بلیک میلر۔۔۔عنبر عابر

آج پھر اس کا فون آیا تھا۔اس کا دل کانپ رہا تھا اور وہ چور نظروں سے آس پاس دیکھتے ہوئے مدھم لہجے میں بلیک میلر سے بات کر رہی تھی۔وہ بول رہا تھا۔۔
“دیکھو شہزی! آج میری طرف سے دی گئی مہلت ختم ہوجائیگی اور میں تمہاری ویڈیو انٹر نیٹ پر ڈال دونگا“ بلیک میلر کا لہجہ خوفناک تھا۔

اس کے جسم میں سنسناہٹ دوڑنے لگی تھی۔اس نے کمرے سے باہر دیکھا۔صحن میں اس کا بھائی چارپائی پر دراز موبائل میں مصروف تھا۔نزدیک ہی کچن سے برتنوں کی کھٹ پٹ سنائی دے رہی تھی جہاں اس کی امی کھانا پکانے میں مصروف تھی۔اس نے اپنی وہ ویڈیو دیکھی تھی جو اسے وٹس ایپ پر موصول ہوئی تھی۔یہ اس دن کی ویڈیو تھی جب وہ اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ پہاڑ پر گئی تھی۔تب ہی وہ کچھ رونما ہوا تھا جو شاید نہیں ہونا چاہیے تھا۔ان لمحوں میں وہ اس بات سے غافل تھی کہ کوئی تیسرا شخص اس کی ویڈیو بنا رہا ہے۔یہ سوچ کر اس کا دماغ ماؤف ہونے لگا تھا کہ اس کی برہنہ ویڈیو اس کا باپ اور بھائی دیکھ رہے ہیں۔
بلیک میلر کی آواز ابھری۔
“یقین جانو کچھ نہیں ہوگا۔مناسب ہوگا اگر یہ مسئلہ ہم پردے میں ہی حل کرلیں۔ تم اپنا جسم میرے سپرد کروگی میں اس ویڈیو کو ڈیلیٹ کردوں گا۔یہ بھی تم جانتی ہو کہ تمہارا وہ گاؤدی بوائے فرینڈ میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتا“

شہزی کا گلہ خشک ہونے لگا تھا۔وہ سسکتی آواز میں بولی۔
“میں آج رات آؤں گی۔۔۔تم قسم کھاؤ، تم یہ ویڈیو ڈیلیٹ کردوگے“
بلیک میلر قسمیں کھانے لگا۔شہزی سوچ رہی تھی کہ یہی ایک راستہ ہے جو گھر والوں سے چھپ کر اپنایا جاسکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بلیک میلر شیطانی مسکراہٹ اور سرخ آنکھوں کے ساتھ اس کا منتظر تھا۔وہ بولا۔
“مجھے یقین تھا تم آؤگی۔اس معاشرے نے تمہارے لئے کوئی دوسرا رستہ چھوڑا ہی نہیں۔صرف ہم مرد ہی ڈنکے کی چوٹ پر غلطیاں کرسکتے ہیں تم لڑکیاں نہیں۔“
یہ کہہ کر وہ لڑکھڑاتے، ڈگمگاتے آگے بڑھا۔اس نے شہزی کو اپنی  بانہوں میں دبوچا اور اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں کے قریب کرنے لگا۔بلیک میلر کی سانسوں سے شہزی کو کراہت محسوس ہونے لگی اور وہ بے اختیار اسے خود سے ہٹانے لگی۔نشے میں دھت بلیک میلر بولا۔
“تم جانتی ہو میں نے یہ بلیک میلنگ کیسے سیکھی؟“
“کیسے سیکھی؟“ شہزی بے ساختہ پوچھ بیٹھی۔

“میری بہن کو کسی نے بلیک میل کیا تھا اور وہ بے وقوف اس کے ہاتھوں میں کھیلنے لگی تھی“ بلیک میلر نے اپنی گرفت مضبوط کی اور سلسلہ کلام دوبارہ جوڑا۔۔
“حالانکہ میرا اپنا خیال یہ ہے کہ تب میری بہن کو ڈر کر اس خونی دلدل میں مزید دھنسنا نہیں چاہیے تھا۔اگر وہ پگلی جی کڑا کرکے ببانگِ دہل اپنی غلطی کا اقرار کرتی تو ہم کوئی نہ کوئی حل نکال لیتے اور وہ جان سے نہ جاتی“۔۔۔

بلیک میلر اپنی ہی دھن میں بولتا چلا جارہا تھا۔اس نے سامنے پڑے وسیع ٹیبل پر شہزی کو لٹایا اور مزید پیش قدمی کرنے لگا۔ناگاہ گلاس ٹوٹنے کی آواز سنائی دی اور بلیک میلر نے شہزی کا دایاں ہاتھ اپنی گردن کی طرف آتے دیکھا۔بلیک میلر کو شیشے کی چبھن محسوس ہوئی، اس نے اپنی گردن سے خون کا فوارہ ابلتے دیکھا اور ریت کی بھری بوری کی طرح ایک طرف گر گیا۔شہزی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی اور سوچ رہی تھی۔
“بلیک میلر سچ کہتا تھا۔۔۔۔خونی دلدل میں مزید نہیں دھنسنا چاہیے“

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *