یو این میں عمران خان کی تقریر پر میرا تجزیہ ۔۔۔انوار احمد

میں قطعی غیر سیاسی،غیر جانبدار اور ایک حقیقت پسند روشن خیال انسان ہوں۔ جذباتی بیانات ، تقارہر اور الفاظ کا ہیر پھیر مجھے نہیں آتا۔پاکستان کی محبت اور اسکی معاشی ،جمہوری اور معاشرتی بہتری میری اولین ترجیح ہے۔

میرا ایمان اور عقیدہ میرا اور میرے اللہ کے درمیان کا معاملہ ہے اور اس ضمن میں مجھے کسی سے کوئی سند لینے کی ضرورت نہیں ۔
خان صاحب کی یو این میں تقریر سے میں قطعی متاثر نہیں ہوا اور ذہن میں مختلف سوالات سر اٹھانے لگے۔
کیا خان صاحب وہاں ” مسلمانوں اور اسلام ” کی وکالت کرنے گئے تھے یا انہیں پاکستان کا مقدمہ پیش کرنا تھا ۔ وہ ملک کے وزیر اعظم ہیں کوئی مفتی یا خطیب نہیں اور نہ ہی یہ فورم اس مقصد کے لیے تھا ۔ میرے مطابق اس نادر موقع کو محض لفاظی کی نذر کردیا گیا جس سے ملک اور قوم کو کچھ نہیں ملنے والا اور نہ ہی کشمیر اور کشمیریوں کے مسائل کا کوئی حل نظر آتا ہے ۔ محض مسائل سے پردہ پوشی کرکے جذباتی اور خوبصورت انگریزی تقریر جس میں مذہب کا سہارا لیا گیا اور ایک بار پھر لوگوں کے مذہبی احساسات کو کیش کرنے کی کوشش کی گئی ۔ اسے یقیناً پاکستان کے مذہبی اور انتہا پسند طبقوں میں مقبولیت مل سکتی ہے لیکن بین الاقوامی سطح پر کسی پذیرائی اور ملک کی بہتری کی کوئی امید نہیں ۔ کمزور سفارتکاری کا یہ حال ہے کہ ایک سو تہتر میں صرف سولہ ممالک کی سپورٹ مل سکی ۔ سعودی عرب اور ” مسلم امہ” کے ممالک تک نے ہمارے موقف کی تائید نہیں کی اور بھارت کے حق میں ووٹ دیا ۔کشمیر کے مسئلہ پر کوئی پیش رفت نہ ہوسکی ۔ معیشت وغیرہ تو بہت بعد کی بات ہے ۔
میں جانتا ہوں کہ میری بات اچھی نہیں لگے گی لیکن سوچیے گا ضرور ۔

سرِ منبر وہ خوابوں کے محل تعمیر کرتے ہیں
علاجِ غم نہیں کرتے فقط تقریر کرتے ہیں ۔۔

حَسین آنکھوں،مُدھر گیتوں کے سُندر دیس کو کھو کر
میں حیراں ہوں وہ ذکرِوادئ کشمیر کرتے ہیں

ہمارے درد کا جالب مداوا ہو نہیں سکتا
کہ ہر قاتل کو چارہ گر سے ہم تعبیر کرتے ہیں
(حبیب جالب )

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *