• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • قومی وسائل کا تحفظ کیسے ممکن ہو گا؟۔۔۔اسلم اعوان

قومی وسائل کا تحفظ کیسے ممکن ہو گا؟۔۔۔اسلم اعوان

پچھلی دو دہائیوں میں دہشتگردی کے آشوب کے باعث خیبرپختون خوا کے سرکاری اداروں کی قوت کار میں کمی آئی اور صاحب اختیار افسران نے قومی امانتوں کے تحفظ کی ذمہ داری کو پس پشت ڈال کے مصلحت اوربزدلی کو شعار بنا لیا،جس کے نتیجے  میں اعلی ترین سطح  سے لے کر نچلی سطح کے سرکاری دفاتر کے مستقل اثاثے اور قومی وسائل کی لوٹ کھسوٹ کا رجحان بڑھتاگیا۔آج کل صورت حال یہ ہے کہ ہمارے ذیشان سرکاری افسران مظلوموں کے دکھوں کے ازالے  اورشہریوں کے مسائل حل کرنے کی بجائے وقت گزاری کو عقلمندی سمجھتے ہیں اور قیمتی وقت اوراپنی غیر معمولی صلاحیتوں کو،فقط جائز و ناجائز مراعات کے حصول اوراختیارات میں اضافہ لینے تک محدودکربیٹھے ہیں۔یعنی باڑکھیت کو کھانے لگی ہے۔

اسی خطرناک رجحان نے ایک طرف گورنمنٹ دفاتر کی داخلی تنظیم کو پراگندہ کر کے جوابدہی کے میکانزم کو بیکار بنا دیا،دوسری جانب سرکاری اداروں کے معاشی نظم و ضبط کو برباد کرکے ذہنی و مادی ترقی کے عمل کو بریک لگا دی۔

کنفیوشس نے کہا تھا”اگر ریاست بدنظمی کا شکار ہو،تو موزوں کام اسکی اصلاح کرنے کی بجائے اپنی زندگی کو فرض کی باقاعدہ ادائیگی والا  بنا لیجیے“۔

لیکن ہماری تقدیر کے مالک نیک نیتی اور دیانتداری سے اپنا فرض نبھانے کے برعکس اس ہمہ گیر زوال کو روکنے کی آڑ میں اصلاحات کے نام پہ نت نئے قوائد وضوابط کی تشکیل و نفاذکے ذریعے فیصلہ سازی کے عمل کو زیادہ پیچیدہ بنا کر سروس ڈیلیوری کو بتدریج سست بناتے رہے،جس سے ذہنی جمود بڑھا اور سرکاری وسائل کے زیاںکا دائرہ وسیع تر ہوتا گیا۔بے عملی کی  نحوست اور فیصلہ سازی کے اسی بحران کا سب سے زیادہ اثر سابق فاٹا کے علاقوں پہ پڑا، جہاں پچھلی دو دہائیوں میں انتظامی نوعیت کی شعوری غلطیوں اور بدعنوانی کی یبوست اربوں روپے کے وسائل نگل گئی۔معاصرانگریزی روزنامہ ڈان نے خبر دی ہے کہ”سابق فاٹا سیکریٹریٹ کے آرکائیو ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ جون 2002 سے لیکرجون 2019 تک فاٹا میں صحت،تعلیم اور بنیادی ڈھانچہ کی تعمیر پہ سالانہ ترقیاتی فنڈ کی مد میں 222.528 ارب روپے خرچ کیے جانے کے باوجود قبائلی عوام کی زندگیوں میں کوئی تبدیلی دکھائی نہیں دیتی۔

سرکاری ریکارڈ کے مطابق مالی سال 2002-3 میں فاٹا کےلیے مختص اے ڈی پی کا حجم 3.14 بلین تھا،جوبتدریج بڑھتے ہوئے مالی سال 2019-20 تک 24 بلین روپے تک جا پہنچا لیکن وہاں اب بھی بنیادی ڈھانچہ مخدوش اور صحت و تعلیم جیسی پرائمری سہولیات ناپید ہیں۔اے ڈی پی کے علاوہ وفاقی حکومت نے پی ایس ڈی پی فنڈکے تحت اربوں روپے کے ترقیاتی پراجیکٹ متعارف کرائے جو بدقسمتی سے آہنی الماریوں میں پڑی فائلوں میں گم ہو گئے۔سال2006میں فاٹا سیکریٹریٹ نے124 ارب روپے کی خطیر رقم سے تمام شعبہ ہائے زندگی کی پائیدار ترقی کا دس سالا منصوبہ شروع کیا،پچھلے تیرہ سالوں میں 99 ارب روپے خرچ ہو جانے کے باوجود یہ عظیم پراجیکٹ فیل ہو گیا۔نائن الیون کے بعد فاٹا میں بنیادی ڈھانچہ کی تعمیر کےلئے غیر ملکی امدادی اداروں نے بڑے پیمانے کی فنڈنگ بھجوائی،خاص طور پہ یوایس ایڈ،جرمن جی آئی زیڈ، نارویجین،سعودی ترقیاتی فنڈ،یو اے ای گورنمنٹ فنڈ،جاپان انٹرنشنل کوآپریشن ایجنسی،یواین اور اسکی شراکت دار ایجنسیوں نے فاٹا میں انفراسٹریکچر کی استواری،ایجوکیشن،ہیلتھ اور ایگریکلچرکے شعبوں میں بہتری لانے کی خاطر لامحدود فنڈ دیئے،صرف یو ایس گورنمنٹ نے فاٹا میں بنیادی ڈھانچہ کی تعمیرکےلئے780 ملین ڈالرز فراہم کئے“۔

الغرض اتنے بڑے پیمانے پہ وسائل کی دستیابی کے باوجود ہماری حکمراں اشرافیہ سابق فاٹا میں بنیادی ڈھانچہ کھڑا کر سکی ،نہ تعلیم اور صحت جیسی ابتدائی سہولیات کی فراہمی ممکن بنانے میں کامیاب ہوئی،حیرت انگیز طور پہ دنیا بھر کے وسائل صَرف کرنے کے الرغم آج بھی قبائلی سماج ہمیں پہلے سے بھی زیادہ مفلوک الحال دکھائی دیتا ہے۔صوبہ خیبر پختون خوا کے بندوبستی اضلاع میں بھی صورت حال مختلف نہیں ہے،آٹھ ارب کے بی آر ٹی منصوبہ کا ٹھیکہ41 ارب میں ایوارڈ ہوا لیکن بدانتظامی اور غیر معمولی تاخیر کی بدولت اسوقت اسکی مجموعی لاگت110 ارب تک جا پہنچی ہے،تاہم آج بھی اس عظیم منصوبہ کی جلد تکمیل کے امکانات مفقود نظر آتے ہیں۔

2014 میں اقراءفروغ تعلیم سکیم کے تحت 41000غیریب طلبہ کوپڑھنے کی ترغیب دینے کی خاطر1100 روپے ماہوار وظیفہ مقرر کیا گیا،اس مقصد کے حصول کی خاطرچھ ٹارگت اضلاع میں 90 سکول بنائے گئے لیکن سنہ 2017 میں وزیراعلی خیبر پختون خوا کو اپنی ایجنسیوں نے رپورٹ دی کہ (IFTVS)پراجیکٹ کے تحت چلنے والے 90 میں سے 70 سکول گھوسٹ اورکم وبیش 21 ہزار طلبہ کی جعلی انرولمنٹ کی گئی ہے،تحقیقات کے بعد نیب نے بدعنوانی کے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف 214 ملین روپے کا ریفرنس دائر کیا،ہماری ذہنی بدیانتی اور کم صلاحیتی کے باعث یہ بہترین منصوبہ بھی بیکار ہو گیا۔45 کروڑ کی لاگت سے آن لائن ایف آئی آر کے اندراج کا پراجیکٹ کی لانچنگ پورے جوش و خروش سے کی گئی لیکن پولیس نے ببانگ دہل اس منصوبہ کومتروک بنا دیا۔

کرپشن کے خاتمہ کےلئے86 کروڑ کی لاگت سے بنائے گئے احتساب کمشن کو دفن ہوئے مدت بیت گئی کوئی بھی اس پیش دستی کی ناکامی کے اسباب پہ غور کرنے کو تیار نہیں۔خیبر پختون خوا کی،آئل اینڈ گیس لمیٹڈ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو لامحدود مراعات کے علاوہ 50 لاکھ ماہانہ تنخواہ وصول کررہے ہیں،چار سال میں ان کا آفس کوئی پروگریس نہیں دے سکا۔35 چھوٹے ڈیموں کی تعمیر اور6500 میگا وولٹ بجلی پیدا کرنے کی خاطر کروڑوں روپے کی لاگت سے بنایا جانے والا ادارہ پیڈو وقت کی دھند میں گم ہوگیا۔ 2015 میں صوبہ بھر کے ڈویژنل ہیڈکوارٹرز کی بیوٹیفکیشن کےلئے دس ارب روپے کی لاگت سے اپ لفٹ منصوبہ بنایا گیا،ابتدائی طور پہ اس منصوبہ کوشفاف بنانے کی خاطر پنجاب کی کنسلٹنٹ فرم کی خدمات حاصل کیں گئیں،جس نے اس پراجیکٹ کی فزیبلیٹی،پی سی ون،ڈرائینگ/ ڈیزائینگ تیار کی اور ٹیکنیکل نگرانی کی ذمہ داری لی لیکن حکومت نے چند ماہ بعد ہی باوجوہ اس فرم کو فارغ کرکے دس ارب کا یہ منصوبہ انہی فرسودہ اہلکاروں کے حوالے کر دیا،جن کی نااہلیت سے بچانے کےلئے پرائیویٹ فرم کی خدمات حاصل کی گئی تھیں۔

ابھی حال میں ڈیرہ اسماعیل خان کی ضلعی انتظامیہ نے سرکاری چھٹی کے ذریعے صوبائی حکومت سے استدعا کی ہے کہ بروقت فنڈ ریلیز نہ ہونے کی وجہ سے درجنوں منصوبے  ادھورے پڑے ہیں،ان میں چارسال قبل کے ڈویژنل ہیڈ کوارٹر کی خوبصورتی اور اپ لفٹ منصوبے  کے تحت جاری کاموں کے علاوہ اندرون شہر کی سڑکوں وگلیوں کی تعمیر اور 418 سولر لائٹس کی تنصیب کا کام ٹھپ ہے،فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث چار سالوں میں شمسی توانائی سے چلنے والی فقط 250 لائٹس کی تنصیب ممکن ہو سکی۔علی ہذالقیاس!سرکاری اتھارٹی کے غلط استعمال اور معاشی بدنظمی کی سنگینی کا انتہا یہ ہے کہ اب صوبہ بھر کی ٹی ایم ایز،14 اگست، 23 مارچ،عیدین،محرم الحرام اورکرسمس ڈے جیسے متعین قومی ایام پہ سکیورٹی انتظامات پہ اٹھنے والے غیرمحدوداخراجات کے علاوہ مساجد اور گرجا گھروں میں مٹھائیوں کی تقسیم،میلاد اور نذر ونیاز کی نجی تقریبات، میلوں ٹھیلوں،پولیس کےلئے درجنوں مورچہ بندچیک پوسٹوں کی تعمیر اور ہنگامی جلسے جلوسوں پہ بغیر کسی پیشگی منظوری کے کروڑوں روپے لٹا دیتی ہیں۔

Aslam Awan
Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *