بی آر ٹی۔۔۔آغا نصرت آغا

سیاست اور سڑک کا رشتہ اتنا ہی پرانا ہے، جتنا قائم علی شاہ اور پیپلز پارٹی کا تعلق۔ اگر آپ پاکستانی سیاست میں سڑک کی اہمیت جماعتِ اسلامی، تحریکِ انصاف اور اس کے کزن طاہر القادری کے دھرنوں سے نہیں سمجھ سکتے تو یقیناً آپ علامہ خادم رضوی سے سڑک کی اہمیت کے بارے جیل جاکر پوچھ سکتے ہیں۔ سڑکوں کی اہمیت البتہ آپ کو نواز شریف کی پارٹی کے کارکنوں سے زیادہ کوئی بہتر انداز میں نہیں سمجھا سکتا۔ یہ نواز شریف کی سڑکوں سے محبت ہی تھی جس نے اس ملک کو موٹروے کی شکل میں ایسی سڑک دی جس پر ہندوستان سے دھمکی کے وقت جہاز بھی اڑائے جاسکتے ہیں، ان سڑکوں پر ٹول پلازے بنائے تاکہ عوام سے چندہ اکھٹا کرکے مزید سڑکیں بناکر اس کا افتتاح کر سکے۔ لاہور کے اندر میٹرو اور اورنج ٹرین کے منصوبے بناکر دونوں بھائیوں نے آصف زرداری سمیت سارے سیاسی مخالفین کو چیلنج دیا کہ اگر دم ہے تو آجاؤمقابلہ کرنے، لیکن کسی مائی کے لعل میں جرات نہ ہوئی کہ دونوں بھائیوں کی سڑکوں میں مقابلہ کرے۔ سڑکوں کی یہ خواہش اسے چین تک لے گئی اور سی پیک کی شکل میں اس قوم کو وہ تحفہ دیا کہ نواز شریف سمیت ملک کی کسی پالیسی پر نکتہ چینی کرنا سی پیک کے خلاف سازش قرار پائی۔ سیاستدانوں سے شروع میں تو سڑکوں کی یہ ترقی ہضم نہ ہوئی اور موجودہ وزیراعظم ٹی وی پر بیٹھ کر نہ صرف سڑکوں کی جگہ انسانوں پر پیسہ لگانے کے بھاشن دیتا رہا، بلکہ ہوا میں بسیں چلنے کا مذاق اڑاتا رہا، لیکن اپنی پارٹی کے معروف ٹھیکیدار پرویز خٹک کے پاور پوائنٹ پریزنٹیشن کےجال میں پھنس کر اس نے پشاور کی سڑکیں کھود کر اس پر انگلینڈ، جرمنی اور امریکہ کی طرز کا بی آرٹی بناکر نواز شریف کو دندان شکن جواب دینے کا فیصلہ کیا۔ پی ٹی آئی کے ارسطو اسد عمر نے نون لیگ کے ارسطو احسن اقبال سے کہا کہ ہم آپ کو بیس تیس ارب میں میٹرو بناکر دیتے ہیں، لیکن خوش قسمتی سے انہوں نے اس کا چیلنج قبول کرنے سے معذرت کرلی۔

۲۰۱۳ میں پاکستان تحریکِ انصاف کی صوبے میں حکومت بنی تو لاالہ الااللہ کے نام سے بننے والی اسلامی تجربہ گاہ میں تحریکِ انصاف کے افلاطونوں، ارسطوؤں اور آئن سٹائنوں نے پشاور کو ہی اپنے سارے تجربات کے لئے منتخب کرلیا۔ پہلے مرحلے میں کروڑوں روپے لگاکر پشاورکی تزئین و آرائش کے لئے پلاسٹک کے پودے خریدے، دوسرے مرحلے میں انہیں اکھاڑ کر اصلی پودے لگائے گئے اور تیسرے مرحلے میں سڑک کے درمیانی حصے کو اکھاڑ کر اس کی جگہ بی آرٹی کے نام سے نواز شریف کی جگہ عوام سے بدلہ لینے کے لئے انہیں ذلیل کرنا شروع کیا اور موجودہ دفاعی وزیر اور سابق وزیراعلیٰ نے سینہ تان کر بیان دیا کہ اپریل ۲۰۱۷ تک اس پر بسیں چلیں گی۔ اس منصوبے کے لئے ایشیائی ترقیاتی بینک سے صوبے کی تاریخ کا سب سے زیادہ قرضہ لیا گیا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ منصوبے کی لاگت اور افتتاح کی تاریخ بدلتی گئی۔ کئی مرتبہ سوشل میڈیا پر گدھا گاڑی چلا کر منصوبے کا افتتاح کردیا گیا، لیکن گدھاگاڑی پر سیاستدانوں اور پارٹی کے نام اور نمبرپلیٹ نہ ہونے کی وجہ سے اس افتتاح کو غیر قانونی قرار دیا گیا۔ پھولوں کے شہر میں دھوئیں کے بدل چھانے لگے، بہت سارے لوگوں کا کاروبار ٹھپ ہوگیا اور بی آر ٹی سے وابستہ لوگوں کی دن دُگنی اور رات چوگنی ترقی شروع ہوئی۔ پاکستان تحریک انصاف کے سوشل میڈیا بریگیڈ نے ایک عرصے تک اپنے مورچے سنبھال کر فوٹو شاپ تصویریں اپ لوڈ کرکے اس منصوبے کا دفاع کیا لیکن الیکشن جیتنے کے بعد وہ دیگر منصوبوں، یعنی عمران خان کے یوٹرن، فیاض الحسن کی گالیوں، فیصل واوڈا کی اداکاری، شیخ رشید کی مکاری اور فواد چودھری کی بیان بازی کے دفاع کرنے میں اس قدر مصروف رہے کہ بی آر ٹی پر سیاسی مخالفین کے تابڑ توڑ حملوں کا جواب دینا ممکن نہیں رہا۔ صوبے میں دوبارہ حکومت ملنے اور پختونخوا کے عثمان بزدار یعنی محمود خان وزیراعلیٰ بنے تو اس نے مارچ ۲۰۱۹ میں اس منصوبے کے افتتاح کا اعلان کیا، لیکن افتتاح سے چند روز قبل معلوم ہوا کہ سابق وزیراعلیٰ نے بسیں محمود خان کی سائز کی خریدی ہیں جبکہ سڑک اپنے سائزکی بنائی ہے۔

میڈیا میں خبر آنے کے بعد متعلقہ انجینئرزکے لئے نوبیل انعام کی کمپین شروع ہوچکی ہے جنہیں منصوبہ مکمل ہونے کے بعد بسوں کی موٹائی اور سڑک کی چوڑائی میں فرق نظر آگیا، البتہ اس دوران پرویز خٹک پر اس منصوبے میں نیب میں کیس بن چکاتھا، جس پر اگلی حکومت میں عملدرآمد ممکن ہوسکے گا۔ پرویز خٹک کے خلاف نیب اس وجہ سے بھی کاروائی سے کترا رہا ہے کیونکہ آجکل ہندوستان کی طرف سے دھمکیاں موصول ہورہی ہیں اور اگر وزیرِ دفاع جیل چلا گیا تو پھر مشرقی سرحد پر موجود مکار دشمن جو ہمیشہ رات کی تاریکی میں حملے کرتا ہے کو جواب دینے کے لئے پہلوان نہ ہونے کی وجہ سے ملکی سلامتی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ بی آر ٹی کب بنے گی، اور قیامت کب آئے گی، یہ وہ سوال ہیں جن کا علم سوائے اللہ کے کسی کے پاس نہیں البتہ میرے ایک انجنیئر دوست کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کی تکمیل کے آخری حصے میں یہ بھی شامل ہے کہ اسے واپس اکھاڑ دیا جائے گا۔ وہ مرحلہ کب آتا ہے، یہ تو بی آرٹی کے انجینئرز بتا سکتے ہیں لیکن اس ایک منصوبے کی وجہ سے ہمیں پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت کی یہ ہوتا ہے لیڈر یہ ہوتا ہے ویژن، دوراندیشی اورمنصوبہ بندی کے بارے میں اچھی طرح اندازہ ہوچکا ہے۔ اگر پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت پنجاب کے ایک دو اور شہروں میں بھی ایسا منصوبہ شروع کرے تو مجھے یقین ہے نواز شریف اور شہباز شریف کو احتجاج کرنے، مولانا فضل الرحمان کو فتوے لگانے، بلاول کو پارلیمنٹ میں انگریزی جھاڑنے کی بالکل بھی ضرورت نہیں رہے گی، اور بی آرٹی تحریکِ انصاف کی قبر بن کر اس میں ہمیشہ کے لئے دفن ہوجائے گی اور پاکستان مزید سو ارب روپے کے قرض اور خسارے سے بچ جائے گا۔ حکومت کو بی آر ٹی اور پشاور کی عوام کو ذلالت سے بچانے کے لئے فواد چودھری کا پچپن کلومیٹر فی گھنٹہ جہاز ایک بہترین حل ہو سکتا ہے۔

آغا نصرت آغا
آغا نصرت آغا
i syed nusratullah agha from sindh agriculture university tandojam 2nd year student . My best hobbies are reading the various books and write a columns against women brutal volition as well as i playing a football

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *