بوڑھا بیٹا۔۔۔عارف خٹک

پشاور کے اس 8 سالہ معصوم بچے کو رکشے چلانے کے جرم میں ٹریفک پولیس نے چالان کیلئے روکا۔ تو بچہ شرمندگی سے اپنا منہ چھپانے لگا۔ پولیس والے نے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا۔۔ بیٹا کب سے رکشہ چلا رہے ہو؟۔۔ بچے نے خوف اور شرمندگی سے جواب دیا۔ پانچ ماہ ہوگئے۔
پولیس والے نے اگلا سوال کیا کہ گھر میں کوئی بڑا نہیں ہے؟۔ لڑکے نے جواب دیا، میں سب سے بڑا ہوں،ابا بیمار ہے، گردے ختم ہیں، اس لئے پانچ سو روپے روزانہ کما کر گھر جاتا ہوں، تو روزی روٹی چلتی ہے۔ یہ کہتے ہی بچہ سسک پڑا۔ پولیس والے نے مدد کی پیشکش کی۔ بچے نے روتے روتے منع کردیا۔

مجھے میرا بیٹا سنیال یاد آگیا۔ جب 2015 میں ڈاکٹروں نے مجھے جواب دیا کہ آپ کی آنکھیں ختم ہوگئی ہیں۔ تو میری زندگی کا بدترین دور شروع ہوا۔ بائیں آنکھ ختم ہوگئی اور دائیں آنکھ دھندلاہٹ کا شکار ہورہی تھی،تو میں روزانہ کراچی کے ساحل سمندر کے ویران گوشے پر جاتا، تاکہ سمندر کو جی بھر کر دیکھوں۔ سنیال میرے ساتھ ہوتا۔ اس وقت سنیال سات سال کا تھا۔ وہ مجھ سے جی بھر کر باتیں کرتا تھا۔ ایک دن میری آنکھوں کی نمی صاف کرتے ہوئے کہنے لگا۔۔ کہ پاپا آپ پریشان نہ ہوں ۔ جب آپ کی آنکھیں نہیں ہوں گی،تو میں اسکول چھوڑ دوں گا۔ آپ کیساتھ رہوں گا۔ آپ کا ہاتھ پکڑ کر روز سمندر  پر لیکر آؤں گا۔
میں نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔۔ کھانا کہاں سے کھلاؤں گا تم لوگوں کو؟
جھٹ سے جواب دیا۔ پاپا مجھے پینٹگز بنانی آتی ہیں۔ روڈ پر بیٹھ کر لوگوں کی پینٹنگز بناکر بیچوں گا۔ میں نے سسک کر اس کو اپنے گلے سے لگا لیا۔ گریڈ تھری کا بچہ مجھے ڈھارس بندھا رہا ہے،کہ پاپا میں آپ کو اور گھر کو سنبھالوں گا۔

وہ دن میری زندگی کا ٹرننگ پوائنٹ تھا۔ میں نے سنیال کو ہر جگہ ساتھ رکھنا شروع کردیا۔ 2017 میں ہم دونوں بائی روڈ کوئٹہ جارہے تھے۔ سنیال میرے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیلٹ باندھے سویا ہوا تھا۔ سید محمد سمیع سے وعدہ کیا تھا کہ آج کی رات آپ کیساتھ پشین میں گزرے گی۔ میں خضدار سے ایک سو بیس کلومیٹر دور تھا، کہ اچانک مجھے لگا کہ میرے آس پاس گاڑیوں والے مجھے رُکنے کا اشارہ کررہے تھے۔ میں نے گاڑی کی اسپیڈ 170 تک بڑھا دی۔ حالانکہ کوئٹہ اور کراچی روڈ سو سے اوپر والے نہیں ہیں۔ میں جلد از جلد کسی ایف سی چیک پوسٹ تک پہنچنا چاہ رہا تھا۔ مجھے سب سے زیادہ فکر سنیال کی تھی، کہ میرا بیٹا زندہ حالت میں اغواکاروں کے ہاتھ نہ لگے۔ کیونکہ بلوچ مزاحمت کاروں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ خود زندہ اغوا کرانے سے اچھا ہے۔۔کہ لڑ مر جاؤ۔
گھاس لیٹ کی اترائی میں میری گاڑی آؤٹ آف کنٹرول ہوگئی۔ نیچے کھائی تھی جہاں بڑے بڑے پتھر تھے۔ گاڑی کھائی کی طرف بڑھ رہی تھی کہ میں نے پورے زور سے گاڑی سامنے پہاڑی کی طرف گھمائی۔ اس وقت سنیال بہت بری طرح سے رو رہا تھا۔ میں نے لہراتی گاڑی میں سنیال کو کندھوں سے مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا کہ وہ سامنے سے ہونیوالی ٹکر سے کم سے کم متاثر ہو۔ گاڑی بہت بری طرح سے سامنے پہاڑی سے ٹکرا گئی۔ لیکن جیسے میں چاہتا تھا ٹکر کا سارا زور میری طرف ہوا۔ گاڑی کے ٹائرز، انجن ہوا میں اڑ گئے۔ میری سانس رک گئی۔ میرا ذہن اندھیروں میں ڈوبنے والا تھا۔۔ کہ یاد آیا کہ سنیال کو میری بیہوشی کے دوران اغوا نہ کر لیا جائے۔ میں خود کو بیہوش نہ ہونے دوں ۔میں سانس لینے کی کوشش کررہا تھا مگر اسٹیئرنگ میری پسلیوں میں گھس گیا تھا۔ میں نے سنیال سے کہا ، پیر ہلا کر دکھاؤ۔ اس نے ٹرانس میں پیر ہلا دیئے۔ میں مطمئن ہوگیا، کہ ریڑھ کی ہڈی بچ گئی ہے۔ سنیال کا دایاں بازو لٹک رہا تھا۔ کیونکہ گیئر بکس سے نکل کر چھت سے ٹکرا گیا۔ مگر میں نہ اپنے پیر ہلا پا رہا تھا۔ نہ سانس لے پارہا تھا۔ بار بار خود کو زبردستی بیہوش ہونے سے بچا رہا تھا۔
آنے جانے والے لوگ رک گئے۔ گاڑی کے دروازے کھلنے لگ گئے۔ میں نے دو پشتونوں بھائیوں سے کہا کہ ہمیں کسی قریبی فوجی چیک پوسٹ تک پہنچا دیں۔ سانس نہ لینے کی وجہ سے مجھ سے بات نہیں ہوپارہی تھی۔ میں نے اپنا بٹوہ نکالا۔ اس پشتون بھائی کو دیدیا۔ آئی کارڈ نکلوا کر دیا کہ اگر مجھے کچھ ہوگیا تو بچے کو یہاں پہنچا دیں۔ اتنے میں ایف سی والے پہنچ گئے۔ اطمینان کی طویل لہر میرے اندر سرایت کرگئی۔ اور میں ہوش و خرد سے بیگانہ ہوگیا۔

اس دن مجھے پتہ چلا کہ باپ بیٹے کے بیچ کونسا رشتہ ہوتا ہے۔ ایک بھرپور اعتماد اور قربانی کی حد تک خود کو ایک دوسرے پر نچھاور کرنے کا جذبہ ہوتا ہے۔ آج سنیال اپنی ڈھائی سالہ بہن کے ڈائپرز تک بدل دیتا ہے۔اور دودھ بناکر دیتا ہے۔ جب میں باہر چلا جاؤں تو اس سے پوچھتا ہوں بیٹا گھر کا خیال رکھنا۔ وہ کہتا ہے ڈونٹ وری آئی ایم آلویز ہئیر تو ٹیک کیئر آف ایوری ون۔
آج اس بچے کی ویڈیو دیکھ کر مجھے بالکل بھی حیرت نہیں ہوئی۔ بلکہ مجھے اس کے باپ پر فخر محسوس ہورہا ہے۔ جس نے اپنے بیٹے کو  اس مشکل زمانے میں بوڑھا بچہ بنا دیا ہے۔

سنیال میرے بوڑھے بچے آج کہنے دو مجھے ،میں بہت پیار کرتا ہوں تم سے یار!

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *