معجزہ نا گفتنی تھا۔۔۔(8)ڈاکٹر ستیہ پال آنند

آج کل مَیں
دست کش رہتا ہوں دُخت رز کی بد پرہیزیوں سے
سارا ’کٹناپا‘ مرا ، ادمات ساری
بے حیائی
اب تو ماضی کی حکایت بن چکے ہیں
فیثا غورث*کی رواقیت سے میر ی
پہلے کب یوں دوستی تھی؟
کب تھی زہد و ورع سے صاحب سلامت؟
کب تھی میری آشنائی
توبہ و خفت کے مریل ضابطوں سے؟

جی نہیں، کچھ بھی نہیں تھا ایسا ویسا

رنگ رلیاں
میری تو مشہور تھیں سب دوستوں میں
میں سمجھتا تھا۔۔۔
کہ یہ تر دامنی، بد طینتی
میری وسیع المشربی کا
بے بدل نعم البدل ہے
پانچوں شرعی عیب
جو ناقابل ِ اصلاح تھے، سب ۔۔۔
میری بد چلنی کی جیتی جاگتی تشریح تھے ۔۔۔
اورکچھ نہیں تھے

مَیں، کہ سٹھیایا ہوا اک آدمی،تھا
اور حب ِ ذات کی آلودگی سے
اس قدر لتھڑا ہو تھا
معجزہ ہی کوئی شاید
میرے جیسے منحرف کو
فتنہ و شر سے بچا سکتا تھا ۔۔۔
اور پھر
اک حقیقی واقعے نے
واقعی ثابت کیا اس بات کو یوں
دیکھتے ہی دیکھتے

واقعہ کیا تھا ۔۔۔۔بھلا، کیا واقعہ تھا؟
جس نے ایکا ایک مجھ کو
اس چھلوری زندگی سے
چھین کر واپس نکو کاری کی جانب
کر دیا تھا؟

یاد کچھ آتا نہیں،پر
کچھ وقوعہ تو ہوا تھا ؟
دیوتا شاید تھا کوئی؟
اک فرشتہ ؟ سنت یا اوتار؟ صوفی؟
جس نے مجھ کو
اس رضا جوئی کی خاطر
آسماں سے کوئی سندیسہ دیا تھا؟

جی نہیں، ایسا نہیں تھا کچھ بھی، لوگو

ایک تھیلے میں کرنسی نوٹ تھے
۔۔دو لاکھ سے بھی کچھ زیادہ
یہ وہ بھتہ تھا جو دستوری میں میری
کارخانوں
تاجروں، جوئے کے اڈّوں
مفسدوں سے
اُس مہینے کا بدل تھا

کار میں بیٹھا تو میں نے
یہ نہیں دیکھا کہ تھیلا
سڑک پر ہی گر پڑا ہے
چل دیا تیزی سے فر فر کار دوڑاتا ہوا میں
اور دولت کے نشے میں چور
دوڑاتا گیا میں کار کو
میلوں کی دوری تک ، تو دیکھا
سیٹ پر تھیلا نہیں ہے

گڑبڑایا ۔۔۔ اور پھر تیزی سے لوٹا
دُور سے مجھ کو نظر آیا کہ اک دُبلا سا بچہ
میرا تھیلا سر پر رکھے
عین بیچوں بیچ راہ رو کے کھڑا ہے
آتی جاتی گاڑیاں سب بچ بچا کر
دائیں بائیں سے گزرتی جا رہی ہیں

بے تصنع ،بھولا بھالا
ایک بچہ ۔۔۔
اور میں ؟
خرانٹ، جُگتی،ایک کائیاں ۔۔۔
کیسی نسبت؟
کیا اضافت؟
کیا تقابل؟
کوئی متوازی، اضافی قدر؟
۔۔۔۔جی، کچھ بھی نہیں تو

تھیلا لے کر
میں نے اس کو کچھ روپے دینے کی ٹھانی
جیب تک اس کی نہیں تھی
، ڈالتا بھی کس میں، لیکن
مسئلہ حل تب ہوا جب
اس نے رُک رُک کر بتایا
وہ تو روٹی کے لیے بس دس روپے لے گا
زیادہ کچھ نہیں۔۔۔اور

یوں یہ عقدہ حل ہوا، میری کہانی پڑھنے والو

واقعہ کیا تھا ۔۔۔۔بھلا، کیا واقعہ تھا؟
جس نے ایکا ایک مجھ کو اس چھلوری زندگی سے
چھین کر واپس نکو کاری کی جانب کر دیا تھا؟
دوستو اور پڑھنے والو
واقعہ سچ مُچ یہی تھا!

٭ (Pathagoras)

ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *