصومیت سے سوتا تھا۔بچوں کی طرح ۔ایک وہ ہمارے سر کے سابقہ تاج سعید گیلانی بھی سوتے تھے،ماں کے پیٹ میں بچے کی طرح۔ گڈو کا سونا ایسا تھا جیسا کوئی بچہ کھیلتے کھیلتے سو گیا ہو۔ لبوں پرمسکراہٹ لیے،ادھ کھلی ہتھیلی میں کھلونا تھامے۔

انہی خیالوں میں جانے کب سوگئی، میری اس نیند میں عجب سکون تھا،نہ وہسکی کا نائٹ کیپ، نہ پین کلر، نہ کوئی Smoothie،نہ درد۔ایسے ہوتے ہیں مرد، اتنے نشہ آور، ایسے سرور بخش۔۔ دیر ہوئی کہ صبح کا کوئی پہر تھا جب مجھے بہت نرم سا ایک احساس ہوا انسانی جلد کا۔حضرت تیار، جینز، چیک کی شرٹ، جیکٹ جوتے موزے،شیو کیے جیل شیل لگا کر کھڑے تھے۔میرے گال پر انگلیوں کی پشت پر بالوں کے سہلانے سے گدگدی تو ہوئی مگر میں نیند کے بہانے آنکھ بند کیے پڑی رہی ۔وہ نیل نیل پکارا کیا۔جانو میرے من کے مندر میں اعلی الصبح بھگوان پوجا کی گھنٹیاں بجا کیں۔کچھ دیر بعد جب آنکھ کھولی تو وہ بے بی کہہ کر تیار ہونے کا کہہ رہا تھا۔صبح پانچ بجے تھے اور کاپوڈوکیا ہماری بس نے چھ بجے روانہ ہونا تھا۔
بس میں بیٹھے تو کچھ رات کا سرور، کچھ لمس کا غرور،میں پھر سوگئی۔وہی کاندھا،وہی خواب،بادلوں سے لدے پھندے شہر میں جب ہم پہنچے تو ہلکی بارش اور چھ بھری ہوئی بسوں سے اترے چینیوں نے پورا شہر سر پر  اٹھا رکھا تھا۔
کاپوڈوکیا،وسطی اناطولیہ کا ایک پہاڑی قصبہ ہے۔قدیم اور قدرے پُراسرار سا۔ایسا لگتا ہے کسی ایسی فلم کا سیٹ ہو جہاں خلائی مخلوق کا ڈیرا ہو۔پہاڑ کی چوٹیوں میں بنے گھر اور ہوٹل،اونچی نیچی بل کھاتی پگڈنڈیاں۔مجھے مناظر،شہر اور لوگ پہلی نظر میں اچھے برے لگتے ہیں۔یہ میرا Blink Decision فی الفور پلک جھپکتے کا فیصلہ ہوتا ہے۔زندگی چونکہ بہت Cushioned گدوں کے تحفظ میں گزری ہے۔فیصلے بھی محدود رہے، سر وجدان اچھے ضرور تھے دیگر استادوں سے مختلف،مگر مجھے بس اچھے لگے،سعید گیلانی، میرے میاں،نہ مجھے اچھے لگے نہ برے۔ گڈی میں مجھے ایک بڑی بہن،ایک دوست،ایک گرو نظر آئی۔ میرے جیسی خاندان  کی اکلوتی لڑکی کو، اس طرح کی دوست میں ماں سے لے کر ہر قسم کا روپ دکھائی دے جاتا ہے۔ایسی دوستیں میری کمزوری ہیں۔ وہاں اسلام آباد میں بھی میری ایک دوست گڈی جیسی ہے اس کو میں چھوٹم کہتی ہوں۔اس کا ذکر بعد میں۔۔۔

یہ ارسلان،یہ کیا بلا ہے؟یہ مجھے اتنا کیوں اچھا لگا کہ میں دوسری رات میں اس سے محبت کے ایسے کھلے اظہار پر اتر آئی کہ ہاں یا نہیں،سفید یا کالا، اعتراف کرو اور ابھی کرو۔
کاپو ڈوکیا بھی مجھے اچھا لگا۔۔وہاں قونیا والوں نے جو ہمارا ہوٹل کا کمرہ بک کیا ،وہ رسید پر تو جڑواں بستر کا تھا مگر آپ جانتے ہیں ہر جگہ یہ سیاحت سے وابستہ تاجر افراد لالچی، موقع  پرست اور بے اصولے ہوتے ہیں۔ وہاں ذرا کچھ اونچائی پر بنے اس ہوٹل میں انتظامیہ کا کہنا تھا کہ قونیا کے ہوٹل والوں نے صرف ایک جوڑے کے لیے بے حد آرام دہ Room with a view کی فرمائش کی تھی۔سو ہم نے پوری کردی ہے۔ہمارے باقی کمروں میں علیحدہ گدے بستر  ڈال کر ہم نے ان چینی خاندانوں کو جگہ دی ہے۔پتہ چلا کہ چین کے شہر کے شہر شایان کے بہت سے مسلمان پورے پورے گھرانوں سمیت یہاں آئے تھے۔
ہم کمرہ دیکھنے گئے۔سجاوٹ حسین،دہکتا ہوا آتشدان ،کشادہ بستر، بستر کے عین مقابل دونوں طرف دیوار پر بڑے آئینے ، تاکہ کوئی فریق لطف و کرم کے بے باک نظاروں سے محروم نہ رہے ۔گڈی ہوتی تو کہتیLevel playing field،مجھے اس کشادہ بستر پر کوئی اعتراض نہ تھا۔اب تک حضرت نے مجھے چھونے میں کسی غیر معمولی جسارت اور سبقت غیر مجازی کا مظاہرہ نہ کیا تھا۔

آج صبح گالوں کو چھوکر گڈو کا مجھے جگانا شاید اس لیے ہو کہ میں سوتے میں بقول گڈی کے بالکل کوئی مغرور شہزادی لگتی ہوں۔ وہ کہتی تھی وہ لڑکی جو مرد کے جذبات کو مستقل اشتعال دلائے اس کا انعام ریپ ہے۔ اسی کلیے کی روشنی میں گڈی جب خاص قسم کا لباس پہن کر باہر جاتی تو میں ہنستے ہوئے لازماً کہتی آج رات اس کے ساتھ کچھ ہو تو اس میں قصور مرد کا نہیں ہوگا۔آج صبح اگر گڈو نے مجھے چھوا تو میں نے یہ سوچ کر معاف کردیا کہ اب مرد کے صبر کی بھی تو ایک حد ہوتی ہے۔

میں نے کچھ دیر ہوٹل کے کاؤنٹر پر اس کے پہلو سے لگ کر اس کی الجھن کا لطف لے کر اور ہوٹل والے کے ان کے ہاں ٹھہرنے کے طویل فوائد کی فہرست سننے کے بعد اسی کمرے کی منظوری یہ کہہ کر دے دی کہ I give you little more chance to prove your self a gentleman
ہوٹل کا جونیئر منیجر ہمیں کمرے میں چھوڑ کر چلا گیا ۔اس کے جاتے ہی ارسلان پوچھنے لگا کہ میری شرافت کی گواہی اور ثبوت کون دے گا۔ میں نے جواب دیا کہ میں دوں گی مگر شرط یہ ہے کہ اگر کل کی طرح آج قونیا جیسی کمر دبادیں۔۔ اس فرمائش کی وجہ یہ تھی کہ حضرت نے وہیں کاؤنٹر پر پڑے ایک اشتہاری بروشر کو دیکھ کر شام کی ہارس رائیڈ بک کرالی تھی۔مجھے علم تھا کہ گھڑسواری
کے  بعد کمر کا کیا حال ہوگا۔ ارسلان نے اتنی عنایت ضرور کی کہ سواری کے لیے رقم کی ادائیگی کرتے وقت یہ پوچھ لیا کہ گھوڑے دو ہوں گے کہ ایک۔جب میں نے ایک کا کہا توجھٹ مان گئے۔ ہوٹل والوں نے بتایا کہ گھوڑے والوں کے ٹور کا آغاز اور اختتام سامنے والے میدان میں ہوتا ہے۔ یہ رہا ہمارا ٹوکن۔

ریستوراں
لامہاجون ترکش پیٹزا
دیسی بدیسی عشق
دیسی بدیسی عشق
کاپوڈوکیا کی گھڑسواری
کاپوڈوکیا کی گھڑسواری
کاپوڈوکیا کی گھڑسواری
شیان کا مسلم علاقہ
بوسہ ء حیات
بوسہ ء حیات
پگی بیک

اس کے جاتے ہی ارسلان پوچھنے لگا کہ میری شرافت کی گواہی اور ثبوت کون دے گا۔ میں نے جواب دیا کہ میں دوں گی مگر شرط یہ ہے کہ اگر کل کی طرح آج قونیا جیسی کمر دبادیں۔ اس فرمائش کی وجہ یہ تھی کہ حضرت نے وہیں کاؤنٹر پر پڑے ایک اشتہاری بروشر کو دیکھ کر شام کی ہارس رائیڈ بک کرالی تھی۔مجھے علم تھا کہ گھڑسواری کے  بعد کمر کا کیا حال ہوگا۔ ارسلان نے اتنی عنایت ضرور کی کہ سواری کے لیے رقم کی ادائیگی کرتے وقت یہ پوچھ لیا کہ گھوڑے دو ہوں گے کہ ایک۔جب میں نے ایک کا کہا توجھٹ مان گئے۔ ہوٹل والوں نے بتایا کہ گھوڑے والوں کے ٹور کا آغاز اور اختتام سامنے والے میدان میں ہوتا ہے۔ یہ رہا ہمارا ٹوکن۔

کمر کے مساج کے دوران ہی میں سوگئی۔مجھے لگا کہ وہ جھکا،مجھے دیکھا اور بغیر کچھ چومے چپ چاپ دروازہ بند کر باہر چلا گیا۔۔ممکن ہے حضرت کسی جائزہ مشن پر چل دیے ہوں۔لنچ کا وقت ہوا تو حضرت جگانے آگئے۔لنچ ہم نے میدان کے سامنے ایک چپ چپ سے گھریلو کیفے میں کھایا۔ ان کا پیٹزا جیسا لا مہاجون(Lahmacun) مجھے اچھا لگا۔شیشہ اور قہوہ بھی عمدہ تھا۔وہیں بیٹھے بیٹھے جب گھوڑے والوں کا گروپ جمع ہوگیا تو ہم بھی پہنچ گئے۔

اس بے چارے ارسلان سے جبراً اعتراف محبت کرانے کا سارا قصور ، اس گھوڑے والے کا ہے۔یوں یہ جبری اعتراف ہی ہماری زندگی کے اس intimate بندھن کا نقطہ آغاز ہے۔ہمارے ساتھ ٹور میں شامل امریکن جوڑا تو پکے پکے عاشق معشوق تھے۔ ہم دو تو صرف ہم وطن اور حالات کے ستائے مسافر تھے۔یہ بعد میں ہمیں ائیر پورٹ پر بھی مل گئے۔دیموسن جی بھارت کی ریاست منی پور کے تھے۔ امریکہ میں ریاضی کے استاد بیالس برس سے کیا کم ہوں گے مگر یوگا کے پالے ہوئے،بیتھ ان عمر میں بیس سال چھوٹی۔پہلے کبھی ان کی شاگرد تھی۔اب گرل فرینڈ۔پختہ کار بجٹ ٹریولر، سردیوں میں دنیا گھومتے تھے۔ گھوڑا اسٹینڈ کے قریب آتے ہی بیتھ اچھل کر آگے بیٹھ گئی۔ اور دیموسن جی نے باگیں اس کے حوالے کرکے اس کی کمر تھام لی اور اس کے اجلے سورج تمثال شانے پر بال دار ٹھوڑی رکھ کر بیٹھ گئے۔گھوڑے والا ہمارا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی سمجھا۔

میں نے یہ سوچ کر کہ شہر کی اونچی نیچی پگڈنڈیوں کی خیر ہے۔ان کو تو میں کسی طرح نبھالوں گی مگر یہ میرے علم میں نہ تھا کہ یہ کسی قسم  کی کوئی hiking mountain trail ہے۔اس میں نشیب و فراز کے سخت مقام بھی آئیں گے جو ہم کو آزمائیں گے۔ میرا ارادہ ورنہ اپنے بلندی کے خوف( Acrophobia ) کی وجہ سے شتر مرغ کی طرح منہ  ڈال کر گڈو کے پیچھے بیٹھنے کاتھا۔
جب کبھی مجھے اونچائی کا سامنا ہوتا ہے تو مجھ پر ایک panic attack ہوتا ہے ، فوراً ہی میرا دل دھڑکنے لگتا ہے، میری سانس بھی رک رک جاتی ہے۔میں نڈھال سی ہوجاتی ہوں تقریباً بے ہوش۔ہم عورتوں کے دماغ میں ایک عجیب خوبی یا خرابی ہوتی ہے کہ ہمیں ہر وہ بات فوراً یاد آجاتی ہے جو ہمارے تجربے سے گزری ہوتی ہے۔اس میں بالخصوص وہ باتیں شامل ہیں جو ایک جذباتی ردعمل کو جنم دیں۔یہ ایک طرح سے ہمارے دفاعی نظام کا لازمی جز ہے۔

میرے Acrophobia کی ابتدا اس وقت ہوئی جب ہم میری پھوپھی کے ساتھ پہلی دفعہ لاہور میں مینار پاکستان گئے۔میں چھ برس کی تھی اور بالکل نارمل۔ پھوپھی کی طبیعت میں ذرا چچھور پن اور بچپنا ہے۔جب میں نیچے دیکھ رہی تھی تو وہ کہیں چھپ گئی۔یہ میرے لیے بہت بھیانک تجربہ تھا۔میں نے چیخنا شروع کردیا۔میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ میں کیسے نیچے اتروں گی۔جب پھوپھا مجھے لے کر اتر رہے تھے مجھے وہی منظر یاد آرہا تھا۔

مجھے کئی دن بخار بھی رہا۔میں بعد میں دوستوں کے ساتھ کئی دفعہ ایسے مقامات پر گئی جو پہاڑی علاقے میں واقع ہیں ابو کی کشمیر کی پوسٹنگ میں ایسا کئی دفعہ اتفاق ہوا۔گڈی نے اور دیگر انگریز ساتھیوں نے اس بے جا خوف سے باہر آنے میں بڑی حد تک مدد کی۔ اب میرا یہ فوبیا بہت نارمل سا ہے۔ ہر چند کہ   اب بھی اس کی ایک شاخ   Bathmophobia  تک محدود ہے۔ Acrophobia کی یہ شاخ علالت کسی حد تک ڈھلوانوں پر چڑھنے اترنے کی حد تک محدود سا خوف ہے۔اس کے باوجود میں نے جو بتایا ہے کہ ایسے مقامات پر میرے دل دھڑکن کی غیر معمولی طور پر تیز ہوجاتی ہے، میری سانس بھی مدھم پڑجاتی ہے۔
وہاں بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔احتیاطًامیں نے کھانے کے دوران ایک Aleve PM کی گولی پھانک لی تھی مگر Nevsehir کا قصبہ جہاں ہمارا ہوٹل تھا، ہم جب اس مقام سے کچھ دور نکل آئے تو سامنے میلوں پھیلی وادی تھی۔ یہ ڈھلوان اور اونچائی دیکھ کر میری تو سانس ہی اکھڑ گئی۔میں مُڑی ۔۔ا س کے سینے میں سر چھپا کر اس قدر سختی سے اس کو بانہوں میں جکڑا کہ مجھے لگا اس بچارے کا دم ہی نکل جائے گا۔مجھے بس اتنا یاد ہے اس کے ہونٹ میرے ہونٹوں میں شاید یوں پیوست تھے کہ وہ بوسۂ حیات ( Mouth-to-mouth resuscitation ) دینے کی کوشش میں سانس انڈیل رہا تھا۔ میں اتنا سن پا رہی تھی ”نیل جان۔ اٹ۔ از۔ اوکے اور میری ہلکی ہلکی سی اوں کے علاوہ میری کائنات میں کوئی اور آواز نہ تھی۔میں حالانکہ اپنی نفسیاتی الجھن کا شکار تھی مگر ان ہونٹوں کا دباؤ، اس کی بانہوں کی جکڑ،وہ میرا پہلا بوسہ ایسا لگا کہ کب سے میری سانس رکی تھی، اس کی سانس ملی تو میری سانس آئی۔جب مجھے احساس ہوا کہ ڈھلوان کچھ کم ہوئی ہے اور گھوڑے کا توازن بحال ہوا ہے تو میں  نے آنکھ کھول کے اسے دیکھا تو بس اتنا سنا۔جان میری۔۔۔اس لذتِ  کیف آگیں میں میری اوں آں، میری بے ربط سسکیوں میں ہوٹل واپس جانے کی فرمائش ہوئی۔میں خود اپنی اس کیفیت سے واقف ہوں۔ میرے لیے اب مزید سفر جاری رکھنا مشکل تھا۔ہم نے اپنے گائیڈ کو ہمیں ہوٹل کے پاس واپس چھوڑنے کا کہا۔وہ بے چارہ سمجھدار نکلا۔ حضرت نے پانچ ڈالر کی ٹپ پیشگی دی تو اور بھی ملائم ہوگیا۔ ایک چبوترے کے بعد ہماری نشستیں آگے پیچھے کیں۔ہموار راستوں سے گھماتے ہوئے ہمیں ہمارے ہوٹل پر لا کر چھوڑ دیا۔

سلپ کا کیچ
سلپ کا کیچ
کاپوڈوکیر کا پونچو
چینی سیاح ترکی میں
چینی سیاح ترکی میں
چینی سیاح ترکی میں

میرے حواس اب بحال تھے پھر بھی ہوٹل میں کمرے تک پہنچنے کے لیے میں نے ایسی اداکاری کی کہ مجھے لابی سے حضرت کو کندھے پر لادنا پڑگیا۔ انگریزی میں اسے back۔ piggy کہتے ہیں یہ لفظ بات کو ذراکھول کر بیان کرتا ہے۔اسی بوجھل مسافت میں کانوں کے پاس میں نے بہت سرگوشی کے لہجے میں کہا Thanks for reviving me. I had nearly died. All has been so timely because of you.(مجھے دوبارہ زندگی بخشنے کا شکریہ۔ میں تو مر ہی چلی تھی۔آ پ کی ہر کوشش بہت بروقت تھی) کمرے میں پہنچ کر مجھے بہادر بننے کی سوجھی۔ہم عورتیں ایسی ہی ہوتی ہیں۔مجموعہء تضاد۔میں نے اسے کہا کہ وہ کمرے سے چلا جائے۔مجھے سونا ہے۔بے چارہ چپ چاپ باہر چلا گیا۔

بستر پر لیٹ کر میں نے سوچا تومجھے اپنے وہ الفاظ جو back۔ piggy کرتے ہوئے میں نے اس سے کہے تھے، اپنا پیچھا کرتے محسوس ہوئے۔ وہ کیا سمجھے گا۔اس نے اس ہارس رائیڈ سے ہٹ کر اشکی پول ائیرپورٹ پر ہماری اتفاقی ملاقات، میری طلاق، اس کی اتفاق سے بہم رفاقت،یہ بے پناہ تابعدارنہ التفات اور شاید آئندہ بھی اسے جڑے رہنے کے حوالے سے لگا لپٹا اصرار۔جانے وہ کیا سوچے گا۔سچ پوچھیے جتنا بڑا لوزر اور کمزور میں نے خود کو اس تنہائی میں محسوس کیا ،وہ بے پناہ تھا۔۔

دل چاہا کہ فوراً ہی Aleve PM کی چھ سات گولیاں پھانک کر ایک حالت وحشت و جرات کا لبادہ اوڑھ کر باہر نکل جاؤں۔ باہر جاکر اس گھوڑے والے کوڈھونڈوں اور اس کو کہوں پوری رات جب تک اس کا گھوڑا آگے قدم اٹھانے سے انکار نہ کرے مجھے وہ اونچی سے  اونچی پہاڑی پر لے جائے ۔ میرے اس Acrophobia کی، ا س گریڈ انیس کے سرکاری محمد بن قاسم کی جو فلائٹ کھونے کی وجہ  سے مجھے ملا ہے ایسی کم تیسی۔ میں اٹھتی بلندی، گرتی ڈھلوانوں ،کسی سے بھی نہیں ڈرتی۔میں اپنی مالک آپ ہوں۔

میں نے اپنے مرکز سے ہٹ کر جینے کی ٹھان لی ۔ خود کو یقین دلانے کے لیے میں نے زور سے کہا Neil Baby you can do it. یہ تو میں تھی، اپنے نسوانی غرور سمیت۔ارسلان کے تعاقب میں غزال شکوک و شبہات کو پہلے ہی شاٹ پر گھائل کرنے کے لیے میرا دل، گھات لگا کر دوربین چڑھی دور مار شکاری رائفل تھام کر بیٹھا تھا۔ یہ ہی دل ناداں مجھے کہہ رہا تھا دیکھ نیلو،ڈونٹ بی سلی۔کفران نعمت مت کر،سلپ کا کیچ ہے، بیٹسمن کی نہ سہی،تقدیر کی مہربانی سے تیرے پاس آیا ہے۔اسے مت ڈراپ کر، یہ کیچ، Game-Changer ہے،تیری محبت کی سی۔ پیک۔میں کتنی دیر بستر پر الٹتی پلٹتی کروٹ لیتی کوئی پینتالیس منٹ کے لیے بے خواب نیند سوگئی۔شاید وہ گولی جو گھڑسواری کے وقت کھائی تھی اس کا غلبہ اب بستر کی تنہا آسودہ گرماہٹ اور اس بوسہء حیات کی نرم جاں آفریں لذت آگیں دباؤ کو یاد کرتے میں ہوا۔پہلی دفعہ اپنے Acrophobia پر پیار آیا۔ بہت پیار۔ اچھا تو وہ تعارف کے بعد ہی لگا تھا مگر اس کی گھبراہٹ اور مجھے زندہ رکھنے کی کاوش سے ایسا لگا کہ اس ایک بوسے سے وہ میرے اندر سما گیا۔

بیدار ہوئی تو بہت شدید بھوک لگی تھی۔سوچا حضرت کی خبر لوں۔کیا پتہ کسی چینی دوشیزہ پر ڈورے ڈال رہے ہوں۔ اگلی باری پھر زرداری کے چکر میں۔شاور لے، بال کھول، اپنا بوہو۔کروشیے والا پونچو ٹوپی کے ساتھ پہن کر کمرے سے باہر آئی تو یہ سوچ کرکہ اب تک اگر کسی چینی دوشیزہ کو حضرت جی اچھے لگے ہوں تو وہ مجھے دیکھتے ہی میدان چھوڑ دے گی۔ اسی تگ و دو میں یہ بھی خیال آیا کہ یہ میں اتنی ملکیت زدہ کیوں ہوگئی ہوں۔جیسے وہ صرف میرا ہے۔اس نے اب تک مجھے آئی لو یو بھی نہیں کہا۔ حضرت شیشے کی دھونی رمائے۔ قہوے کی پیالیاں سجائے پورا چھ افراد پر مشتمل ایک چینی گھرانہ، گود لیے بیٹھے تھے۔ایک بڑے میاں ان کی قدرے کم عمر بیوی، یہ ایک جوڑا تھے ۔بیوی ہی جتنی عمر کی ان کی اپنی بڑی بیٹی اور اس کے گود میں ایک منہ  بسورتا بچہ پانچواں، ایک مرد جو وقتاً فوقتاً اپنی ٹوپی سیدھی کرتے کرتے حضرت کے شیشے سے کش کھینچ لیتا تھا۔ چھٹی ایک بڑی بی بی جس سے یہ ہنس ہنس کر باتیں کرتے تھے۔ یہ چھوڑتا تو وہ نے دانت میں اڑس لیتی تھی۔

یہ منظر میں نے کھڑکی سے دیکھا۔ ان کی آپس کی رشتہ داریوں کی تفصیلات ان کے ساتھ نشست جمانے پر ملیں۔  جب میں میز کے پاس پہنچی تو گڈو جی مجھے دیکھتے ہی کھڑے ہوگئے ان کی دیکھا دیکھی باقی دو چینی مرد بھی مجبوراً کھڑے ہوگئے۔ یہ سب مجھے اتنا اچھا لگا کہ اس نے میرا دل جیت لیا۔ایسے ہوتا ہے عورت کا احترام۔بڑی بی زیادہ اتاولی تھیں۔ انگریزی بھی وہی بولتی تھیں۔ان کا نام تھا ستی (لیڈی)کاشی زمانہء قدیم میں ملائشیا سے بیاہ کر چین آئی تھیں ۔ یہ بزرگ بی بی اس کم عمر مرد کی ساس تھیں۔ان کی اپنی بیٹی کسی کانفرنس میں اپنی کمپنی کی نمائندگی کرنے دوبئی گئی تھی۔ داماد پہلے آگئے تھے ۔ اپنے ابو اور سوتیلی امی کے ساتھ۔ بیٹی خدیجہ نے وہاں سے آنا تھا۔مجھے دیکھ کر گڈو کو کہنے لگیں:
یور وائف۔۔۔۔اس سوال کو سن کر گڈو کا چہرہ فق ہوگیا۔ جیسے

ع کیا کہے حال دل، غریب جگر۔ؔ۔۔

میں نے بات کو مختصر کرنے کے لیے اپنی ہنسی ضبط کرتے ہوٗئے زور سے ”یس“ کہا
انہیں میرے ڈھیلے ڈھالے پونچو کو دیکھ کر میرے حاملہ ہونے کا خیال آیا تو انگریزی پوچھنے لگیں۔
”پریگنینٹ“؟ (حاملہ ہو؟)
میں نے گڈو کی بے بسی کا لطف لینے کے لیے کہا۔
”یس تھرڈ منتھ“(جی ہاں تیسرا مہینہ ہے)
”بوائے،گرل“؟ ہم عورتیں  بغیر فل اسٹاپ اور کوما کے ایک دوسرے کی باتیں خوب سمجھتی ہیں۔ان کا اشارہ تھا کہ بیٹے کی آرزو ہے کہ بیٹی کی۔؟
میں نے بھی گڈو کی طرف اشارہ کرکے کہا ”بوائے“
”لائک فادر“؟۔۔۔(باپ جیسا) یہ ان کا گڈو کی جانب دیکھتے ہوئے تجسس بھرا سوال تھا۔
”یس بٹ مور بریو“(جی ہاں مگر زیادہ دلیر)
بڑی بی کے لیے ذرا حیرت کی بات تھی تو پوچھ بیٹھیں”کیوں؟“
تقریباً روہانسی ہوکر میں نے انگریزی میں کہا کہ”یہ مجھے کبھی آئی لو یو“نہیں کہتا۔
وہ اپنے بیٹے کی طرف جس نے اب ارسلان کے شیشے کی نے   اپنی طرف سرکالی تھی اس لیے کہ وہ جان گیا اس کی نگاہوں کی بے تکان بارش کو میں نے نوٹ کرلیا ہے اور وہ مجھے تاڑ رہا ہے۔ خاموشی اشارہ  کرکے کہنے لگی His father never say me now۔ ا(اس کے والد صاحب نے مجھے آج تک نہیں کہا)۔وہ شاید اپنی کسی مصروفیت کی وجہ سے اس گروپ میں  شامل نہ تھے۔

اسی اثنا میں عشا کی اذان کی آواز  فضا میں بلند ہوئی تو بڑی بی نے ہات ڈال کر دس ڈالر کا نوٹ اور ایک پنی میں لپٹی نئیء نویلی تسبیح اپنے بڑے سے پرس میں ڈھونڈ کر نکالی اور دعا کے لیے ہاتھ اٹھالیے،میں نے دوسروں کی دیکھا دیکھی ایسا ہی کیا۔شاید قبولِ  دعا کی گھڑی تھی۔وہ اٹھتے ہوئے کہنے لگیں فور یور سن۔ دعا کے ساتھ ہی انہوں نے دس ڈالر اور تسبیح بھی پکڑادی
میں نے دس ڈالر تو شکریے سے لے لیے مگر تسبیح کی طرف اشارہ کرکے کہا ”یہ باپ کو دیں، بہت بُرا آدمی ہے“۔وہ تو حضرت کی بڑی خالہ بنی بیٹھی تھیں۔مجال ہے جو ارسلان کے خلاف کچھ سننے کو تیار ہوں۔کہنے لگیں ”اچھا ہے تمہارے جیسی عورت کے پیٹ میں اس کا بیٹا ہے۔ ویری نوبل،ویری ڈیسنٹ“۔

مجھے لگا کہ میری اس گفتگو سے گڈو کے تو اوسان ہی خطا ہوگئے تھے۔ وہ چلے گئے تب بھی حضرت چپ چپ تھے۔بس مجھے حیرت سے تکے جاتے تھے۔مجھے یہ سب اچھا لگ رہا تھا۔ میں اپنی اس گھڑسواری والی بزدلی پر پردہ ڈالنے کے لیے بالکل ہی دوسری انتہا پر پہنچی ہوئی تھی۔ایک ہلکا سا جھٹکا یہ کہہ کر اور دیا۔ ” Are You?”
ایک عجیب سی  بے بسی کی کیفیت چہرے پرطاری کرکے پوچھ بیٹھے ” What father?“
میں نے بھی اس کا لطف لیتے ہوئے کہا”نو ویری نوبل،ویری ڈیسنٹ“۔
اس سے پہلے کہ حضرت کا جواب آتا میں نے فرمائش کی کہ مجھے کسی اور ہوٹل میں لے جاکر کھانا کھلاؤ اور ایک آدھ جام بھی
پلاؤ۔

تسبیح

نوی شہر میں چل پہل تھی ایک جگہ کسی گلی میں گھومتے گھماتے پہنچے تو Topdeck Cave Restaurant (Göreme) نظر آگیا۔وہاں اتفاق سے ایک ٹیبل خالی تھی۔ کھانا تو اچھا تھا سروس بُری۔ یہ ہوٹل والے کمینے ہوتے ہیں۔ ایک دو افراد کا بل چھوٹا ہوتا ہے لہذا دل سے سروس نہیں کرتے۔انہیں فیملی اور گروپ پسند ہوتے ہیں۔ مشرقی ممالک میں یہ بگاڑ بہت عام ہے۔کچھ دیر میں  ہم   کھانا کھانے کے بعد اپنے کمرے میں آگئے۔کمرے میں پہنچ کر مجھے اسے تنگ کرنے کی سوجھی تو میں نے لہجہ بدل کر کہا ”گڈو یور وائف“۔۔۔
”یس“
”پریگنینٹ“؟ (حاملہ ہو؟)
”یس تھرڈ منتھ“
”بوائے،گرل“؟ ؟
”بوائے“
”لائک فادر“؟۔۔۔”یس بٹ مور بریو“

دبئی ائیر پورٹ
قونیا ائیر پورٹ

مکالمہ یہاں رُکا پھر کیا تھا۔۔ حضرت اپنی خفت اور جھینپ مٹانے کے لیے مجھے بانہوں میں سمیٹنے کے لیے آگے بڑھے تو میں نے گنگنا کر یوں ٹالا کہ نہ نہ موسیو۔۔اتنا سمپل نہیں۔اور تیزی سے باتھ روم کی طرف بڑھ گئی۔عجب عالم تھا۔۔بہت دیر تک ہنسی، کچھ دیر روئی بھی۔ خود پر نگاہ ڈالی، عریانگی فتنہ خیز، سینہ مغرور ،تناؤ بھرا، پیٹ بھی آئینہ تھا، کمر کی دونوں محرابیں اندر کٹ کر ناف کی طرف بڑھنے کو بے تاب مگردل خالی تھا۔ ایسا لگا کہ میرے بیٹے کو دنیا میں آنے کی اپنے باپ کی طرح جلدی نہ تھی۔

شب خوابی کے لیے اپنا پاجامہ سوٹ پہن کر باہر آئی تو حضرت نماز پڑھ رہے تھے، میں بستر پر دراز ہوگئی ،احتیاطاً درمیان میں ایک تکیہ رکھ لیا۔ کمرے کی روشنی کا پوچھا۔میرے بارے میں پوچھ رہے تھے کہ یہ بلندی کا خوف کیسے لاحق ہوا۔دل میں آیا کہ کہہ دوں میں آج جتنی جلدی اس خوف سے باہر آئی ہوں۔وہ شاید اس کی رفاقت کا اثر تھا ۔ یہ کہتے کہتے اس لیے رک گئی کہ انہیں غیر ضروری اہمیت دینا مجھے خوف میں مبتلا کررہا تھا۔ میرا ایسا کوئی موڈ نہ تھا کہ میں یہ بڑھاوا انہیں بن طلب دوں۔چند لمحوں بعد دیکھا تو حضرت سو چکے تھے۔میری “H” is for Hawk والی کتاب کے چند ابواب باقی تھے۔باتھ روم سے واپس آن کر پردوں کو ٹھیک سے کھینچا اور لیٹ کر بہت آہستگی سے اپنی نیند کی گولی پھانکی اور تکیہ ایک طرف کردیا۔صبح میری آنکھ کھلی تو کچھ شرمندگی تھی کہ پوری ایک ٹانگ اور ایک بازو گڈو کی کمر پر تھا۔اس بوجھ کو ایک طرف کیا تو کہنے لگے کہ آپ بہت گہری نیند سورہی تھیں۔میں جاگ تو فجر سے گیا تھا۔

مرد کی ذہانت اور رکھ رکھاؤ کا کمال یہ ہے کہ وہ اپنی برتری کا احساس دلا کر عورت کا پیچھا نہ کرے۔اس معاملے میں ستی کاشی کی بات ٹھیک تھی۔ارسلان ذہین تھے، پر وقار بھی۔ میں چاہوں تو اس تعریف کو ڈیسنٹ اور نوبل کے بڑے اسٹور کی آرائشی کھڑکیوں میں موم بتیاں جلا کر نمائش کے لیے سجا سکتی ہوں۔
مدتیں ہوگئیں رفیقو گھر چلو۔۔۔۔۔

ہم دونوں کا وقت مقررہ پر کونیا سے اور استنبول سے واپسی کا سفر بہت معمول کا تھا۔ دوبئی تین گھنٹے کے اسٹاپ اوور کے بعد واپسی کی فلائیٹ میں سوار ہونے سے پہلے حضرت نے جانے اس بورڈنگ پاس جاری کرنے  والی سیاہ فام خاتون کو کیا کہا کہ اس نے ہمارے استنبول ایر پورٹ پر جاری کردہ بورڈنگ پاس ساتھ کھڑے ہوئے ایک جوڑے سے بدل دیے۔ہماری سیٹ اب عقب میں تھی جہاں لوگوں کی آوک جاوک بہت کم تھی۔ذرا ہٹ کے کچن تھا اور عقب میں ایک باتھ روم۔فلائیٹوں کی کثرت کی وجہ سے پاکستان کے لیے یہ فلائیٹ یوں بھی کچھ سوئی سوئی سی تھی۔
مجھے پہلی دفعہ لگا کہ وہ اگلا موڑ جدائی کا اسے آنا ہے وہ تو آئے گا۔گڈو بھی اداس تھا۔یہ میں نے نوٹ بھی کیا اور اس کی آنکھوں میں پڑھ بھی لیا۔استنبول پہنچ کر میں نے ابو کو بتادیا تھا کہ میں کس ائیرلائن کی کس فلائٹ سے اسلام آباد پہنچ رہی ہوں۔ ہماری آمد کا وقت صبح نو بجے تھا۔جب ہماری فلائیٹ کے ٹچ ڈاؤن میں پورے پندرہ منٹ باقی تھے حضرت نے وہاں کچن میں جاکر پرسر کو جانے کیا کہا کہ وہ ہماری سیٹ کے پاس آن کر پشت کرکے یوں کھڑا ہوگیا کہ جیسے سامنے اوپر کی ریک میں سامان درست کررہا ہو۔اب میں اس کی جسارت اور اپنی اس بے محابہ سپردگی کا سوچوں تو حیرت ہوتی ہے۔
جب وہ ڈیل ڈول کا بھاری پرسر، قدم جماکر ہماری طرف پشت کرکے کھڑا ہوگیا ان لمحات میں نشستوں پر تشریف رکھنے کی اعلان والی بتیاں روشن ہوچکی تھیں۔ جس کی وجہ سے مسافروں کی آمدو رفت موقوف ہوچلی تھی۔ گڈو نے بہت پیار سے  نیل کہہ کر پکارا اور میرا چہرہ تھام کرا ٓئی لو یو کہا اس کے ساتھ ہی میرے ہونٹوں پر یوں ہونٹ رکھے کہ میں دھوپ میں رکھی آئس کریم کی مانند پگھل گئی مجھے بانہوں میں بھر بھر گلے لگایا۔ مجھے ان لمحات میں اس کا کہا اور اپنا کہا سب یاد ہے۔اس نے کہا
Be mine (میری بن جاؤ)
اور میں نے کہا All your’s and always (مکمل اور ہمیشہ کے لیے)
اس نے کہا Never leave me (مجھ سے جدا مت ہونا)
اور میں نے کہا( Never till we are alive جب تک زندہ ہوں تمہاری رہوں گی)
میرا حاصل مسافت یہ ہی بوسے، یہ ہی ہم آغوشی تھی۔مجھے اپنی پیاس کا اندازہ ہے۔آپ نے اس پہلے گھونٹ کی لذت محسوس کی ہے جو گرمیوں کے روزے میں حلق اور روح کو شاداب کرتی ہے۔یہ وہ عالم تھا۔۔۔
ٹچ ڈاؤن سے ٹیکسی اور جہاز کے واک وے برج سے لگنے تک اس بندھن کو کس کر باندھنے کے لیے گڈو نے اپنے ہاتھ سے گھڑی اتاری اور میرے ہاتھ میں یہ کہہ کرپہنا دی کہ انگوٹھی موقع  ملتے ہی پہناؤں گا۔ گھٹنوں پر بیٹھ کر تمہارا ہاتھ مانگ کر۔جب تم اس بوجھ سے نجات پالو گی جو اس وقت طلاق کی صورت میں تمہارے کاندھوں پر موجود ہے۔ تمہاری طلاق اور ہماری شادی ایک دن ہوگی۔تب تک میرا اور تمہارا دل ساتھ دھڑکے گا۔ مجھے عجب تہی دامنی کا احساس ہوا کہ میرے پرس میں ایسا کچھ نہ تھا۔کچھ جولری کے آئٹم جو اس کے کسی کام کے نہ تھے ،دوائیں۔ جب میں نے اس محرومی کا ذکر کیا تو چپ ہوگیا۔ اس بوسے کے بعد ہم نے سلیفی لی اور کہا کہ یہ ہمارا ساتھ ہے۔ ترکی میں ہم نے کئی تصاویر کھینچی تھیں۔ ان سب میں ایک اہتمام یہ رکھا گیا تھا کہ ہم کہیں ساتھ ساتھ نہ ہوں۔جب ہم سامان لے کر باہر نکل رہے  تھے تو ایک ستون کی آڑ میں مجھے گلے لگا کر شریر کہیں کا کہنے لگا
Take care of my son(میرے بیٹے کا خیال رکھنا)
میں کہاں کی پیچھے رہنے والی تھی پیٹ پر ہاتھوں کی محراب بنا کر ترنت جواب دیا:
He is with his mom. So you never ever worry about him.
(ارے وہ تو اپنی ماں کے پاس ہی ہے اس کے بارے میں فکر کرنا چھوڑ دو)
Don’t run after roosters I am always there to chase
۔(تعاقب کرنے کے لیے میں موجود ہوں سومرغوں کے پیچھے بھاگنا چھوڑ دو)
You are my morning prayer answered. You are not my chase
(ارے تم تو میری قبول کردہ دعائے سحر ہو۔تم میرا تعاقب نہیں )
اس ایک جواب کو سن کر میری آنکھیں بھر آئیں ۔ہم ایک ستون کے پیچھے ہوگئے کہ باہر اگر شیشوں کے پار سے ابو دیکھ رہے ہوں۔ میں پاس رکھی کرسی پر بیٹھ گئی اسی اشک باری میں ہچکیاں لیتے ہوئے میں نے جتایا کہ ”مجھے اس سے  بہت پیار ہے ۔مجھے نہیں معلوم ائیر پورٹ سے باہر میرے لیے قدرت نے کیا پروگرام ترتیب دیا ہے۔ وہ میری کسی تاخیر کو بے اعتنائی نہ سمجھے۔میں صرف اس کی ہوں۔ وجدان کا ادھورا تعلق کچرے میں پھینک کر اسے جتایا کہ سعید میری مجبوری تھا ۔وہ میرا پہلا پیار ہے۔ عورت ایک دفعہ پیار کرتی ہے۔
میری آنکھوں سے بہنے والے اشکوں کو اس نے انگلی سے گال پر پھیلا کر چوما تو میں نے بھی اس کی انہی  ا نگلیوں کو چوما۔
حفظ ماتقدم کے طور پر ہم نے فیصلہ کیا کہ خوش آمدید کرنے والوں سے بے ربط،پیچیدہ، عجلت بھرے تعارف سے بہتر ہے کہ ہم اجنبی بن کر نکلیں۔ارے ہاں میں نے اس سے جہاز کی رن وے پر ٹیکسی کے دوران یہ بھی پوچھ لیا تھا کہ اس نے ایک تو دوبئی ائیرپورٹ پر بورڈنگ پاس   جاری کرنے والی کو کیا کہا کہ نشست فوری تبدیل ہوگئی۔ دوسرے پرسر کو بھی اس نے کیا کہا کہ وہ بھی سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر دیگر مسافران کے سامنے کھڑا ہوگیا۔
شیطان کہیں کا کہ کہنے لگا کہ میں دوبئی ایرپورٹ پر بہت غمگین دکھائی دے رہی تھی۔قدرے نڈھال  بھی۔۔سو میں نے اس کلرک کو کہا کہ میری بیوی حاملہ ہے اور اس کا ٹوائلٹ کے قریب بیٹھنا لازم ہے۔
میں نے ایک ہلکی سی معشوقانہ دھپ رسید کی اور لگے ہاتھوں پرسر والے چمتکار کا بھی پوچھ لیا تو کہنے لگا جب آپ باتھ روم سے چادر اوڑھ کر برآمد ہورہی تھیں وہ آپ کو بہت غور سے تاڑ رہا تھا میں سمجھ گیا کہ مغربی لباس میں ملبوس ایک لڑکی کا یہ نیا روپ بہروپ اسے حیران کرگیا ہے۔میں نے اس سے درخواست کی کہ میری چھ ماہ بعد شادی ہے اور میری منگیتر گاؤں چلی جائے گی۔اب جو ملاقات ہوگی تو شادی کا دن ہوگا۔ کچھ دیر سے وہ بہت upset ہے اگر وہ شیلڈ کرے تو وہ اسے گلے لگا کر کچھ یقین دہانیاں اور وعدے وعید کرسکتا ہے۔

سچ بتائیے میں جو خود کو سعید والی بدمزگی سے اتنا جلدی آزاد کرنے میں کامیاب ہوئی تو اس کا کریڈٹ تو اس دل چسپ، ذہین، تندرست، کامیاب اور چھیل چھبیلے مرد کو ہی جاتا ہے نا۔میری جگہ اگر آپ ہوتیں تو کیا کرتیں۔

ہم بین الاقوامی آمد والی لاؤنج سے باہر نکلے تو میرے خیر مقدم کے لیے آنے والوں میں ابو،سوتیلی امی طاہرہ کا موجود ہونا عین معمول کی بات تھی مگر پھوپھو شہلا اور مجھ سے پورے تین سال چھوٹے ان کے بیٹے شارق کی موجودگی۔ یہ بات مجھے ذرا انہونی سی بات لگی۔ پھوپھو، لاہور میں رہتی ہیں۔ شارق کو گھر میں شوکی کہا جاتا ہے۔ہمیشہ کاNerd ۔ ابو کی یہ بہن یعنی میری شہلا پھوپھو بہت manipulative ہیں۔دادا کی ٹھڈا ٹھم والی خاصی زمین انہوں نے اپنی جواں سال بیوگی اور دو بیٹوں کا رونا رو رو کر اپنے نام کرالی۔امی سے ان کی بالکل نہیں بنتی تھی۔تنگ بھی بہت کیا۔ابو کی کشمیر پوسٹنگ میں ہمارے کہروڑ پکا کے گھر آن کر ڈیرے ڈال لیے تھے۔ جواز یہ تھا کہ میرے والد کا مکان ہے ۔سارا خرچہ ابو اٹھاتے تھے۔ لاہور میں اپنے گھر کا کرایہ پر چڑھا رکھا تھا۔ امی کہتی تھیں جوانی میں بھی جامے میں سمائے نہیں سماتی تھیں۔ اپنے اسکول کی وین والے ڈرائیور سے پندرہ سال کی عمر میں عشق لڑابیٹھی تھیں۔دو ہفتے گھر سے بھاگی رہیں ۔واپس آئیں تو حاملہ تھیں۔بمشکل کسی رشتے دار کو گھیر کر شادی کی گئی۔بڑا بیٹا طارق جسے یہ پیار سے طوقی کہتی تھیں وہ ان کا Love- Child تھا۔وہ ہی ان کی زمین داری سنبھالتا ہے۔شوکی کے ابو کالج کے استاد تھے۔اسی لیے وہ کچھ Nerdy ہے۔ان سے شادی بھی زیادہ دیر نہ چلی وہ بس کے حادثے میں جاں بحق ہوگئے۔میری مرحوم والدہ کہتی تھیں ایسی عورت کے ساتھ جینے سے مرد کا مرجانا بہتر ہے۔اللہ نے یہاں اس کی مشکل آسان کی تو وہاں کوئی بہت کلاسی حور مل جائے گی۔

ملائی والے گلاب جامن

دادا والی زمینیں تو ابو نے واپس لے لیں مگر اس کے عوض انہیں اس سے اچھی اور قیمتی زمین کراچی والے پیسوں سے خرید کر جلہ آرائیں میں Trade- off یعنی بدلے میں دے دی۔ میں نے امی سے اس ڈبل بے ایمانی پر اعتراض کیا تو کہنے لگیں سرکار کی نگاہوں سے بچنے کے لیے یہ الٹ پھیر ضروری ہوتا ہے۔ابو نے مارشل لاء کی کراچی کی ڈیوٹی میں جو مال بنایا تھا اس کی گھر تک آمد کے قدموں کے نشان چھپانے کے لیے یہ ہیر پھیر لازم تھا۔

ائیرپورٹ سے باہر آن کر پھوپھی کی نگاہوں میں مجھے دیکھتے وقت ناپ تول کا اعشاری نظام Decimal System بھی میری سمجھ  میں نہ آیا۔شوکی کا اجتناب بھی ذرا انہونا ہی لگا۔پہلے تو جب کبھی بھی ملتا آپی آپی کہہ کر گلے لگ جاتا تھا۔اب رسماً ہاتھ ملا کر ،ایک مفاہمت بھری بے اعتنائی سے کار میں سامان رکھوانے میں لگ گیا۔میں بھی دیکھنے میں لگ گئی کہ ارسلان کو لینے کون آیا ہے۔ایک مرد تھا ۔اس کے ساتھ ایک عبایا اورحجاب والی عورت،قدرے جواں بدن اور رسماتی ملائی والے گلاب جامن جیسی، مرد کی محبوبہ ،بدن عبایا سے بغاوت پر آمادہ۔ مگر اس کی لباس اور ہچکچاہٹ سے یہ باور کرنا مشکل تھا کہ یہ اوشا ہوگی۔مجھے لگا کہ شاید دفتر کی کوئی اور عورت یا کوئی سیکرٹری قسم کی ماتحت ہوگی۔

گڈو میاں جم کر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے اور ائیر پورٹ سے باہر رواں  دواں، بھاگتے بھوت جیسی عجلت پسند ٹرانسپورٹ کے جلو میں کھسک لیے۔پھوپھو کی مرضی تھی کہ ہم سیدھے شوکی کی گاڑی میں سوار ان کے گھر لاہور چلیں۔ ایک دو دن میں ان کے پاس ٹھہروں،کچھ زیور وغیرہ دیکھ لوں، شاپنگ ہوجائے ۔یہاں وہ انکل حامد خواجہ کے گھر ابو کے ساتھ ٹھہری تھیں۔۔

فئیونا جیسی

انکل حامد کا ڈیفنس سپلائز اور تعمیرات کا بڑا کام ہے۔ابونے بتایا کہ انہیں کسی کمیونسٹ ملک کی سفارت کار فئیونا سے عشق ہوگیا تھا۔ہماری ایجنسیوں والے کہتے تھے حسینہ چالباز کو پٹو ڈال کر رکھو۔ اس سے راز لو۔حسینہ کے ملک والے بھی شاید ہمارے طرف جیسے ہی عزائم رکھتے ہوں گے۔حامد انکل کی فوجی حلقوں میں بہت رسائی تھی۔ابو کہتے ہیں دیکھنے میں تو فیونا کوئی بہت زیادہ حسین نہیں تھی مگر ذہانت بلا کی اور مزاج بہت شانت تھا۔جانے کیا غلطی کربیٹھی کہ راتوں رات اس کے ملک والوں نے واپس بلالیا۔حامد انکل نے وہاں جاکر اس سے ملنے کی بہت کوشش کی مگر ویزہ نہ ملا۔دل ٹوٹ گیا تو شادی نہیں کی۔پیسہ بہت کمایا۔جنرل ضیا کا مارشل والا دور ابو اور انکل حامد خواجہ کے لیے اکبر اعظم کا سنہری دور تھا۔

حامد انکل تو امریکہ تھے مگر ان کی گاڑی اور گھر ہماری تحویل میں۔۔ میرا دل چاہا کہ ابو امی مجھے کچھ دن یہاں چھوڑ کر واپس کہروڑ پکا چلے جائیں۔میں اس شہر کی ہواؤں میں سانس لینا چاہتی تھی۔ یہاں میرا ارسلان رہتا ہے۔اس تعلق کے حوالے سے کچھ دور رس فیصلے کرنا چاہتی تھی۔اپنی شادی کا  باب بھی طلاق کا قفل لگا کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے  یہیں بند کرنا چاہتی تھی۔آؤٹ آف کورٹ۔میرے سامان اور زیور میں سعید کو اگر کسی شے کی ضرورت تھی تو رکھ لے، اپنا دیا کچھ واپس درکار ہے تو وہ بھی لے لے۔میری جان چھوڑے۔مجھے میرا ارسلان مل گیا ہے۔میرے ابو بوڑھے ہوگئے ہیں۔میں اب ان کا سہارا بننا چاہتی ہوں۔

طاہرہ آنٹی نے شہلا پھو پھو جب اپنے کمرے میں چلی گئیں اور ابو ذرا ادھر اُدھر ہوئے تو تین دھماکے ایک ساتھ کیے۔ پہلا تو یہ کہ ابو کی طبیعت خراب رہتی ہے۔ دکھائی دے رہا تھا کہ وزن بھی بڑھ گیا تھا۔حلیے مہرے سے بھی ایسے ہوگئے تھے جیسے کہ اکبری منڈی کا کوئی دکاندار۔ ریٹائرڈ کرنل ظہیر تو لگتے ہی نہ تھے۔ افسری کے دنوں میں تو بہت dapper (چھیل چھبیلے) لگتے تھے۔ پہلا دھماکہ تو یہ تھا کہ انہیں دل کا عارضہ بھی لاحق ہوچلا تھا، دو عددstent بھی دل کی شریانوں میں ڈال دیے گئے تھے ۔کچھ دن ہسپتال میں بھی رہے تھے۔ یہ سب مجھے برمنگھم میں نہیں بتایا گیا۔ تین سال کے بعد کی ملاقات میں بھی وہ مجھے پہلی ہی نظر میں چپ چپ سے،بے لطف و بے کرم لگے۔کسی درجہ لاتعلق بھی ۔میں چونکہ گڈو کے اقرار و بوسوں کی لطافت سے, اس کی شرارت اور وعدوں کی لذت سے شرابور و سرشار تھی لہذا اس بے کیفی اور دور افتادگی پر زیادہ دھیان نہ دیا۔یوں بھی میرے ابو بہت کم گو، روایتی،قدامت پسندسے مرد ہیں۔خواتین سے جسمانی تعلق تو ان کے لیے قابل قبول ہوتا ہے مگر ان کے معاملات میں وہ جذبات کے اظہار سے اجتناب کرتے ہیں۔

برطانیہ میں مجھے کئی دفعہ خیال آیا کہ باپ اگر دوسری شادی کرلے تو اس کی توجہ اس نئی Trophy Wife کی وجہ سے پرانی مرحومہ یامطلقہ بیوی کے بچوں پر سے کم ہوجاتی ہے۔اولاد کے مسائل کی تفہیم و ادراک بھی سمجھوتوں کی نظر ہوجاتا ہے۔وہ جو اولاد کو قدم قدم پر والدین کی جذباتی امداد درکار ہوتی ہے وہ بھی دستیاب نہیں رہتی۔وہ ایک دور افتادہ خاندانی سربراہ تو ہوتا ہے مگر چھپر چھاؤں جیسا جذباتی سہارا فراہم نہیں کرپاتا۔
میری سعید سے شادی بھی اب مجھے ایسا لگتا تھا ایک پلاننگ کا حصہ تھی۔ آنٹی طاہرہ کی جانب سے۔

دوسرا دھماکہ یہ تھا کہ۔۔طاہرہ آنٹی حاملہ ہیں۔ یہ ان کا First Trimester ہے۔(تین ماہ کا دورانیہ)تیسرا دھماکہ یہ کہ شہلا پھوپھو نے ابو کی  ناک میں دم کر رکھا ہے کہ وہ شوکی کے لیے مجھے بہو بنانا چاہتی ہیں۔

پیر چیناسی،آزاد کشمیر
پیر چیناسی،آزاد کشمیر
سپر مارکیٹ
سپر مارکیٹ

بتانے لگیں کہ وہ لوزر سعید گیلانی اسلام آباد میں کہیں شوکی کو ملا تھا تمہیں طلاق دینے کے بارے میں تمام اسباب ناچاقی بتادیے۔کہہ رہا تھا کہ نیلم میرے امی۔ ابو کے ساتھ حقارت سے پیش آتی تھی ۔ تنگ بھی بہت کرتی تھی۔ روز شام کو بار میں بیٹھ کر آوارہ عورتوں کے ساتھ شراب پینا معمول بنالیا تھا۔کمیونٹی میں بہت بدنامی ہورہی تھی۔گھر کے کاروبار میں دل چسپی نہیں لیتی بس اپنے فیشن کراؤڈ کے پیچھے ٹکا ٹوکری بنی پھرتی ہے۔سعید نے یقیناً انہیں اگر نہیں بتایا تو سوائے اپنے اسباب ناکامیء بغاوت ہند کے کہ خود وہ ایک ناکام، نان۔ پرفارمانگ مرد ہے جو وظیفہ زوجیت (جس کے لیے صرف مشرق میں نکاح نامہ درکار ہوتا ہے)ادا کرنے سے قاصر ہے۔ باقی سب ہی شکایات لگائیں۔

طاہرہ آنٹی نے مجھے جتایا کہ پھوپھو کو یہ سب باتیں پلٹ کر شوکی نے بتائی ہیں۔مجھے یقین ہے یہ سب باتیں ابو سے طاہرہ آنٹی نے بھی شیئر کی ہوں گی۔یقیناً  ان کی ہمدردی اپنے سرپرست کزن فخرالزماں گیلانی یعنی میرے سسر کے ساتھ  ہوں گی۔ وہ شوکی کے کسی کشمیری ماتحت، جو ان کا قریبی عزیز تھا  کے گھر ٹھہرا تھا۔شوکی کو تمہارے حوالے سے جانتا تھا۔اپنی پوزیشن صاٖ ف رکھنے کے لیے وہ کہنے لگیں کہ شہلا پھوپھونے یہ سب کچھ تمہارے ابو کو بھی بیان کردیا ہے ان کی تجویز ہے کہ کشمیری ماتحت کو بیچ میں ڈال کر کول وے میں، کورٹ سے پرے پرے طلاق ہوجائے تو بات بند مٹھی میں رہے گی۔خاندان میں جو پرانا تال میل ہے وہ بھی قائم رہے گا۔ پھوپھو کہہ رہی تھیں ، نیلم گھر کی بچی ہے۔یہ شراب اورمزاج کی خرابیاں گھر میں نبھ جائیں گی۔ شوکی بہت اصرار کرکے اپنی باتیں منوانے والا مرد نہیں۔میرا بیٹا معصوم ٹھنڈا ٹھاڑ فرشتہ ہے۔رشتہ باہر ہوا تو مصیبت ہوگی۔

تمہارے ابو ان سب باتوں سے بہت پریشان ہیں۔ان کا خیال ہے کہ تم لندن جاکر گوریوں جیسی آوارہ اور خود سر ہوگئی ہو۔ابو کسی حد تک مان بھی گئے ہیں۔ ان کا ارادہ تو تم سے پوچھے بغیر بہن کو رشتے کے لیے ہاں کہنے کا تھا۔یہ تو میں ہوں جس نے انہیں روکا کہ نیلم جوان بچی ہے۔ہمیں حالات کا علم نہیں۔کیا پتہ پیٹ میں بچہ ہو۔ہمارے آنگن میں بھی تو دس سال بعد اللہ نے پھر سے یہ نیا پھول کھلایا ہے۔مجھے بچے والی بات پر ہنسی آئی تو طاہرہ آنٹی کو لگا کہ میں ابو کی بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت پر ہنس رہی ہوں۔ اپنی مسرت اور کم عمری پر نازاں اور معمولات شبینہ کی آتش حسد میں سلگ کر کہنے لگیں وہ تو شکر ہے کہ ہمارا دونوں کا کمرہ بند ہوتا ہے اور پڑوس میں گھر نہیں۔ورنہ ہمارے پلنگ کے شور سے پڑوسی محلہ چھوڑ جاتے۔ دروازہ بند ہو تے ہی لگتا ہے لائن آف کنٹرول پر گولہ باری ہورہی ہے۔سعید تو یوں بھی جوان گھبرو کشمیری ہے صرف پیر چیناسی (مظفر آباد آزاد کشمیر کی مشہور درگاہ) ول ہاتھ کرکے دعا مانگے تو تم ماں بن سکتی ہو۔

میں نے کہا ابو اور آپ آرام کریں۔میری دوست انجم یہاں سپر مارکیٹ کے پاس رہتی ہے۔گھر ہی میں کلینک کرتی ہے۔میں اس سے مل کر آتی ہوں۔ طاہرہ آنٹی کی تاکید تھی کہ آٹھ بجے رات ملتان کی فلائیٹ ہے سو میں وقت پر آجاؤں۔

میں نے پلاننگ یہ کی کہ اپنا وہی رول آن بیگ جو قونیا اور کاپوڈوکیا کے سفر میں ساتھ تھا وہ لے لیا۔ بیگ دیکھ کر وہ جز بز ہوئیں۔ میں جب انہیں بتایا کہ میں ڈاکٹر انجم(چھوٹم) کے ساتھ  اس کی کار میں کل شام تک آجاؤں گی تو وہ اپنی کچھ سوچ میں پڑ گئیں۔
وہ پھر بھی بضد تھیں کہ میں ابو کو بتا کر اس نئے پروگرام پر عمل کروں۔کہنے لگیں کہ ایک منٹ تمہارے ابو کا کل کوئی پروگرام ہے۔کچھ مہمان آنے والے ہیں۔ابو میرا بیگ او ر میرا نیا پروگرام سن کر کچھ دل گرفتہ نظر آئے۔سچ پوچھیں تو میرے ہر معاملے میں وہ مجھے کچھ عجلت میں بھی دکھائی دیے۔بضد تھے کہ شام سات تک آجاؤں۔۔
کہنے لگے کل کرنل مسعود نے کھانے پر آنا ہے۔ میرے پاس نیا نیا لیفٹیننٹ  بن کر آیا تھا۔Still owes me few favors. Good head on the shoulderوہ کرنل صاحب پر کیے گئے احسان اور ان کے عقل مند اور بردبار ہونے کا تذکرہ لے بیٹھے تھے۔خانیوال،وہاڑی اور لودھراں کے تینوں ضلعوں کے الیکشن کے معاملات ان کے پاس ہیں۔جنرل پرویز مشرف نے نیا بلدیاتی نظام متعارف کرایا ہے۔مجھے کہہ رہا تھا کہ لودھراں کے نائب ناظم کے لیے سر میں چاہتا ہوں آپ راضی ہوجائیں۔۔میں نے کہا میری صحت بھی اچھی نہیں اور مجھ میں سیاسی سوجھ بوجھ نہیں۔میری بیٹی کل برطانیہ سے مستقل زمیندارا سنبھالنے آرہی ہے۔اس سے گپ لگا کر دیکھیں۔میرا اندازہ ہے یہ اس کے لیے بہت اچھا بریک تھرو ہوگا۔وہ کہہ رہا تھا کہ ہاں یہ بھی اچھا ہے لودھراں کچھ پسماندہ رویوں کا علاقہ ہے نیلم نائب ناظمہ بن گئی تو پاکستان کا سافٹ امیج ساری دنیا میں جائے گا۔So close to General’s image of enlightened Pakistan. Free and happy
میں نے ابو کو چھیڑا کہ ابو آپ اور یہ آپ کی خلائی مخلوق جانے کن تخیلاتی سیاروں پر رہتی ہے۔باہر کی دنیا کو نقشے پر پاکستان ڈھونڈے نہیں ملتا تو یہ آپ کا لوزر لودھراں اور اس کی نائب ناظمہ۔مائی فُٹ (میری جوتی)۔سرائیکی محاورے میں نہ کوئی تھوک مریندا نہ کھنگ( اس کی طرف منہ  کرکے نہ کوئی تھوکتا ہے نہ کھانستا ہے)

سچ پوچھیں تو میری یہ لفظی سرکشی ان کی مجھے کنٹرول کرنے والی عادت پر پہلا نفسیاتی ڈرون حملہ تھی۔جب وہ مجھے آوارہ اور خود سر سمجھتے ہیں تو کیوں نہ میں بھی اپنے لیے ان کے رویوں میں Space تخلیق کرلوں۔اس سے ابو کی جانب سے آئندہ کے بلاوجہ ڈکٹیشن کو سنبھالنا میرے لیے آسان ہوگا۔

ان سب دلچسپیوں سے الگ میں آپ کو کیا عرض کروں۔ میرے دل کا عالم پوچھیں تو ایسا تھا کہ سنجھیاں ہوجان گلیاں وچ مرزا یار پھرے۔کیا شوکی، کہاں کی مقامی سیاست۔مجھے ان میں سر دست تو ککھ بھی دل چسپی نہ تھی۔ابو کی میرے دل میں بہت عزت ہے۔وجدان کو بھی میں نے ان کے کہنے پر ٹھکرادیا تھا اور چپ چاپ سعید سے بیاہ کرکے برمنگھم چلی گئی تھی۔آپ نے نوٹ کیا ہوگا کہ میں فطرتاً بڑی حد تک وفادار صلح جُو عورت ہوں۔امی سے جو وعدہ تھا میں نے دوران تعلیم دل جمعی سے خوب نبھایا۔ سر وجدان کے تعلق میں بھی میں نے امی کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز نہ کیا۔سعید کے زمانے میں تو میرے بدن میں طلب،سپردگی،شہوت کے کیا کیا الاؤ سلگتے تھے۔ان سب کو میں نے کولڈ شاور سے ٹھنڈا کرکے،شراب کے جام سے بجھادیا۔گڈی اور ایک دوست میرے بدن کی تراوٹ اور تشنگی سے کھلواڑ کرنا چاہتی تھیں مگر مجال ہے دوستانہ بوس و کنار اور لمس آشنائی سے زیادہ کی سہولت دی ہو۔
یہاں مجھے شوکی سے شادی،سیاست اور کہروڑ پکا اپنی مرضی سے لے جانے پر جو اصرار ہے۔۔وہ میری آزادی پر حملہ ہے۔ اس سب سے بڑھ کر یہ کہ سعید سے شادی کی ناکامی کا مجھ  سے کچھ پوچھے سنے بغیر مجھے ہی ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔

بیداری کے اس احساس نے پہلی دفعہ مجھ میں سرکشی کے جذبات کو ہوا دی۔ایک میں ہوں کہ تعلقات کے ایک اتنے بڑے بھونچال سے گزرتی ہوئی ابھی بمشکل یہاں پہنچی ہوں۔ دوسری طرف میرے یہ ابو اور ان کے اقربا ہیں۔ کوئی وقت ضائع کیے بغیر میری شادی،میرے کیرئیر،میری آئندہ زندگی کا ہر فیصلہ بالا بالا ہی کر چکے ہیں۔ اب پاکستان میں مجھے زندگی گزانی ہے تو مجھے بصد احترام کچھ خود سری اور آزاد خیالی دکھانی ہوگی۔جس کی پہلی نشانی میرا یہ Freedom of Movement کا فیصلہ ہوگا۔آئندہ بھی اس حوالے سے اب ہر فیصلہ میں خود کروں گی۔ میری شادی ارسلان سے ہو یا کسی اور سے۔ ہر فیصلے میں پہلی رائے میری ہوگی۔

میرے ابو اور ان کی بیگم اس وقت بھی میری دوستوں سے ملاقات پر بھی اسکول گرل والی وقت کی قدغن لگانا چاہتے ہیں۔ میں نے لہجے کو ہر قسم کی تلخی سے پاک کرکے جتادیا کہ ابو آپ انہیں پرسوں اتوار کو بلالیں۔ مجھے کچھ ضروری کام ہیں۔آپ دونوں شام کو چلے جائیں۔

ابو کو میرا یوں اصرار کرنا اچھا تو نہ لگا۔اس وقت تو چپ رہے مگر جب میں کار میں سوارہورہی تھی تو دروازہ بند کرکے آہستہ سے انگریزی میں کہنے لگے کہ Our’s is a different world. You better change your ways.(ہماری دنیا مختلف ہے بہتر ہوگا اپنے طور اطور بدل لو)

میں نے بھی انگریزی میں یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کل شام سے پہلے میں کہروڑ پکا پہنچ جاؤں گی۔اپنے پروگرام میں بس ایک دن کی تاخیر برداشت کرلیں۔انجم کا کزن وکیل ہے۔ مجھے سعید سے طلاق کے حوالے سے بات کرنی ہے۔پارٹی۔از۔ اوور۔

ابو کا کہنا ہے کہ میں اس معاملے میں ابھی کورٹ،وکیل وغیرہ کی جلد بازی سے گریز کروں۔ تمہارے حوالے سے میرے پاس کچھ منصوبے ہیں۔پہلے بھی تم نے برطانیہ جانے کے چکر میں مجھے کچھ سوچنے کا موقع نہیں دیا طاہرہ کے ذریعے ضد کرکے  برطانیہ جانے کا شوق پورا کرکے اپنی بات منوالی۔میں نے جلدی سے اللہ حافظ کہا اور چل دی۔

ابو کے اس آخری الزام نے میرے ذہن میں ایک نیا دروازہ کھولا کہ میری سعید سے شادی یقیناً  ایک پلاننگ کا حصہ تھی۔ان کی جانب سے نہ سہی آنٹی طاہرہ کی جانب سے۔اپنی منصوبہ بندی کو انہوں نے ابو کے سامنے میرا شوق بنا کر پیش کیا۔ جیسے برطانیہ جانا زندگی کی سب بڑی نعمت ہو۔ میں اس کے لیے مررہی ہوں۔ وہ اپنے بیٹوں کے حوالے سے جائیداد کے تنہا حصول کی وجہ سے مجھے بیرونی ریموٹ سے چلانا چاہتی تھیِ۔بیٹوں کی موت نے ان کی کمر توڑ دی۔اب جب یہ نیا بچہ پیدا ہوگا تو پھر ایک نئی مخاصمت کا آغاز ہوگا۔

انجم جسے ہم سب چھوٹم کہتے ہیں۔وہ دراصل میری این سی اے کی  جگر جان دوست جویریہ کی بڑی جڑواں بہن تھی۔مگر تین بھائیوں کے بعد پیدا ہوئی تو گھر والے اور بھائی چھوٹم پکارتے تھے۔ یہ نام انجم پر بھاری پڑگیا۔ جویریہ کا کویت میں ایک حادثے میں انتقال ہوگیا تو چھوٹم نے مجھے اپنے اور قریب کرلیا۔کئی مریض بھی اسے ڈاکٹر چھوٹم ہی کہتے ہیں ۔ وہ ٹیرینڈ کلی نکل ہپنوتھراپسٹ بھی ہے اور جسمانی درد کے احساس کو ری لوکیٹ کرنے میں ملکہ رکھتی ہے۔سائیکو ڈائنامک تھراپی کی ماہر۔ میں آپ کی خدمت میں عرض کردوں کہ psycho dynamic therapy میں نفسیاتی  عارضے کی تشخیص، مریض کا اس کا اعتراف،اس سے سمجھوتہ، اپنے اس حوالے سے کچلے ہوئے جذبات کو بروئے کار لاکر ان کے اردگرد اپنی شخصیت کو ڈھال کر آگے بڑھنا اور اس سے وابستہ منفی جذبات پر قابو پانا ہوتا ہے۔یوں مرض کی ابتدا سے اس کے نتائج تک کے ہر پہلو کو مریض مدنظر رکھتا ہے۔اس میں بھی اس نے دو سال کی ایک خصوصی تربیت بچوں کی نفسیات پر ازدواجی بگاڑ یا حادثاتی اثرات کے حوالے سے بہت فوکس رکھا ہے۔ابھی اس کی طرف باقاعدہ کلینک کا آغاز نہیں ہوا تھا ۔ حسب توقع بہت سی سجیلی ماؤں کے جھرمٹ میں بیٹھی تھی۔ مجھے یوں اپنے سامنے دیکھ کر خوشی سے اچھل پڑی۔

چھوٹم کے شوق
وحید مراد،ہمارے ظہیر بھائی 

وہاں کچھ زیادہ نہیں بدلا تھا۔ حتیٰ  کہ فرنیچر بھی وہی تھا۔ میں نے ماؤں کو دیکھ کر کہا کہ سیاست دانوں کی مائیں بھی انہیں ممبر اسمبلی بننے سے پہلے علاج کے لیے لے آتیں تو ملک ایسے Psychopaths کے ہتھے نہ چڑھ گیا ہوتا۔ یہ سن کر ایک زور کی ہنسی کا فوارہ چاروں طرف بلند ہوا۔ چھوٹم کی کوٹھی کی نچلی منزل وہی کلینک اور اوپر رہائش۔ظہیر بھائی وہی   ہر مرض کی دوا۔دیکھنے میں چھوٹے سائز کا وحید مراد لگتے تھے۔طور اطوار میں بھی قدرے نسوانیت اور نازک مزاج۔بلا کے ذہین، بلا کے معاملہ فہم Mr. Fix It
ہم چھوٹم کو چھیڑتے تھے کہ آخر میں ظہیر بھائی ہی اس کے شوہر بنیں گے۔اس کے ابو انہیں کراچی سے لائے تھے۔موچی سے سینڈل بنوانے ہوں، گھر میں اے سی لگوانا ہو۔ فیملی گرلز کی دعوت ہو یا گاؤں سے علاج کے لیے آئے ہوئے عزیز کا جنازہ ۔ہر مرض کی دوا ٹھہرا ۔۔۔بجلی کا تار چھونا۔ چھوٹم کا کہنا تھا کہ خدمت اور راز داری مطلوب ہو،چھوٹی موٹی چوری اور چالاکی بری نہ لگتی ہو تو مہاجر مردوئے سے بہتر کسی خود سر،خوش حال اور خوش پوشاک پنجابی عورت کا کوئی اور سہارا نہیں۔

ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن میں وہ ان کے کسی عزیز کرنل کے ہتھے چڑھ گیا تھا۔چھوٹم کے ابو اس کی جان چھڑا کر ایک بوڑھی ماں سمیت اسے کراچی سے لاہور لے آئے۔اب دونوں ہی ہم عمر تھے۔چھوٹم کی شادی ایک دور دراز کے تاجر رشتہ دار سے سیالکوٹ میں ہوئی تھی۔ہم دوستوں کا اس وقت بھی پختہ یقین تھا کہ اس میں گھر بسانے اور بیوی بننے سے زیادہ والدین کو ایک طفل تسلی دینا اور خود کو ایک تجربہ سے گزارنا مقصود تھا ۔۔جویریہ کہتی تھی کہ چھوٹم میں قاتل ہونے کی کوئی علامت ہو نہ ہو اسے ممنوعے بور کے اسلحہ پاس رکھنے کا بہت شوق ہے۔

ظہیر بھائی نے اظہار مسرت کرتے ہوئے مجھے گلے لگایا توچھوٹم نے چھیڑا ،ذرا زور سے بھینچو۔ آگئی میری سوتن۔ اب خوش ہو   جاؤ۔اس کی سم ڈلوانے جاؤ تو نکاح کے لیے قاضی اور اپنی ولیمے کی دیگ کا بھی کہہ آنا“۔اس پر ظہیر میاں نے اعلان کیا کہ”سم کیا ڈلوانا۔ آپ کا نوکیا فون انہیں دے دیتے ہیں۔اس کی سم چل رہی ہے۔آپ تو یوں بھی بلیک بیری استعمال کرتی ہیں“۔انجم کہنے لگی ”آگئی نا نئی والی۔ جاؤ سی ڈی اے(کیپٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی) سے یہ گھرجائیداد بھی اس کے نام کرالو۔اب ہمیں کیوں لفٹ کراؤگے“۔جس پر ظہیر بھائی کہنے لگے۔ ”اب تک نہیں بدلیں نیلم بی بی ہماری چھوٹم صاحبہ۔اتنی بڑی ڈاکٹر ہوگئی ہیں مگر وہ جو چھوٹم نام ہے اس سے نجات نہیں ملی“۔

چھوٹم نیچے اپنا دربار علالت و شفا برپا کرنے چلی گئی تو میں لینڈ فون کی جانب لپکی۔ پرس سے گڈو کا بزنس کارڈ نکال کر اس کا فون نمبر دیکھا۔گھر کا نمبر کارڈ پر درج نہ تھا اور سیل فون کا نمبر بھی حضرت نے لکھنے سے اجتناب کیا تھا۔تب مجھے لگا کہ   وہاں اسکی پول اور استنبول کے ائیر پورٹس پر میں، کتنی مسحور ہوچلی تھی۔کوئی سوال نہ تھا۔ اس کے بارے میں تفصیلات سمیٹنے کی کوئی جلدی نہ تھی۔ یہ شاید وہ لمحات رفاقت تھے جن میں مجھے اس کا سیل فون اور گھر کا پتہ، لینڈ لائن نمبر یا سیل فون کا نمبر لینا یاد نہ رہا تھا۔

مسٹر بکس
مسٹر بکس
مسٹر بکس کی طرف
مونال
مونال

کارڈ پر صرف دفتر کا نمبر تھا۔میں نے لینڈ لائن سے فون کیا تو کوئی عجلت پسند پی۔اے قسم کی لڑکی تھی۔ارسلان آغا صاحب آج دفتر نہیں آئے۔میں نے اس پر چھاجانے کے لیے باور کرایا کہ وہ میرے ساتھ جہاز میں تھے۔ ان کی گھڑی میرے پاس رہ گئی ہے۔وہ وضو کرنے گئے تھے تو میرے پاس رکھواگئے تھے۔ میں پرس میں رکھ کر بھول گئی۔وہ لوٹا نی ہے۔ مجھے ان کے گھر اور سیل فون نمبر در کار ہیں۔ میں آج شام ملتان واپس جارہی ہوں۔
چالاکو تھی ،مجھے کہنے لگی اپنا نمبر دے دیں۔ہم ان کو ٹریس کرکے آپ سے رابطہ کرنے کی درخواست کردیں گے۔غصہ تو آیا مگر میں نے با دل ناخواستہ چھوٹم کا نمبر دے دیا۔پانچ منٹ بعد ہی حضرت فون پر ’جان میری‘ کا وظیفہ پڑھ رہے تھے۔۔میری لوکیشن پوچھ رہے تھے۔کہنے لگے کہ کھاناکھاتے ہیں۔میں اپنی اس واردات میں فی الحال چھوٹم کو شامل نہیں کرنا چاہتی تھی۔سو اسے مسٹر بکس کا پتہ دے دیا۔اب آپ عشق میں بے تاب ہوں تو گھڑیوں کا کیا شمار۔ یہ نہ سوچا کہ حضرت کہیں دور سترہ میل سے آئیں گے۔ یہاں آتے آتے کچھ وقت تو لگے گا۔
میں نے جلدی سے شاور لیا۔ جینز اور ٹرٹل نیک چڑھایا۔ چھوٹا سا کوٹ پہنا اور واک کرتی ہوئی دو تین گلیاں چھوڑ کتابوں کی اس دکان کی طرف جانے کی ٹھانی۔ اتنی دیر میں ظہیر بھائی۔انجم کا سیل فون بھی ڈھونڈ لائے تھے۔بضد تھے کہ میرے ساتھ چلیں گے۔ہوسکتا ہے مجھے راستے یاد نہ ہوں۔اکیلی لڑکی کا واک کرنا مناسب نہیں۔ انہیں ٹال کر میں اکیلی ہی چل دی۔

کتاب کی دکان میں،کسی شیلف کے پاس کھڑی تھی کہ کسی نے پشت سے میری آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیا تو میں نے بھی سر کاندھے پر  پیچھے کر کے ٹکاتے ہوئے لاؤ لٹک سے گڈو کہا ۔میرا جواب سن کر جیسے اسے کرنٹ لگا اور وہ پیچھے ہٹ گیا۔یہ شوکی تھا۔اپنے دفتر سے کوئی کتاب لینے آیا تھا۔ شکر ہے میں نے گڈو کہا،ارسلان نہیں۔ اس کو یہ وضاحت دینا پڑگئی کہ ایک دوست نے ملنے آنا ہے۔کالج کے زمانے کے دوست ہیں۔۔سول سروس میں ہوتے ہیں۔انجم کے کزن ہیں۔

میرے اندر کی عورت کا ادراک جاگا ،خیال ہوا کہ آنے والے طوفان کی پیش بندی یوں بھی ہو سکتی ہے کہ ارسلان کی آمد پر شوکی کا اس سے ٹاکرا میری سرپرستی میں فی الفور ہوجائے۔ گربہ کشتن روز اوّل(بلی کو پہلے ہی دن ماردو۔کہتے ہیں ایک نک چڑھی نوابزادی کو اپنی بلی سے بہت پیار تھا۔سہاگ رات بھی گود میں لیے بیٹھی تھی۔ اسے اتارنے اور کمرے سے باہر نکالنے کا نام نہ لیتی تھی۔دولہا میاں   کو تاؤ آیا تو چالاکی سے پیار کرنے کے بہانے گود سے بلی لی اور بالائی منزل کی کھڑکی سے باہر اچھال دی)۔۔ارسلان کی شخصیت اور رکھ رکھاؤ کے حساب سے کچھ مکسڈ سگنل کی وجہ سے شاید شوق مناکحت ماند پڑجائے۔پھوپھی کو خود ہی بتادے کہ یہ شادی نہیں ہوسکتی۔

حضرت کچھ زیادہ ہی ڈھیٹ نکلے،کہنے لگے چلو تمہیں مونال میں کھانا کھلاؤں۔میں نے اسے ٹالا تو ناخوش لگے۔ مجھے ایک شائبہ یہ بھی گزرا کہ میرے بارے میں وہ کچھ بے تاب سا ہے ۔جیسے اپنے من ہی من میں کچھ منصوبے بناکر بیٹھا ہے ۔ مجھ سے شادی کا فیصلہ گویا امیر مقام کے نزدیک done- deal ہے۔ میری رضامندی کو بھی ایک قسم کا walk-over ہی سمجھ لیا ہے۔

کہنے لگا میں یہاں ایک کتاب لینے آیا تھا۔دفتر میں کچھ ناپسندیدہ لوگ موجود تھے۔سچ پوچھیں تو مجھے نہ تو یہاں اس کی آمد میں کسی قسم کی دل چسپی تھی نہ اس کے دفتر کی سیاست سے۔اپنی چھٹی حس کی روشنی میں اس کے ائیرپورٹ آمد،محتاط بے اعتنائی اور بعد میں طاہرہ آنٹی کے اس کی والدہ کے مجھے اس کی دلہن بنانے کے عزائم کا سن کر وہ مجھے برا تو نہیں لگا مگر مجھے میرے ان ایام بے یقینی میں اس کی جانب سے دخل در معقولات کی وجہ سے شدید الجھن محسوس ہوئی۔اس وقت بھی اس کی آمد کچھ ایسی ہی ناگوار گزری۔اس کے دماغ میں شاید یہ بات چل رہی تھی کہ میں سعید کا ساتھ ختم ہونے پر اس سے رشتے کی تجویز پر بہت خوش ہوں گی۔پاکستانی مرد ایسے ہی ہیں۔اپنی طرف سے اندازے جوڑنے والے۔

ہم اسی شش و پنج میں تھے کہ گڈو دروازے سے داخل ہوئے۔میرے ساتھ شوکی کو دیکھ کر کچھ اجنبی سے بنے رہے کہ میں کوئی اشارہ یا خود ہی پہل کروں ۔میں نے اشارہ کیا تو بہت وقار سے ہماری طرف آئے۔آغا صاحب میرے کزن شوکی۔یہاں ایک سرکاری ادارے کے افسر ہیں۔آغا صاحب سول سروس میں ہیں۔مجھے ارسلان کی جانب سے شوکی میں کوئی دل چسپی نظر نہ آئی اور خود شوکی بھی اس کے سول سروس والے پیشہ ورانہ پس منظرسے قدرے مرعوب سا لگا۔ مجھے اس کے سامنے ارسلان کے ساتھ بیٹھ کر کہیں جانا اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ مناسب یہی لگا کہ ہم چھوٹم کی طرف نکل جائیں۔ میں نے پوچھ لیا کہ ڈرائیور ہے تو کہنے لگے ’جی‘ میں نے کہا’چھوٹم آپ کا انتظار کررہی ہے۔واک کرتے ہوئے چلتے ہیں۔تب تک اس کے مریض بھی جاچکے ہوں گے۔  گڈو نے بھی بات خوب نبھائی کہ ’میں پہلے وہیں گیا تھا اسی نے بتایا کہ آپ مسٹر بکس کی طرف گئی ہیں۔ سو میں یہاں چلا آیا۔ شوکی نے خود ہی بھانپ لیا کہ وہ اب سین سے آؤٹ ہوگیا ہے۔ جھینپ کرکہنے لگا کہ میں چلتا ہوں۔میں نے اللہ کا دل ہی دل میں شکر ادا کیا۔ان دونوں کی ایک دوسرے سے گریزاں ہونے سے میں خود بھی کچھ بے لطف سی ہوگئی تھی۔ہم واک کرتے ہوئے چھوٹم کی طرف جانے لگے مگر میں سر دست گڈو کو چھوٹم کے سامنے نہیں لانا چاہتی تھی۔ شوکی کی خبر خلیدی طبیعت جسے انگریزی میں Nosiness کہتے ہیں، اس سے بچاؤ کے لیے باہر نکل کر گڈو کو کہا کہ جب تک شوکی گاڑی میں سوار ہوکر روانہ نہ ہوجائے اسے تاکتے رہنا مناسب ہوگا۔وہ چلا گیا تو ہم باتیں کرتے کرتے کچھ دیر ایک بڑے سے ڈرائی فروٹ کے  سٹال پر رکے اور وہاں سے گلی نمبر 14 کی طرف نکل گئے۔ چھوٹم کے گھر کی جانب گلی نمبر سترہ کے کارنر پر ارسلان نے اپنی کار منگوالی۔

عمر خیام
عمر خیام

دوران واک ہم زیادہ تر چپ ہی رہے۔ایک دوسرے کو اس سرزمین وطن میں پانے کا میرا احساس، ان مہاجرین جیسا تھا  ،جو ایک محلے میں مدتوں رہنے کے بعد اتفاقاً اپنے نئے وطن میں خوش گوار حالات میں ایک دوسرے کو ملے ہوں۔ہم واک کرتے کرتے چپ تو تھے مگر شادماں بھی۔میرا گمان ہے کہ یہ شاید اس کے لیے غیر متوقع تھا کہ میں اس قدر جلد یعنی صرف تین گھنٹے کے اندر ہی اس سے رابطہ کروں گی۔

میں آپ کو بتادوں میں یہ سب کچھ اتنا عجلت میں نہ کرتی اگر وہ تمام منصوبے جو میرے حوالے سے بنائے گئے تھے وہ مجھ پر آنٹی طاہرہ کی زبانی پہلے ہی گھنٹے میں عیاں نہ کردیے جاتے۔اپنے ابو کا میری شادی اور طلاق پر رد عمل ،آنٹی طاہرہ کا ماں بننے پر اترانا،پھوپھو شہلا اور ان کے بیٹے کا مجھ  پر یوں ریموٹ کنٹرول سے اختیار جتانا اور پھر میرے ابو کا یوں کرنل مسعود سے میری سیاست میں انٹری کی میٹنگ تک طے کر کے انہیں ملاقات پر بلالینا ۔Oh for God Sake give me a break خدا کے واسطے مجھے کچھ دیر میرے حال پر چھوڑ دیں) یہ میرے منہ  سے اچانک نکلا تو ارسلان چونک گیا۔انگریزی میں ہی پوچھنے لگا کہ کیا میں گاڑی روکنا چاہتی ہوں یا کچھ اور معاملہ ہے۔ میں نے بہت چالاکی سے بہانہ بنایا کہ وہاں سسرال میں چونکہ   دل کی باتیں  کرنے والا کوئی نہ تھا لہذا مجھے کسی فیصلہ پر پہنچنے کے لیے خود سے مکالمہ کرنا پڑتا تھا۔ وہ کہاں باز رہنے والا تھا ترنت پوچھ بیٹھا کہ اب کیا فیصلہ تھا جس پر میں پہنچنا چاہتی تھی۔مجھے ڈر تھا کہ اگر اس نے یہ اضافہ کردیا کہ میں شوکی کی وجہ سے ڈسٹرب تھی اس لیے فی الفور کار میں بھی اس کے ساتھ سوار نہیں ہوئی تو مشکل ہوجائے گی۔میں نے بہانہ بنایا کہ دماغ کہہ رہا ہے جلدی سے کوئی فاسٹ فوڈ پکڑیں ملاقات ہوگئی بس کافی کا کاغذی گلاس اور گھر کی راہ۔دل کہہ رہا ہے Something Exotic.Different Place. Different Taste and plenty of sweet nothings(کوئی بہت منفرد،کسی منفرد مقام پر، کسی منفرد ذائقے کے ساتھ جہاں بہت سی حسین بے معنی گفتگو بھی ہو)۔ مجھے بہت بھوک لگی ہے ۔حضرت نے میری بات پر کوئی گرفت یا ردعمل دینے کی بجائے بہت آہستہ سے ڈرائیور کو بلیو ایریا ایک مشہور ایرانی ریستوراں کا نام بتایا،میرا پرس گود سے لے کر سیٹ کے درمیان رکھا اور آہستہ سے میری انگلیوں میں اپنی انگلیوں  کا لاک لگادیا۔عجب سی نرم حدت،ایک گدگدی،ایک لمس،ایک تحفظ کی ملی جلی لہر میرے بدن میں دوڑنے لگی۔ایک دو منٹ تو میں اس چالباز جسارت پر مدہوش سی رہی پھر میں نے کہا No indecent haste (کوئی بے ہودہ عجلت نہیں ہوگی)۔یقینا ً میری یہ جھڑکی اسے اچھی نہ لگی۔

گڈی کہتی ہے مرد ان جھڑکیوں کا حساب رکھتے ہیں۔ اس کا بدلہ وہ سب سے پہلے بستر میں لیتے ہیں۔ ٹھنڈا ہوکر مرد بہت کمینہ ہوتا ہے۔ یہ سب گڈی کی فلاسفی ہے۔میری جانے جوتی۔میں آل اراؤنڈ ایک شریف لڑکی ہوں۔ پاکیزہ اور مشرقی روایت کی نسوانی تصویر۔گڈی کی باتیں البتہ مجھے بہت یاد رہتی ہیں ۔اسکول میں پڑھی کہانیوں کی مانند۔ گڈی کا کہنا ہے کہ مردوں سے تعلق میں یہی سب سے خوف ناک پہلو ہے۔عورت بھولتی نہیں معاف کردیتی ہے۔مرد معاف نہیں کرتا مگر بھول جاتا ہے۔بھولی ہوئی بات یاد نہ آئے ایسا ممکن نہیں۔یاد آجائے تو ردعمل کیا ہو یہ ان کا فیصلہ ہوتا ہے۔ آپ کا نہیں۔جس سرعت سے اس نے ہات کھینچا مجھے لگا کہ اس کا حساب لیا جائے گا۔کیا ہوتا اگر یہ انگلیاں ایک دوسرے سے کھیلتی رہتیں۔آج میں ہر تعلق کو Redefine کرنے پر کیوں تلی ہوں۔ہم عورتوں کو ایک دوسرے کو ٹالنے، جھڑکنے، ٹریش کرنے کی بہت عادت ہوتی ہے۔ہماری آپس میں ایک دوسرے سے نمٹتے وقت انا کا تاپ مان(ہندی میں ٹیمپریچر)بہت نیچا ہوتا ہے۔یہ بلی کی بلونگڑوں کی ایک دوسرے سے پنجہ آزمائی اور بڑھوتری کا عمل سمجھ لیں۔