تاریخ کی ایک جامع کتاب۔۔۔منور حیات سرگانہ

آج ہی ایک محترمہ نے میری ناقص معلومات میں یہ کہہ کر اضافہ کیا کہ’تمام مرد ٹھرکی ہوتے ہیں۔۔

میں پہلے تو انگشت بدنداں ،حیران و پریشان رہ گیا کہ اتنے اہم معاملے میں میری معلومات نہ ہونے کے برابر کیوں ہیں۔پھر اپنی کم علمی پر کف افسوس ملتا ہوا بھاگم بھاگ عاشق میاں کی ‘آنہ لائبریری’میں پہنچا،جو ان کے کریانے کی دکان کے پچھواڑے میں قائم تھی۔جہاں،کرم خوردہ گندم،سوکھی روٹیوں،خالی بوتلوں اور کالے چنوں کے ساتھ ساتھ ان اہم موضوعات پر نادر کتب اور مخطوطات کا ذخیرہ ایک ڈھیر کی صورت پڑا ہوا تھا۔میں نے جلدی جلدی کتب کھنگالنا شروع کیں۔ان میں’ رہنمائے عاشقاں ‘از قلم عاشق بھائی،محبوبہ کو رام کرنے کے سو طریقے،دیسی کاما سوترا،کوک شاستر،جو میں نے عاشق بھائی سے نظر بچا کر فوراً اپنے نیفے میں اڑس لی ،محبت کے لازوال خطوط اور میری مطلوب کتاب ‘ جامع تاریخ ٹھرکیاں’ میرے ہاتھوں میں تھیں۔

میں نے باقی کتب وہی رکھ کر آخری کتاب اٹھائی اور عاشق بھائی کو دس روپے کا نوٹ دے کر دکان سے نکل کر سیدھا گھر پہنچا۔کمرے میں بیٹھتے ہی کتاب کھولی۔کتاب کے پیش لفظ سے ہی اندازہ ہو گیا کہ یہ بیماری تو ازل سے مردان ِ کار کو لاحق رہی ہے۔کتاب کے مختلف ابواب تھے ،جن میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی مشہور شخصیات کے ٹھرک پن پر سیر حاصل بحث کی گئی تھی۔بلکہ کئی مفید دریافتوں اور نئی ایجادات کا سہرا بھی اسی نیک خصلت کے سر باندھا گیا تھا۔پہلا باب سائنس دانوں کے بارے میں تھا۔
میں نے غور سے پڑھنا شروع کیا۔

مشہور سائنس دان البیرونی کے بارے بتایا گیا تھا،موصوف آتی جاتی خواتین کو اکثر چھیڑا کرتے تھے،ان کی اس عادت کی وجہ سے محلے داروں نے تنگ آکر ان کو محلے سے نکال دیا تھا،جس کے بعد وہ محلے کے باہر رہنے لگے اور ان کا نام البیرونی پڑ گیا۔حکیم بو علی سینا ہمیشہ لڑکیوں کے مدرسوں سے باہر بو سونگھتے ہوئے پائے گئے،اور اپنا نام ہی بو کروا بیٹھے۔نیوٹن پڑوسیوں کی دیوار پھاندتے ہوئے سر کے بل زمین پر جا گرے تھے،جس کی وجہ سے کشش ثقل کا قانون دریافت ہو گیا،سیب والی کہانی بعد میں اپنی شرمندگی کو چھپانے کے لئے گھڑی گئی۔

قبلہ گراہم بیل کبوتر کی ٹانگوں سے اپنے محبت نامے باندھ کر اپنی محبوبہ کو بھیجتے تھے،ایک دن کبوتر محبوبہ کے بھائیوں نے پکڑ لیا،اور بھون کر کھا گئے۔گراہم صاحب کو جوتے الگ سے پڑے ،سو اس دن کے بعد ان کا کبوتروں اور محبوبہ کے بھائیوں دونوں پر سے اعتبار اٹھ گیا،اور اپنی ضرورت کے پیش نظر ٹیلی فون ایجاد کر ڈالا۔رائٹ برادران شروع دن سے ہی لفنگے تھے۔پرائے گھروں ،خصوصاً نہاتی ہوئی لڑکیوں کے باتھ روم میں جھانکنے کا شوق رکھتے تھے،سو اسی تانک جھانک کی عادت کی وجہ سے جہاز ایجاد کر لیا،اور شہرت الگ سے سمیٹی۔قبلہ ہنری فورڈ اپنی سائیکل پر سوار اپنی محبوبہ کے دروازے کے سامنے سے گزرتے ہوِئے اپنا محبت نامہ پھینک کر رفو چکر ہونا ہی چاہتے تھے،کہ اسی اثنا میں محبوبہ کا جنگلی سانڈ جیسا بھائی اپنی ہاکی اٹھائے دروازے سے برآمد ہوا۔ہنری صاحب نے گھبراہٹ سے تیز تیز پیڈل چلانا شروع کیے،مگر اسی وقت ان کی سائیکل کے کتے فیل ہو گئے،اور وہ ہوا میں پیڈل مارتے ہوئے وہی پر گر گئے۔کمر پر لگنے والے ہاکی اسٹک کےزخموں کے ٹھیک ہونے سے پہلے ہی انہوں نے موٹر کار ایجاد کر ڈالی۔اس سے آگے کئی نامی گرامی سائنس دانوں کا احوال درج تھا۔لیکن میں نے کتاب کا دوسرا باب کھول لیا،جو کہ تاریخ کے مشہور حکمرانوں اور سیاستدانوں کے بارے میں تھا۔

مغل اعظم یعنی شہنشاہ اکبر کے بارے میں یہ انکشاف ہوا کہ ،خود بھی انار کلی پر نظر رکھتے تھے ،اور شہزادہ سلیم اور انار کلی کی محبت میں ان کا کیدو کا کردار محض جذبہ رقابت کی وجہ سے ہی تھا۔شہزادہ سلیم کے بارے میں لکھا تھا کہ محل کی اکثر کنیزوں اور دو تین خواجہ سراوں پر بھی لائن مارتے تھے۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ نے تو پیدا ہوتے ہی  اپنی دایہ  کو آنکھ مار دی تھی، کمسنی کی اس غلط کاری کی وجہ سے ان کی وہ والی آنکھ مستقل چپک گئی تھی،جس کی وجہ سے مہاراجہ ساری زندگی اپنی سبھی رعایا کو ایک ہی آنکھ سے دیکھتے رہے۔

نپولین ہمیشہ نپول،نپول پکارتا رہتا تھا،حالانکہ اس وقت ربر سے بنی ہوئی چیزیں دستیاب ہی نہیں تھیں۔ چرچل تو کئی بار فرط جذبات سے اپنی استانی سے بغل گیر ہو جاتے تھے ۔اور ہٹلر بارہا غیراخلاقی حرکات کرتا ہوا پکڑا گیا۔آخری سویت صدر گوربا چوف بھری محفل میں ایک حسینہ کو چھیڑ بیٹھے تھے،جس نے اپنے سینڈل سے ان کی دھلائی کر دی تھی،اور وہ نہ صرف یہ کہ اپنے سر کے بالوں سے محروم ہو گئے تھے،بلکہ ایک آدھ سینڈل کا نشان تو ان کے سر کے اگلے حصے پر ہمیشہ موجود رہا۔

آ گے اور بھی کئی حکمرانوں اور سیاست دانوں کے کالے بلکہ گلابی کرتوتوں کے بارے میں سنسنی خیز انکشافات تھے،جبکہ کتاب کے اگلے ابواب،شاعروں ،موسیقاروں،مصوروں،استادوں اور فنکاروں کے ایسے ہی کارناموں اور انکشافات سے بھرے ہوئے تھے۔لیکن میں نے اتنا ہی پڑھنے کے بعد کتاب سختی سے بند کردی۔اٹھ کر پانی کا گلاس پیا اور محترمہ کے علمی تبجربے کا قائل ہو گیا۔

منور حیات
منور حیات
ملتان میں رہائش ہے،مختلف سماجی اور دیگر موضوعات پر بلاگ لکھتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *