کشمیر کتھا کا پہلا افسانہ،ہم کیا چاہتے”آزادی”۔۔۔۔رمشا تبسم

اُس کی آنکھ کھلی تو وہ زمین پر الٹا پڑا ہوا تھا۔تھوڑا دور دیکھا تو کئی لوگ زمین پر پڑے ہوئے تھے ہر طرف پتھر بکھرے ہوئے تھے۔ کہیں کہیں بجھی ہوئی آگ سے ہلکا سا دھواں اٹھ رہا تھا۔شاید امید اور زندگیوں کے چراغ بجھنے کے بعد ایسا ہی دھواں اٹھا کرتا ہے۔۔اس نے اٹھنے کی کوشش کی بمشکل کھڑا ہوا اور جیسے ایک قدم آگے جانے لگا ،اسے عجیب سا محسوس ہوا ۔وہ پیچھے دیکھنے لگا تھا کہ کسی نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔ایک معصوم بچہ چہرے پر نور لیے کھڑا تھا۔وہ اس بچے سے بات کرنا چاہتا تھا مگر وہ بچہ اسکا ہاتھ پکڑ کر اپنے پیچھے کھینچنے لگا وہ بھی مزاحمت کیے بغیر اسکے پیچھے ہو گیا۔دیواروں پر گولیوں سے ہونے والے بے شمار سوراخ تھے۔گھروں کی دیواریں, دروازے, کھڑکیاں بری طرح گولیوں سے برباد ہو چکی تھیں۔زمین پر کانچ اور پتھر بکھرے تھے۔اسکا پاؤں زمین پر بکھرے کانچ پر پڑا اس نے لاشعوری طور پر چیخ مار ی، مگر اسے نہ درد ہوا تھا نہ خون نکلا تھا۔وہ حیرت میں تھا اور بچہ اسکی طرف دیکھ کر مسکرانے لگا ۔آس پاس بے شمار لوگ زمین پر زخمی اور بے جان پڑے تھے۔جگہ جگہ خون پڑا تھا۔خون سے بدبو نہیں آ رہی تھی۔عجیب سی مہک تھی۔۔
وہ بچہ رُکا۔بچے نے اشارہ کیا ایک الٹے پڑے ننھےجسم کی طرف۔ اس آدمی نے آگے بڑھ کر اس ننھے وجود کو دیکھا اسکے آس پاس بھی صرف خون تھا۔اس نے اس ننھے جسم کو سیدھا کیا ۔اس ننھے جسم کے چہرے پر کئی زخموں کے نشانات تھے۔اسکی آنکھوں میں پیلٹ گن کی گولیاں ماری گئی تھیں۔اسکا چہرہ لہو لہان تھا وہ زخمی بچہ سات آٹھ سال کا معلوم ہوتا تھا۔آدمی نے اسکا چہرہ اپنی قمیض سے صاف کیا ۔وہ ششدر رہ گیا زخموں کے باوجود اسکا چہرہ پہچانا جا سکتا تھا۔پھٹے ہونٹ سے بہتے خون, ٹوٹی گردن, زخمی آنکھوں کے باوجود وہ آدمی پہچان سکتا تھا کہ یہ بچہ ہو بہو وہی تھا جو اسکا ہاتھ تھامے ابھی ابھی اسے یہاں لایا ہے۔
آدمی نے پیچھے مڑ کر دیکھا وہ بچہ دو زانوں زمین پر بیٹھا تھا اسکا چہرہ اب بھی روشن تھا۔وہ بچہ مر چکا تھا۔اسکا خون آلود وجود اس آدمی کے ہاتھوں میں تھا۔اس نے سوچا یہ مر گیا ہے تو میں؟ اور آس پاس پڑے یہ سب لوگ؟ یہ خون؟اس نے سوچا اور وہ چیخ اٹھا “اوہ میرے خدایا”۔۔
“میں بھی مارا جا چکا ہوں۔یہ سب بھی مر چکے ہیں”
وہ بھاگا ،وا پس اُس لاش کے پاس آیا جہاں سے یہ بچہ اسکا ہاتھ تھام کر یہاں لایا تھا۔اس نے زخمی بے جان پڑے ہوئے وجود کو سیدھا کیا۔اس بے جان جسم کے سر اور منہ پر بے شمار گولیاں ماری گئیں تھیں۔ وہ چیخ اٹھا۔۔
“یہ میں ہوں۔یہ میرا جسم ہے،مجھے یاد آ رہا ہے”۔وہ چیخا “ہاں مجھے سب یاد آ رہا ہے۔میں احمد ہوں۔میں اب مر چکا ہوں”۔
“ہم سب چند دن پہلے بھارتی فوج سے مزاحمت کرتے ہوئے گرفتار ہونے والے کشمیری نوجوانوں سے اظہارِ یکجہتی کے لئے اکٹھے ہو رہے تھے۔جن کو گرفتار کیا اور کچھ کو جیل میں تشدد کر کے قتل کر دیا گیا۔۔پورے علاقے میں سخت کرفیو نافذ رہا اور آج جمعہ کی نماز کے بعد پورے کشمیر میں مختلف علاقوں میں لوگوں نے احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا۔احمد نے آس پاس نظر دوڑا کر اب مزید سوچنا شروع کیا ۔
“بھارتی فوجیوں نے ہر صورت ہمیں آگے بڑھنے سے روکا۔انہوں نے ہوائی فائرنگ شروع کی۔ہم بڑھتے گئے ۔فضا میں صرف انہی جملوں کی بازگشت تھی۔۔۔۔”ہم کیا چاہتے۔۔آزادی” “ہم لے کے رہیں گے۔۔آزادی”۔
ہم نے ٹائروں کو آگ لگا کر بھارت خلاف نعرے بازی شروع کی۔ہم نے دنیا کے ٹھیکیداروں کو پکارنا شروع کیا کہ دیکھو ہم نہتے لوگوں پر بھارتی فوج تعنیات کی گئی ہے۔ہم مر رہے ہیں اور تم لوگ کھوکھلے ہمدردی کے الفاظ دکھا کر ہماری لاشوں پر سیاست کر رہے ہو۔
بھارتی فوجیوں نے ہماری طرف فائرنگ شروع کی۔ ہمیں متشر کرنے کی کوشش کی۔ہماری آواز بند کرنے کی کوشش کی۔ہم بارود میں پیدا ہوکر, بارود کی فضا میں سانس لے کر, لمحہ لمحہ بارود کا شور سننے اور ہر وقت بارود سے اپنوں کے زخمی لاشے اٹھانے والے اب بارود سے خوفزدہ نہیں تھے۔یہاں ہر گھر میں پیلٹ گن سے اندھے ہوئے لوگ موجود ہیں۔یہاں ہر گھر میں زخموں سے تڑپتے لوگ موجود ہیں۔ہر گھر میں اپنوں کی جدائی میں آنسو بہاتی آنکھیں ہیں۔کئی کئی دن گھروں میں بھوک کا ڈیرہ ہوتا ہے۔بارود ہمیں خاموش نہیں کروا سکتا تھا۔۔
ہم پھر بھی بڑھ رہے تھے۔ہماری زبان پر ایک ہی آواز تھی اللہ اکبر اللہ اکبر۔۔
ہم لے کر رہیں گے۔آزادی۔۔
ہم نے پتھروں سے بندوقوں کا مقابلہ شروع کیا۔فوجیوں نے ہماری طرف بندوقوں کا رخ کیا۔ہم ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے فوجیوں کی طرف بھاگے ۔اور فوجی چند قدم پیچھے ہٹ گئے اور ایک دم انہوں نے گولیاں چلانا شروع کر دیں۔
میرے آگے سب سے پہلے زخمی ہو کر شہباز گرا جو ابھی صرف سترہ سال کا تھا جس کو ڈاکٹر بننے کا شوق تھا۔اسکا باپ اور بھائی سات مہینے پہلے ہی شہید کر دیئے گئے۔اور اب شہباز میرے آگے زمین پر تھا۔میں نے جھک کر اسکو اٹھانے کی کوشش کی جب میرے ساتھ کھڑے ایک بزرگ کو گولیاں لگی اور اب ہر طرف شور تھا۔چیخ و پکار نہ تھی صرف ایک صدا تھی ہم لے کے رہیں گے آزادی۔
خوف نہ تھا بلکہ بہادری سے ہر کوئی اپنی طرف آتی گولی کو پتھر سے واپس فوجیوں کی طرف موڑنا چاہتا تھا۔یہ پتھر پر بھروسہ نہ تھا بلکہ آزادی کے جذبے اور ہمت پر بھروسہ تھا کہ گولیوں کے درمیان بغیر اسلحہ لئے ہم پھر بھی بڑھ رہے تھے۔ ہم پر ہر طرف سے بندوقوں کے منہ کھول دیئے گئے۔ہر کوئی زخمی ہو کر زمین پر گر رہا تھا۔
میں بھی دھکے کھاتا ہوا آگے کی طرف نکل گیا اور میرے سامنے پرچم اٹھائے بہادری سے یہی بچہ کھڑا تھا جو اب مر چکا ہے۔اس پرچم پر لکھا تھا۔ “کشمیر کیا چاہے۔۔آزادی”۔ میں رُکا مجھے گولیوں کی آواز سنائی دینا بند ہو گئی ۔مجھے زخمیوں کی تڑپ اور چیخ و پکار سنائی نہیں دے رہی تھی بچے کے ہاتھ میں آزادی کا لفظ دیکھ کر مجھے موت کا خوف نہیں تھا میں نے اس بچے کی طرف بڑھنا شروع کیا۔ ایک دم اسکے چہرے پر حملہ کیا گیا اسکے ہاتھ میں موجود آزادی کے نعرے پر خون کے چھینٹے پڑے۔وہ زمین پر گر پڑا۔میں اسکی طرف پھر بھی بڑھنے لگا تھا کہ بھارتی فوجی اسکے وجود کو پاؤں تلے روندتے ہوئے دوڑتے نظر آئے میں اسکو اٹھانا چاہتا تھا۔
مگر اسی لمحے کوئی آگ نما گرم چیز میں نے اپنےچہرے پر بائیں گال میں داخل ہوتے محسوس کی۔ وہ چیرتی ہوئی میرے گال میں گُھس رہی تھی۔میرے منہ سے صدا جاری تھی ،لے کر رہیں گے آزادی اور اسی وقت میرے سر میں گولی لگی اس کے بعد مجھے کچھ یاد نہیں۔ “ہاں یہ بچہ آزادی پر قربان ہوا یہ سب آزادی پر شہید ہو گئے۔میں اب زندہ نہیں رہا”۔۔
احمد کی آنکھ سے آنسو جاری تھے۔اسی لمحے اسی بچے کی روح پھر سے بھاگتی ہوئی احمد کے قریب آئی۔ اس نے مسکراتے اور نورانی چہرے سے احمد کو ایک کپڑے کا ٹکڑا تھمایا جس پر خون کے دھبے تھے۔ احمد نے کپڑا کھولا اور روتے ہوئے آنکھوں سے لگا لیا۔ اسی لمحے احمد کو ایک آواز سنائی۔
“احمد میرے بچے” ۔۔
۔وہ زیر لب بڑبڑایا “بابا جانی” اور فوراً پیچھے مڑ گیا
سفید کپڑوں میں ملبوس بزرگ بانہیں پھیلائے کھڑے تھے۔احمد بھاگتا ہوا گیا اس نے خون آلود کپڑے کا ٹکڑا مٹھی میں دبا لیا۔
اور بزرگ کے گلے لگ کے زاروقطار رونے لگا۔
“بابا جانی آپ کہاں تھے؟۔کہاں چلے گئے؟۔میں نے آپ کو اس روز بہت ڈھونڈا۔ہر جگہ ۔مگر آپ نہیں ملے۔ہمیں تو آپ کی لاش تک نہیں دی گئی بابا جانی” ۔وہ اب روتا ہوا باپ کا ہاتھ چوم رہا تھا۔
“احمد میرے بچے۔ہاں میں جانتا ہوں تم نے مجھے ڈھونڈا تم صرف اس وقت پندرہ سال کے تھے اور آج تقریبا تم 21 سال کے ہو۔ میں ہر پل تم سب کو تڑپتا دیکھتا تھا۔مجھے یاد کرتے اور آزادی کی جدوجہد کرتے دیکھتا تھا۔ اور تم بہادر ہو میرے بچے۔۔مجھے جس وقت گولی لگی میں جانتا تھا یہ آزادی کی جدو جہد کا اختتام نہیں ہے میرے گھر سے میرا احمد اس جدو جہد میں اپنا حصہ ڈالے گا۔احمد میرے بچے تمہیں شہادت نصیب ہوئی ہے” ۔یہ کہتے ہی بزرگ نے احمد کا ماتھا چوما۔۔
“بابا۔۔ مگر میرے بعد اب کون حصہ ڈالے گا۔اما تو اسی دن آپ کے ساتھ زخمی ہو گئی تھیں۔انکی آنکھ ضائع ہو گئ ہے اور ایک ٹانگ بھی۔چھوٹی بہت چھوٹی ہے ابھی ہاں وہ ہمیں جھنڈے بنا کر دیتی ہے اور نعرے لکھ کر دیتی ہے”۔احمدنم آنکھوں سے مسکرا رہا تھا۔
“میں جانتا ہوں۔ میرے بچے۔تم سب کو دیکھتا رہا ہوں۔تم لوگوں کی کئی کئی دن کی بھوک پیاس اور خوف میں گزری راتوں سے بے خبر نہیں ہوں۔مگر احمد ہم بے قصور لوگ ہیں مارے جا رہے ہیں ہم ظلم سہہ کر بھی مار دیئے جائیں گے اور ظالم کے خلاف کھڑے ہو کر بھی۔اور ہمیں خاموشی سے مرنا قبول نہیں۔ہم ظالم کی نیندیں حرام کر کے موت کو گلے لگائیں گے”۔
“ہاں۔۔بابا”۔احمد باپ کے گلے لگ کر اب پر سکون تھا۔شاید روح کو بھی سکون کی ضرورت ہوتی ہے خاص طور پر اس وقت جب وہ روح کسی آزادی کے پروانے کی ہو۔جس کو صرف آزادی کا نام اونچی آواز میں لینے پر جلا دیا گیا۔
“وہ دیکھو احمد باپ نے انگلی سے اشارہ کیا۔یہ ہیں بھارتی فوجی یہ ہیں ظالم۔جو شہید ہوئے لوگوں کو زمین پر گھسیٹ رہے ہیں۔ان کو اب بھی گولی مار رہے ہیں۔انکے خون پر اپنے جوتے رکھ کر گزر کر خود کی جیت کو یقینی سمجھ رہے ہیں۔وہ دیکھو کشمیر کا جھنڈا اپنے پاؤں سے مسل رہا ہے۔وہ دیکھو اسکا سر کچلا جا رہا ہے۔یہ ہیں ظالم تم ان کے خلاف کھڑے ہوئے ہو اور شہید ہوئے ہو۔مجھے تم پر فخر ہے۔ چلو اب گھر چلو”
“گھر۔۔مگر بابا”۔۔احمد نے تذبذب کا شکار ہو کر پوچھا۔
“ہاں! بچے گھر۔ تم جانتے ہوں۔کشمیر میں اکثر گھروں کے اندر موجود لوگوں سے زیادہ باہر تمہارے اور میری جیسی روحیں موجود ہیں۔جو اپنوں کو پل پل تڑپتا اور ظلم کے خلاف لڑتے دیکھتی ہیں۔اپنے شہید ہونے والوں کو خوش آمدید کہتی ہیں۔چلو تم دیکھ لو کے تمہارے بعد کون اب آزادی کا پرچم اٹھائے گا۔آزادی کا یہ پرچم آزادی ملنے تک ہمیشہ اونچا رہے گا”۔
وہ اب گلی کی طرف روانہ تھے۔اور آس پاس تمام گھر تما م دکانیں اور سارا علافہ بند تھا اور بھارتی فوجی شہید ہوئے لوگوں کے جسموں کی بے حرمتی کر کے قہقہے لگا رہے تھے۔ان کے سروں پر پھر سے گولیاں مار کر انکو پہچان کے قابل نہیں چھوڑ رہے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
احمد گھر کے پاس رکا۔اسکے باپ نے اسے اندر جانے کا اشارہ کیا۔گھر سے باہر نکلتے وقت احمد نے سب کو سختی سے تاکید کی تھی کے پردے آگے کر لئے جائیں اور کسی صورت دورازہ نہ کھولا جائے۔اب ہر جگہ بھارتی فوجی دندناتے پھر رہے تھے۔احمد اندر داخل ہوا۔ہر طرف عجیب خاموشی تھی۔
“اماں” احمد نے پکارا۔مگر احمد اب کسی کو نہ پکار سکتا تھا نہ بات کر سکتا تھا۔احمد کی آواز بھیگ گئی۔احمد اپنی ماں کے سامنے بیٹھ گیا جو گھٹنوں میں سر دیئے رو رہی تھی۔
احمد نے ہاتھ سے ماں کو چھوا۔مگر ناکام رہا۔ماں زارو قطار رونے لگی۔”چھوٹی تیرا بھائی بھی شہید ہو گیا۔عبد الرحمان تیرا بچہ بھی تیرے پیچھے آ گیا تیرے پاس”۔
احمد نے پیچھے چوکھٹ پر کھڑے باپ کی طرف دیکھا۔جو اب خاموشی سے وہی بیٹھ گیا۔
“عبدالرحمن آزادی کی قیمت اور کتنی دینی ہو گی”۔عصمت بی بی نے روتے ہوئے کہا۔
“میرا سہاگ بھی آزادی کی نظر ہو گیا اور آج احمد جو ماہ رخ کا سہاگ ہے وہ بھی چھن گیا۔جمعہ کی نماز کے بعد احتجاج کے لئے اکٹھے ہونے والوں میں سے کوئی نہیں بچ سکا” روتے ہوئے جب اس نے چہرہ گھٹنوں سے اٹھایا۔عصمت بی بی کی پتھر کی آنکھ میں بھی اب نمی سی تھی ۔شاید اپنوں کی جدائی کا غم پتھر بھی چیر دیتا ہے۔احمد سر جھکائے بیٹھا تھا۔
“مگر عبدالرحمن ہم ہمت نہ ہاریں گے۔جب تک اس گھر میں ایک بھی زندگی موجود ہے ہم آزادی کا پرچم بلند رکھیں گے۔ہم خاموش غلام بنے عزتیں نہیں لٹائیں گے۔نہ ہی خاموشی میں جانیں ضائع کریں گے۔ہم شہادت کو گلے لگائیں گے۔احمد ہم سب تمہارے بعد بھی آزادی کا نعرہ لگائیں گے”
احمد کے چہرے پر سکون طاری ہو گیا اور اس نے باپ کی طرف دیکھا جو اسکو آنکھوں کے اشارے سے اب حوصلہ دے رہا تھا۔
“اماں۔اماں بھابھی کی طبیعت خراب ہو رہی ہے”۔فاطمہ روتی ہوئی بھاگ کر کمرے میں آئی۔
“چھوٹی مجھے پکڑ جلدی سے لے جا ادھر”۔فاطمہ نے ماں کو سہارا دیا جو چلنے کے قابل نہیں تھی اور کمرے میں لے گئی ۔
ماہ رخ نے جب سے فوجیوں کے حملے میں شہید ہونے والوں کا سنا اس وقت سے رو رو کر طبیعت خراب ہو گئی ۔ماہ رخ احمد کی شادی کو ایک سال ہی ہوا تھا۔ماہ رخ کا پورا خاندان بھارتی جارحیت میں شہید ہو گیا تھا۔اس کا اب اس دنیا میں صرف خالہ کے سوا کوئی نہ تھا۔اور عصمت بی بی نے ماہ رخ کی شادی احمد سے کردی اور دونوں میاں بیوی اپنے بچوں کو آزادی کی فضا میں سانس لیتا دیکھنے کی خواہش کرتے تھے۔ماہ رخ آٹھ ماہ کی حاملہ تھی اور اب زچگی کی تکلیف سے نڈھال۔عصمت بی بی نے فاطمہ کو گرم پانی اور کپڑے لانے کو کہا ۔جو ایسا ہی کرنے کو باہر بھاگی۔
احمد بستر پر ماہ رخ کے قریب بیٹھ گیا۔اسکا ہاتھ پکڑنا چاہتا تھا۔اسکا سر سہلانا چاہتا تھا۔اسکے ماتھے پر بوسہ دینا چاہتا تھا۔ماہ رخ کی تکلیف اور چیخیں احمد کو پریشان کر رہی تھی۔
احمد باہر کی طرف بھاگا ۔مگر گھر سے باہر سینکڑوں فوجی علاقے میں گشت کر رہے تھے۔احمد نے ہر فوجی کے سامنے جا کر اس پر حملہ کرنا چاہا۔ان کا منہ نوچنا چاہا۔مگر بے سود۔۔اسکے ہاتھ کسی کو چھو نہ سکتے تھے۔احمد نے سڑک کے درمیان بے بس ہو کر بیٹھتے ہی سجدہ کیا خدا مدد فرما۔اور احمد کا باپ اب بھی گھر کی سیڑھیوں پر سر جھکائے بیٹھا تھا۔احمد بھاگ کر اندر آیا ماہ رخ تکلیف سے کراہ رہی تھی۔احمد اسکے سر میں بار بار ہاتھ پھیرنے کی کوشش کرتا رہا۔
اتنے میں رونے کی آواز آئی۔احمد چونک گیا۔ماہ رخ بے ہوش ہو گئی تھی۔عصمت بی بی کے ہاتھ میں ایک ننھا خون میں بھیگا وجود تھا۔عصمت بی بی نے اسکو آسمان کی جانب کیا خدایا میرا احمد لٹانے کا شکریہ۔ہم لے کر رہیں گے آزادی۔اور عصمت بی بی اور فاطمہ اس ننھے وجود کو تھامے زارو قطار رونے لگی۔
“فاطمہ جائے نماز بچھاؤ میں نفل ادا کروں گی”۔عصمت بی بی نے بچے کو ماہ رخ کے قریب لٹاتے اور ماہ رخ کا ماتھا چومتے ہوئےروتے ہوئے کہا۔ اور فاطمہ عصمت بی بی کو لے کر باہر روانہ ہوئی۔
احمد حیرانگی سے بچے کو دیکھتا ہوا اسکے قریب بیٹھا۔یہ اسکا بچہ تھا۔جو پیدا ہوتے ہی یتیم تھا۔جو اب جس خون میں لت پت ہے ممکن ہے ایک دن آزادی کی خاطر اپنا ایک ایک قطرہ خون کا دے گا۔احمد نے جیب سے وہ کپڑا نکالا جو بچے نے اسے دیا تھا اور وہ ٹکڑا اپنے بچے کے سینے پر رکھ دیا۔اور مخاطب ہوا۔
“میرے بچے میں جانتا ہوں کبھی تمہیں میری یاد بہت ستائے گی۔ہو سکتا ہے میں تمہارا مجرم ہوں ۔میں نے تمہارا حق ادا کرنے کی بجائے اس کشمیر کی دھرتی کا حق ادا کرنا افضل جانا۔ہو سکتا ہے تمہیں کبھی مجھ سے شکوہ ہو کے کاش میں باہر نہ جاتا اور ذندہ ہوتا تمہارے ساتھ زندگی گزارتا۔
مگر میری جان! ایسا ممکن نہ تھا۔غلامی کی زنجیریں قدموں کو نہیں جکڑتی بلکہ روح کو جکڑتی ہیں۔اور اس جکڑی ہوئی روح کے ساتھ بھی بھلا کوئی جی سکتا ہے۔قدموں میں پڑی غلامی کی زنجیر کو کاٹنے کے لئے کسی تیز دھار آلے کی ضرورت ہوتی ہے۔مگر روح کو جکڑنے والی غلامی کی زنجیر کی کاٹ صرف حق کے لئے آواز اٹھانے سے ممکن ہے۔
تم نے جس فضا میں آج جنم لیا ہے۔اس ماحول میں یہاں آسانی نہیں ہے۔یہاں پل پل سانس لینے کی قیمت کبھی عزت دے کر ادا کی جاتی ہے تو کبھی جان دے کر۔کشمیر کی دھرتی کا ہم پر قرض ہے۔ اور اسکا قرض چکانا ہمارا فرض ہے۔اس کے لئے ہمیں خون کا نظرانہ دینا ہو گا۔میں نے اپنا خون اس دھرتی کو پلا دیا اور ماہ رخ کے بطن سے تمہیں پیدا کر کے خدا نے میرا متبادل اس آزادی کی تحریک میں بھیج دیا ہے۔
میرے بچے یہ کشمیر کی وادی کا بچہ بچہ بھوک,پیاس , ظلم و زیادتی سہتا ہے پھر بھی جدو جہد کرتا ہے۔تمہیں بھی کرنی ہو گی یہاں کئی کئی دن گھروں میں قید بھوکی پیاسی رہنے والی عورتیں اپنے نومولود بچوں کو اپنے سوکھی چھاتی سے دودھ پلاتی ہیں اور جانتے ہو وہ بہادر بچے دودھ نہ ہونے پر روتے نہیں بلکہ اس چھاتی میں اترتے ماں کے آنسو سے پیٹ بھرتے ہیں۔تمہیں بھی شائد دودھ کی بجائے کئی بار اپنی ماں سے بھوک مٹانے کو دودھ نہیں صرف آنسو ملے گے۔تم صبر کرنا۔کے یہی صبر لے کر ہم نو ماہ ماں کی کوکھ میں زندہ رہتے ہوئے کئی کئی بار بارود کی آوازوں کے باوحود زندہ رہتے ہیں اور یہی صبر لے کر مرنے تک کشمیر کی زمین پر زندہ رہتے ہیں۔کئی بار تمہیں شدت پسند کہا جائے گا۔تمہیں کئی بار آزادی کا نعرہ لگانے پر مارنے کی دھمکی دی جائے گی۔تمہارے سر کاٹنے پر انعام کا اعلان بھی ہو گا۔تمہیں دہشت گرد جنونی کہا جائے گا۔
احمد زیر لب مسکرایا۔۔ مگر تم صرف اور صرف حق کے لئے آواز بلند کرنے بننا۔اور ظلم کے سامنے ڈٹ جانے کا حوصلہ رکھنا۔
میری جان! تم نے آج آنکھ کھولی ہے۔ تم دیکھو گے کہ یہاں دیواروں پر کٹی ہوئی زبانیں سجی ہیں۔اور چبوتروں پر کٹے ہوئے سر۔زمین پر خون کی ندیاں بہتی ہیں۔یہاں ہر شخص کٹا ہوا ٹکروں میں بٹا ہوا ہے۔یہاں بہاریں خزاں سے پہلے ہی پھول سکھا کر کٹے ہوئے انسانوں سے اظہار یکجہتی کرتی ہیں۔یہاں جذبے اونچی اڑان اڑتے ہیں اور خوف زمین میں دھنس جاتا ہے۔یہاں آنکھیں نوچ لی گئیں مگر خواب پھر بھی دیکھے جاتے ہیں۔یہاں فضاؤں میں کپڑوں کی دھجیاں عزتوں سے الگ ہو کر اڑتی ہوئی دیکھی جاتی ہیں۔پھر بھی آزادی کا نعرہ لکھنے والی معصوم کلیاں موجود ہیں۔آسمان آنسو برسا کر کئی لوگوں کے غم میں بیک وقت شامل ہوا کرتے ہیں پھر بھی حوصلے بلند ہیں۔یہاں نومولود بچے تیز قدموں سے بڑھتے ہیں۔یہاں بارود ہے پھر بھی سانس لی جاتی ہے۔یہاں نا امیدی کا راج ہے۔پھر بھی امید کی کرن نا امیدی کی دھجیاں بکھیر کر ہر گھر میں داخل ہوا کرتی ہے۔ یہاں سب کو خاموش کروا دیا گیا ہے۔۔پھر بھی یہاں شور ہے۔ایک ہی صدا گونجتی ہے۔ایک ہی گونج ہے جو مکمل وجود رکھنے والے بھارتی درندوں اور اس کے حامیوں کو گوارا نہیں ہے۔یہ بھارتی درندے جو بندوق سے آگ برساتے ہیں ہماری یہ صدا ان کو خوفزدہ کرتی ہے۔یہ صدا بارود سے کھیلنے والوں کو سہما دیتی ہے ۔ اور یہ صدا ہے
“ہم کیا چاہتے”
یہ نعرہ لگایا ہی تھا کہ احمد کے بچے نے ٹانگیں مارنا شروع کیں اور سینے پر پڑا کپڑا اس کی ننھی انگلیوں میں پھنس گیا اور احمد نے پھر سے پکارا
“ہم کیا چاہتے” ا س بچے نے ہاتھ اٹھایا۔وہ کپڑا اسکی انگلیوں میں پھنس کر ہوا میں بلند ہوا۔ اس کپڑے پر واضح لکھا تھا۔
“آزادی” جس پر خون کے دھبے تھے۔
احمد یہ دیکھ کر نم آنکھوں سے مسکرا دیا۔اور باہر آ کر باپ کے کندھے پر سر رکھ کر بیٹھ گیا۔شاید ان کو اب صرف بے بسی سے بیٹھ کر دیکھنا ہے۔ اور آزادی کے سورج کی پہلی کرن تک یونہی بے بس رہنا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *