کہروڑ پکا کی نیلماں۔۔۔محمد اقبال دیوان/قسط20

سویرا کے مدیر اعلی ٰسلیم الرحمان صاحب نے شمارہ نمبر سو کی اشاعت میں غیر معمولی تاخیر کے پیش نظر مصنف کو کمال شفقت سے اجازت دی کہ یہ کہانی مکالمہ میں پہلے شائع کرلیں۔۔سو پیش خدمت ہے۔افسر و سیاست دانوں کے معاشقوں پر مبنی ایک واردات قلبی کا احوال۔اس کے جملہ کردار، شعبہ جات،سرکاری محکمے اور واقعات خالصتاً افسانوی ہیں۔ ان کا اپنے زمان و مکان سے جڑے اصل کرداروں سے کسی قسم کا کوئی واسطہ نہیں۔ جیمز بانڈ کے خالق مصنف آئن فلیمنگ برطانیہ کی خفیہ ایجنسی ایم آئی سکس اور ہالی ووڈ پوری سی آئی اے کو اگر اپنی فلموں میں شامل کرسکتے ہیں تو جان لیں کہ مذکورہ افراد کے عہد ے،طور اطوار اور مقامات اس کہانی کے حوالے سے محض زیب داستاں کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ان کا اصل افراد اور واقعات سے کوئی تعلق نہیں

قسط نمبر 19 کا آخری حصہ
تم نہیں جانتے عورت ٹھکرائے جانے سے کیسی کرش ہوتی ہے۔بزدل مرد کی طلاق بھی ہیجڑوں کی گالی جیسی گھناؤنی اور غلیظ ہوتی ہے۔ تیسرا حصہ یہ ہے کہ میں ایک ایسی عورت ہوں جسے ہوس کے سانپ نے ڈس لیا ہے۔ میں وہ عورت ہوں جو اب دنیا سے اپنے آپ کو منوانے کے کسی اقدام سے بھی گریز نہیں کرے گی۔اب میری اخلاقیات کا معیار انسانی اور مذہبی نہیں، خالصتاً سیاسی ہے۔ چوتھا اور آخری حصہ مجھے بہت عزیز ہے۔ یہ میرا سب سےIntimate راز ہے۔ جب کاپوڈوکیا میں مجھے تمہاری بیوی کہہ کر میرے حمل پر سوال ہوئے تو اس وقت سے میری کوکھ مچل رہی ہے۔ یہ بچہ کب اور کہاں میرے پیٹ میں آئے گا اس کا فیصلہ میں نے ابھی تک نہیں کیا۔ یہ میری برداشت کا سوال ہے کہ میں اسے کتنا ٹال سکتی ہوں ہوسکتا ہے میں تمہارا ہاتھ  پکڑ کر اس وقت ہوٹل کی طرف بھاگوں کہ Gimme my baby. My lil Guddo.(مجھے میرا بچہ دو۔ میرا چھوٹا سا گڈو)
You are too noble to be my husband. I will certainly marry you. Not the way everyone marries. I will marry you my way.(تم بہت باوقار ہو۔تم میرے شوہر نہیں ہوسکتے۔ میں تم سے یقیناً  شادی کروں گی۔ ویسے نہیں جیسے ہر کوئی شادی کرتا ہے۔ میں تم سے اپنے انداز میں شادی کروں گی)ہلکی ہلکی برف گر رہی تھی۔ ایک اور جوڑا بھی ریستوراں میں آگیا تھا۔ میں نے ایک اور گلاس بھرا تو وہ پریشان ہوا۔ اب تک چونکہ میری گفتگو اور حرکات  و سکنات میں نشے کے اثرات ظاہرنہیں ہوئے تھے۔ میرے سرور و سرمستی نے البتہ میرے بیانیے کو ایک عجب سے اثر انگیزی دی تھی جس کو وہ حیرت سے سنے جاتا تھا۔
لہذا اس نے کہا میرا جام بھرتے دیکھ کر One for the road (جب ماضیء قدیم میں شرابی کسی سرائے یا مئے خانے کو چھوڑتے تھے تو آخری جام کو اس نام سے پکارتے تھے۔)۔میں اپنی نشست سے کھڑی ہو گئی۔ اس کے پاس گئی۔ گلاس سے ایک گھونٹ بھرا۔ اس کی گود میں بیٹھ کر بوسے کے لیے جب لب ملائے تو وہ ساری شراب اس کے منہ میں بھردی۔
نئی قسط کا آغاز۔۔۔۔۔

صنعتی الاؤ
گریٹ ڈین
لیساں کا سُرمئی چاند

La Farandole ریستوراں کے باہر کا منظر بہت رومانٹک ہے۔جیسا فلموں ہوتا ہے ہو بہو۔ سفید برف کی ایک ہلکی نرم سفید چادر پر دور پہاڑیوں کی اوٹ سے فروری کی سنہری چاندنی پھیل گئی ہے جیسے ہاسٹل کی دو پرانی سہیلیاں بہت دنوں بعد ملی ہوں پھر سے بستر میں گھس گئی ہوں۔۔آسمان پراکا دکا ستارے بھی دکھائی دیتے ہیں۔ میں اس کی بانہوں سے لٹک کر چل رہی ہوں۔اس کا خیال ہے شاید آخری جام لڑگیا ہے مگر ایسا نہیں۔میرا مخمور پن کا اظہار، میری چوائس ہے،مجبوری نہیں۔

ارسلان کو اپنی انگوٹھی یاد آگئی ہے۔وہ پوچھ رہا ہے کہ دیکھی بھی نہیں، پہنی بھی نہیں، لوٹائی بھی نہیں۔ارادے کیا ہیں؟میں اسے ڈانٹتی ہوں تم سے صبر نہیں ہوتا۔ فوراً جواب درکار ہے تو جاؤ ہوٹل کے کاؤنٹر والی جمیلہ کو پہنا دو۔

اسے کیا پتہ کہ یہ میرے بوئنگ 777 کے ٹیک آف کے لمحات ہیں۔کسی کو سیٹ چھوڑنے کے اجازت نہیں۔ غیر ضرور ی روشنیاں بجھادی گئی ہیں۔ مجھے کہیں دور سے اپنے بیٹے کی آواز سنائی دے رہی ہے۔آپ نے کبھی شیرنی اور مادہ چیتے کو اپنے بچوں کو خطرہ ٹلنے کے بعد دیکھا ہے۔وہ اپنے بچوں کو کیسے محتاط طریقے سے دھیمی دبی محتاط آواز میں بلاتی ہے اور بچے بھی اس انداز میں محض اس کی توجہ مبذول کرانے اور ریسکیو کے لیے Squeal (ہلکے ہلکے چیخنا) کرتے ہیں۔ہم ماں بیٹے دونوں ایک دوسرے کی تلاش میں اس وقت بالکل ویسے ہی ہیں۔ احتیاط اور اجتناب کا ہر خطرہ ٹل گیا ہے۔

مجھے اندازہ ہے میرا بدن ایک ایسی صنعتی بھٹی (industrial furnace)جیسا ہے جسے جلنے میں بہت دیر لگتی ہے۔ اسے ایک دم جلایا بھی نہیں جاسکتا ۔ چار سو ڈگری پر جاکر بدن میں آگ کی پھنکار سے شوں شوں کی صدائیں بلند ہوتی ہیں۔وجدان اور سعید دونوں کے ساتھ رہ کر اس سے بھی بڑھ کر انگلستان میں گڈی اور اس کی بار میں حرکتوں کی وجہ سے میں نے اپنی جسمانی اور ذہنی تربیت ایسی کرلی ہے کہ جنسی ترغیب محسوس کرنے کے لیے مجھے کوشش کرنا پڑتی ہے۔اسی لیے میں جب جب اس کے پاس بیٹھی ہوں میرے بدن نے ہلکی ہلکی آگ پکڑی ہے۔مجھے بخوبی علم ہے کہ یہ بھی Pre Nupitals (شادی سے پہلے طے شدہ طلاق کی صورت میں مال جائداد اور اخراجات کی تفصیلات)کی طرح کا شاید پری۔ ہنی مون پیریڈ ہے۔ وہ مجھے یہاں سوئزر لینڈ کے مالیاتی نظام اور اردو شاعری میں امرد پرستی(Gay Preferences) کے رجحانات پر بحث کرنے تو لایانہیں۔

میرے ا ونی ٹاپ سے نیچے ادھر اُدھر پھیلے کوٹ کے درمیاں چھ انچ ننگے پیٹ پر ٹھنڈی  ہوا کی گُد گُدی مجھے اچھی لگ رہی ہے۔میری ناف سے لگی گھنٹی کی آواز بھی مجھے سنائی دیتی ہے۔ایک گھر کے بڑے سے کمپاونڈ کے باہر بہت مضبوط شہتیروں کی باڑھ ہے۔میں وہاں بیٹھی تو ارسلان نے کمر تھام کر اتار دیا ۔دور گھر کی بالکونی میں ایک بڑا سا گریٹ ڈین لپک رہا ہے۔کچھ دور چلے تو راہ میں ایک درخت ایک بینچ رکھی مل گئی ، اس پر بیٹھی تو چاند کا نظارہ صاف دکھائی دے رہا ہے۔اچھا ہے اونچے نیچے راستوں کے اس جال سے تمام ریستوراں پشت پر اوپر کی طرف ہیں۔

چاند اور تنہا بینچ
دستی آئینہ
نیلم کی چولی ہم جولی
بات اس رات کی

وہ مجھے وہاں بٹھا کر کافی لینے چلا گیا ہے۔ اس ماحول میں تنہائی کے یہ دس منٹ مجھے درکار تھے۔میں نے اسی وقت فیصلہ کیا ہے شادی چاہے کچھ بھی ہو میں شوقی سے ہی کروں گی۔میرے ابو خوش ہوجائیں۔ دادا سے ملی، ابو کی جو زمینیں پھو پھو نے ہتھیا لی تھیں وہ میں شوقی کے ذریعے قانونی طور پر حاصل کروں گی۔بچے ارسلان کے پیدا کروں گی۔اعلیٰ آئی کیو، شائستہ ، ہائی بریڈ والا، اربن جین پول ،آپ کہیں گے Simply Gross(بے حد فضول)، میں نے اب آپ کے ساتھ اپنے سیکرٹ شیئر  کیے ہیں تو ایسا تو نہ کہیں۔اتنا حلال حرام کا خیال ہے تو یہ جو محمد بن قاسم سے بابر تک یعنی1526 میں اور نادر شاہ درانی نے مارچ1739 تک دہلی پر دور سے آکر آکر حملے کیے تو ان کے مقامی عورتوں سے مراسم بھائی بہنوں والے تھے۔میں پاور پالیٹکس میں ہوں۔ میرا بدن۔ میری مرضی۔۔ وسط ایشیا سے لوٹ مارکرتے آنے والے فاتحین کے حرام کے بچے تو تحفے جان کر گلے لگالیے۔انگریز آئی سی ایس افسروں کو جو مقامی جاگیردار ڈالی پیش کرتے تھے اس میں سال بھر کے لیے غلہ،ملازم مویشی اور اپنی برادری قبیلے کی حسین عورتیں شامل ہوتی تھیں۔وہ جو یہ قنچے جیسی آنکھوں اور دمکتی جلد والے بچے گلیوں میں مارے مارے پھرتے ہیں اس پر تو آپ کو کبھی کوئی اعتراض نہ ہوا۔مجھ غریب پر تلواریں کیوں سونت لیں (سونت =حریف کی ٹانگوں کے درمیان سے تلوار کا وہ بھرپور وار جو بدن ناف تک کاٹ کر رکھ دے)۔بس کریں اب بہت ہوگئی۔آپ کو کیا پتہ سیاست اور معاشیات،طاقت کے بستر میں گھس کر بہت من مانیاں کرتے ہیں۔شیوا جی کے اورنگ زیب کے خلاف لڑنے والے کئی سپہ سالار مسلمان اور محمود غزنوی کے سومنات پر حملہ کرنے والے سات کمانڈر،ہندو تھے۔

اس خوشگوار تنہائی میں یہ دو بڑے فیصلے پہلے پانچ منٹ میں ہوگئے۔ایک چھوٹا سا فیصلہ یہ بھی ہوگیا کہ میں اوشا کو اپنے پاس کہروڑ پکا لے جاؤں گی۔ اس کے بیٹے ماہر کے بارے میں مجھے یہ شبہ ہے کہ وہ بھی ارسلان کا بیٹا ہوسکتا ہے۔میں اس سے ملی نہیں ہوں۔یہ تین بچے Men of The House of Neelma ہوں گے۔ اچھے اسکولوں میں جائیں گے۔اوشا میری ناہید خان ہوگی(سابق وزیر اعظم بے نظیر مرحوم کی کنیز خاص)۔یہ ڈھائی فیصلے،تین منٹ میں ہوگئے۔ ایک منٹ میں ایک بھیانک منصوبہ بھی بنایا مگر میں وہ ابھی آپ سے شئیر نہیں کروں گی۔میں نے چاند کو دیکھ کر باقی دو منٹ دعا کی۔ باقی چار منٹ میں ،مَیں نے Bridal Suite(حجلہء عروسی) کا منظر نامہ سوچا۔سہاگ رات ہے گھونگٹ اٹھا رہا ہوں میں، والا۔

پاکستان آنے کے بعد اب تک میں نے زندگی کے کل تین بڑے فیصلے کیے ہیں، ڈھائی تو میں نے بتادیے۔ باقی آدھا تو آپ کو پتہ ہے نہ بریگیڈئیر ہدایت سے میں نے قومی اسمبلی کی خواتین کی مخصوص نشست والا معاملہ کیسے طے کردیا۔

کافی پی کر ہم نے کچھ دیر باتیں کیں۔میں نے ہی کہا مجھے ہوٹل چھوڑ کر آؤ۔اس وقت سوا نو بجے ہیں سوا دس بجے کمرے پر آنا میں دلہن بن کر بیٹھوں گی۔شادی ایجاب و قبول ہے۔گواہ مولوی احسن عمل ہیں،لازم نہیں۔کمرے میں آکر کوئی سفید کرتا پاجامہ پہن لینا۔تمہاری دلہن اس میں بھی خوش ہوجائے گی۔سلامی کے لیے کچھ خریدنے کی ضرورت نہیں۔نواب ارسلان آغا آپ کی اس ناچیز کنیز کے پاس اللہ کا دیا سب کچھ ہے۔وہ بس نگاہ کرم کی بھوکی ہے۔ ایک لفافے میں کچھ رقم ڈال لینا۔ یہی تمہارا مہر معجل(وہ مہر جو فوری ادا کیا جائے) بھی ہوگا اور سلامی بھی۔اس سے پہلے چھونے کی اجازت نہیں ہوگی۔مجھ سے آج رات کوئی سوال جواب نہیں ہوگا۔ڈن۔ہاں میرے پاس دو ساڑھیاں ہیں ایک نیلی شفون کی بلاؤز بھی نیلا پیلا۔ایک سلک کی جنگل گرین بلاؤز نارنجی گلابی ڈروریوں والا۔ ایجاب و قبول کا منتر آپ نے پڑھنا ہے۔آرسی مصحف ہوگا۔انگوٹھی ساتھ کی میز پر آئینے کے اوپر رکھی ہوگی۔ یہ دستی آئینہ میری نانی کا ہے۔میرے پاس ایک عرصے سے محفوظ ہے۔گڈو کو جنگل گرین ساڑھی پسند ہے سو اس پر اتفاق ہوگیا۔یہ راجھستان سے گڈی لائی تھی۔بلاؤز بھی کمال ہے۔اس کے کپس پر پھول بنے ہیں جس کے وسط میں گلابی سیکونیس کی پتیاں بنی ہیں۔

ساڑھی اور چولی بلاؤز کا ایک دفعہ  ذکر   چلا تھا تو میں نے دیکھا کہ ذکر کرتے وقت امیر مقام کے ہونٹوں پر ہوس کے قطرے، پسینے کی صورت میں دمک اٹھے تھے، ہونٹوں پر زبان بھی پھیری تھی۔یہ باڈی لینگویج میں، جنسی لبھاؤ کی نشانی ہے۔یور ٹائم اسٹارٹ ناؤ۔ گو بابا گو کا نعرہ جو بے نظیر صدر غلام اسحق خان کے لیے لگاتی تھیں وہ لگا کر میں نے چابی انہیں پکڑا کر کمرے کا دروازہ بند کردیا۔اتنا ضرور جتایا کہ جمیلہ کے پاس مت جانا۔

آپ اگر خود دلہن بنی ہیں یا آپ نے کسی دلہن کو ویسے ہی دیکھاسجایا یا برتا ہے جیسے نارمل دولہا لبھاؤ سبھاؤ کے لیے کرتے ہیں تو میں نے سب کچھ وہی کیا جو اپنی تیاری کے لیے ایک دلہن کرتی ہے۔ابٹن،ہلدی وہاں لیساں میں کہاں۔فضول باتیں نہ کریں۔

کمرے کے ٓائینے میں خود کو مکمل عریاں دیکھا تو سعید کی محرومی اور اپنی بدقسمتی پر بہت رونا آیا۔کیا تراوٹ،نکھار، سنگھار اور سپردگی تھی۔مچلتے دریا کی طغیانی جیسی، اڑتے بادل کی روانی جیسی۔ڈربی جیتنے والی گول پوسٹ کے پاس سے گزرتی عربی گھوڑی جیسی، جنس و لگاوٹ کی دھول اڑاتی۔اپنا سراپا دیکھ کر یوں بہت ناز آیا۔ لمحہ بہ لمحہ حق بہ حق دار، رسید کا احساس ہے۔

میں شوقی کو حق دار نہیں مانتی۔جس مرد میں آپ سے پیار جتانے اور آپ پر محبت میں نگاہوں سے بے باک دست درازی کی ہمت نہ ہو وہ اس بدن کا حق دار کیسے ہو۔عورت تو مملکت ہے اسے تلوار، دولت یا ذہانت سے جیتنا ہوتا ہے۔ رشتہ داری میں ملی عورت تو بن خوشبو اور استری کا بے ناپ کا لباس ہوتی ہے۔اس میں مرد کا کیا کمال۔میں اس کے ساتھ چار گھنٹے تک اسلام آباد میں گھومی تھی، اس کی کار میں۔ مجال ہے ایک دفعہ بھی مجھ سے شادی کا پوچھا ہو۔ مجھے نگاہ بے باک و طلبگار سے دیکھا ہو۔ایک بول ایسا کہا ہو کہ جس سے مجھے جذبات کو معمولی سی گدگدی محسوس ہوئی ہو، چھونا چومنااور گلے لگانا تو دور کی بات ہے۔میں آپ کو بتادوں زندگی میں عورتوں کے کسی نہج پر معاملات ایسے ہوتے ہیں کہ بزم مئے کی طرح یہاں بھی کوتاہ دستی باعث محرومی ہوتی ہے۔ جو بڑھ کے خود اٹھا لے ہاتھ میں مینا(جام ) اسی کا ہوتاہے۔ دل میں آیا کہ اسے کہوں ارے او شکیل کہاں ہے تو۔۔تیرا جام لینے کوبزم میں کوئی اور ہات بڑھا نہ دے۔

میرے دولہا کے آنے کا وقت ہوگیا ہے میں نے اپنی آرتی اتاری۔ ایک کالا سا داغ آئی لائنر سے نظر بد سے بچنے کے لیے ایک بازو کے نیچے لگالیا ۔ اپنے بیٹے تماثیل آغا کا نام ایک بریسٹ پر اور دوسرے بریسٹ پر اس کے امی ابو کے نام کے درمیان+ کی علامت سے لکھ دیے ہیں۔

مجھے دروازے پر دستک سنائی دی میں سنبھل کر گھونگٹ ڈال کر بستر پر دلہن بن کر بیٹھ گئی۔حضرت شاور لیتے ہیں اور مجھے باتھ روم کے کرٹن سے جڑا ایک عریاں مردانہ ہیولا مقابل آئینے میں دکھائی دے رہا ہے۔ایسا ہیولہ جس کی گرمی اتنے دور سے اس ٹھنڈے کمرے میں مجھے ناف کے اردگرد محسوس ہوتی ہے۔ اپنے اس دولہا کے  اس اہتمام کے یہ پانچ منٹ مجھ پر بہت گراں ہیں۔بارہ سال کی عمر میں جوانی کی پہلی یلغار سے اٹھائیس برس کے سولہ سال پر بھاری۔میرے نادان سیاں بڑے بے ایمان سیاں۔گھونگٹ میں مجھے کیوں پھونک دیا۔ہوٹل کے دو عدد لفافوں میں کچھ رقم رکھی گئی ہے۔یہ میں نے آئینے میں دیکھا ہے۔فیشن انڈسٹری سے وابستگی ،سعید کے گھر میں رہنے ،بارز میں گڈی جیسی بے باک اور unpredictable عورت کی وجہ سے مجھے آئینوں کا استعمال خوب آتا ہے۔

جھیل۔املی شیل
لیساں کی وہ رات
نیلماں جیسے لوگ لیساں میں
ماؤنٹ اطلس ۔مراکش

بہت سلیقے سے میرے پاس آن کر بیٹھے ہیں، میرے پیروں سے کچھ دور۔یہ بھی دیکھ لیا ہے کہ آئینہ کہاں ہے۔انگوٹھی کے بکس کے نیچے دو لفافے بھی جمالیے ہیں۔بہت سلیقے سے پوچھتے ہیں نکاح کی اجازت ہے۔میں نے گھونگٹ میں ہی سر ہلایا تو حضرت یوں گویا ہوئے”آپ نیلماں خاتون بنت ظہیر احمد سکنہ کہروڑ پکا ضلع لودھراں۔پنجاب، پاکستان کو مجھ ارسلان آغا ولد تیمور آغا سے بعوض پانچ سو سوئس فرینک مہر معجل عندالطب بن گواہان یہ نکاح قبول ہے۔ میں نے کہا جی قبول ہے۔یہ ہی کچھ الفاظ مزید دو دفعہ دہرائے گیا۔بہت آہستگی سے مبارک ہو کی صدا لگائی گئی۔میں نے بھی ہونٹ بھینچ کر ہنسی روک کر ”آپ کو بھی خیر مبارک“کہا۔

سب سے پہلے مہر کا لفافہ جس پر اردو میں مہر لکھا ہے مجھے عطا کیا گیا۔انگوٹھی بھی پہنائی گئی۔سفائیر کی قیمتی انگوٹھی۔بہت آہستگی سے،گھونگٹ اٹھائے بغیر،میرے ذرا اور قریب آن کر دستی آئینہ میری گود میں رکھ دیا۔میرا دل چاہا کہ میں اس آئینے میں پوری سماجاؤں۔ ان نگاہوں نے میرے پورے وجود کو اپنی آ نکھوں میں سمیٹ لیا۔ کسی عورت کے لیے ان خاص لمحات میں مرد کی نگاہوں کی تاب لانا کتنا مشکل ہوتا ہے۔وہ ایک لمحہ ہوتا ہے جو عورت سب کچھ سونپ رہی ہو اور وصول کرنے والے کا دل ہی نہ بھرتا ہو۔ اس ایک لمحے سے زیادہ مرد مجھ پر کبھی حاوی نہیں ہوا۔میرا دل اچھل کر حلق میں آرہا ہے۔میرے پیٹ کے اندر کے اعضا میں ایسی خنک ہوا چل رہی ہے جس کا تضاد یہ ہے کہ وہ ان شعلوں کو آتش چنار(Pine Fire) کی مانند بھڑکا رہی ہے جنہیں میں نے بارہ سال کی عمر سے سینت کر رکھا ہے۔یا اللہ یہ چپ رہا تو میں پھٹ جاؤں گی۔

دھل رہے ہیں جسم و جاں کے عذاب

آہستہ سے کہنے لگے ایک سوال پوچھ لوں۔میں نے نگاہیں نیچے کیے اپنے نیم عریاں سینے کا جائزہ لیا تو جیسے کسی دور افتادہ جھیل کی سطح کو ہوا کے جھونکے چھیڑیں،ویسی تھرتھراہٹ تھی۔کیا آئینہ بھی میرے سینے پر ہلکورے لیتی ان لہروں کا شمار کررہا ہے۔بہت آہستہ سے سر ہلایا تو کہنے لگے آپ بچپن سے اتنی ہی حسین تھیں یا اسکی پول ائر پورٹ پر اس فلائیٹ کو مس کرنے کے بعد سے یہ حال ہواہے۔ میں نے اپنی سنجیدگی کو دل میں کوسا۔ I can’t keep it going for whole night. Not me.(یہ ساری رات نہیں جاری رہ سکتا یہ میرے بس میں نہیں) میں نے بمشکل اپنی ہنسی ضبط کرتے ہوئے کہا” دراصل وہ کیا ہے قبلہ بڑے نواب صاحب یہ سب قصور آپ کے اس علی گڑھ والے مہاجر کرتے پاجامے کا اور اس کے ریشمی کمر بند کا ہے۔ کہنے لگا نیلم خاتون ہم تو وہ مہاجر ہیں جو سب کچھ لٹا کر آپ کے دامن میں پناہ گزیں ہوئے ہیں۔پاجامہ کرتا تو ہمیشہ کا بے گھر ہے۔ جانے کتنی دفعہ اترا اور پہنا گیا ہے۔

اب ہم کیوں کب ایک ہوئے،کیسے بے لباسی کا آغاز ہوا۔ اس کو یہیں چھوڑ دیں۔مجھ سے سینے پر لکھا انگریزی کا حرف دیکھ کر پوچھتے ہیں یہ ٹی کیا ہے۔تمثال ا ٓغا۔ ولد ارسلان آغا ولد تیمور آغا۔ میں نے ایک چھوٹا سفید تولیہ بستر کی چادر پر بچھا لیا ہے۔مراکش میں املی شیل کے مقام پر وہ کوہ اطلس میں بسے بربروں کی وہ بے ہودگی تو یاد ہے نا، یہ ان کے ہاں کلچرلNorm (روایت) ہے۔ان کی بڑی بوڑھیاں جو نوبیاہتا دلہن کو سمجھاتی ہیں کہ۔ نی شادو، بے خبرے، ماں صدقے، جم کے رہنا،منہ  میں رومال رکھنا۔ ،وہ آج تمہیں تنکے کی طرح توڑے گا۔ صبح دلہن اور دولہا کے زیر استعمال وہ سفیدچھوٹی سی  چادر لہراتے ہیں جس پر خون کے دھبے پڑے ہوتے ہیں۔ ولیمہ برپاہوتا ہے۔فکر نہ کریں وہ ہم سے اچھی عربی بولتے ہیں اور مسلمان بھی ہیں کوئی ملاوٹ بھی نہیں کرتے اور مسجد کے باہر سے جوتیاں اور گٹر کے ڈھکن بھی نہیں چراتے۔

رات کا پچھلا پہر ہے میں اپنی عریانی کمبل میں سمیٹ کر اوڑھ کر باہر بالکونی میں چلی آئی۔برف نکال کر وہسکی سلگا لی ہے۔حضرت اپنابیٹا میرے حوالے کر کے سوتے ہیں۔مجھے نہیں لگتا کہ ان کی نیند پر بیٹے کے رونے کا اسے دودھ دینے کا کوئی اثر ہوگا،اس کو چینج کرنے کی زحمت بھی نہیں فرمائیں گے۔ خیر شوقی ہے نا۔ ہم سیاست داں بہت بے ضمیر ہوتے ہیں۔
مجھے اپنا ٹوٹنا بکھرنا بھی یاد ہے وہ کالج کی لڑکیوں کا اپنی کسی دوست کی شادی پر کورس میں کینٹین میں بیٹھ کر یہ مشورہ دینا جو املی شیل کی بربر عورتوں کا ہوتا تھا۔ میں نے یہ جملہ عام کیا ہے مراکش
کی املی شیل کا ان لودھراں کی لڑکیوں کو کیا پتہ۔یہ تو سب گدھی کمہار کی تھیں انہیں رام سے کیا کام۔ ہم اس مجوزہ دلہن سے کہتی تھیں۔ نی شادو، بے خبرے، ماں صدقے، جم کے رہنا،منہ  میں رومال رکھنا۔ ،وہ آج تمہیں تنکے کی طرح توڑے گا۔ وہاں املی شیل میں تو دلہن اور دولہا کے زیر استعمال وہ سفیدچھوٹی سی  چادر لہراتے ہیں جس پر خون کے دھبے پڑے ہوتے ہیں پھر ولیمہ برپاہوتا ہے۔اٹھتے وقت میں نے وہ ہوٹل کاHand Towel املی شیل والیوں کی نشانی کے طور پر اٹھا کر بیگ میں چھپالیا ہے۔

برف کی ایک تازہ اضافی تہہ کی صورت میں سفید چادر پر مزید روئی بچھ گئی ہے۔ میں بالکونی سے باہر اتر جاتی ہوں۔کمرہ گراؤنڈ فلور پر ہونے کی باعث یہ حصہ ایک پہاڑ کے سامنے میدان میں ہے۔نرم برف پر عریاں لیٹنا آسان نہیں۔دور دور آدم اور آدم زاد کا نشان تک نہیں۔آبادی دوسری طرف ہے۔اپنی آگ کا موازنہ انیس و دبیر اس برفیلی زمین کی ٹھنڈک سے کیا۔سولہ سال کے صبر نے میری ہڈیوں کا سرمہ بنادیا۔جب کچھ دیر کے بعد مجھے سردی لگی تو میں کمرے میں آ کر آتش دان کے سامنے  بیٹھ گئی۔بدن نارمل ہوا تو ایک جام اور بھرا اوردوبارہ بالکونی میں آن کر بیٹھی تو دوسرے گلاس کے پہلے گھونٹ نے ایک عجب امنگ بھری اداسی طاری کردی۔ آنسو تھے کہ  بہے چلے جاتے تھے۔ پتہ ہی نہ چلا کہ کب اٹھے ہیں خاموشی سے شاور بھی لے لیا ہے اور میرے پیچھے آن کر کھڑے ہوگئے ہیں۔ مجھے تھام کر سیٹ سے اٹھایا مجھے اشکبار دیکھ کر شرمندہ ہیں۔انہیں لگا بستر میں کوئی زیادتی ہوگئی ہے۔میری چیخ سے یقیناً وہ پرندے جو درخت کے گھونسلے چھوڑ کر اڑگئے ہوں گے وہ واپس آگئے ہیں۔کہتے ہیں کہ میرے کنوار پن کا انہیں اندازہ نہ تھا۔دو دفعہ سوری کہا تو میں نے کہا اگر میں بتاتی کہ میں کنواری ہوں تو کیا آپ نے باز آجانا تھا۔

کہہ رہے ہیں اندر آجاؤ۔سردی لگ جائے گی۔میں نے کہا نہیں نیند نہیں آرہی رات سے میرا estrus(ایس ٹرس، میمل  جانوروں کا جنسی دورانیہ برائے تولید) شروع ہوگیا ہے۔یہ بلیوں کی فیملی میں دو سے تین ہفتے کا ہوتا ہے۔اس سے سمجھ میں آجائے گا کہ ہم نے اپنے اس ہنی مون پر کیا کچھ کیا۔

میری پیاس کا کچھ عجب عالم ہے۔میں ذرا سی بھی مہلت ملتی ہے تو اسے بستر میں گھسیٹ لیتی ہوں۔لندن میں مجھے لگا کہ تھک بھی گیا ہے۔

انٹر لاکن میں پیرا گلائڈنگ
انٹر لاکن میں پیرا گلائڈنگ

مجھے انگریزی میں INSATIABLE (اردو میں اسے نہ بجھنے والی پیاس سمجھ لیں) کہتا ہے۔ انگریزی کا ایک اور لفظ بھی بہت لٹک سے استعمال کرتا ہے۔ وہ ہےLethal(ہلاکت آمیز)۔یہ اس وقت اس کے لبوں پر آتا ہے جب میں دوران وصال اپنی پوری آنکھ کھول کر اسے دیکھتی ہوں۔ میری اپنی کیفیت بے یقینی، تشکر اور جیت کے ملے جلے جذبات کی ہے۔اس کا اپناکیا عالم ہے This is not my problem۔جنوبی پنجاب میں ہماری پارٹی کے گروپ کے ایک ممبر کہہ رہے تھے اپنا کام پورا تو بھاڑ میں جائے نورا۔ وہ تو بھاڑ کی جگہ ماں کی جنسی فعل والی گالی استعمال کرتے ہیں۔ان بے ہودہ لوگوں کو یہ علم نہیں کہ خواتین کی موجودگی میں گندے الفاظ کا استعمال نہیں کرتے مگر ان کے باپ نے ان کی والدہ صاحبہ کے سامنے شاید یہ احتیاط نہیں کی۔

بستر میں میری آنکھ کھلی ہو تو اس کی کوشش ہو تی ہے کہ چوم کر بند کردے۔ میں نے کہا نا اسے نوکر شاہی والے حربے بہت آتے ہیں۔ دو باتیں اور تاکہ آپ کو بھی اگر اپنی زندگی میں کبھی موقع  ملے تو مفت کی یہ ٹپ استعمال کرسکیں۔ایک تو یہ کہ اسے بدن کو برتنا آتا ہے۔ابتدائی چند مواقع کے بعد میرا موڈ ہو تو یہ بدن اس کے لیے استاد ذاکر حسین کا طبلہ ہوتا ہے جس پر وہ تین تال دھا دھن ، دھن دھا۔دھا تن،تین تا۔ تا دھن ، دھن دا بہت لاؤ لٹک سے بجاتا ہے۔ دوسری رات سے میرا بھی یہ عالم ہوچلا تھا۔۔
کہ میں بھی استاد ذاکر حسین کے ساتھ پنڈت شیو شنکر شرما کی سنتور پر جگل بندی جسے انگریزی میں ( entwined twins) کہتے ہیں اس میں لگ لیتی ہوں۔ سیکس کے چکر میں بھول گئی ہوں کہ دوسری کیا بات تھی،یہ زیادہ رومانٹک بات ہے۔یاد آئے گی تو ضرور بتاؤں گی۔۔۔ہاں ہاں یاد آگئی سیکس اور شراب پی کر آپ ٹن نہ ہوں تو دونوں کا نشہ خام ہے۔

وہ مجھے آپ تم کی بجائے تُو کہنے لگا ہے۔پتہ ہے پہلی دفعہ مجھے کب تُو کہا تھا۔ جب مجھے باہر بالکونی سے اندر لایا تھا۔شاور لے کر آئی تو مجھے بانہوں میں سمیٹ کر باتھ روب کو پیر سے کارپیٹ پر دھکیل کر کہنے لگا ”کتیُّ تو نے مجھے مار ڈالا“۔سچ پوچھیں تو یہ الفاظ میری دوست چھوٹم اور گڈی نے بھی مجھے نہیں کہے۔میں نے پوچھ لیا ’میں تمہاری منسٹر بن جاؤں گی تب بھی مجھے کتی اور توُ کہو گے‘۔ نہیں اس
وقت سب کے سامنے میں آپ کو دیوی جی یا مادام منسٹر کہوں گا۔ویسے کوشش کروں گا ہم بطور وزیر اور سیکرٹری کبھی سرکاری طور پر ساتھ نہ ہوں۔سچ بتائیے کبھی دیکھا ہے اس صورت کا آدمی تم نے۔۔

سوئزرلینڈ میں ہمارا قیام پانچ دن کا تھا۔وہاں ہم نے انٹر لاکن میں پہاڑیوں سے پیرا گلائیڈنگ بھی کی۔میرا Acrophobiaوہاں موجود خاتون انسٹرکٹر کی گفتگو کی وجہ سے اس کی رفاقت میں جمپ کرکے یکسر ختم ہوگیا۔ بہت دل چسپی ہے تو میں آپ کو بتادوں ہم ایک دن جینوا بھی گئے۔دو دن لندن کی بھی سیر کی۔گڈی بھی وہیں آگئی تھی۔۔گڈی کا کہنا ہے کہ میرے لیے اس دنیا میں صرف دو انسان بنائے گئے ہیں گڈو اور گڈی۔وہ میرے مکمل عورت بننے پر خوش ہے مگر بچہ پیدا کرنے کو عجلت پسندی سمجھتی ہے۔وہ نہیں جانتی پاکستان میں در پیش اپنے حالات کے حساب سے میں برف کی کس قدر پتلی تہہ پر چل رہی ہوں۔ شادی بچے سب ایک ٹائم فریم کے حساب سے ہونے ہیں کسی آئیڈیلزم کے تحت نہیں۔ یہ مغرب کے چونچلے ہیں۔

ہمیں اب لندن سے واپس آئے ہوئے تین ہفتے ہوگئے ہیں۔ واپسی کے تیسرے دن پارٹی کے سربراہ سے میری ملاقات ملتان میں ہوئی۔ کرنل مسعود بھی پس منظر میں منڈلاتے تھے۔مجھے زیادہ لفٹ نہیں دی۔ کل ابو کو گھر اپنی بہن کی شادی کی دعوت دینے آئے تھے۔ وہاں بھی مجھ سے زیادہ بات نہیں کی۔ ممکن ہے یہ سب بریگیڈیئر صاحب کی وجہ سے ہو۔ گڈو کا کہنا ہے کہ سول بیوروکریسی اور فوج میں پروٹوکول اور رینکس کا بہت خیال رکھا جاتا ہے۔ ممکن ہے دعوت میں انہیں ہدایت ہوگی کہ فرشتوں کا ساانداز رکھنا ہے۔ ایک دم لو پروفائل۔ کام ہو رہے ہوں،جلوہ دکھائی نہ دے۔ اس پارٹی اجلاس میں بھی آنے والے ان کی ابروئے ناز کے اشاروں پر قدم اٹھاتے تھے۔اجلاس کے بعد ایک بڑی دعوت کا اہتمام ہے۔ پارٹی سربراہ نے جنوبی پنجابElectables کو مدعو کیا ہوا تھا۔ پارٹی لیڈر کی بھی ضد تھی کہ میں صوبائی سیٹ پر ایڈجسٹ ہوجاؤں تو بہتر ہوگا۔
گڈو کو میں نے موقع  پاکر پارٹی سربراہ کی بات بتادی اس نے کمشنر صاحب کے کان میں کچھ کہا تو وہ سوچ میں پڑگئے۔ وہ سربراہ کو کھینچ کر ایک طرف لے گئے اور سرگوشیوں بھرے لہجے میں جانے کیا کہا کہ وہ پارٹی چیف مجھے ایک کمرے میں علیحدہ لے جاکر کہنے لگے ”آپ کو قومی اسمبلی میں لانے کے لیے جن کی جگہ مجھے اپر ہاؤس میں لایا جائے گا۔ اس گروپ کو صوبائی اسمبلی کی ایک سیٹ کے ساتھ ایک وزارت اور ایک ڈی آئی جی بھی دینا پڑے گا۔ دس پندرہ کسٹم، ایکسائز، لوکل گورنمنٹ واسا، واپڈا گیس، زراعت کی نوکریاں بھی۔ وہ ڈاھڈھے لوگ ہیں۔یہ میرے لیے پہلا موقع ہے کہ مجھے پتہ چل رہا کہ اسمبلی کی سیٹوں کے ساتھ بیوروکریسی کی پوسٹیں بھی بانٹی جاتی ہیں۔میری اپنی پوزیشن ابھی کوئی خاص مستحکم نہیں اس لیے ابھی میرے ذہن میں گڈو کے لیے کوئی پوزیشن نہیں یوں بھی وہ بہت مطمئن اور سرشار ہے۔مطمئن اپنی پوسٹنگ سے،سرشار مجھے پاکر۔

ایک ہفتہ تو میں کہروڑ پکا ہی میں تھی۔شوقی اور اس کی امی لاہور سے آئے ہوئے تھے۔شوقی کو یقین سا ہوچلا ہے کہ ہماری شادی ہونے والی ہے۔کسی دن مجھے بس ہاں کہنا ہے۔ بہت فارمل سا ہوگیا ہے۔کیئرنگ بھی۔ یہ پہلی دفعہ ہے کہ اس نے مجھے ہنی بھی کہا اور ہاتھ بھی پکڑا۔جب ملتان کے اس بڑے ہوٹل کی ڈرائیو میں اتر رہی تھی تو مجھے ہاتھ تھام کر کہنے لگا آئی مس یو۔ میں نے بھی کہہ دیا ہاؤ سویٹ۔کچھ دن صبر کرو۔ میں اور میرا سب کچھ تمہارا ہے۔
گڈو ملتان آئے ہوئے تھے۔ شوقی اپنی امی کو ڈراپ کرنے لاہور جارہا تھا تو مجھے ہوٹل ان کے پاس ملتان چھوڑتا ہوا چلا گیا۔بے چارے کو کچھ پتہ نہیں کہ پیپر پلیٹ میں ہیرے بانٹ رہا ہے۔
میرا ابو اور شوقی سے کہروڑ پکا سے غائب ہونے کا بہانہ یہ تھا کہ پارٹی کے سربراہ کی ہدایت ہے کہ آپس میں پارٹی والوں سے باقاعدہ ملاقاتیں اور تال میل رکھو۔ َ جنوبی پنجاب مشکل ریجن ہے۔رات کو بھی دیر تک ورکنگ پارٹی کے اجلاس رہتے ہیں۔میں ملتان رات رک جایا کروں گی۔ ملتان ہماری بستی سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر  ہے۔

ابو کو اعتراض یوں نہیں کہ کچھ پرانے دوستوں کا اجتماع ہے۔ اسی لیے وہ شام کو اسلام آباد جارہے ہیں۔انکل خواجہ کے ہاں قیام رہے گا۔ میں نے کہا آپ چلے جائیں میں صبح ارسلان صاحب کے ساتھ آجاؤں گی۔۔جیسے جیسے دن گزرتے جاتے ہیں مجھ میں ایک میٹھی سی تھکاوٹ آرہی ہے۔میرا اندرونی ادراک یہ ہے کہ تمثیل میاں پیٹ میں آگئے ہیں۔ میں نے سوچا ہے اپنا پریگننسی ٹیسٹ اسلام آباد، چھوٹم کے ساتھ جاکر کراؤں۔وہ بھی باقاعدہ طور پر سائیں سے انگیج ہوگئی ہے۔ ممکن ہے ایک آدھ ہفتے میں شادی بھی کرلے۔سب ہی جلدی میں ہیں۔ پارٹی کی کلئیرنس مل گئی ہے۔اس کی سینٹ کی سیٹ پکی ہے۔

میں اسلام آباد پہنچ کر چھوٹم کا بہانہ کرکے دو رات کے لیے گڈو کے پاس تھی۔اوشا کو اچھا نہیں لگتا تھا جب کمرے کا دروازہ کھلتا اور میں اپنی بے بی ڈول نائٹی میں ہی لاؤنج میں آجاتی تھی ۔میں نے اسے بتادیا تھا کہ جب تک میں تیار نہ ہوجاؤں باہر کا کوئی مرد اندر نہیں آئے گا۔میں نے کچن کے باہر کھلنے والے دروازے سبز اور سرخ بلب لگادیے ہیں۔سبز روشن ہو تب ہی اندر آنے کی اجازت ہے۔ وہ بھی کچن کے راستے چابی سے اندر آتی ہے۔ماہر تب تک اسکول جاچکا ہوتا ہے۔

ارسلان کو میں نے بتادیا ہے کہ وہ میرے بچے کا باپ بننے والا ہے۔اس نے کہا اجازت ہو تو مولوی صاحب کو بلو ا کر نکاح پڑھ لیں۔ میری ہمت نہیں پڑتی کہ میں اسے بتاؤں کہ اصل قصہ کیا ہے۔

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *