• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • ہم خون کے آخری قطرے تک لڑیں گے۔۔۔منور حیات سرگانہ

ہم خون کے آخری قطرے تک لڑیں گے۔۔۔منور حیات سرگانہ

اگر تنقید کے نشتر تھوڑی دیر تک کے لئے ایک طرف رکھ دیے جائیں،تو بلاشبہ عمران خان  کے جنرل اسمبلی کے 74ویں سالانہ سیشن میں خطاب سے مسٹر ذوالفقار علی بھٹو کے جنرل اسمبلی کی ایک تقریر میں کہے گئے،جملے”ہم ایک ہزار سال تک لڑیں گے”کی یاد تازہ ہو گئی۔

پاکستانی  وزیراعظم عمران خان نے جنرل اسمبلی میں کی گئی اپنی تقریر میں اس سے بھی کچھ  زیادہ کر دکھایا،جس کی ان سے توقع کی جا رہی تھی۔اگرچہ معیشت کے محاذ پر عمران خان کوئی معجزہ برپا نہیں کر پائے،مگر کنٹینر پر مخالفین کو زچ کر دینے کا تجربہ بالآخر مودی کے ہوش ٹھکانے لگانے کے کام آ ہی گیا۔

بلا شبہ عمران خان سے بہتر انداز میں کشمیر اور اسلاموفوبیا کا مقدمہ کوئی پاکستانی لیڈر مغربی دنیا کے سامنے پیش کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا۔وہ مغربی دنیا کے سوچنے کے انداز سے واقف ہیں،بات کرنے کا سلیقہ بھی رکھتے ہیں،لوگ ان سے متاثر بھی ہوتے ہیں اور سب سے بڑھ کر لوگ ان کو سننا بھی چاہتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ حالیہ یو این سیشن کے دوران وہ صدر ٹرمپ کے بعد گوگل پر سب سے زیادہ سرچ کی جانے والی دوسری بڑی شخصیت کے طور پر ابھرے ہیں۔اپنے حالیہ دورہ امریکہ میں انہوں نے ایک ایک لمحے کا فائدہ اٹھایا اور جنرل اسمبلی میں اپنی تقریر سے پہلے،سائیڈ لائن میٹنگز میں وہاں کے نامی گرامی تھنک ٹینکس، جیسا کہ یو ایس کونسل فار فارن افیئرز اور یو ایس انسٹیٹیوٹ آف پیس کے علاوہ دیگر کئی ایک تنظیموں کے اجتماع میں ،اور غیر ملکی سربراہان مملکت کے ساتھ ملاقاتوں میں اپنے ملک کے موقف کو شاندار طریقے سے پیش کیا۔

دوسری طرف ان کے مد مقابل مسٹر نریندرا مودی،حسب معمول ہندوستان کی بجائے “ہاوڈی مودی” کے نام سے اپنی پروجیکشن میں مصروف رہے۔اگرچہ ہیوسٹن میں مودی نے ہندوستانیوں کے بہت بڑے جلسے سے خطاب کیا،جس میں صدر ٹرمپ کو مدعو کر کے اپنے تئیں کشمیر میں اٹھائے گئے اپنے سفاکانہ اقدامات کی امریکہ سے توثیق کروانے کی کوشش کی،مگر یہ سحر چند گھنٹے بعد ہی اس وقت ہوا میں تحلیل ہو گیا،جب صدر ٹرمپ نے عمران خان سے اپنی ملاقات میں مودی کے الفاظ کو جارحانہ قرار دیا،اور کشمیر پر دوبارہ اپنی ثالثی کی پیشکش کو دہرا یا۔اگرچہ بھارت کشمیر میں اٹھائے جانے والے اپنے سفاکانہ اقدامات کی وجہ سے پہلے ہی سخت عالمی دباؤ میں تھا،لیکن رہی سہی کسر عمران خان کی جارحانہ حکمت عملی نے پوری کردی۔عمران خان نے حقیقت میں مودی کو بیک فٹ پر دھکیل دیا ہے۔بادی النظر میں نریندرا مودی عمران خان سے کتراتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔پہلی بار پاکستان کے علاوہ ترکی نے بھی جنرل اسمبلی میں کشمیر کا نام لے کر نہ صرف اس دیرینہ مسئلے کے حل کی ضرورت پر زور دیا،بلکہ بھارتی مظالم کی شدید مذمت بھی کی۔

جہاں مودی کی سترہ منٹ کی تقریر صرف اپنے آپ کو امن کا پیامبر ،جنگ دشمن،ترقی کا دلدادہ اور ٹوائلٹس کی تعمیر کے منصوبے کے سرخیل کے طور پر پیش کرنے پر مرکوز رہی،وہی ان کے دہشت گردی کے خلاف بجائے جانے والے سالخوردہ بھونپو کو بے اثر ہوتے بھی صاف دیکھا گیا۔

مودی کی تقریر کے فوراً بعد عمران خان کی جنرل اسمبلی میں کی گئی پچاس منٹ کی تقریر شاید اب تک وہاں کی گئی طویل ترین تقریروں میں سے ایک گنی جائے گی۔مگر ایک عالمی مدبر کی طرح سے انہوں نے دنیا کو درپیش خطرات میں سے ایک بڑے خطرے ‘موسمیاتی تبدیلی ‘سے اپنی بات شروع کی،منی لانڈرنگ پر مغربی ممالک کے دوہرے میعار پر کھل کر تنقید کی۔اسلامو فوبیا پر پوری دنیا کو اپنے اور مسلم دنیا کے موقف سے آگاہ کیا،اور آخر میں کشمیر میں ڈھائے جانے والے بھارتی مظالم،بھارت کی جانب سے بلوچستان میں کی جانے والی دہشت گردی،بھارت کے مذاکرات سے فرار اور دنیا کی اس انسانی المیے پر بے حسی پر کھل کر بات کی۔در حقیقت عمران خان نے یو این میں کھڑے ہو کر یو این کو ہی کٹہرے میں کھڑا کر دیا،کہ یہ آپ کی ہی پاس کی ہوئی قراردادیں ہیں،جن کی پاسداری آپ نہیں کرا پائے۔آخر میں انہوں نے،دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان ہونے والے ممکنہ تصادم کے مہلک اثرات سے نہ صرف دنیا کو خبردار کیا ،بلکہ بھارتی حکومت سے مقبوضہ کشمیر سے فوراً کرفیو ہٹانے کا مطالبہ بھی کیا۔عمران خان کی پچاس منٹ کی تقریر مدلل اور آخر تک دلچسپی سے بھرپور رہی۔

اس بار جو مختلف ہوا ،اس میں ایک تو یہ کہ نہ صرف بھارتی پرنٹ میڈیا کی طرف سے عمران خان کی سادگی اور کفایت شعاری کی پالیسی کی تعریف کی گئی،بلکہ مغربی میڈیا کی طرف سے پاکستان کے ایک عالمی کھلاڑی کے طور پر عالمی منظر نامے پر ابھرنے کا اعتراف بھی کیا گیا۔

اس سے پہلے گزشتہ کئی سال سے پاکستان سے ہمیشہ ڈو مور کا مطالبہ کیا جاتا رہا۔اور ایسے مواقع پر کوئی بھی پاکستانی سربراہ مملکت امریکی صدور سے ملاقات کے لئے پانچ منٹ بھی لینے میں کامیاب نہ ہو سکا۔لیکن عمران خان کے ساتھ ایسا ہرگز نہیں ہوا۔انہوں نے امریکی صدر کے علاوہ کافی سارے دوسرے سربراہان مملکت سے ملاقات بھی کی، اور ان سے مفید تبادلہ خیالات کرنے میں کامیاب بھی رہے۔

اس بار پاکستانیوں کے لئے اطمینان کی بات یہ بھی رہی،کہ نہ ہی تو پاکستان سے طیارے بھر بھر کر لاؤ لشکر امریکی دورے پر لائے گئے اور نہ ہی امریکہ میں موجود پاکستانی سفارت خانے کے عملے کو مہنگے ہوٹلوں ،اور لگژری گاڑیوں کا انتظام کرنے کے لئے ہلکان ہونا پڑا۔دوسری طرف امریکہ میں پاکستانی اور کشمیری کمیونٹی کی منظم کوششوں کو نہ سراہنا بھی بہت بڑی  زیادتی ہو گی۔ہیوسٹن میں ہزاروں لوگوں نے مودی کی جلسہ گاہ کے باہر زبردست مظاہرہ کیا،اور یہی حال نیو یارک میں جنرل اسمبلی کے باہر بھی اس وقت نظر آیا ،جب ہندوستانی وزیراعظم وہاں اپنی تقریر کرنے پہنچے۔اس احتجاج میں سکھ کمیونٹی بھی کشمیریوں اور پاکستانیوں کے شانہ بشانہ رہی۔جبکہ بھارتی حکومت ،جیسا کہ خیال کیا جا رہا تھا،کہ کچھ بلوچ اور پشتون عناصر کو پاکستان کے خلاف جوابی حکمت عملی کے طور پر مظاہرین کی صورت میں لے آئے گی،اس میں مکمل طور پر ناکام رہی۔
عمران خان نے اپنے ہی بوجھ تلے دبے مودی کے غبارے کو بیچ چوراہے پھوڑ دیا۔
بلا شبہ اس بار نیو یارک میں سجا اقوام متحدہ کا میلہ پاکستانی وزیراعظم عمران خان کے نام رہا!

منور حیات
منور حیات
ملتان میں رہائش ہے،مختلف سماجی اور دیگر موضوعات پر بلاگ لکھتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *