منا بھائی ایف سی پی ایس (قسط1)۔۔۔۔ڈاکٹر مدیحہ الیاس

SHOPPING
SHOPPING

منا بھائی نے جیسے ایم بی بی ایس کے پانچ سال گزارے, ہاؤس جاب کا دور بھی اس سے کچھ مختلف نہ تھا۔ نہ وارڈ کی شکل دیکھی نہ مریضوں کی۔۔ اور تجربے پہ سائن کروائے اپنے پرانے آزمودہ طریقے سے۔۔۔ نوٹ چھاپنے والی مشین سے کچھ ریسرچ پیپر چھاپے اور سی آئی پی کے تھرو انڈکشن حاصل کی ایف سی پی ایس میڈیسن میں۔ اب ٹریننگ کے کیا حالات ہوئے۔ آئیے پڑھتے ہیں!
آج منا بھائی کی ٹریننگ کا پہلا دن تھا۔۔ سٹیتھ اور اوورآل کے ساتھ ساتھ وہ نا قابل تسخیر جوش و ولولے سے بھی لیس تھے۔ ڈاکٹروں والے بریف کیس میں بی پی آپریٹس, تھرمومیٹر, پلس آکس, اپنے ذاتی گلوکومیٹر کے ساتھ سالٹڈ لیز کا بڑا پیکٹ اور کینڈی بسکٹ بھی تھے۔
بیگ اپنے اسسٹنٹ سرکٹ کو پکڑایا اور شان بے نیازی سے وارڈ میں داخل ہوئے۔ قد کاٹھ اور چہرے پر عیاں عمر رسیدہ نشانیوں سے متاثر ہو کے گارڈ نے سلوٹ مار کے سلام کیا۔ جس کا جواب سرکٹ نے دیا۔
وارڈ میں ایک طرف سفید اوورآل پہنے بچوں کا ہجوم تھا جو نوٹس بورڈ پہ جھکے مکھیوں کی طرح بھنبھنا رہے تھے۔۔
یہاں کیا بانٹا جا رہا ہے ؟۔۔۔ منا بھائی نے سرکٹ سے پوچھا،
معلوم نہیں بھائی, جا کے چیک کرتے ہیں۔۔۔ سرکٹ بولا اور وہ دونوں ہجوم کی جانب چل پڑے۔قریب پہنچ کے منا بھائی بولے۔۔ یہ کیا ہو ریلا رے؟
انکی آواز سنتے ہی سارے ہجوم کو سانپ سونگھ گیا۔۔ سب کانپتی آوازوں سے سوری سر بول کے وہاں سے منتشر ہو گئے۔ منا بھائی نے نوٹس بورڈ دیکھا تو معلوم ہوا کہ آج زیرو میٹر ہاؤس آفیسرز کا بھی پہلا دن ہے ۔اور وہ سب ایچ او روسٹر پہ تبصرے کر رہے تھے۔ منا بھائی نے روسٹر پر اوپر سے نیچے تک شہادت کی انگلی پھیری اور پریشانی کے عالم میں سرکٹ سے پوچھا۔۔ ابے اس میں تو اپن کا نام ہی نہیں ہے۔۔۔
سرکٹ کو جیسے شارٹ سرکٹ ہو گیا۔۔۔ یہ کیسے ممکن ہے بھائی۔ پیسہ پانی کی طرح بہا کے آپ کی سیٹ خریدی تھی،مطلب ہمارا پیسہ برباد ہو گیا۔۔۔ اپن چھوڑے گا نہیں اس رجسٹرار کو۔۔۔
دونوں غصے میں لال پیلے ہوتے رجسٹرار کے کمرے میں داخل ہوئے, واش روم سے کھلے نلکے سے پانی بہنے کی آواز آ رہی تھی سرکٹ چلایا۔۔ ابے او رجسٹر۔۔ باہر نکل۔۔ آج تیرے سارے صفحے پھاڑ کے آگ نہ لگائی تو اپنا نام بھی سرکٹ نہیں۔۔ کچھ لمحے بعد دروازہ کھلا اور چشمہ لگائے ڈاکٹر بشیر برآمد ہوئے جنہیں دیکھ کے منا بھائی کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔۔۔ ابے تُو۔۔۔ تُو ادھر ڈیوٹی کرتا۔۔۔ سرکٹ دیکھ۔۔ یہ تو اپنا کلاس فیلو ہے رے۔۔۔ اپنا ٹاپر۔۔۔ اپنا نقل پارٹنر۔۔۔ تو ادھر رجسٹر ہے رے؟۔۔ منا بھائی نے بشیر کے چہرے کے بدلتے زاویے دیکھے بنا ایک ہی سانس میں جانے کتنی باتیں بول دیں اور اپنا مسئلہ بھی بیان کر ڈالا۔۔۔ ڈاکٹر بشیر نے سمجھایا کہ یہ ایچ اوز کا روسٹر ہے اور پی جی روسٹر انکی جوائننگ کے بعد لگے گا۔فی الحال آپ میل بے 2 میں بیڈ 32 دیکھیں۔
اتنے میں ایک ایچ او ہانپتا ہوا کمرے میں داخل ہوا۔۔۔ سر وہ بیڈ 32 والا پیشنٹ ایکسٹریملی tachypneic ہے, اور basal fine crepts ہیں۔۔ ڈاکٹر بشیر نے اسے پلان بتایا کہ بی پی چیک کریں اگر 90/60 سے زیادہ ہے تو 60mg inj lasix لگوا دیں اور Foley’s پاس کر دیں۔۔
سر میرا فرسٹ ڈے ہے۔۔ایچ او بولا۔۔
ڈاکٹر بشیر نے تسلی دیتے ہوئے کہا۔۔ نو پرابلم, ڈاکٹر منا ول گایئڈ یو۔۔
منا بھائی نے فولی کا نام پہلی دفعہ سنا تھا۔۔۔ سرکٹ سے پوچھا۔۔فولی بولے تو ؟۔۔ گوگلی کھول جلدی۔۔۔ سرکٹ نے google پہ Foli ٹائپ کیا مگر مطلوبہ رزلٹ نہ مل سکا۔۔ اتنے میں ساتھ کھڑا ایچ او بولا۔۔ چلیں سر۔۔ پیشنٹ از سک۔۔۔ you go injection۔۔۔ I coming۔۔۔ کہہ کے ایچ او کو روانہ کر دیا کہ وہ انجیکشن لگوائے, میں آ رہا ہوں۔۔
منا بھائی جب بیڈ 32 پہ پہنچے تو سسٹر نے سامان منگوا کر رکھا ہوا تھا اور سکرین لگا کے وہاں سے جانے لگی تو منا نے دس سی سی سیرنج پکڑ کے روک کے کہا۔۔ یہ ٹیکہ تو لگا کے جاؤ۔۔۔ سر یہ Foley’s کے لئے ڈسٹلڈ واٹر ہے۔۔۔ اس نے بتایا۔۔ منا بھائی نے پھر پوچھا یہ کہاں لگاتے ہیں۔۔سسٹر سمجھی منا بھائی اسکا امتحان لے رہے۔۔ اور فر فر بولنے لگی۔۔ پہلے بیگ کو فولیز سے کنیکٹ کرتے ہیں پھر فولیز ڈالنے کے بعد اس پورٹ میں 10 سی سی واٹر انجیکٹ کرتے ہیں۔
۔ منا بھائی نے اسے ویری گڈ بول کے you go کہا اور پھر سے فولی کی گتھی سلجھانے لگے۔۔ سرکٹ کو کنیکشن جوڑنے کا آرڈر دیتے ہوئے اچانک ان کی نظر ساتھ والے بیڈ کے مریض پہ پڑی جس کے کمبل کے نیچے سے وہ نالی نکل رہی تھی۔۔ منا بھائی کی آنکھیں چمک اٹھی, گویا مسئلہ فیثا گورس حل ہو گیا ہو۔۔ خوشی سے سرشار پھرتی سے دستانے چڑھائے , تب تک سرکٹ کنیکشن جوڑ چکا تھا۔ فولیز کا آخری حصہ کمبل کے نیچے گزارہ, 10 سی سی واٹر انجیکٹ کیا, بیگ کو بیڈ کے نیچے والی ہک پہ لٹکایا اور دستانے اتارتے ہوئے با رعب آواز میں بولے۔۔ Foley’s passed۔۔۔ difficult case۔۔۔ اور سکرین کے پیچھے سے باہر آ گئے۔۔۔۔
(جاری ہے )

SHOPPING

Avatar
ڈاکٹر مدیحہ الیاس
الفاظ کے قیمتی موتیوں سے بنے گہنوں کی نمائش میں پر ستائش جوہرشناس نگاہوں کو خوش آمدید .... 🙂

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *