• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • وزیراعظم پاکستان متوجہ ہو!”ضلع کرک کے میگا کرپشن اسکینڈل”۔۔۔عارف خٹک

وزیراعظم پاکستان متوجہ ہو!”ضلع کرک کے میگا کرپشن اسکینڈل”۔۔۔عارف خٹک

تحریک انصاف کو جہاں پاکستانی عوام نے پذیرائی دی وہاں ضلع کرک کے لوگوں نے تحریک انصاف حکومت کو سر آنکھوں پر بٹھایا۔ پچھلے دور پرویزی میں جہاں صوبائی حکومت تحریک انصاف کی تھی وہاں قومی اسمبلی کا سیٹ بھی تحریک انصاف کو دیا گیا۔ ستم ظریفی ملاحظہ ہو کہ بلدیاتی انتخابات میں تحریک انصاف نے مکمل طور کلین سویپ کرڈالا۔ لوگوں کو امید تھی کہ تبدیلی کچھ کرے یا نہ کرے۔ کم از کم کرک کے پیاسوں کو پینے کا صاف پانی ضرور ملے گا۔
کرک کے ناظم عمر دراز خٹک نے سات کروڑ فنڈ جو سائل کنزرویشن نے گاؤں میں پانی کے کچے جوہڑوں کیلئے کمیونٹی بنیادوں پر دیئے۔ وہاں 85 پانی کے چھوٹے بڑے  منصوبوں کو ایک ماہ میں مکمل کرکے اور اگلے ماہ ٹھیکیداروں کو ادائیگی بھی کی گئی۔ یہ الگ بات کہ سائل کنزرویشن کی  کمیونٹی بنیادوں پر ادا کردہ رقم میں بلدیات نے ایک فی صد رقم بھی ادا نہیں کی۔جوکہ سراسر غیرقانونی کام ہے۔

ایک تالاب جس پر مبلغ پانچ سے سات لاکھ کا خرچہ اٹھتا ہے۔ وہاں ایک تالاب پر مبلغ چالیس سے پچاس لاکھ کے اخراجات کی  مد میں ملکی خزانے کو کروڑوں کا نقصان پہنچا  یا گیا ہے۔ ان پچاسی منصوبوں میں تیس فی صد وہ تالاب بھی شامل ہیں جن کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق جو اس مضمون کیساتھ بطور ثبوت منسلک کیے جارہے ہیں، کرک کے صابر آباد، میٹھاخیل، بہافرخیل، لتمبر، جندری، پلوسکہ سر، عیسک چونترہ، نری پنوس، ورانہ، جٹہ اسماعیل خیل، اور غنڈی میراخان خیل جہاں کروڑوں روپے کے تالاب بنا کر حکومت کو بھاری مد میں بیچے گئے۔ وہاں کُرک کا ایگری کلچر فنڈ جو سائل کنزرویشن کو دیا گیا تھا۔ ایک ریاستی جرم کیا گیا ہے۔

پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کوئی سرکاری منصوبہ جو عرصہ ڈیڑھ ماہ میں تیار ہوکر اور بعد از معائنہ پندرہ دن میں متعلقہ ٹھیکیداروں کو رقم ادائیگی کی گئی۔ یقیناً باقی دنیا کیلئے بھی مشعل راہ ہے۔
کرپشن اور اقربا پروری کے  بدترین دور میں جہاں ناظم کُرک ڈاکٹر عمر دراز جنہوں نے14 فی صد نقد کمیشن سائل کنزرویشن کے اہلکار سے لی ۔وہاں کرک کے موجودہ ڈی سی او نے دو فی صد کمیشن ادائیگی پر سارے فنڈز ریلیز کردیئے۔

ستم بالائے ستم کہ موجودہ ناظم عمردراز خٹک نے اپنی صوابدیدی ساڑھے تین کروڑ کے گھوسٹ منصوبے  ،بہادرخیل، دریش خیل اور غول بانڈہ کے نام سے اجرا کی منظوری دی ہے۔ مگر فنانس نے ابھی تک یہ فنڈ ریلیز نہیں کیا۔ یقیناً دس فی صد کمیشن پر اس فنڈ کی ریلیز کرک جیسے پسماندہ ضلع میں کوئی اتنا مشکل کام بھی نہیں ہے۔

میں وزیراعظم عمران خان سے بطور کرک کا باسی اور ریاست کا شہری ہوکر سوال کررہا ہوں کہ آپ کے دور حکومت میں آج بھی میری مائیں اور بیٹیاں سروں پر پانی کے مٹکے  میلوں دور سے بھر کر لاتی ہیں ، وہ آپ کے دورِ  تبدیلی کو کیا   نام دیں؟۔اور میں بطور صحافی آپ کے کارندوں کے ان کرتوتوں کے بارے اور کیا لکھوں؟۔ میرے اپنے الفاظ بانجھ ہوتے جارہے ہیں۔
آپ کی  نیب چوہدری رانا ثناءاللہ کی گاڑی سے کروڑوں کی ہیروئن برآمد کرسکتی ہے ۔مگر صوبہ خیبر پختونخوا  کے جنوبی اضلاع کیلئے نیب اور متعلقہ اداروں نے کیسے اپنی آنکھوں پر پٹیاں باندھی ہوئیں ہیں۔ جناب والا ہمارے بلدیاتی نمائندوں کو ذرا سا جھاڑ کر تو دیکھیں ہر ٹوپی ہر دستارو جبہ  سے  کرپشن کی ہزاروں جونکیں   چمٹی  دیکھیں گے۔

مقبوضہ کشمیر کو ہم پاکستان کا حصہ سمجھتے ہیں اور آپ کو بھی وزیراعظم سمجھتے ہیں مگر وزیراعظم صاحب اس سوال کا جواب آپ کو دینا پڑے گا۔ کرک کی مائیں، بہنیں اور بیٹاں نوحہ کناں ہیں۔اور کپڑوں کے جھولوں میں چارپائیوں سے لٹکتے بھوک پیاس سے بلکتے روتے بچے جن کو مائیں چھوڑ کر میلوں دور پانی کی تلاش میں سرگرداں رہتی ہیں۔ یہ مائیں روز قیامت اللہ کی  نیب میں آپ کے خلاف پٹیشن ضرور دائر کریں گی۔ جس کا حساب کو دینا پڑے گا۔

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *