• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • پلاسٹک بیگز پر پابندی اور حکومت کی ذمہ داریاں ۔۔۔ عبدالحنان ارشد

پلاسٹک بیگز پر پابندی اور حکومت کی ذمہ داریاں ۔۔۔ عبدالحنان ارشد

وزیرِ مملکت برائے ماحولیات محترمہ زرتاج گل صاحبہ نے ابتدائی طور میں دارالحکومت اسلام آباد میں پلاسٹک بیگ جس کو ہم عام زبان میں شاپر کہتے ہیں پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ اب کوئی بھی شخص یا دوکان پلاسٹک کے بیگ میں سامان کی ترسیل نہیں کرے گا۔ کیونکہ پلاسٹک بیگ  ماحول پر  بے شمار اور نہایت خطرناک اثرات    چھوڑتے ہیں۔ پلاسٹک بیگز کو کاغذ کی طرح ری سائیکل نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے ساتھ ساتھ پلاسٹک بیگز بہت لمبے عرصہ تک ماحول میں Decompose نہیں ہوتا۔ جس کے سبب پلاسٹک بیگز وسیع پیمانے پر انسانی ماحول اور جانوروں کے قتلِ عام کا سبب بن رہے ہیں۔ پلاسٹک بیگز کو اگر احتیاط سے ضائع نہ کیا جائے تو یہ جانوروں کے ساتھ ساتھ انسانی جان کے لیے بھی خطرناک بن سکتے ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ہر سال ماحول میں پلاسٹک کی آلودگی کے سبب تقریباً دس ہزار سے زیادہ وہیل، کچھوے اور پرندے مر جاتے ہیں۔

پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک جہاں لوگوں کو چیزوں کے ٹھیک استعمال کی تربیت نہیں دی جاتی تو وہ ان پلاسٹک بیگز کو بے احتیاطی اور لاپرواہی سے استعمال کرتے ہوئے نادانستہ طور پر ماحول کو آلودہ کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔

تبدیلی سرکار نے نہایت اہم اور آنے والی نسلوں کے لیے نہایت کارآمد کام صرف عجلت اور سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے سپرد کرکے برباد کردیا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا اس کام پر مکمل توجہ دی جاتی، تھوڑی تاخیر سے سہی  لیکن اس پر نہایت موثر انداز عمل درآمد کروا یا جاتا۔  اور  پہلے اس پروجیکٹ پر باقاعدہ منصوبہ سازی کی جاتی،لوگوں کی اس حوالے  سے تربیت کا اہتمام کیا جاتا۔ اس کے ساتھ ساتھ خاص طور پر دکانداروں کو اس   عظیم مقصد میں اپنے ساتھ ملایا جاتا۔ اگر دکانداروں کا  ساتھ حاصل ہوتا تو نہایت آسانی سے اس پر پابندی لگائی جا سکتی تھی اور لوگوں کے ساتھ ساتھ دکاندار بھی اس کو آگے بڑھ کر قبول کرتے۔ حکومت کو چاہیے تھا اس کے ساتھ ساتھ لوگوں کو مارکیٹ میں پلاسٹک بیگز کا کوئی متبادل دیا جاتا۔ شاید پھر   “سیور فوڈ” جیسے بدنما حادثے بھی پیش نہ آتے۔ جہاں آخر پر کی ا ہوا۔۔ گورنمنٹ نے اپنے  لوگوں  کی تذلیل کروائی۔ پھر ایک معافی نامے  پر سارا معاملہ رفع دفع بھی کردیا گیا۔ انہیں اپنی عزت کی پرواہ نہیں تو اپنے افسروں کی عزت کی پرواہ کہاں ہونی ہے۔

اب ایک طرف تو گھریلو صارفین کے لیے استعمال ہونے والے پلاسٹک بیگز پر پابندی لگادی گئی ہے۔ بڑی کمپنیوں کو اس پابندی سے بالکل کچھ فرق نہیں پڑا۔ نقصان ہوا ہے تو واحد عوام کا،کیونکہ عوام سامان کی ترسیل کے لیے جو پلاسٹک کے بیگ استعمال کرتے تھے۔ وہ اس حد تک زیرِ استعمال رہتے تھے کہ زیادہ تر عوام انہیں پھینکتے ہی تب تھے جب وہ Decompose ہو چکے ہوتے یا پھر ہونے کے قریب تر ہوتے تھے۔ اس لیے یہ ماحول کے لیے نقصان دے تو تھے لیکن اس درجہ نہیں جتنا یہ پلاسٹک بوتل۔

ابھی جہاں حکومت شاپر بین کرنے پر نمبر لے  رہی تھی ، اب اُسی حکومت نے پلاسٹک کی بوتلوں میں حکومت کی طرف سے منرل پانی بھی لانچ کردیا ہے۔ ہے نا  مضحکہ خیز حکومت کی مضحکہ خیز باتیں۔کیونکہ آئل، سگریٹ( پیکنگ)، صَرف، لیز Lays، پاپڑ، بسکٹ،یہ سب چیزیں ابھی بھی پلاسٹک کی مختلف اور خطرناک شکلوں میں مارکیٹ بھی آ رہی ہیں۔ اور ماحول کو وسیع پیمانے پر نقصان پہنچانے کا سبب بھی بن رہی ہیں۔ یہ سب ملٹی نیشنل کمپنیوں کی پراڈکٹ ہیں تو اس پر کوئی ایکشن نہیں لیا جائے گا نہ ہی انہیں بین کرنے پر کوئی حکومتی  ا ہلکار سنجیدہ ہو گا۔ نہ ہی ان کمپنیوں کو اپنی پراڈکٹ ماحول دوست بنانے کے پروانے بھیجے جائیں گے۔ ان اشیاء کے پلاسٹک بیگ اور پیکنگ کو  عوام کسی استعمال میں بھی نہیں لاتے۔ بلکہ انہیں بڑی تنگ و دو سے ندی، نالوں کے سپرد کرکے ماحول کو آلودہ کرنے میں اپنا اپنا حصہ ڈالا جاتا ہے۔

سب سے بڑھ کر قدرتی مقامات کی تازگی اور خوبصورتی کو خراب کرنے میں گھریلو صارفین کے زیرِ استعمال پلاسٹک بیگز سے زیادہ ان بڑی بڑی کمپنیوں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کی پلاسٹک پیکنگ اور پلاسٹک بوتل ہیں۔ کسی بھی قدرتی مقام کو دیکھ لیجیے آپ کو بسکٹ، snacks اور خالی پلاسٹک کی بوتلیں ہی چار سو بکھری  نظر آئیں گی ،جو ماحول کے ساتھ ساتھ ان مقامات کی خوبصورتی اور وہاں کی نباتات کو نقصان پہنچانے میں پیش پیش ہیں۔ حکومت کو چاہیے ماحول اور خصوصاً ان قدرتی مقامات کی خوبصورتی اور وہاں کی نباتات کی حیات کے لیے ان پلاسٹک کی اشیاء پر پابندی لگائے اور ان کمپنیوں پر عمل درآمد نہ کرنے کی صورت میں بھاری جرمانے عائد کرے۔ وزیروں کو یہ سب اقدامات سوشل میڈیا کی دنیا سے نکل کر عملی دنیا میں آ کر کرنے ہوں گے۔

عبدالحنان ارشد
عبدالحنان ارشد
عبدالحنان نے فاسٹ یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ ملک کے چند نامور ادیبوں و صحافیوں کے انٹرویوز کر چکے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ آپ سو لفظوں کی 100 سے زیادہ کہانیاں لکھ چکے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *