میڈیکل کالج کا گولڈن ویک۔۔۔محمد شافع صابر

کہتے ہیں کہ “زندگی پھولوں کی سیج نہیں ہے “. وقت کبھی ایک سا نہیں رہتا۔ لوگ آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں، لیکن زندگی رواں رہتی ہے۔ کچھ لوگ وجود کا حصہ بن جاتے ہیں، ایسے لوگوں کی جدائی ناقابلِ برداشت ہوتی ہے۔ ان کے بِنا زندگی پہلے جیسی تو نہیں رہتی لیکن چلتی رہتی ہے۔

میڈیکل کالج کے پانچ سال بھی تو ایسے ہی ہوتے ہیں ، دوستیوں، دشمنیوں، سیاست اور زندگی سے بھرپور ۔ کچھ لوگ دیکھتے ہی دیکھتے آپ کی ذات کا  حصہ بن جاتے ہیں جن کے بِنا زندگی ادھوری سی محسوس ہوتی ہے۔ وقت گزرتا رہتا ہے اور ایک دن احساس ہوتا ہے کہ جناب اب جدائی کا وقت قریب ہے۔ جو کام رہ گیا ہے وہ مکمل کر لو، پتا نہیں بعد میں مکمل کرنے کا وقت ملے یا نہ  ملے۔
جیسا کہ ناسخ نے کیا خوب کہا ہے “زندگی زندہ دلی کا نام ہے۔۔۔مردہ دل  کیا خاک جیا کرتے ہیں “۔۔۔

انسان کو اپنی زندگی میں رنگ بھرتے رہنا چاہیے ۔ اس کالج میں فائنل ائیر کے آخری دو ہفتے باقی تھے، تو میڈیکل کے پانچ سالوں کو مزید رنگ دار بنانے کے لئے فائنل ائیر نے “گولڈن ویک” منانے کا فیصلہ کیا۔ اس ویک کو منانے کا خیال  کلاس کے سی آر اسد اللہ کا تھا، انکے اس  خیال سے سب نے اتفاق کیا۔پورے ہفتے کے لئے رنگ منتخب کر لیے گئے ۔

فائنل ائیر (2014-2019) ایک trend setter کلاس ہے۔ اس کلاس نے اس کالج میں مختلف ٹرینڈ متعارف کروائے ہیں، گولڈن ویک بھی اسی ٹرینڈز کا حصہ ہے۔ یہ گولڈن ویک بھی اسی کلاس نے پہلی دفعہ اس کالج میں منایا۔ گولڈن ویک میں پوری کلاس نے پورا ہفتہ ہر دن ایک ہی رنگ کے کپڑے پہنے، جو کہ اس کلاس کی unity کی بھرپور عکاسی تھے۔

جمعہ کے دن کلرز ڈے منایا گیا ۔ اس دن کے روح رواں یوسف تھے، انہوں نے رنگوں اور water guns کا بھرپور انتظام کیا تھا ،یہ علیحدہ بات ہے کہ انہوں نے اس کام کے لئے اپنے دوستوں سے پیسے لیے تھے۔
ہفتے والےدن scrub day تھا۔ پوری کلاس ot dresses پہن کر آئی  تھی۔ لیکن کچھ ایسے بھی تھے جن کے ot dresses اور عام کپڑوں میں فرق کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی تھا۔پوچھنے پہ یہ جواب ملا ” ہر جگہ کے ot dress مختلف ہوتے ہیں” ot dress کے بارے میں اس سے زیادہ اچھی لاجک نہ  پہلے کبھی سنی تھی اور نہ  ہی دوبارہ کبھی سننے کو ملے گی۔

جیسے بچےایک ہی چیز کو بار بار کرنے کی ضد کرتے ہیں ۔بالکل اسی طرح فائنل ائیر نے پورا ہفتہ ایک ہی جگہ، ایک ہی پوز میں کلاس گروپ فوٹو بنوائی ۔اسکے پیچھے کیا وجہ تھی، اسکے بارے میں راوی خاموش ہے۔

اس ویک کو یادگار بنانے کے لئے صائم، محسن ،سلمون اور فاطمہ کی خدمات قابل ستائش ہیں۔ ان لوگوں نے اپنے کیمروں سے اس ویک کی بھرپور منظر کشی کی۔شافع نے سوشل میڈیا پہ گولڈن ویک کی خوب تشہیر کی۔

فائنل ائیر سٹوڈنٹ اور پریکٹیکل لائف کے درمیان ایک آخری پُل کا کردار ادا کرتی ہے۔اس پُل کو پار کرنے کے بعد زندگی پہلے جیسی نہیں رہتی ۔نئے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے، نئی منزلوں کو حاصل کرنے کے لئے نئے راستے چننا پڑتے ہیں ۔

لوگ آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔لیکن اپنی یادوں کے نقوش چھوڑ جاتے ہیں ۔ یہ یادیں ہی تو ہیں جو ہمارے اندر چھپے بچے کو بوڑھا نہیں ہونے دیتی ۔ہمیں انکی یاد دلاتی ہیں جو کبھی ہمارے پاس تھے۔۔ہمارے اپنے تھے۔ یہی یادیں امید کی کرن روشن کیے رکھتی ہیں ۔ یہ یادیں ہی تو ہیں جو مشکل سے مشکل لمحات میں بھی ہمارا حوصلہ بڑھاتی ہیں اور ہمارے چہروں پر مسکراہٹ بکھیر دیتی ہیں ۔

یہ گولڈن ویک تھا یا کچھ اور
یہ یادوں کا بوجھ تھا یا کچھ اور
پانچ سال اتنی جلدی کیسے گزر گئے
یہ بچھڑنے کا غم تھا یا کچھ اور
غلطیاں، لڑائیاں اور ڈھیر دشمنیاں
یہ سب فسانے تھے یا کچھ اور
تھیم ڈے، سپورٹس ویک اور ڈنر
سب بنا تعبیر خواب تھے یا کچھ اور
اٹینڈنس، بنک، اور لاتعداد پروکسیاں
یہ دوستوں کی باتیں تھیں یا کچھ اور
نان ٹکی، سموسے، چائے اور بوتلیں
یہ لالہ کیفے کی محبت تھی یا کچھ اور
فیس بک ان فالو، میسنجر بلاکنگ
یہ لڑائیوں کے بہانے تھے یا کچھ اور
ٹورز، ٹریکنگ، بون فائر اور کیا کچھ
یہ سب وقت گزاری تھی یا کچھ اور
موویز، میمز ، ویڈیوز اور کالج گراؤنڈ
یہ دوستوں کی عادتیں تھیں یا کچھ اور
یاروں کی یاری ،دوستوں کی وفاداری
یہ LBS کی محبت تھی یا کچھ اور۔۔

Avatar
محمد شافع صابر
مضمون نگار یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور میں، فائنل ائیر ایم بی بی ایس کے طالب علم ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *