تقریر ہی تو کی ہے بس۔۔۔عارف انیس

یہ بات درست ہے کہ عمران خان کی جنرل اسمبلی میں کی گئی تقریر سے پاکستان کے اقتصادی حالات بہتر نہیں ہوں گے، جی ڈی پی اسی طرح گھیسی کرتی رہے گی، ڈالر نیچے نہیں گرے گا۔ پاکستانی سیٹھ ٹیکس دینا شروع نہیں کریں گے،پلس کی بدمعاشی جاری رہے گی، ہماری بے ہنگم ٹریفک معمول پر نہیں آئے گی اور ہمارے ڈاکٹرز، افسران وقت پر دفتر جانا شروع نہیں کریں گے اور نہ ہی اس سے سبز پاسپورٹ کی قدرومنزلت میں کوئی اضافہ ہوگا۔ وزراء فواد چوہدری اور فردوس اعوان جیسے مسلط رہیں گے اور انصاف کبھی افتخارانہ، کبھی جاویدانہ اور کبھی نثارانہ برانڈ کا ملے گا،پاکستانی ہونے کے حوالے سے کوئی جوہری تبدیلی رونما نہیں ہوگی، ایک کے بعد ایک دریا ہمارا منتظر ہے!

تقریروں سے بھلا کچھ بدلتا ہے؟ جب میں بارہویں جماعت کا چول سا بچہ تھا تو ایک دن ماڈل ٹاؤن کی داستان سرائے میں بیٹھے ہوئے میں نے مولویوں کی تقریروں سے تنگ آکر، چمک کر کہا تھا کہ وہ تو بس تقریریں ہی تو کرتے ہیں، دنیا کے بہترین کہانی گو اشفاق احمد کو میری بات سن کر تپ چڑھ گئی تھی،انہوں نے فہمائشی انداز میں انگشت شہادت بلند کی اور کہا ‘تقریر اتنی گئی گزری چیز بھی نہیں ہے، تقریر بھی تو ایک فعل ہے، صرف ایک بات کہہ دینا بھی ایمان کا حصہ بن سکتا ہے، جب کفار مکہ، اسلام قبول کرنے کے لیے کلمہ پڑھتے تھے تو اس سے پہلے انہیں گتکا نہیں کھیلنا پڑتا تھا یا ر سے قلابازی نہیں لگانی پڑتی تھی۔ کلمہ بھی سیدھی سادی تقریر ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور حضرت محمد اللہ کے رسول ہیں ‘۔۔پھر مجھ پر نظریں جما کر کہا’ جب تمہارے ماں باپ کا نکاح ہوا تھا تو اس وقت بھی ابا جان کو شمشیر زنی کے جوہر نہیں دکھانے پڑے تھے، بس سیدھی سی تقریر یا بیان تھا کہ قبول ہے اور پھر جو حرام ہے، وہ حلال ہوگیا، سو تقریر کا درجہ کسی فعل سے کم نہیں ہے’۔بات میرے دل میں ترازو ہوگئی۔ یہ آخری مرتبہ تھی جب میں نے کسی کو تقریر کا طعنہ دیا تھا۔

پھر مولا نے مجھ جیسے گڈریے کو بھی تقریریں جھاڑنے کا موقع دیا۔ امریکی صدر کے سامنے بھی بولا۔برطانوی، آسٹریلوی وزیراعظم کے ہمراہ اور پارلیمنٹ میں بھی بولا۔بیس ہزار سے بڑے مجمع کے سامنے بھی بات کرنے کا بھرپور موقع ملا۔یہی نہیں درجنوں وزیروں، کبیروں اور اپنے تئیں طاقتور لوگوں کو تقریر کا آرٹ سکھایا۔ سچی بات تو یہ ہے کہ   جب اپنے دل کی بات کو الفاظ کا جامہ پہنانے کی بات  ہو تو بندہ جتنا بھی سورما ہو، مگر لگا ‘پھٹ سی جاتی ہے’۔ اپنا معانی الضمیر بیان کرنے کی جدوجہد میں تیس مارخانوں کو ہکلاتے دیکھا۔تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ جن لوگوں کی اپنے غسل خانے میں اپنے آپ سے بولتے ہوئے گھگھی بندھ جاتی ہے، وہ بھی کہتے ہیں خان نے تقریر ہی تو کی ہے، ایسا کیا کارنامہ سر انجام دے دیا۔ سچ ہی کہتے ہوں گے۔

اپنی زندگی سے آج   تک جو سیکھا ہے وہ یہی ہے کہ وی آل لو ٹو میک اے سٹیٹمنٹ۔ ہم چاہے تقریر کریں یا نہ کریں، ہماری زندگی ایک جملہ، ایک بیان ہوتی ہے اور شاید خان کی ساری زندگی کا حاصل بس وہی سٹیٹمنٹ تھی جو اس نے جنرل اسمبلی میں کہ ڈالی۔

خان نے جو کچھ کہا وہ کسی خادم حرمین شریفین، کسی ایرانی روح اللہ یا کسی ترک پاشا سے آج تک نہ کہا گیا۔ایک تو یہ کہ مسلمانوں کا وچ ہنٹ بند کیا جائے اور نبی کریم کی تقدیس پر آزادی اظہار کے نام پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔دوسرا یہ کہ مغرب کی اخلاقیات کو بھی اسی فٹے سے ناپا جائے جس سے وہ خود دنیا کو ناپتے ہیں۔ تیسرا یہ کہ اگر کشمیر کو دنیا ایک چھوٹے اور بڑے کی لڑائی ہی سمجھ رہی ہے اور بڑے کا پٹہ کھول چکی ہے تو پھر دما دم مست قلندر ہو کر رہے گا۔ خان کی تقریر سے واقعی کوئی خاص فرق نہیں پڑا ، بس مسکین پاکستانی کا قد دو چار انچ اونچا ہوگیا ہے، شاید یہ کمر سیدھی کر کے چلنے کا اجر ہے!

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *