خود لذتی/مشت زنی کے بارے میں آگاہی ۔۔۔ حمزہ ابراہیم

‏(نوٹ: یہ مضمون چودہ سے چالیس سال  تک کی عمر کے افراد کیلئے ہے۔)

جنسی جرائم، یعنی کسی اٹھارہ سال سے کم عمر بچے سے جنسی لذت کا حصول یا کسی بڑے انسان سے اسکی مرضی کے بغیر جنسی سکون حاصل کرنا، ہمیشہ سے ہمارے معاشرے میں ہوتے رہے ہیں۔ یہ صرف بچیوں کے ساتھ ہی نہیں ہوتا، بہت سے نوجوان  لڑکے بھی اپنے  گھروں میں کام کرنے والی ماسیوں  یا پڑوسنوں وغیرہ کے ہاتھوں استعمال ہو جاتے ہیں۔ آج کل انفارمیشن کے سیلاب کی وجہ سے ایسے واقعات سوشل میڈیا پر رپورٹ کئے جانے لگے ہیں۔ رپورٹ ہونے کے خوف سے مجرم بچوں کو مارنے لگ گئے ہیں۔  ان جرائم  کا توڑ مشت زنی کو قبولِ عام دیناہے،  جس کیلئے خود لذتی کے بارے میں علم و آگاہی کو پھیلانا ہو گا اور اس کے راستے میں آنے والی حکیموں کی جاہلانہ افواہوں کا توڑ کرنا ہو گا۔ خالی خزانے کے باعث  حکومت تو اخبارات میں اس کے صحت افزا ہونے اور حلال ہونے کے اشتہارات چلانے کے قابل نہیں، لیکن ڈاکٹر صاحبان  اور علماء حضرات کو قیمتی وقت نکال کر  اخبارات میں اور   آن لائن  مضامین لکھنے اور یہ معلومات پھیلانے کی ضرورت ہے۔ ہم کب تک شرماتے رہیں گے اور بچوں کو پریشان ہوتا  یا بڑوں کو جنسی درندہ بنتا دیکھتے رہیں گے؟

جنسی اخلاق اور جنسی سائنس دونوں  کی تعلیم اہم ہے

ہمارا المیہ ہے کہ ملک بھر میں دیواریں اور اخبارات جنسی کمزوری کی جعلی  دھمکیوں سے بھرے پڑے ہیں۔  جن حکیموں کو کسی اور طریقے سے روزی نہ ملے وہ عوام کو جنسی بلیک میل کر کے لوٹ لیتے ہیں، اور ان کو کھلی چھوٹ بھی ملی ہوئی ہے۔  کوئی کہتا ہے مشت زنی  سے کمزوری ہو جاتی ہے، حالانکہ مشت زنی کے بعد جو سکون کا احساس ہوتا ہے وہ کمزوری نہیں ہوتی۔ کیا ہم  پیشاب کر کے  جو سکون پاتے ہیں اس سے کمزور ہو جاتے ہیں؟ کوئی کہتا ہے اس سے عضوٹیڑھا ہو جاتا ہے حالانکہ عضو  کے ٹیڑھا ہونے کے اپنے فوائد ہیں اور یہ موروثی  عطاہے، اس کو برا سمجھنا اللہ کی تخلیق پر اعتراض کرنا ہے۔  کوئی کہتا ہے مشت زنی سے انسان زنا کی طرف مائل ہوتا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مشت زنی کے بعد بھی کسی میں زنا کی ہمت باقی ہو تو اسے ایک مرتبہ اور مشت زنی کر کے اپنے ایمان کو بچا لینا چاہئیے۔ کوئی کہتا ہے کہ مشت زنی سے رگیں ابھر آتی ہیں، حقیقت یہ ہے کہ جس عضو  میں چربی کم ہو اس میں  جلد کے قریب کی رگیں ابھرنا صحت کی علامت ہے۔ بعض لوگ مشت زنی کو کمر درد کا سبب سمجھتے ہیں، جبکہ کمر درد زیادہ بیٹھے رہنے سے پیدا ہوتا ہے اور اس کا علاج کمر کی ورزش ہے۔ اگر مشت زنی کو  قوت گویائی  عطا ہو تو ساحر لدھیانوی صاحب کے الفاظ میں یوں کہے  گی:۔

تم میرے لئے اب کوئی الزام نہ ڈھونڈو

چاہا تھا تمہیں، اک یہی الزام بہت ہے

بچپن سے نوجوانی میں قدم رکھنے والے لڑکوں اور لڑکیوں کو دیواریں اور اخباروں پر حکیموں کے  اشتہارات تو پڑھنے کو مل جاتے ہیں لیکن جنسی علم اور جنسی اخلاق کے بارے میں کوئی کتاب میسر نہیں ہوتی۔ اس سے ان کی پڑھائی پر بھی برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ کتنے ہی بچے آٹھویں جماعت تک اسکول میں بہت اچھے ہوتے ہیں لیکن میٹرک میں اچھی کارکردگی دکھانے کے بجائے بری صحبت کا شکار ہو جاتے ہیں، کیوں کہ جنسی معلومات دینے کا کام برے لوگوں نے ہی سنبھال رکھا ہے۔  جنسی امراض کے اشتہار چلانے والے  حکیم  لوگ بھی جیب کتروں سے کم نہیں، لیکن ان کو  روکنے یا سزا دینے کا کوئی قانون موجود نہیں۔ جنسی اخلاق کے بارے میں پھر بھی مذہبی علماء نے کافی کتابیں لکھی ہیں، لیکن جنسی سائنس کے بارے میں مستند کتابوں کی کمی ہے۔ علماء کی کتابوں کی ایک خامی یہ بھی ہے کہ انہوں نے اخلاق تک محدود رہنے کے بجائے بعض مقامات پر حکیموں کا پروپیگنڈا بھی شامل کر دیا ہے، جبکہ جسم  کے بارے میں کوئی ڈاکٹر ہی صحیح  معلومات سے  سکتا ہے۔ اخلاقی تعلیمات  اور  سائنسی علم، دونوں ساتھ ساتھ ہوں تبھی لڑکے لڑکیاں اپنے جنسی رجحانات کو منظم کر سکیں گے۔یہ معلومات والدین بھی نہیں دے سکتے کیوں کہ والدین خود بھی جنسی علم کے  اعتبار سے  جاہل ہوتے ہیں۔

دو اہم کتابیں

اس اجمال کی تفصیل جاننے کیلئے آپ کو پاکستان کے مایہ ناز سائنس دانوں، پروفیسر ارشد جاوید اور ڈاکٹر سید مبین اختر ، کی جنسی تعلیم کے موضوع پر لکھی گئی کتابوں کا مطالعہ کرنا ہو گا۔ پروفیسر ارشد جاوید کی کتاب کا عنوان ” رہنمائے نوجوانی یا سیکس ایجوکیشن“ ہے، اور ڈاکٹر مبین اختر کی کتاب کا عنوان  ”جنسی صحت“ ہے۔ یہاں ان کتابوں سے موضوع کے بارے میں  ایک خلاصہ پیش کرنا چاہوں گا۔ پروفیسر ارشد جاوید اپنی کتاب ”رہنمائے نوجوانی“ میں لکھتے ہیں:۔

”26 سالہ آصف علاج کیلئے میرے کلینک آیا۔ مسئلہ کی تفصیل بتاتے ہوئے اس نے بتایا کہ وہ بہت کمزور ہو چکا ہے۔ دن بدن اس کی مردانہ قوت ختم ہوتی جا رہی ہے اور اب وہ بیوی کے قابل نہیں رہا۔ اسے شدید احساس گناہ بھی تھا۔ ایک بار خودکشی کی کوشس بھی کر چکا ہے۔ اس نے بتایا کہ وہ مشت زنی کا شکار ہے اور کوشش کے باوجود اسے چھوڑ نہیں سکا۔

منی (semen) کے اخراج کا تیسرا اور اہم ذریعہ خود لذتی اور مشت زنی ہے۔ اسے ہاتھ رسی، جلق، دست کشی اور ہینڈ پریکٹس بھی کہا جاتا ہے۔ خود لذتی سے مراد یہ ہے کہ فرد مباشرت کے علاوہ کسی بھی طریقے سے منی خارج کرے۔ خود لذتی کا اہم ترین ذریعہ مشت زنی ہے۔ مشت زنی سے مراد اپنے ہاتھ سے یا کسی دوسرے (بیوی یا شوہر) کے ہاتھ سے منی کا اخراج کرنا۔

خود لذتی کے بہت سے طریقے ہیں۔ سب سے عام تو جنسی عضو (penis) کو ہاتھ سے مشتعل (stimulate) کرنا ہے۔  ہمارے ہاں سب سے زیادہ جھوٹی باتیں مشت زنی کے حوالے سے مشہور ہیں۔ جنہوں نے نوجوان نسل کو پریشان کر رکھا ہے۔ اکثر نوجوان اس عمل کو ہفتے میں ایک یا دو بار کر لیتے ہیں۔ میرے بعض کلائنٹ روزانہ اور بعض ایک دن میں چھ یا سات بار تک کر لیتے ہیں۔ میرا ایک شادی شدہ کلائنٹ 24 گھنٹوں میں 15 دفعہ تک کر لیتا تھا. اس نے ایسا کئی بار کیا۔ وہ ابھی زندہ ہے، ہٹا کٹاہے۔ کئی بچوں کا باپ ہے۔مختلف محققین کے مطابق 95 فیصد مرد اس صحت مند عمل کو انجام دیتے ہیں۔مشہور امریکی محقق کنسے (kinsey) کی ریسرچ کے مطابق امریکا میں 70 فیصد شادی شدہ گریجویٹ سال میں تقریباً 24 بار مشت زنی کر لیتے ہیں۔ مشت زنی میں انزال جلدی ہوتا ہے کیوں کہ لذت کے عروج تک پہنچنا  آپ کے اپنے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ مرد مشت زنی میں عموما 2 سے پانچ منٹ میں انزال حاصل کر لیتے ہیں۔ البتہ خواتین کو ہاتھ کی مدد سے جنسی عروج (orgasm) حاصل کرنے میں 5 سے 10 منٹ لگ سکتے ہیں۔

مشت زنی کے حوالے سے ہمارے نوجوان دو قسم کی غلط فہمیوں کا شکار ہیں:۔

  1. جنسی، جسمانی اور ذہنی کمزوری کا احساس اور خوف
  2. شدید احساسِ گناہ

دو سو سال قبل مغرب میں بھی اسی طرح کی بے شمار بے سر و پا باتیں مشہور تھیں کہ مشت زنی سے انسان پاگل ہو جاتا ہے۔ (ایک بار ایک عالم نے ایک پاگل خانے میں ایک پاگل کو مشت زنی کرتے دیکھا تو نتیجہ نکالا کہ مشت زنی سے انسان پاگل ہو جاتا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ بھوک پیاس کی طرح جنسی تسکین ایک جسمانی تقاضا ہے)۔  یہ بھی مشہور تھا کہ بینائی کمزور ہو جاتی ہے، حافظہ ختم ہو جاتا ہے۔ فرد چکر (dizziness) محسوس کرتا ہے۔ مرگی کے دورے پڑتے ہیں۔ فرد ذہنی پریشانی، دل کے امراض اور ضعفِ عقل کا شکار ہو جاتا ہے۔ منہ پر دانے اور جسم پر موکے آ جاتے ہیں۔ آدمی گنجا اور شرمیلا ہو جاتا ہے۔ مغرب اور دوسرے ترقی یافتہ ممالک میں تو جدید تحقیق کی روشنی میں نوجوانوں کو معلوم ہو چکا ہے کہ مشت زنی کے نقصانات کی کوئی حقیقت نہیں۔ یہ جہالت کے دور کی باتیں تھیں مگر بدقسمتی سے ہم ابھی تک اسی دور میں زندہ رہ رہے ہیں۔

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ مشت زنی سے ذکر(penis) کی نسیں مر جاتی یا ابھر آتی ہیں۔ جس سے ذکر کو نقصان پہنچتا ہے۔ حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا۔ ایک صاحب کی نئی نئی شادی ہوئی۔ انکی زوجہ کی فرج (vagina) بہت تنگ تھی۔ وہ جب بھی مباشرت کرتے ، ان کے ذکر کی جلد زخمی ہو جاتی، یعنی فرج ایک حد سے زیادہ نہیں کھل سکتی تھی ۔ دوسرے الفاظ میں فرج کو ذکر کے سائز کے ساتھ سازگار (adjust)نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن مشت زنی میں مٹھی آپ کے کنٹرول میں ہوتی ہے۔ آپ اسے جتنا چاہیں کھول لیں یا تنگ کر لیں۔ دوسرے الفاظ میں مشت زنی سے ذکر کو کسی قسم کا زخم  نہیں پہنچ سکتا۔

گزشتہ صدی میں مشت زنی کے حوالے سے ترقی یافتہ دنیا میں بہت ریسرچ ہوئی ہے اور ابھی تک اس کے کسی طرح کے نقصانات ثابت نہیں ہو سکے۔ اس سلسلے میں بنیادی کام امریکی ماہرین ماسٹر اور جانسن نے کیا ہے۔ انہوں نے تقریباً 22 سال جنسی صحت کے 14 ہزار عنوانات پر ریسرچ کی۔ ان کی ریسرچ سے بھی یہی بات ثابت ہوئی کہ مشت زنی کے کسی بھی طرح کے کوئی نقصانات نہیں۔

ایک ریسرچ میں کچھ نوجوانوں کو کئی ماہ تک روزانہ زیادہ سے زیادہ مشت زنی کرنے کو کہا گیا۔ ریسرچ کے شروع میں تمام نوجوانوں کے بہت سے ٹیسٹ کئے گئے۔ مقررہ وقت کے بعد ان افراد یہی ٹیسٹ دہرائے گئے او ر مشت زنی کے کسی بھی طرح کے برے اثرات سامنے نہ آ ئے۔ ایک اور ریسرچ میں کئی سو افراد پر تجربہ کیا گیا۔ ان کو دن میں کئی بار مشت زنی کرنے کو کہا گیا۔ کئی ماہ تک مسلسل یہ عمل جاری رہا۔ ریسرچ کی تکمیل پر ان افراد کے ٹیسٹ کئے گئے تو کسی بھی فرد کو کوئی بھی خرابی یا کمزوری نہ ہوئی۔  کچھ رپورٹس سے تو یہ بھی معلوم ہوا کہ جن کھلاڑیوں نے میچ سے کچھ دیر پہلے مشت زنی کی، وہ ریلیکس اور فرش ہو گئے اور انہوں نے اپنے قومی ریکارڈ کو توڑا۔ اور بھی بہت سی ریسرچز ہوئی ہیں جن سے مشت زنی کی مفروضہ تباہ کاریوں میں سے کچھ بھی سچ ثابت نہ ہو سکا۔

بعض ماہرین کا خیال ہے کہ مشت زنی جنسی جذبات کو بہتر بناتی اور جنسی صلاحیت میں اضافہ کرتی ہے۔ خدا نے انسانی جسم کو کچھ اس طرح بنایا ہے کہ اس کے جو حصے زیادہ استعمال ہوتے ہیں، وہ زیادہ مضبوط اور صحت مند ہوتے ہیں۔ مثلاً لمبی دوڑ دوڑنے والے فرد کی ٹانگیں عام لوگوں سے زیادہ مضبوط، صحت مند اور گٹھی (muscular) ہوتی ہیں۔ اسی طرح مشقت کرنے والے مزدور کے بازو اور سینہ نسبتاً زیادہ مضبوط اور گٹھے ہوئے ہوں گے۔ اسی طرح مشت زنی سے مردانہ قوت میں اضافہ ہوتا ہے۔

مردوں کے دو اہم جنسی مسائل سرعت انزال (premature .ejaculation )  اور نامردی (impotency) ہیں۔ ان دونوں امراض کے علاج کا سب سے موثر طریقہ مشت زنی ہی ہے جو پوری دنیا میں کامیابی سے استعمال ہو رہا ہے۔ اسی طرح عورتوں کا ایک اہم جنسی مسئلہ  جنسی تعلق قائم کرتے وقت  فرج کا بند ہو جانا (vaginismus) ہے جس کی وجہ سے مباشرت کے دوران دخول ناممکن ہوتا ہے۔ اس مسئلے کا ایک اہم حل بھی خود لذتی ہے  “۔

ڈاکٹر مبین اختر اپنی کتاب میں لکھتے ہیں :

”لڑکے جوانی کے اوائل میں مشت زنی کے ذریعے جنسی تسکین حاصل کرتے ہیں لیکن بعد میں دوسروں کی رائے کی وجہ سے اس کو برا سمجھنے لگتے ہیں اور کئی بیماریوں کی جڑ سمجھتے ہیں۔ ان کو وہم ہوتا ہے کہ ان کی وجہ سے وہ جنسی طور پر ناکارہ ہو جائیں گے اور جسمانی کمزوری واقع ہو جائے گی۔ پھر وہ اس کو ترک کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں احتلام کا سلسلہ بڑھ جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ مزید پریشان ہو جاتے ہیں۔

والدین کو لڑکے یا لڑکی میں جب اس عادت کا علم ہو جائے تو وہ تشویش اور تردد کا اظہار نہ کریں۔ ماہرین نفسیات کا اس بات پر اجماع ہے کہ یہ صحت افزا  خود تسکینی کی ایک شکل ہے۔ بعض والدین روایات سے مرعوب ہو کر ایسے بد حواس ہو جاتے ہیں کہ اس عادت کو ترک کرانے کیلئے وہ اپنے لڑکوں کو طرح طرح کی دھمکیاں دینا شروع کر دیتے ہیں۔ اور انہیں اس درجہ خوفزدہ کر دیتے ہیں کہ بعض اوقات لڑکے اپنی مردانگی سے مایوس ہو جاتے ہیں۔ ماہرین جنس جلق کو لڑکوں اور لڑکیوں کی جنسی ضرورت سمجھ کر جائز قرار دیتے ہیں“۔

اس کے بعد وہ مشت زنی کے فوائد اور اس کے بارے میں پھیلے ہوئے اوہام کا ازالہ کرتے ہیں۔ یہ دونوں کتابیں علمی اعتبار سے بہت اعلیٰ پائے کی ہیں۔ ان میں جنسی صحت، حقیقی جنسی بیماریوں اور اچھے جنسی رویے کے بارے میں بہت تفصیل سے اور علمی حوالوں کے ساتھ  بات کی گئی ہے۔ اس مضمون میں تمام موضوعات کا احاطہ کرنا ممکن نہیں۔ یوں بھی مضامین کبھی بھی کتاب کی جگہ نہیں لے سکتے۔ ڈاکٹر مبین اختر کی کتاب انٹرنیٹ سے مفت بھی حاصل کی جا سکتی ہے، البتہ ڈاکٹر ارشد جاوید کی کتاب بازار سے خریدنی پڑے گی۔

کیا حجاب جنسی دباؤ کا حل ہے؟

لڑکیوں کا حجاب کرنا اور لڑکوں کا نظروں کو جھکانا اخلاقی  اور روحانی پاکیزگی کا معاملہ ہے، جسمانی نہیں۔  یہ کبھی بھی جنسی اعضا پر دباو کو کم نہیں کر سکتا۔ لڑکے کے عضو مخصوص میں ہر دو چار دن بعد سپرم بن کر اسکے دماغ کو سیکس کرنے کا پیغام بھیجتے ہیں۔ اگر وہ مشت زنی/خود لذتی کر کے انکو نکال لے تو اس کے تقویٰ میں اضافہ ہو گا۔ اس کیلئے اپنی نظروں  اور زبان کی حفاظت کرنا آسان ہو جائے گا۔  لڑکے احساس گناہ نہ کریں۔ مشت زنی اسلام میں حلال ہے۔ اور اگر مشت زنی کی برکت سے آپ کسی  سے زیادتی جیسے گناہ سے بچ جائیں تو مشت زنی ثواب کا کام ہے۔ اسلامی  فقہ کا اصول ہے کہ جو کام زنا سے بچائے اور ڈاکٹروں کے مطابق صحت کے لئے نقصان دہ نہ ہو،  اس کا ثواب ملتا ہے{حوالہ:  ( وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَا)اور( وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ ۛ )} ۔ اگر مشت زنی معصوم بچوں کے ساتھ زیادتی کر کے انکو قتل کرنے والوں کو اس فعل سے باز رکھے تو دو زندگیاں بچ جائیں گی، بچے اذیت ناک موت سے اور جنسی دباو کے مارے بڑے سزائے موت سے، اور اسکا بھی ثواب ہی ثواب ہے۔ قرآن و حدیث میں بھی گناہان کبیرہ  یا صغیرہ میں خود لذتی یا مشت زنی کو شامل نہیں کیا گیا، جبکہ اللہ  شریعت کے سبھی  مسائل کو کھل کر بیان کرتا ہے۔ میں اس سلسلے میں معلومات اکٹھی کر رہا تھا تو مجھے  مشت زنی کےبظاہر  خلاف جاتی ہوئی  ایک ہی روایت ملی جس میں حضرت علی ؑکے دور میں کسی شخص کو بازار میں سر عام مشت زنی کرتے پکڑا گیا تو آپ نے اس کو دس ڈنڈے لگائے۔ یہ سزا بھی بظاہر لوگوں کے سامنے جنسی عضو کو ننگا کرنے اور سر عام  جنسی حرکات کر کے ماحول خراب کرنے کی سزا معلوم ہوتی ہے، اور زنا کی سزا سے کہیں کم ہے۔  شاید ان کے دور میں کوئی شخص سڑک کنارے پیشاب کرتا پایا جاتا تو اسے بھی یہی سزا ملتی۔

کیا سزاۓ موت بچوں سے زیادتی روک سکتی ہے؟

لوگوں کو جرم سے باز رکھنے اور دوسروں کی حق تلفی سے روکنے کیلئے ہر معاشرے نے قوانین بنا رکھے ہیں۔ یہ قوانین بہت ضروری ہیں، لیکن ان کے خوف سے صرف وہی شخص رک سکتا ہے جو ہوش میں ہو۔ اسکی ایک مثال غصے کی وجہ سے قتل کرنا ہے، غصے میں آیا ہوا شخص جانتا ہے کہ قتل کی سزا پاۓ گا، مگر وہ اس وقت ہیجانی کیفیت میں ہوتا ہے۔ اگرچہ غصے کو کنٹرول کرنا آسان ہے کیوں کہ اس کے کوئی حقیقی جسمانی عوامل نہیں ہوتے، پھر بھی لوگ غصے یا غیرت کے نام پر قتل ہوتے رہتے ہیں۔ جو لوگ معصوم بچوں سے زیادتی کرتے ہیں، وہ بھی جانتے ہوتے ہیں کہ نہ صرف اسکی سزا کڑی ہے بلکہ غصے کے نام پر قتل کے برعکس اس جرم سے عزت بھی چلی جاۓ گی۔ چنانچہ قصور میں زینب سمیت کئی معصوم بچیوں کا قاتل عمران ، جو ایک مذہبی آدمی بھی تھا، زیادتی کے بعد ہوش میں آتا تو جرم کے آثار مٹانے کیلئے مظلوم بچیوں کو زیادتی کے بعد قتل کر دیا کرتا تھا۔ اس جرم کی وجہ ہیجانی کیفیت تھی۔ اسے بتایا گیا تھا کہ مشت زنی سے مردانہ قوت ختم ہوتی اور انسان جہنم جاتا ہے۔ اسکی نظر میں مشت زنی دنیا و آخرت کا نقصان تھی۔ دوسری طرف فطرت کے مطابق اس کے خصیے دو تین دن بعد سپرم سے بھر جاتے تھے اور دماغ کو سیکس کرنے کا سگنل موصول ہونے لگتا تھا۔ وہ کئی دن عبادت  کے ذریعے ان کا دباؤ ختم کرنے کی کوشش کرتا لیکن ٹریفک جام کی طرح ان کا شور بڑھتا ہی جاتا۔ دماغ پر دباؤ بڑھتے بڑھتے ہیجان طاری ہو جاتا جو موت اور بے عزتی کا خوف ختم کر دیتا۔ اسے بتایا گیا تھا کہ صرف جنس مخالف سے جسمانی تعلق ہی اسکی صحت کا ضامن ہے۔ کوئی جوان لڑکی تو اس سے جنسی تعلق قائم کرنے کو آمادہ نہ تھی کہ انہوں نے شادی کیلئے اپنے کنوارے پن کا تحفظ کرنا تھا، لیکن معصوم بچیوں کو وہ بہلا پھسلا کر ویران جگہ لے جا سکتا تھا۔ اپنے سپرم کی جام شدہ ٹریفک کو بحال کرنے کے بعد اسکے دماغ میں شور ختم ہوتا تو اسے جرم پکڑے جانے پر سزا اور بے عزتی کا خیال آنے لگتا۔ اسکا حل اسکی نظر میں قتل کے سوا کوئی اور نہ تھا۔ اسی لیے اس کو سزا ملنے اور پاکستان بھر سے لعنتیں پڑنے کے باوجود اب بھی بچوں سے زیادتی اور ان کا قتل جاری ہے۔
سزاۓ موت جنسی زیادتیوں کو تبھی روک سکتی ہے جب مشت زنی کے بارے میں پھیلی ہوئی جہالت دور کی جاۓ۔ تعلیم یافتہ اور مہذب لوگوں کو تو ان باتوں کا علم ہے، جاہل اور غریب طبقے کو اس علم تک رسائی نہیں۔مشت زنی نہ تو صحت کیلئے نقصان دہ ہے، نہ ہی یہ کوئی گناہ ہے، اور نہ ہی اکیلے میں مشت زنی کرنا کوئی جرم ہے کہ پولیس گرفتار کر لے۔

ازدواجی ناچاقیاں اور مشت زنی

مشت زنی ہمارے مشرقی خاندانی نظام کیلئے بھی ایک نعمت ہے۔ ہمارے معاشرے میں ہاتھ کے استعمال کے بارے میں پھیلے ہوۓ جاہلانہ خوف کی وجہ سے اکثر لڑکیاں شادی سے پہلے خود کو محسوس نہیں کرتیں۔ دوسری طرف لڑکے بھی شادی سے ایک دو ماہ پہلے مشت زنی سے پرہیز کرنے لگ جاتے ہیں۔ چنانچہ سہاگ رات ایک فریق کیلئے اجنبی کمرے اور گھر میں پہلی بار جنسی تعلق جیسے نہایت ذاتی تجربے سے گزرنے کا موقع ہوتا ہے جس کے بارے میں اس کے دل میں کئی طرح کے خوف جنم لے رہے ہوتے ہیں تو دوسرے فریق کی حالت ہیجانی ہوتی ہے۔ ایسے میں لڑکیاں عموما vaginismus کا شکار ہو جاتی ہیں۔ یہ ایسا ہی ہوتا ہے جیسے الٹی  کرتے وقت کھانے کی نالی ہر چیز کو باہر پھینکتی ہے۔ کسی کو الٹی آ رہی ہو تو اس کو اپنے کھانے کی نالی پر کنٹرول نہیں رہتا بلکہ مسلز خودبخود الٹے رخ زور لگانا شروع کر دیتے ہیں کہ کھانے کو باہر نکالیں۔  لڑکے بھی ہیجان کی وجہ سے طاقت کے استعمال کو سپرم کے  ٹریفک جام سے نجات کا واحد حل سمجھتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ انکی دلہن جنسی عمل کی جان بوجھ کے مزاحمت کر رہی ہے۔ جن تعلقات کا آغاز کچھ دن باہمی گفتگو اور ذہنی ہم آہنگی سے ہونا تھا، اس کا آغاز ایک حادثے سے ہوتا ہے۔ مرد کو وحشی کہنا عورتوں نے انہی تجربوں سے سیکھا ہے۔ ایسے میں اگر لڑکا مشت زنی کے ذریعے اپنے حواس بحال کر لے اور لڑکی بھی اپنے جنسی عضو کو محسوس کر کے شوہر کی مدد کرے تو جنسی تعلقات میں تلخیاں پیدا نہیں ہوں گی اور ہمارے اردو ادب میں بھی مرد اور عورت کے بارے میں پھیلے ہوۓ جاہلانہ خیالات کی جگہ عاقلانہ اور علمی تصورات لے لیں گے۔

پروفیسر ارشد جاوید نے” ازدواجی خوشیاں“ کے عنوان سے  زوجین کے درمیان اچھے جسمانی تعلقات کی راہ میں حائل مشکلات پر بھی دو کتابیں لکھی ہیں۔ ایک کتاب لڑکوں کیلئے ہے اور ایک لڑکیوں کیلئے، انکو ”سائنسی زیور“ کہنا بے جا نہ ہو گا۔ اگر یہ کتب  بچوں کو جہیز میں دی جانے لگیں تو بہت سے گھر تباہ ہونے یا تلخی کی آگ میں سلگتے رہنے سے بچ جائیں گے۔  کاش ہمارا معاشرہ جنسی مسائل کے شکار افراد پر زبانی لعن طعن  کر نےکے بجائے انکی جہالت دور کرنے کی اہمیت سے آگاہ ہو جائے۔

حمزہ ابراہیم
حمزہ ابراہیم
باقی مضامین پڑھنے کیلئے حمزہ ابراہیم کے نام پر کلک کریں-

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 11 تبصرے برائے تحریر ”خود لذتی/مشت زنی کے بارے میں آگاہی ۔۔۔ حمزہ ابراہیم

    1. شرع میں شرم کیسی؟ یہ ایک سنجیدہ علمی مضمون ہے اور اس کو لکھنے کا مقصد جنسی ہیجان کی وجہ سے جرائم کا ارتکاب کرنے والے لوگوں کی زندگیاں تباہ ہونے سے بچانا ہے۔
      یہ باتیں مہذب اور تعلیم یافتہ لوگ پہلے سے جانتے ہیں، شاید انہیں ہنسی بھی آئے، مگر نوجوان اور کم تعلیم والے خواتین و حضرات کیلئے انکو بیان کرنا ضروری ہے۔

      1. ان تہائی گمرہ کن پرو پیگنڈا کیا جا رہا ہے مولا نا مودودی نے ایسا کب کہا؟؟؟ آپ کے پاس کوئی ثبوت ہے؟؟؟ جہاں تک شہوت کا تعلق ہے تو اُ سے کنٹرول کر نے کے لئے غیر شادی شدہ افراد کو ہمارے دین نے روزے رکھنے کا حکم دیا ہے۔
        جہاں تک اس کے حلال اور حرام ہونے کا تعلق ہے
        تو اس کا دلیل سے جواب آپ اس لنک کے زریعے سن سکتے ہیں https://youtu.be/tvz_I_U48wc

  1. اکثر مذہبی علماء اس کو گناہ یا حرام نہیں سمجھتے۔ شادی شدہ حنفی علماء اسے بے کار اور لغو قرار دیتے ہوئے مکروہ ضرور سمجھتے ہیں لیکن اہل حدیث علماء کے نزدیک بعض آثار میں اس کے شواہد ملتے ہیں کہ یہ مباح ہے۔ مولانا مودودی سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے فرمایا کہ محلے کی عورتوں کو بری نظر سے دیکھنے کے بجائے بہتر ہے کہ آدمی اپنا پانی نکال لے۔ البتہ بعض جھوٹی روایات یہ بیان کی جاتی ہیں کہ ایسا کرنے والا سخت سزا کا مستحق ہے اور اسے قیامت کے روز سخت عذاب دیاجائے گا اور اس کے ہاتھ حاملہ ہوں گے ۔ یہ سراسر بہتان اور گھڑی روایات ہیں۔

  2. Your post is illegal, Unethical, Unhygienical and unislamic. On the day of judgement the fingers used in this shamfull action will be pregnent.Further, The veins destroy. Your approach is morbid and you want to derive the nation and society to devilish destination and hell.
    Shame on your research and you pseudoscholarship.

  3. ڈاکٹر صاحب اللہ کا خوف کرو،نوجون نسل کو تباہ وبرباد نہ کرو،نوجوانو یاد رکھو کہ یہی ڈاکٹر لوگ ہی کہتے ہے کہ منی نکالنا یا نکلنا یا رطوبت وغیرہ نکلنا نوجوان کو بوڑھا،بوڑھے کو قبر تک پہنچا دیتا ہے ،ڈاکٹر صاحب انسان نہیں بلکہ ایک عظیم فتنہ ہے،میرے پیارے نوجوانوں نہ کرو،احادیث صریحہ میں اس کو حرام کہا گیا ہے،ایک دو نہیں کئی ساری احادیث ہیں،کسی بھی کو چاہئے تو ایک منٹ میں احادیث کا انبار لگا سکتا ہوں،نہ کرو نوجوانو بہت بہت شفقت کھاکر آپ لوگوں کو مخاطب کرکے لکھتا ہوں،بیک وقت ڈاکٹر صاحب کی بات کو رد کرواور یہ لگتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کسی سازش کا حصہ ہے۔

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *