عبدالستار کا چوتھاادبی محبت نامہ ڈاکٹر خالد سہیل کے نام

ڈاکٹر خالد سہیل کی مشہور آٹو بائیو گرافی THE SEEKERپر تبادلہ خیال کا دوسرا حصہ

سچ جاننے کی جستجو کرنا ایک بہت ہی کٹھن اور دشوار گزار راستے کا انتخاب کرنے کے مترادف ہے۔ سچائی ایک پہیلی ہے۔ ایک معمہ ہے۔ یہ جستجو کرنے والے پر منحصر ہے کہ وہ اس پہیلی کو کھوجنے کے لیے کتنی ریاضت اور تپسیا کرتا ہے۔ سچائی کے اس سفر میں بہت ہی کم مسافروں کو اس بات کا ادراک ہوتاہے کہ وہ اپنے حصے کے سچ کو پا چکے ہیں۔ مگر ہماری یہ خوش قسمتی ہے کہ ہم آج ایک ایسے مسافر سے متعارف ہوں گے جو اپنے حصہ کے پورے سچ کو شعوری طور پر پا چکا ہے۔
خضر:
اس مسافر کا نام خضر ہے۔ جب کوئی سچائی کی تلاش میں نکلتا ہے تو عمومی طور پر اسے SEEKER یعنی تلاش کرنے والا کہا جاتا ہے۔ لیکن خضر تلاش کا استعارہ بن جاتا ہے جو کہ نہ صرف خود مسافر ہے بلکہ دوسرے مسافروں کی راہنمائی کا کردار بھی ادا کرتا ہے۔ خضر کو ریاضت اور مشقت کرنے کے بعد یہ نروان حاصل ہوتاہے کہ دنیا میں چند ایک خوش نصیب لوگ ہوتے ہیں جو یہ رازجان چکے ہوں کہ زندگی پر اسرار، درویشانہ اور جادوئی ہوتی ہے اور خضر ان چند خوش نصیبوں میں سے ایک ہے جو زندگی کا یہ راز پاچکا ہے۔
The Evening of His Life
سچائی کی تلاش میں نکلے ہوئے اس مسافر کی زندگی میں ایک پڑاؤآتا ہے ایک شام خضر خود کو آئینے میں دیکھتا ہے تو اسے ادراک ہوتاہے کہ اس کے بال سفید ہو رہے ہیں اور وہ آہستہ آہستہ زندگی کی شام میں داخل ہو رہا ہے۔ خضر کو شعوری طور پر ادراک ہو تاہے کہ وہ ایک لمبے عرصہ سے سچائی کی تلاش میں نکلا ہوا مسافر ہے۔ وہ خود کلامی کرتے ہوئے اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ ابھی تک اس نے سچائی کی چند ایک جھلکیاں دیکھی ہیں۔سچائی کی پوری تصویر نہیں دیکھ سکا۔ وہ خود کو شعور اور لاشعور کے درمیان دوراہے پر کھڑا محسوس کرتا ہے۔ خود کلامی میں شعور اور لا شعور کی تکرار کے درمیان خضر کو یہ نروان حاصل ہوتاہے کہ خضر کی پورا سچ جاننے کی خواہش تشنہ رہ جائے گی اور وہ شعوری طور پر مکمل بالغ ہونے سے پہلے ہی مر جائے گا۔
BOOKS
خضر کو بچپن سے ہی کتابیں پڑھنے کا بہت شوق ہے۔ اس شوق کی آبیاری کرنے کے لیے خضر مقامی لائبریریوں کا رخ کرتا ہے اور وہاں سے ادب، فلسفہ، مذہب، اسطورہ، نفسیات، سماجیات اور فلکیات جیسے موضوعات کو پڑھنے میں دلچسپی لیتا ہے۔ جب خضر بچپن کی دہلیز پار کرکے خود مختار ہوتاہے تو وہ خود کتابیں خریدنا شروع کردیتا ہے۔ اب کتابوں سے دوستی کا یہ عالم ہے کہ یہ کتابیں خضر کی
1۔بیٹھک میں
2۔ واش روم میں
3۔بیڈ روم میں
4۔ الماری کے خانوں میں
5۔ٹیبل کے اوپر
6۔کرسیو ں کے اوپر
حتی کہ فرش کے اوپر بھی کتابوں کے پہاڑ بنے ہوئے ہیں۔ خضر خود کو خو ش نصیب سمجھتا ہے کہ جب وہ اپنی کتابوں کے درمیان ہوتاہے تو اسے یوں محسوس ہوتاہے کہ وہ جنت میں بیٹھا ہوا ہے۔ خضر کہتا ہے کہ اس بے ترتیبی میں بھی ایک ترتیب ہے اور اس بکھراؤ میں ایک شعوری شفافیت ہے۔ کتابوں کی اسی جنت کے درمیان میں ایک خاص کمرہ بھی ہے۔ جسے خضر Creative Labour Roomکا نام دیتا ہے۔ اس تخلیق گاہ میں خضر نے نسل انسانی کے لیے بہت سے محبت نامہ رقم کیے ہیں۔ جو اس خضر کا انسانیت کے نام ایک تحفہ ہیں۔
Tradition
خضر روایا ت کی سرزمین کا باسی ہے۔ خضر کا ماننا ہے کہ اس سر زمین پر جب کسی سے بھی وہ ملا، وہ سب ایک ہی سچ کو اول و آخر مانتے تھے۔ ان کا اپنا سچ کوئی نہیں تھا۔ یہ اجتماعی سچ پر یقین رکھتے تھے۔
Religion
خضر کو سچائی کی تلاش کے دوران روایتی ماں سے بھی سامنا ہوتاہے۔جسے مذہب کہتے ہیں۔ یہ روایتی ماں ایک خالق اور فرشتوں پر ایمان رکھتی ہے۔ یہ جنت،د وزخ، توہم پرستی، دعا مناجات اور معجزات پر یقین رکھتی ہے۔ جب خضر چھوٹا تھا تو اس کی ماں کہا کرتی تھی کہ وہ نما زپڑھے، روزے رکھے اور مقدس اصولوں کی پیروی کرے تاکہ وہ ایک خوش گوار زندگی گزار سکے۔ لیکن خضر ان سب باتوں سے مطمئن نہ تھا کیونکہ یہ سارا نظام خوف اور لالچ کے درمیان گھومتا تھا۔
پیارے طبیب پانچ استعاروں پر گفتگو کا فی طویل ہوگئی ہے۔ طویل کلامی کی معذرت اور اب میں بچوں کے سولات کی طرف آتا ہوں۔
۱۔ آپ نے اپنی اس آٹو بائیوگرافی کو زندگی کے رشتوں کے ساتھ بڑی خوبصورتی سے جوڑا ہے۔ کیا یہ طے شدہ تھا یا ساری میوس کی مہربانی ہے؟
۲۔ اگر مذہب، خدا، جنت، دوزخ کو اپنی زندگی سے خیر آباد کہہ دیں تو پھر اتنی بڑی کائنات میں اس بیچارے انسان کے لیے کتھارسس کا کیا سامان بچے گا؟
۳۔ کیا انسانیت کبھی پورا سچ جان پائے گی یا سب کچھ پہیلیوں کی نظر ہوجائے گا۔
۴۔ کیا ہر کتاب ہی آپ کو روشنی عطا کرتی ہے؟ کیونکہ بے شمار کتابیں انسان کو حقیقت سے بہت دور بھی کردیتی ہیں۔
۵۔ جیسے کائنات کی سب سے بڑی حقیقت ارتقاء کا عمل ہے۔ کیا سچ بھی ارتقائی عمل میں سے گزرتا ہے یا یہ جامد اور ٹھوس ہوتاہے؟
آپ کا ادبی دوست عبدالستار
……………………………………
ڈاکٹر خالد سہیل کا جواب
محترمی عبدالستار صاحب !
میں آپ کا ایک دفعہ پھر شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ آپ نے میری سوانح عمری کو نہ صرف غور سے پڑھا بلکہ اس حوالے سے اپنے طلبا و طالبات سے مکالمہ بھی کیا۔ آپ نے محبت نامے کے آخر میں جو سوال پوچھے ہیں میں ان کے مختصر جواب دینے کی کوشش کروں گا
میں اپنی سوانح عمری کے بارے میں ایک طویل عرصے سے سوچ رہا تھا۔میں اپنے لیے ایک ہمزاد کی تلاش میں تھا۔ پھر ایک دن مجھے خضر کردار کا خیال آیا کہ وہ دیومالائی کرداراجنبیوں کی زندگی میں آتا ہے مدد کرتا ہے اور پھر ان کی زندگی سے رخصت ہو جاتا ہے۔ میں نے سوچا کہ ایک تھیریپسٹ ہونے کے ناطے میں بھی اجنبی مریضوں کی مدد کرتا ہوں اور جب وہ صحتیاب ہو جاتے ہیں تو وہ رخصت ہو جاتے ہیں۔
پھر میں نے سوچا کہ میری زندگی میں جو کردار آئے ہیں میں نے ان سے کیا سیکھا ہے اس لیے میں نے اپنی زندگی کے ہر کردار کو ایک خصوصیت کے حوالے سے جانا۔ جب یہ دو کام ہو گئے تو میں لکھنے بیٹھا۔ لکھنا شروع کیا تو پتہ چلا کہ میری میوس مجھ پر بہت مہربان ہے وہ ہر روز میرے لیے دو چار چھ صفحات کے تحفے لاتی۔ اس طرح میں نے پوری سوانح عمری ایک مہینے میں مکمل کر لی۔
ستار صاحب !
زندگی ایک راز ہے
ایک وہ زمانہ تھا جب سنت سادھو اور صوفی زندگی کے راز جاننے کی کوشش کرتے تھے اور جنگلوں میں بسیرا کرتے تھے۔
پھر وہ زمانہ آیا جب شاعر ادیب اور دانشور ان رازوں کو جاننے کے لیے گلیوں اور بازاروں میں سرگرداں رہتے تھے
اب یہ زمانہ ہے کہ سائنسدان اپنی لیبارٹری میں وہ راز جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔
پچھلی دو صدیوں میں
ڈارون کی بیالوجی
فرائڈ کی سائیکالوجی
مارکس کی سوشیالوجی اور
ہاکنگ کی کوسموجولی
کی وجہ سے بہت سے انسانوں نے مذہب اور خدا کو خدا حافظ کہہ دیاہے۔اب وہ جانتے ہیں کہ ہم اپنی عقل اور اپنے ضمیر کی روشنی میں ایک بامقصد زندگی گزار سکتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ایک اچھا انسان بننے کے لیے مذہب ضروری نہیں ہے۔
ہم زندگی کے جتنے بھی راز جان لیں ہم سب راز نہیں جان سکتے ۔ اس لیے ہر نئی نسل زندگی کے نئے راز جانتی ہے۔
زندگی کے ارتقا کا سفر آگے کی طرف ہے پیچھے کی طرف نہیں۔
سائنس کو ماننے والے مستقبل کے بارے میں اور مذہب کو ماننے والے ماضی کے بارے میں سوچتے ہیں اسی لیے کئی مذہبی لوگ ماضی پرست ہو جاتے ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ادب انسانوں کی زندگی میں کیا کردار ادا کرتا ہے؟
بعض ادیب ENTERTAINMENT کے لیے اور بعض ادیب ENLIGHTENMENT کے لیے لکھتے ہیں۔میرا پسندیدہ ادب وہ ہے جسے میں WISDOM LITERATURE کہتا ہوں ایسے ادب میں دیومالائی کہانیاں بھی شامل ہیں۔
میں نے عاجزانہ کوشش کی کہ میں اپنی سوانح عمری میں اپنے قارئین سے دانائی کی باتیں شیئر کروں جس انہیں ایک بہتر انسان بننے میں مدد کر سکیں۔ اب میں اس کوشش میں کتنا کامیاب ہوا ہوں یہ تو میرے قاری ہی بتا سکتے ہیں۔
مخلص
خالد سہیل

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *